×
×
بنیادی عنوان درج کریں
عقائد
عقائد کا تعارف واہمیت
عقیدہ کا لغوی و اصطلاحی معنیٰ
اسلام کے بنیادی عقائدتین ہیں
کسی ایک بنیادی اصول و عقیدہ کا منکر اللہ تعالی کا باغی ہے
عقائد کے ہر مسئلہ میں نجات کے ساتھ ایک غایت بھی ہے
دین اسلام ، قائم رہنے والا دین ہے
اسلام مکمل نظام حیات ہے
اب مدار نجات صرف آپ ﷺکا دین اسلام ہے
شعائر اللہ اسلام کی شان وشوکت ظاہر کرتے ہیں
شعائر اللہ کی تعظیم کیسی ہوتی ہے ؟
احکام شرعیہ میں حکمتیں واہبی ہیں
سیدھا راستہ ، اسلام کا راستہ ہے
اسلام،تمام انبیاءمیں مشترک دین ہے
ارکان اسلام کی تعریف اور ان کے نام
احکام تشریعیہ میں کوئی حکم طاقت سے باہر نہیں ہے
مصائب تکوینیہ میں بھی کوئی مصیبت طاقت سے باہر نہیں ہے
شریعت نہایت حسین و جمیل ہے
عقائد کو دستورالعمل بنانے میں کامیابی ہے
مؤمن زندہ اور کافر مردہ ہے
تمام اعمال ایمان پر موقوف ہیں
شریعت کو سمجھنے کے لیے مزاج شناسی کی ضرورت ہے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ مجتہدین آپ ﷺ کے مزاج شناش تھے
احکام شرعیہ کا مخاطب ہر ایک ہے
نصوص میں کسی امر کی پشین گوئی سے اس کا اختیار سے باہر ہونا لازم نہیں آتا
پشین گوئی حکم تکوینی ہے حکم تشریعی نہیں
دین شریعت کے ہر ہر حکم پر عمل کرنے والا مکمل دین دار ہے
شریعت طبعی امر کو بیان کرے تو وہ امر بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے
احکام شریعت کی مصلحت جانناچاہتے ہو تو ان کی وقعت دل میں رکھو
شریعت نے جو چیزیں بدیہی ہیں ان کو ذکر کرنے کا اہتمام نہیں فرمایا
شریعت کی ہر تعلیم طبیعت کے مناسب ہے
ہمارا نفس کیونکہ بصیر نہیں اس لیے شریعت سے بھاگتا ہے
اگر طبیعت سلیم ہوتو شریعت کی طرف مائل ہوگی
شریعت کی تعلیم کے خلاف کرنے پر ضرر ضرور ہوتا ہے
مسائل میں ضروری اور غیر ضروری کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے
احکام شریعت کسی مقام پر معاف نہیں ہوتے
کعبہ محض سمت عبادت ہے خود مقصود ومسجود نہیں ہے
پچھلی امتوں کی شریعتوں کا حکم ہمارے لیے اس وقت واجب العمل ہے جب اسلام ان کی تائید کرے
اصولی عقائد چھ ہیں جو تمام انبیاء کرام میں مشترکہ تھے
اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو وقعت و اہمیت دیں
شعائر کا معنی اور مصداق
اسلام لقب کے لحاظ سے امت محمدیہ کے ساتھ خاص اور معنی وصفی کے لحاظ سب امتوں میں مشترک ہے
ایمان کی تعریف
غیر مسلم جنگجو کے مسلمان ہونے کا اعتماد تین چیزوں پر موقوف ہے
اسلامی برادری میں داخل ہونے کی تین شرطیں
دین اسلام کو اکثر اوقات و حالات میں غلبہ رہے گا
حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ تک تمام انسان ایک قوم یعنی مسلمان تھے
دین اسلام ہر لحاظ سے ایک معتدل دین ہے
اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے پر جبر نہیں کیا
دین اسلام کے مخالف ہمیشہ رہیں گے
شریعت محمدیﷺ اور شریعت ابراہیمی علیہ السلام میں مماثلت ہے
تمام اقوام و مذاہب کے متعلق فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن کردیں گے
سب سے پہلے سیدنا ابراھیم علیہ السلام نے اہل ایمان کا نام مسلمان رکھا
کلمہ توحید و دیگر اذکار تصدیق قلبی کے بغیر قبول نہیں ہوتے
ایمان بالغیب کا مفہوم
ایمان بالغیب ہی معتبر ہے
ایمان بہت بڑا عمل صالح ہے
شرعاً کون سا ایمان معتبر ہے؟
ایمان کی دو قسمیں ہیں
ایمان سب سے بڑی نعمت ہے
آپ ﷺ اور مؤمنین کے ایمان میں درجات کے لحاظ سے فرق ہے
اصولِ ایمان میں سب شریعتیں مشترک ہیں
خاصیت ایمان
ایمان کے بغیر تمام اعمال بیکار ہیں
ایمان کی حقیقت
ایمان کی حفاظت ہر ایک کے ذمہ ہے
ایمان کے مقبول ہونے کےلیے تصدیق قلبی کے ساتھ اقرار باللسان لازمی ہے
عذاب دیکھ چکنے کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں
زبردستی ایمان پر مجبور کرنا ،قانون قدرت نہیں ہے
زبردستی مسلمان بنانا شریعت میں کسی وقت بھی نہیں ہوا
ایمان ،سفید نور کی مثل قلب پر رہتا ہے
ایمان کے اثر سے دین پر دنیا و آخرت میں ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے
دین اسلام کامل دین ہے
اسلام میں تمام اسباب راحت کی تعلیم موجود ہے
راحت کا سبب اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے
اسلام لانے میں ہی حقیقی اطمینان قلب و چین ہے
شریعت کی تعلیم میں تمام مصالح و مضار کی رعایت ہے
ایمان و اسلام میں باہمی تعلق ہے
ایمان اسلام کے بغیر معتبر نہیں
اسلام ایمان کے بغیر معتبر نہیں
ایمان ایک نور ہے
نور ایمان کا فائدہ دوسروں کو پہنچتا ہے
ایمان کا نور ہر حال میں آس پاس اپنا اثر چھوڑے گا
مسلمان ایمان کی وجہ سے خسارے سے بچا ہوا ہے
ایمان کے بعد اس کے نفع کی کوئی انتہاء نہیں
عمل صالح سے ایمان قوی ہوتا ہے
عقائد کی تعلیم سےمقصود اعمال کی تکمیل بھی ہے
عقائد کی دو قسمیں ہیں
عقائد میں تجدید کی حاجت نہیں ہوتی اعمال میں جدید ضرورت ہے
شریعت کے تمام احکام بندوں ہی کی مصالح و شفقت کی خاطر ہیں
ایمان میں تصدیق بالقلب کے ساتھ زبان سے اقرار بھی شرط ہے
اسلام کبھی کمزور نہیں ہوتا بلکہ اہل اسلام میں کمزوری پیدا ہوتی ہے
اسلام اپنی ذات میں کامل مکمل ہے کبھی ضعیف نہیں ہوسکتا
اسلام ضعیف نہیں ہوا بلکہ ہم خود ضعیف ہوگئے ہیں
کفر بغاوت ہے اور اسلام اطاعت ہے
اسلام اول سے آخر تک نور ہی نور ہے
خدا حاکم ہے اور اسلام اس کا قانون ہے
اسلام ہمیشہ قوی رہے گا
دین اسلام کامل دین ہے ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے
شریعت کے پانچ اجزاء ہیں
شریعت کے پانچوں اجزاء میں خاص خاص خوبیاں ہیں
عقیدہ توحید کے فوائد
عقیدہ جزا وسزا کے فوائد
عقیدہ عاقبت کے فوائد
نعمت اسلام کی قدر فرائض و واجبات سے زیادہ ہے
اگر خاتمہ اسلام پر ہوگیا تو انشاءاللہ نجات ہوجائے گی
اسلام ایسا کامل دین ہے کہ اس کے مقابلہ میں باقی مذاہب دین ہی نہیں
اب اسلام کے علاوہ کسی دین سے نجات نہیں مل سکتی
نو مسلموں کے تمام گناہ اسلام لانے سے معاف ہوجائیں گے
اسلام کے بغیر مغفرت اور نجا ت ممکن نہیں
ترک اسلام کی دو صورتیں ہیں
اسلام حق تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے
اسلام لانے کے دو درجے ہیں
اسلام کا درجہ کمال مطلوب ہونا چاہیے
اسلام میں اصول عقائدکو کہتے ہیں
اسلام میں فروع اعمال کو کہتے ہیں
دین اسلام کے بعد اب سب ادیان منسوخ ہیں
لاالٰہ الا اللہ کہنااسلام کے تمام احکام کی بجا آوری کو قبول کرنا ہے
عوام کو اجمالی ایمان لانا ضروری ہے تدقیقات سے شبہات مزید بڑھ جائیں گے
اسلام کا معنیٰ تفویض ہے
دعویٰ اسلام کے تین درجے ہیں
زبانی اسلام کو اسلام کہنے کی وجہ یہ ہے کہ زبان قلب کا عنوان ہے
ایمان وہ کارآمد ہے جو بالغیب ہو
بعض لوگوں کا ایمان بہت ہی ضعیف ہوتا ہے
اسلام کامل کی تعریف
اسلام کامل کےچار اجزاء ہیں
اسلام کامل کی طول اور بسط کے ساتھ تفصیل
دین کا مدار اعتقاد پر ہے
عمل کا درجہ عقیدہ سے مؤخر ہے
ایمان کے دو جز ہیں ۔تصدیق بالقلب اور اقرارباللسان
بقاءایمان کی حالت میں کوئی مردود نہیں ہوسکتا اور بقاء کفر کی حالت میں کوئی مقبول نہیں ہوسکتا۔
اسلام کے کسی حکم کی توہین شارع اسلام یعنی حضورﷺ اور بانی اسلام یعنی حق تعالیٰ کی توہین ہے
ایمان میں کمال مطلوب ہے کیونکہ ایمان ہی آخرت میں کام آئے گا
تکمیل ایمان ہی میں دونوں جہاں کی راحت ہے یعنی دنیا اور آخرت دونوں کی
کامل محبت اور یمان کے دو اثر ہیں
حق تعالیٰ کے راضی ہونے کا معیار احکام الہی کا اتباع ہے
شریعت ایسا قانون ہے جس میں تینوں چیزیں بصیرت،طریق اور مقصود موجو د ہے
شریعت ،عقل سے زیادہ خیر خواہ ہے
شریعت پر عمل کرنے کے علاوہ کسی چیز میں اطمیان اور راحت نہیں ہے
جیسے تکوینیات میں آزادی نہیں ایسے ہی شرعیات میں آزاد نہیں ہونا چاہیے
تمام احکام شرعیہ تقاضا طبیعت کے موافق ہیں
مصائب میں ایک حکمت یہ ہے کہ ایمان کی آزمائش مقصود ہوتی ہے
اتباع کرنے کی دو چیزیں ہیں اعمال اور عقائد
عقائد اعمال کے لیےبمنزلہ جڑ کے ہیں
مسلمانوں کو عقائد کی تحقیق ورسوخ کی تو ضرورت نہیں البتہ ان عقائد پر استحضار اور توجہ کی ضرورت ہے
عقائد کی اصلاح عملی اصلاح سے مقدم ہے
اللہ تعالی پر ایمان
ذات باری تعالی
اللہ تعالی کی صفات ذاتیہ
قدرت
انسان کے منہ میں اللہ کی ایک قدرت
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب قدرت رکھتا ہے
اللہ تعالیٰ اس دنیا کو ختم کرنے پر قادر ہے
سب چیزیں حق تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں حتیٰ کہ حرکت وسکون بھی
حیات
خالق خیر
خالق شر
بندوں کے افعال کا خالق
سمع
بصر
اللہ تعالیٰ کی نظر تمام کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے
علم
اللہ تعالیٰ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے
اللہ تعالیٰ کائنات کی چھوٹی چیزوں سے بھی واقف ہے
ارادہ
حق تعالیٰ کا ارادہ دو قسم کا ہے
قدیم
معیت
اللہ تعالی کی صفات فعلیہ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غمگین نہیں رکھتے
اللہ کی رحمت ہے جس عمل کو چاہیں پسند فرمالیں
ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے
اللہ تعالیٰ دلوں پہ تصرف رکھتے ہیں
اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہیں
اسماءحسنیٰ
تعارف واہمیت
اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہر چیز پر غالب ہے
اسماء الہی جمیل ہیں اور جمال کا تقاضہ ہے کہ ان کا ظہور بھی ہو
اللہ تعالیٰ کے نام پر کسی معبود باطل کا نام نہیں رکھا گیا
اللہ کی رحمت کےسو حصے
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا غلط استعمال کرنے کا حکم
اسماء حسنیٰ سے کیا مراد ہے؟
اسماء حسنیٰ پکارنے کا معنیٰ
اسماء حسنیٰ یاد کرنے کی فضیلت
اسماء حسنیٰ پڑھ کر دعا مانگنے سے قبول ہوتی ہے
اسمائے باری تعالیٰ بعض جلالی ہیں اور بعض جمالی ہیں
اول
آخر
واجد
بدیع
ازلی
الحیی القیوم
کلام
حق تعالیٰ کا کلام کہیں تو حکیمانہ ہے اور کہیں حاکمانہ ہے
قدرت
جیسے حق تعالیٰ کو تکوینیات میں قدرت ہے ایسے ہی تشریعات میں بھی حاصل ہے
حق تعالیٰ عادۃ مستمرہ کے موافق کام کرتے ہیں ۔ اظہار قدرت کے لیےاحیانا اس کے خلاف بھی کر لیتے ہیں
جبار
حق تعالیٰ حاکم مطلق ہیں
المحيي
المميت
الرزاق
تمام مخلوقات کی روزی کفالت ،اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے
اللہ تعالیٰ کا رزق کی ذمہ داری لینے کا مطلب کیا ہے
رزق کا مفہوم اور دائرہ کار
اللہ تعالیٰ کی رزق کی ذمہ داری پر سوال و جواب
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پتھر میں جانور کو رزق عطا کرنا
اللہ تعالیٰ عارضی و مستقل رہائش گاہ سب پہ رزق عطا کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ تمام جا نوروں کو روزانہ کا رزق روازنہ عطا فرماتے ہیں
اللہ کا انسانوں کو رزق بعض کو بعض کے واسطے سے ملنے کی حکمت کیا ہے
اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ان کا ضروری رزق عطا فرماتا ہے
رزق خاص کی تقسیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے متفرق درجات رکھے ہیں
عمر بھر کا رزق ایک ساتھ نہ دینے میں کیا حکمت ہے
حق تعالیٰ ایسے رازق ہیں کہ رزق نہ دینے کی دعا پر بھی رزق دے دیتے ہیں
حق تعالیٰ پر وثوق ہونے کے بعد اگر کسی وعدہ رزق میں ترددہو تو یہ ایمان کے منافی نہیں بلکہ کمال ایمان کے بھی منافی نہیں
رزق بٹی ہوئی چیز ہے نہ وقت سے پہلے مل سکتا ہے اور نہ مقدر سے زیادہ مل سکتا ہے
الخالق
ساری انسانیت کو اللہ تعالیٰ نے ایک ذات سے پیدا کیا
اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں
دنیاوی صانعین و کاریگروں اور اللہ تعالیٰ میں فرق
غیر اللہ کی طرف تخلیق کی صفت منسوب کرنا جائز نہیں
معاصی و مکروہات کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے ،ان کی تخلیق کی حکمت وہ خود جانتا ہے
الکفیل
ہر مسلمان کا متولی و کفیل ،اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے
المالک
تمام اشیاء کے مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں
حق تعالیٰ پر کسی کو اجر دینا واجب نہیں
حق تعالیٰ نے جو دنیا میں بندوں کو مالک بنایا ہے وہ ملکیت بطور اباحت کے ہے
تمام چیزیں حق تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں ہماری ملکیت مجازی ہے۔
حق تعالیٰ نے جو دنیاوی اشیاء کی ملکیت بندوں کی طرف منسوب کی اس میں حکمت ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو عالم میں فساد برپا ہوجاتا
الخبیر
اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز سے ہر وقت واقف اور خبر رکھے ہوئے ہیں
المدبر
عنداللہ کوئی کام اتفاقاً نہیں ہوتا
القادر
چاند و سورج اللہ تعالیٰ کے مسخر و تابع ہیں
چاند و سورج کا وجود اور نظام اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے
العلیم
حمل کی جنس اور اس کے اوصاف ظاہری و باطنی اللہ کے علم میں ہیں
اللہ تعالیٰ کا علم الثری کے نیچے تک پھیلا ہوا ہے
ظاہری اور پوشیدہ باتوں کو اللہ تعالی جانتے ہیں
اللہ تعالیٰ دلوں کے احوال سے واقف ہے
اللہ تعالیٰ چوری کی نگاہ کو بھی جانتے ہیں
حق تعالیٰ کا علم ہم سے بہت زیادہ ہے
عالم الغیب و الشھادۃ
اللہ تعالیٰ غائب کو بھی حاضر کی طرح جانتے ہیں
علم غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے
مفاتیح الغیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں
مفاتیح الغیب میں ان پانچ چیزوں کو ذکر کرنے کی وجہ کیا ہے؟
مفاتح الغیب(پانچ چیزوں ) کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، اس پر سوال
علم غیب کے متعلق اشکالات کا شافع جواب
علم غیب کی دو قسمیں ہیں،احکام غیبیہ اور اکوان غیبیہ
الکبیر اور المتعال
کفار و مشرکین کا صفت الکبیر ،المتعال کے متعلق نظریہ
حق تعالیٰ بہت بڑے ہیں ان میں اور ہم میں اتنی بھی نسبت نہیں جو ایک وبائی کیڑے کو ہم سے ہے
السمیع
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سراً و جہراً قول برابر ہیں
البصیر
اندھیرے و اجالے کی چیز عنداللہ برابر ہے
الھادی
اللہ کی حمد و ثناء لکھنے میں سمندروں کا پانی ختم ہو جائے گا
ایمان اور یقین انسان کا فعل ہے اس میں اثر اور ہدایت دینا حق تعالیٰ کا فعل ہے
مختار کل
جس کے اعمال و افعال کا مواخذہ کیا جائے وہ خدا نہیں ہو سکتا
الممیت
تمام زمینی جانداروں نے موت کا مزہ چکھنا ہے
فرشتوں کو موت آئے گی یا نہیں؟
موت کی حقیقت
الرحمٰن
مطلق رحمت اور مغفرت الٰہی کو طلب کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے،جب کہ اپنی تدبیروں سے ناامید ہونا فطری بات ہے
اللہ تعالی غفور رحیم کا عقیدہ رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟
اتقیاءوصلحاء کو گناہ کے بعد واپس لانے والا عقیدہ یہی ہےکہ اللہ غفور رحیم ہیں
رحمت خدا بہت بڑی چیز ہے
المعطی
اللہ تعالیٰ مخلوق میں جسے چاہیں کسی وصف میں زیادتی عطا فرما دیتے ہیں
اللہ تعالیٰ جس پر اپنی رحمتوں و نعمتوں کی عنایت کرے اس سے کوئی روکنے والا نہیں
حق تعالیٰ مانگنے سے خوش ہوتے ہیں نا مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں
القابض
اللہ تعالیٰ جس پر اپنی رحمتوں و نعمتوں کو روک دے تو کوئی ان پر جاری نہیں کر سکتا
دشمن اور دوست دونوں کا دل اللہ کے قبضہ میں ہے
رب
آسمان و زمین اور اس کے مابین مخلوقات اور مشارق کا رب اللہ تعالیٰ ہے
ہم سب کا پالنہار اللہ تعالیٰ ہے
الحکیم
اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت حکیم کی وجہ سے منکرین کو فوری عذاب نہیں دیا
اللطیف
اللہ تعالیٰ کے نام لطیف کا معنیٰ اور مصداق
حق تعالیٰ بعض دفعہ اپنے بندہ پر لطف بصورت قہر بھی فرماتے ہیں
الباسط
اللہ تعالیٰ بعض اوقات بعض ضروریات اور نعمتیں آزمائش اور اپنی قدرت پر تنبیہ کےلیے روک لیتا ہے
القھار
حق تعالیٰ کی صفت رحمت اور غضب کا صدور
الرحیم
جیسے حق تعالیٰ کی تجلی رحمت ہے ایسے ہی استتار بھی رحمت ہے
حق تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اس کو تنگ نہ کرنا چاہیے
دنیا میں رحمت یہ حق تعالیٰ کی رحمت کے ایک حصہ کا عکس ہے
آخرت میں نجات کسی کے عمل پر نہ ہوگی بلکہ رحمت الہی کی وجہ سے ہوگی
حق تعالیٰ کی رحمت نافرمانوں کو بھی شامل ہے
حق تعالیٰ کا مصیبت غیر اختیاریہ پر بھی اجر دینا رحمت ہی رحمت ہے
طاعات غذائے روحانی ہےاس پر حق تعالیٰ کا اجر عطا فرمانا رحمت ہے
حق تعالیٰ جو کسی پر رحمت فرماتے ہیں وہ بلا سبب اور بلا علت کے فرماتے ہیں
جیسے تجلی رحمت ہے استتار بھی رحمت ہے
خدا کی رحمت کا جتنا بھی حصہ لے لیا جائے وہ غیر محدود ہی ہوگا
رحمت باری تعالٰی
المغنى
حق تعالیٰ مستغنی ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی کے محتاج نہیں ہیں
الرؤوف
حق تعالیٰ کی شفقت بے مثال ہے
الغنى
حق تعالیٰ کے غنی ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ ان کو کسی کی معصیت اور طاعت سے نفع اور ضرر نہیں ہوتا
اللہ تعالی کی صفات سلبیہ
اللہ تعالی مثل سے پاک ہے
حلول سے پاک
وجوب سے پاک
عجز سے پاک
تشابہ سے پاک
عیوب سے پاک
اللہ تعالی بداء سے پاک ہے
اللہ تعالیٰ طبیعت سے پاک ہیں ان کو آدمی پر قیاس نہیں کر سکتے
تمام مخلوقات کی نگاہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا احاطہ نہیں کر سکتیں
انسانی آنکھ اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں دیکھ سکتی؟
اس عالَم میں رؤیت باری ممکن نہیں
حضور ﷺ کو شب معراج میں روئیت حق ہوئی
دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کو کوئی برداشت نہیں کر سکتا
ہمارا وجود رؤیت باری تعالیٰ کا متحمل نہیں
آخرت میں اللہ تعالی کا دیدار نصیب ہو گا
اس دنیا میں کسی کےلیے اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ ہم کلام ہونا اور دیکھناممکن نہیں
کسی انسان کی اللہ تعالیٰ سے اس دنیا میں ہم کلام ہونے کی صورتیں
اول: بذریعہ وحی
دوم: پس پردہ
سوم: کسی فرشتے وغیرہ کے واسطے سے
انسانی کان اور آنکھ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے کلام کو بالمشافہ سننے اور اسے براہ راست دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی
فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھنے اور سننے کی طاقت نہیں رکھتے
حق تعالیٰ انفعال اور تاثر سے منزہ ہیں
اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے جزء کے موجود ہونے کی نفی
حق تعالیٰ کا ذہن میں آنا محال ہے
حق تعالیٰ جوش محبت اور جوش غضب سے پاک ہیں
حق تعالیٰ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں مجبور نہیں ہیں
اللہ کی صفات متشابہات
عین
نفس
ساق
ید
ید کا معنیٰ قدرت کا کیا جاتا ہے
وجہ
اصابع
استوی علی العرش
مستوی علی العرش
عرش الٰہی کیا ہے؟
استوی علی العرش،متشابہات میں سے ہے
حق تعالیٰ طبیعت اور انفعال سے پاک ہیں
جس بات سے حق تعالیٰ منزہ ہیں اس بات کے ایہام سے بھی بچنا واجب ہے
اللہ تعالی کے حقوق
اللہ تعالی کی ذات وصفات کے متعلق عقیدہ
عقائد واعمال ومعاملات
اللہ تعالی کی محبت
اللہ کے لیے بغض
مسلمان کی اصل کامیابی رضائے الہی ہے
خدا سے غفلت کرنا،خدا کی طرف پشت کرنا ہے
عظمت صرف حق تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے
اطاعت
اطاعت صرف اللہ ہی کا حق ہے
دل کا سکون صرف اللہ کی فرمانبرداری میں ہے
اللہ کی اطاعت کے فوائد
توحید
کلمہ توحید
کلمہ طیبہ
کلمہ طیبہ کا اقرار کرنا در اصل ایک عظیم عہد کا اقرار کرنا ہے
کلمہ طیبہ اور سورۃ الاخلاص
کلمہ شہادت مع ترجمہ یاد کرے
کلمہ شہادت کی اہمیت
توحید کے تقاضے
عقیدہ توحید کی اہمیت
دلائل عقلیہ کی وجہ سے توحید الٰہی پر ایمان لانا ضروری ہے
فرشتوں کی تین بڑی صفات کی قسم کھا کر توحید الٰہی کا دعوہ
محرف شدہ بائبل میں توحید کے چند نمونہ جات
توحید ربوبیت
توحید الوہیت
توحید اسماو صفات
عبادت کی فرد اعظم توحید ہے
انسان کو انسان بنانے والا عقیدہ،عقیدہ توحید ہے
توحید کی دلیل، نظام قدرت کا چلانا
توحید الٰہی کے دلائل
توحید کے متعلق اللہ تعالیٰ کی اپنی گواہی
توحید کے متعلق فرشتوں کی گواہی
توحید کے متعلق اہل علم کی گواہی
تو حید کا قائل ہونا ہر شخص کے لیے ضروری ہے
مسئلہ توحید مسئلہ رسالت پر موقوف ہے
مسئلہ توحید مسئلہ رسالت کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا
صرف توحید کا قائل ہونا نجات ابدی کے لیے کافی نہیں ہے
تمام انبیاء کا مشترکہ وظیفہ دعوت توحید ہے
حقیقت میں موثر اللہ تعالی کی ذات ہے
کائنات کا نظام ذات الٰہی اور آخرت و جنت و جہنم کے وجود کی دلیل ہے
کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں انسان کےلیے نشانیاں ہیں
انسان کے اپنے غلام کے ساتھ برتاؤ سے توحید الٰہی کی دلیل
اسلام کے علاوہ توحید کسی مذہب میں نہیں
توحید مطلوب کے مختلف درجات ہیں
توحید اعتقادی
توحید اعتقادی کا مقابل شرک اعتقادی ہے
توحید قصدی
توحید قصدی کا مقابل شرک قصدی ہے
توحید وجودی
توحید وجودی ماموربہ نہیں ہے
جس قدر توحید کا غلبہ ہوگا اعمال بھی مکمل ہونگے
عقلاً کسی سے طمع وخوف نہ رکھو یہ توحید کے خلاف ہے
موحد کو امید اور خوف خدا کے سوا کسی سے نہیں ہوتا
موحد کو امید اور خوف خدا کے سوا کسی سے نہیں ہوتا ۔اگر ایسا نہیں تو اعتقاد میں کمی ہوگی
عقیدہ توحید جس شخص میں ہو وہ بادشاہ ہے
عبادت میں خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے
حق تعالیٰ کے بندوں پر تین حقوق ہیں
محبت الہی ایمان کے لوازم میں سے ہے
شارع حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں
اللہ کے حلال و حرام کے خلاف کو حق سمجھنا
اللہ تعالیٰ کے بارے میں عمومی عقائد
مدد صرف اللہ تعالی سے مانگنی چاہیے
اللہ تعالیٰ کی بندوں سے محبت
رسول اللہﷺ اور تمام لوگوں کو اللہ رب العزت نے سیدھا رستہ دکھلایا
اللہ کی رحمت سے کوئی گنہگار مایوس نہیں ہوسکتا
بانی اسلام صرف خدا ہے
آج حق تعالیٰ سے محبت محبت احسانی ہے
اللہ کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو
انعامات باری تعالیٰ
مشیت الہٰی کے بغیر کوئی مرض متعدی نہیں
فاعل حقیقی اور قادر مطلق صرف اللہ ہے
اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کےحقوق ادا کرنا ضروری ہے
حق تعالی کے ذمہ رسول کی ہر بات ماننا ضروری نہیں
ہدایت بلا توفیق خداوندی کے نہیں ہوسکتی
تمام مخلوق اللہ کی حمد کرتی ہے
اللہ تعالیٰ کے خزانے غیر متناہی ہیں
ہر نعمت اللہ ہی کی عطا کردہ ہے
ہر زخم کا علاج اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
امراض باطنی کا علاج بھی اللہ ہی فرماتے ہیں
حق تعالیٰ نے ہر شئے میں ایک خاصیت رکھی ہے
اللہ تعالیٰ کو دنیامیں سے کسی پر قیاس نہ کروں
اللہ کی نظر حقائق پر ہے
اسباب میں فی نفسہ کوئی تا ثیر نہیں
مصنوعات کو دیکھنا ایک معنی میں صانع کو دیکھنا ہے
ہمارے ناقص عمل کو قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے
ہر انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بیشمار ہیں
ہم جو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ اسی کی عطا ہے
اللہ تعالیٰ کی رضا بندوں کی رضا کی طرح نہیں
حق تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے
حق تعالیٰ کی بڑائی
حق تعالیٰ پر قصدا اعتراض کفرہے
حق تعالیٰ آخرت میں زیادہ مہربان ہوں گے
بوڑھے مسلمان کومحض بڑھاپے کی وجہ سے بخش دینارحمت ہے
اللہ تعالیٰ کا نام دونوں عالم کی قیمت میں بھی ارزاں ہے
حق تعالیٰ کی رحمت طالب کی طرف متوجہ ہوتی ہے
حق تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کی آسا ن ترکیب
اللہ تعالیٰ کے حکم کو خلاف حکمت سمجھنا سنگین جرم ہے
اللہ تعالیٰ کا علم غیر متناہی ہے
دنیا کے تمام خزانے اللہ کے ہاتھ میں ہیں
ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے ہمارے پاس امانت ہے
دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہے
اللہ کو ناراض کر کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا
حق تعالیٰ کی عظمت سب سے بڑی ہے
ہر شخص کو بلخصوص مومن کو اللہ سے محبت ہوتی ہے
کفار کو بھی حق تعالیٰ سے محبت ہے
حق تعالیٰ ہی سب کے محبوب ہیں
خد اتعالیٰ سے محبت ہونی چاہیے
حق تعالیٰ غنی بالذات ہیں
حق تعالیٰ کی تجلی اور استتار دونوں نعمت ہیں
اللہ کا بندوں سے شفقت کا تعلق ہے ضابطہ کا نہیں
اللہ تعالی کو ہم سے خاص تعلق ہے
خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے
تفویض الی اللہ سے راحت ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ بندوں کو راحت میں رکھنا چاہتے ہیں
حق تعالیٰ کو حقوق العباد معاف کرنے کا پورا حق ہے
سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے
معبود کےلیے ہمیشہ خود سے قائم ہونا ضروری ہے
اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتے
حق تعالیٰ کا ہر کام بہتر اور موقع پر ہوتا ہے
حق تعالیٰ کو کسی کی ذات سے من حیث الذات نفرت نہیں ہے
ہر چیز میں تاثیر اللہ تعالیٰ کی ذات ڈالتی ہے
حق تعالیٰ پر طبیعت غالب نہیں ہوتی
اللہ تعالیٰ کےلیےعشق کی بے قراری ثابت کرنا گناہ ہے
حق تعالیٰ بندوں کی مدد کام اور اسباب دونوں میں کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہمارے جذبات کی رعایت کرتے ہیں
حق تعالیٰ کےکسی تصرف سے ناگواری اگر حد اضطراری میں ہوتو یہ محل ملامت نہیں
عدم صحت میں حق تعالیٰ پر اعتراض مذموم ہے،حزن (غمگین ہونا) مذموم نہیں ہے
حق تعالیٰ کے یہاں کسی چیز کو گراں یا معمولی سمجھنا عظمت حق کے خلاف ہے
اللہ تعالیٰ بے پروا ہیں کہ معنیٰ یہ ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں
وجودحقیقت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ذاتی ہے باقی تمام میں صفت عرضی ہے
دنیا میں حق تعالیٰ کو دیکھنے کی چند قسمیں ہیں
حق تعالیٰ ہماری پردہ پوشی فرماتے رہتے ہیں
حق تعالیٰ اگر کسی گناہ میں دس لاکھ برس کے بعد بھی جہنم سے نکال دیں تو یہ ان کی بخشش ہے
حق تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی
خدا پر کسی کو کچھ اختیار نہیں
حق تعالیٰ کی حاکمیت میں کسی کو چوں چراں کی طاقت نہیں ہے
حدیث میں حق تعالیٰ کے لیے مکان کا ذکر کرنے سے مقصود عظمت کا اظہار ہے
خدا کو کسی کے پیسے کی ضرورت نہیں
حق تعالیٰ کی سلطنت پر زوال ممتنع ہے
کبریائی حق تعالیٰ کا خاصہ خاص ہے
حق تعالیٰ کا غضب اور عتاب ان کو بے اختیار نہیں بناتا
حق تعالیٰ کی ذات وصفات کا علماً احاطہ بھی ممکن نہیں ہے
اللہ تعالیٰ بدوں غذا کے بھی زندہ رکھ سکتے ہیں
اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی رحم نہیں کرسکتا
حق تعالیٰ ہر صفت کمال میں بڑے ہوئے ہیں
اللہ تعالیٰ کے کلام کا بھی وہی حال ہے جو تجلی کا ہے
حق تعالیٰ کی محبت مثل حق تعالیٰ کے پوشید ہ ہے
عوام حق تعالیٰ کو اوپر سمجھیں اور خواص حق تعالیٰ کو مکان سے پاک سمجھیں
مؤثر حقیقی حق تعالیٰ ہی ہیں
موحد کہتا ہے کہ ہر چیز کا فاعل خدا ہے
حق تعالیٰ کے ہر معاملہ میں رحمت ، حکمت اور خیر ہی ہے
ایمان کے لیے معرفت حق لازم ہے
حق تعالیٰ کے ہر تصرف پر راضی رہنا چاہیے
جس شخص میں محبت نہ ہو اور بس معرفت ہی ہو اس کا ایمان خطر ے میں ہے
عرش سے بڑی کوئی چیز نہیں
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو انسانی صفات کی مثل مت سمجھو
خالق مخلوق میں فرق ذی شعور باکمال اور اجڈ انسان کی مثال سے سمجھیں
تمام جانداروں کی ارواح اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف ہیں
ہر چیز کا خالق و نگہبان اور ان کی حفاظت و تصرف کلی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے
آسمان و زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں
اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر ظلم نہیں کیا
اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا کائنات کا نظام خراب ہو جاتا
اللہ تعالیٰ کا کلام لفظی قدیم ہے
تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی مطیع و فرمانبردار ہیں
اللہ تعالیٰ مالک مستقل بالذات و فاعل مختار ہیں
اللہ تعالیٰ کوئی بدیہی نشانی اتار کر سب کو مطیع بنانے پر قادر ہیں
خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے
اللہ تعالیٰ اپنی تخلیقات اور احکامات میں منفرد ہیں
ذات باری تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے
احکام الٰہیہ کو بجا لانے میں انسان کو کسی کا ڈر اور فکر نہیں ہونا چاہیے،اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی حفاظت کےلیے کافی ہیں
اللہ تعالیٰ بلند صفات کے مالک ہیں
اللہ تعالیٰ بندے کے اعتقاد کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں
اللہ تعالیٰ کی صفات قدیم اورلازوال ہیں
اللہ تعالی بے نیاز ذات ہے
ہم ہر وقت اللہ کے محتاج ہیں
اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت کے متعلق عقیدہ
کسی چیز کو پیدا کرنے کےلیے اردہ الٰہی کافی ہوتا ہے
قوت ارادی سے پیدا کرنے پر قادر ہونے سے ہر چیز کا دفعۃً پیدا ہونا لازم نہیں آتا
غلبہ اور عزت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے
معبود وہی ہے جو تمام تر تصرفات رکھتا ہو
عبادت کا مستحق رب ہی ہو سکتا ہے
رب کی صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات میں ہے
دنیا کی تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں
مطلع کرنے یا اسباب و آلات سے جاننے کا نام علم الغیب نہیں ہے
اگر اللہ نہ چاہیں تو کوئی فائدہ و نقصان نہیں پہنچا سکتا
انبیاء و اولیاء کو دیا گیا علم،انباء الغیب ہے
اللہ تعالیٰ کےلیے صرف قرآن وحدیث سے ثابت صفات استعمال کی جائیں
جنت میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہوگی
دین وغیرہ انسانوں کی ضرورت و حاجت کےلیے پیدا کیے گئے،اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہیں
بانی اسلام صرف اللہ تعالیٰ ہیں حضور ﷺ مبلغ اسلام ہیں
وحدۃ الوجود
وحدۃ الشہود
تمام مخلوقات اللہ کے تابع ہیں
اللہ تعالیٰ ہر چیز کی مصلحت کو جانتے ہیں
مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں
اللہ تعالیٰ اعمال کے خواص و نتائج سے باخبر ہیں
اللہ تعالیٰ کی رحمت،اللہ کے غضب پر غالب ہے
حقیقی نافع و ضار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
نافع و ضار الٰہی کا عقیدہ،ایک انقلابی عقیدہ ہے
تمام عالم پہ حاکمیت فقط اللہ تعالیٰ کی ہے
حق تعالیٰ ذرا سی بات پر رحمت تو فرماتے ہیں مگر ذرا سی بات پر کبھی عذاب نہیں فرماتے
وحدۃ الوجود کا مطلب
وحدۃ الوجود ایمان ہے اور اتحاد وجود کفر ہے
محال عقلی کا اعتقاد جناب باری تعالیٰ میں کفر ہے
ذات واجب کے احکام تک عقول نہیں پہنچ سکتی کیونکہ وہاں دلائل کا اجرا نہیں ہوسکتا
اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں سب سے زیادہ ہونی چاہیے
حق تعالیٰ ایسے جمیل ہیں کہ کوئی دوسرا اس کے قریب تک بھی نہیں
مسئلہ وحدۃ الوجود میں دو درجے ہیں
کامیابی اور ناکامی کو حق تعالیٰ کے سپرد کر کے تدبیر اختیار کرنا یہ بھی تفویض ہے
ہمارے حالات اختیاریہ اور غیر اختیاریہ اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں
اسباب صرف علامت ہیں حقیقی مؤثر حق تعالیٰ ہی ہیں
تمام دنیا اپنے افعال میں آلات کی محتاج ہے سوائے حق تعالیٰ کے وہ فاعل مختار مطلق ہیں
حق تعالیٰ کے تمام کمالات ذاتی ہیں
حق تعالیٰ ناپاکی سے تو پاک ہیں ہی وہ ہماری بیان کی ہوئی پاکی کی گواہی کے بھی محتاج نہیں ہیں
حق تعالیٰ ہماری بیان کی ہوئی پاکی سے بھی بالا تر پاک ہیں جہاں ہمارا ذہن نہیں پہنچ سکتا
حق تعالیٰ فاعل بالاختیار ہیں
حق تعالیٰ بندوں سے ان کے جذبات کے موافق برتاؤ فرماتے ہیں
کسی کو سلب اصلی پر بھی ثواب دے دینا یہ حق تعالیٰ کا فضل اور انعام ہے قاعدہ وقانون نہیں
حق تعالیٰ کے افعال معلل بالاغراض نہیں ہیں
غریب کو غریب اور امیر کو امیر رکھنے کی مصلحت جو حق تعالیٰ نے تجویز فرمائی ہے وہی سب کے لیے بہتر ہے
حق تعالیٰ کے کسی کام کو نامناسب قصداً کہنا کفر ہے اور بدں التزام کے سخت گناہ ہے
وحدت الوجود کی حقیقت یہی ہے کہ تمام مخلوقات آئینہ جمال حق ہے
تفویض راحت کی بنیاد ہے
حق تعالیٰ کو کسی کی ذات سے بغض اور محبت نہیں بلکہ محبت اور بغض کا مدار صفات پر ہے
تفویض ہی میں راحت ہے
ہر سبب پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ باذنہ تعالیٰ ہے
حق تعالیٰ کے کلمات اور اسرار کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا
تمام مخلوقات حق تعالیٰ کے کمالات کا آئینہ ہے
غریب کو امیر اور امیر کو غریب کرینا حق تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے
حق تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے نری محبت کافی نہیں بلکہ سب محبتوں سے بڑھ کر محبت فرض ہے
تمام مخلوق میں حسن وجمال اصل میں حق تعالیٰ ہی کا ہے
حق تعالیٰ کا حسن ایک ہی سا ہے جس کی مثال بیان نہیں کی جاسکتی
حق تعالیٰ جس طرح اعیان میں تصرف کرتے ہیں ایسے ہی اعراض میں بھی کرتے ہیں
انبیا ء پر ایمان
انبیاء کرام
تمام انبیاء کرام کے متعلق مشترک باتیں
نبوت وہبی ہے
اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے جسے چاہیں نبوت کے اعزازا اکرام سے نوازدیں
انبیاء معصوم ہیں
عام کلام میں سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف عصیان کی نسبت کرنا جائز نہیں
انبیاء کرام کی معصومیت کے متعلق عقیدہ
انبیاء کرام علیھم السلام کی لغزشیں حقیقتاً گناہ نہیں بلکہ صورتاً ہیں
انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے
ایسے بندوں کو جن کو حق تعالیٰ گناہوں سے محفوظ رکھیں ان میں انبیاء کو معصوم اور اولیاء کو مراد اور محفوظ کہتے ہیں
انبیاء کی لغزشیں حقیقت میں طاعت ہی ہیں
انبیاء امین ہیں
انبیاء کرام علیہم السلام نیک اور چنے ہوئے ہوتے ہیں۔
انبیاء کرام معزول نہیں ہوتے
انبیاء کرام پر ایمان لائے بغیر ایمان معتبر نہیں
سب سے پہلا پیغمبر
سب سے آخری پیغمبر
سب سے افضل نبی
نبی اور رسول میں فرق
عام نبوت
انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کامقصد
انبیاء فرشتوں سے افضل
کسی ایک نبی کو جھٹلانا
انکار رسالت کفر ہے
تمام انبیاء کامل ہیں
انبیاء میں سب سے زیادہ کمال علمی وعملی تھا
انبیاء کی وراثت علم اور عمل دونوں ہیں
وراثت انبیاء میں وہی علم ہوگا جو مقرون بالعمل ہو
جنات میں سے نبی و رسول نہیں آئے
انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کےلیے آسمان کے دروازے بند ہیں
رسول بندوں او رخدا کے درمیان واسطہ ہے
رسالت کو نہ ماننا حق تعالیٰ کی تکذیب کرنا ہے
علوم نبوی کے حکماء بھی قائل ہیں
نبوت کو مانے بغیر توحید ،توحید ہی نہیں رہتی
نبوت ناقابل انقسام منصب ہے
یعقوب علیہ السلام کی خاص خصوصیت
انبیاء مظہر ہدایت ہوتے ہیں
شریعت میں انبیاء ورسل کے متعلق اعتدال کا حکم ہے
انبیاء و اولیاء کے وسیلہ کا حکم
انبیاء علیہم السلام کی موت دفعتہً نہیں آتی
انبیاء کی روح قبض کرنے سے پہلے اجازت لی جاتی ہے
ملائکہ اور انبیاء کے سوا کوئی گناہوں سے معصوم نہیں
انبیاء کی بیویاں سب پاک دامن ہوتی ہیں
بدحواسی سے انبیاء معصوم ہیں
انبیاء علیہم السلام کبھی مغلوب الحال نہیں ہوتے
انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے
وحی میں شبہ کا احتمال نہیں ہے
حق تعالیٰ کے نزدیک انبیاء کا مرتبہ سب مخلوق سے زیادہ ہے
ایک نبی کا انکار کرنا سب انبیاء علیہ السلام کا انکار ہے
سب سے پہلے نبی کو اپنی نبوت پر ایمان لانا لازم ہوتا ہے
اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو کسی بھی زمانے میں انبیاء یا ان کے نائبین سے خالی نہیں رکھا
تمام انبیاء علیھم السلام کی بنیادی تعلیمات کو مکمل ماننے لازمی ہے
تمام انبیاء کرام نے خدمت و دعوت دین پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا
تمام نبی نبوت عطا ہونے سے قبل بھی صاحب ایمان ہوتے ہیں
امت کو اپنے رسول سے مختلف قسم کے تعلقات ہوتے ہیں
ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے ھادی بھیجے ہیں
ہر نبی کی شریعت اپنے وقت کے لحاظ سے کامل تھی
اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے پاس نبی بھیجے
اللہ تعالیٰ نےفرشتوں اور انسانوں میں سے بعض کو رسالت کےلیے چنا
اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں نبی یا نبی کا کوئی خلیفہ لوگوں کی اصلاح کےلیے بھیجا
کیا ہندوستان و پاکستان میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا ہے ؟
تمام انبیاء علیھم السلام کے دین میں متفقہ عقائد و اعمال
اللہ کا رسول انسان ہی ہوسکتا ہے فرشتے انسانوں کی طرف رسول نہیں ہو سکتے
انسان کا جنات کےلیے نبی ہونے پر شبہ اور جواب
بالفرض زمین پہ فرشتے رہتے تو ان کا نبی بھی فرشتہ ہوتا
انبیاء علیہ السلام ابتداء ہی سے کامل الاستعداد ہوتے ہیں
پیغمبر دو قسم کے ہوئے ہیں
حضرت نوح علیہ الاسلام ان پیغمبروں میں سے پہلے ہیں جن کو صرف تعلیم میعاد کے لیے مبعوث فرمایا
جو لوگ اسباب ہی کو مؤثر بالذات سمجھتے ہیں وہ خوارق عادت اور معجزات انبیاء کا انکار کرنے لگتے ہیں
سب سے زیادہ کامل ایمان انبیاء علیہ السلام کا ہے
انبیاء میں باہم علاتی بھائیوں جیسا تعلق ہے
ابنیاء علیہ السلام امور دنیوی میں اسباب ظنیہ کو ترک کرتے ہیں اسباب قطعیہ کو نہیں
انبیاء کی تعلیم بظاہر معمولی نظر آتی ہےمگر فائدہ بہت بڑا ہوتا ہے
انبیاء علیہ السلام ہرقوت میں کامل ہوتے ہیں
انبیاء علیہ السلام امور دنیا کے متعلق جواحکام ہیں ان کوزیادہ جانتے ہیں
تجربات کا جاننا نبی کے لیے ضروری نہیں ہوتا بلکہ حقائق کا جاننا ضروری ہے
ہر نبی کی شان جدا ہوتی ہے ان میں تمام صفات ہوتی ہیں لیکن حکم کسی کو کسی صفت سے کام لینے کا ہوتا ہے
انبیاء کرام کے اجتہاد کا حکم
رائے کی غلطی کسی نبی سے صادر ہونا ممکن ہے
انبیاء کرام مالی وراثت نہیں چھوڑتے
سیدنا سلیمان علیہ السلام سیدنا داود علیہ السلام کے مال کے وارث نہ ہوئے
انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کے خلفاء ہیں
زمین پہ وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰ نے اپنے نائب بھیجے
اللہ تعالیٰ کے خلفاء کا کام
معجزات وکرامات
معجزہ اور کرامت میں فرق
معجزات و کرامات کے متعلق عقیدہ
رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی تعداد
سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے
معجزہ کی تعریف
معجزات و کرامات کی حقیقت
حیات عیسی علیہ السلام
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام روح مع جسد اطہر اٹھائے گئے
اسلام میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے متعلق عقیدہ
آپﷺ کے بعد امت میں سب سے بزرگ ہستی
عیسی علیہ الاسلام کا قرب قیامت تشریف لانا لانبی بعدی کے خلاف نہیں
سید الانبیاﷺ
حضور ﷺ پر اعتماد کرنا لازم ہے
رسول اللہ ﷺ پر ایمان تین حیثیتوں سے ضروری ہے
لواء الحمد
حوض کوثر
شفاعت کبری
شفاعت کی اقسام
عام نبوت
رحمت
وجوب اطاعت
اتباع کامل کے فوائد
امت کے گناہوں سے حضور ﷺ کا دل دکھتا ہے
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ایمان لانا ضروری ہے
آپ ﷺ سے محبت
حضور ﷺ کا روضہ مبارک عرش وکعبہ سے افضل ہے
آپ ﷺ پر صلاۃ پڑھنا
درود شریف کی کثرت
بشریت
معاصی کے باوجود محبت نبوی ﷺ کا درجہ ضعیف ہے
حضور ﷺ کے اقوال اور افعال دونوں متبوع ہیں
رسول اللہ ﷺکی محبت ایسی ہو جیسی صحابہ کرام کے دل میں تھی
ظلی وبروزی نبی ماننا یہ زندقہ و الحاد ہے
رسول اللہﷺ کی طاعت کا حکم
کیا رسول اللہﷺ کی طاعت بعینہ اللہ تعالیٰ کی طاعت نہیں؟
حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہر پریشانی سے نجات ہوتی ہے
حکم رسولﷺ حکم خدا ہے
حضور ﷺ کے فیصلے کا انکار کفر ہے
رسول اللہﷺکی تکذیب ،اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے
حضور ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا شرط ایما ن ہے
تمام نیکیاں اور علم و فضل اقرار نبوت کے بغیرمقبول نہیں
معجزات رسول ﷺ
حضور ﷺ نے امت کے نفع کی ہر بات کو بیان کیا ہے
تہجد دوسروں پرسنت ہے اور حضور ﷺپرایک قول کے مطابق فرض تھی
حضو رﷺکو خدا کی حد میں داخل کرنا یہ توہین ہے
حضورﷺکو بشریت سے نکالنا یہ حضورﷺ کی تعظیم نہیں توہین ہے
حضور ﷺ کی رضا ء و محبت بحیثیت رسول مطلوب ہے
حضور ﷺ قدیم نہیں حادث ہیں
امر اور شفاعت کا درجہ
جو شفاعت حق تعالیٰ کے حکم اور وعدہ قبول کے بعد ہوگی اس میں رد کا احتما ل نہیں
حضور ﷺ کے معجزات وفات کے بعد بھی ظاہر ہوتے ہیں
حضور ﷺ کی اس طرح فضیلت بیان کرنا کہ باقی انبیاء کی تنقیص کا ابہام ہو یہ منہی عنہ ہے
حضور ﷺ کی اتباع کر کے کامیابی حاصل کرو
حضور ﷺ کا فقر اختیاری تھا
آپﷺ تارک دنیا تھے متروک الدنیا نہ تھے
اسوہ رسول ﷺ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے
ہمارے تمام افعال میں حضور ﷺ ہی کی زندگی نمونہ ہے
حضور ﷺ کے اقوال میں غلطی نہیں ہوسکتی
اہل عرب میں نبی کریمﷺ سے اسماعیل علیہ السلام تک کوئی نبی نہیں آیا
سید الانبیاءﷺ کی نبوت کے دلائل
فلاح پانے کےلیے آپﷺکی تعظیم و محبت لازم ہے
سیدالانبیاءﷺ کی تائید اور آپ کے مخالفین سے نفرت کرنا ایمان کی شرط ہے
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے اتباع کے ساتھ محبت و احترام لازم قرار دیا
نبی کریم ﷺ تمام جن و انس کے قیامت تک کے نبی ہیں
رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا فرض ہے
رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے بغیر اللہ پر ایمان نہیں ہو سکتا
رسول اللہﷺ کی تعلیمات پر ایمان نہ لانے والے اہل کتاب جہنمی ہیں
نبی کریم ﷺ امت کے باپ ہیں
رسول اللہﷺ کی رسالت کے منکرین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے
رسول اللہﷺ اور آپ کی تعلیمات کے بغیر ہدایت ممکن نہیں
ایمان والوں کےلیے نبی کریمﷺ ان کی اپنی جانوں سے زیادہ قریب تر ہیں
نبی کریمﷺ کی اطاعت والدین کے حکم زیادہ واجب التعمیل ہے
نبی کریمﷺ سے محبت ہر مومن کو خود اور والدین سے زیادہ مطلوب ہے
نبی کریمﷺ تخلیق وتکوین میں اول اور بعثت میں انبیاء سے آخر ہیں
نبیﷺ کا دعویٰ نبوت عقلی طور سے بھی ثابت ہے
آپ ﷺ کے حقوق
رسالت کا اعتقاد
آپ ﷺ کی عظمت
آپ ﷺ کی اطاعت
رسول اللہ ﷺکی بے ادبی کرنے سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں
ایذا رسول حرام ہے
ایذا رسول سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں
آپﷺ کی خصوصیت
ختم نبوت
ختم نبوت پر قرآن وحدیث سے دلائل
عقیدہ ختم نبوت،مسلمان کا بنیادی عقیدہ
عقیدہ ختم نبوت اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ
عقیدہ ختم نبوت کا تقاضا
ختم نبوت کی ایک دلیل
ختم نبوت میں کمال نبوت و رسالت ہے
ختم نبوت کی وجہ سے نبی کریمﷺ کی امت سب سے بڑی امت ہوگی
ختم نبوت کی وجہ سے نبی کریمﷺ کی شفقت اپنی امت نسبتاً زیادہ ہوگی
مسئلہ ختم نبوت امت کا مجمع ومتفق علیہ عقیدہ ہے
آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا آخر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے منافی نہیں
منکر ختم نبوت سے قتال،صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع
نبی کریمﷺ کے بعد ہر طرح کی نبوت کا دعویٰ دار دائرہ اسلام سے خارج ہے
نبی کریمﷺ کا ختم نبوت کو ایک مکمل محل سے تشبیہ دینا(ظلی و بروزی کا رد)
نبی کریمﷺ کا اپنے بعد نبی کے نہ آنے اور خلفاء کے سلسلہ کے متعلق پیشنگوئی(ظلی و بروزی کا رد)
نبی کریمﷺ کا فرمانا کہ میرے بعد مبشرات باقی رہیں گے(ظلی و بروزی کا رد)
معراج
حیات النبی
حضور ﷺ واقع میں زندہ ہیں
انبیاء علیہ السلام کی حیات قوی ہے
انبیاء کی حیات شہدا کی حیات سے بھی قوی ہے
سب سے زیادہ علم
علم غیب
آپﷺ کی بعثت عام تھی
آپﷺ کے بعد آپ کے خلفاء و نائب آئے گے
آپﷺ کی امت کی اجتماعیت گمراہ نہ ہو گی
صحابہ کرام
معیار حق
انبیاء کے بعد صحابہ کرام
ولی صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا
صحابہ کرام میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں
حضرت عمر
حضرت عثمان
حضرت علی
عشرہ مبشرہ
اہل بدر
اہل احد
بیعت رضوان
عورتوں میں سب سے افضل
حضرت خدیجہؓ
حضرت عائشہؓ
باقی امہات المؤمنین
مشاجرات صحابہ کرام
عدالت صحابہ کرام
صحابہ کرام کی ثقاہت
صحابہ کرام کی تعظیم
صحابہ کرام سب بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا سے مشرف ہیں
مشاجرات صحابہؓ کے متعلق ایک اہم ہدایت
ازواج مطہرات
اہل بیت نبوی
نبیﷺ اور اہل بیت کی محبت ایمان کا ایک جزو ہے
اہل بیت و آل رسولﷺ کی محبت متفق علیہ ہے
سادات کی عزت و تکریم باعث اجرو ثواب ہے
اہل سنت والجماعت کا صحابہ کرام کے متعلق عقیدہ
صحابہ کرام پہ طعن کرنا جائز نہیں
صحابہ کرام کی آپسی لڑائیوں کے بارے میں طعن تنقیص کرنا جائز نہیں
حضرات صحابہ کرام سب سے زیادہ کامل،مضبوط اور مستقل مزاج تھے
صحابہ کرام کو بہت کم شبہات ،احکام میں پیش آئے
صحابہ رضی اللہ عنہم کو حضور ﷺ کی سلامتی ہر چیز سے زیادہ محبوب تھی
اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں
ازواج مطہرات میں جو کبھی آپس میں چھیڑ چھاڑ ہوجاتی تھی وہ حضور ﷺ کی محبت کے کی وجہ سے ہی تھا
ازواج مطہرات کو حضور ﷺ سے بے حد محبت تھی
ازواج مطہرات کامل ولیات تھی
حضور ﷺ بھی خدا کے مساوی اور شریک ہرگز نہیں
حضور ﷺ کو سجدہ کرنا نہ زندگی میں جائز تھا اور نہ ہی اب روضہ کو سجدہ کرنا جائز ہے
آپ ﷺ کا ہر حکم پیغمبر ہونے کی احیثیت سے خدا ہی کا حکم ہے
حضور ﷺ تشریعی احکام میں بھی اول ہیں اور تکوینی امور میں بھی اول ہیں
حضور ﷺ کا بعض علوم سے ناواقف ہونا کچھ عیب نہیں
حضورﷺ کا کسی بات کی خبر دے دینا ہمارے لئے مشاہدہ سے بڑھ کر ہے
حضورﷺ کے اعمال ہر طرح کامل ہیں
اگر حضورﷺ کے طریقے پر نہیں چل رہے تو حضورﷺ سے کس منہ سے محبت کا دعویٰ ہے
حضور ﷺ اصلاح امت کے لیے مامور ہیں
حضور ﷺ کی معراج جسمانی تھی
حضورﷺ کے حقوق بھی مثل حقوق اللہ کے تین ہیں
حق تعالیٰ کی اطاعت اور محبت کی طرح حضور ﷺ کی اطاعت اور محبت بھی فرض ہے
حضورﷺ میں اصل صفت تو نبوت ہے سلطنت اس کے تابع ہے
حضور ﷺ میں اصل کمال خاتم النبیین ہونا ہے
حضور ﷺ کے تین حقوق ہیں مطاوعت،عظمت،ومحبت
اطاعت ،عظمت اور محبت رسول ﷺ کی حقیقت محققین اور ان کی کتب سے معلوم کریں خود سے نہ گھڑیں
حضور ﷺ کی دو شانیں ہیں
آپ ﷺ کی دونوں شانوں کے مظاہر دنیا میں موجود ہیں
حضور ﷺ کو دور سے پکارنے کی بعض سورتیں جائز ہیں اور بعض ناجائز
حضور ﷺ کو پکارنا اگر بطریق تلاوت آیات ومسنون دعاؤں سے ہے تو یہ تو جائز ہے
حضور ﷺ کو فرضی طور پر دل میں حاضر تصور کر کے پکارنا جائز تو ہے لیکن فساد عقیدہ کے اندیشہ سے احتراز بہترہے
حضور ﷺ کو حاضر وناظر سمجھے بغیر فرط غم یا فرب محبت میں پکارنا یہ جائز تو ہے لیکن فساد عقیدہ کے اندیشہ سے احتراز بہترہے
دیگر انبیاء اور حضور ﷺ میں اکمل اور اکمل الاکملین کی نسبت کا فرق ہے
حضور ﷺ کو مقدم کہنا اور باقی انبیاءکو مؤخر کہنا یہ خلاف ادب ہے
حضور ﷺ کی شفاعت کے ہوتے ہوئے باقی لوگوں کی شفاعت کی ضرورت زیادت تسلی کے لیے ہے
کتابوں پر ایمان
صحیفوں کی تعداد
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کےلیے کتابیں،دین حق اور ترازو نازل کیا
کتب سابقہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ
موجودہ تورات و انجیل کی مطلقاً تصدیق کی جائے نہ مطلقاً تکذیب
تورات کی صفات کا بیان
پہلی کتابوں پہ ایمان لانا اب بھی لاز م ہے
سابقہ کتب سماویہ کو پڑھنے اور ان سے استفادہ کے متعلق احکام
تورات و انجیل کے غیر محرف حصہ سے اہل علم کا فائدہ اٹھانا درست ہے
نبی کریمﷺ کا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو تورات پڑھنے سے روکنا
قرآن کریم
قرآن کریم ناسخ
قرآن کے عام خطابات مردوں کو ہیں عورتیں کا ذکر احتراما پوشیدہ رکھا گیا ہے
بعض عورتوں کا قرآن مجید میں ان کو مخاطب نہ کرنے پر شکوہ اور اللہ تعالیٰ کا ان کی دل جوئی کےلیے تذکرہ کرنا
قرآنی احکام میں تسہیل کا خاص اہتمام
قرآن پر ایمان لانا بھی شرط ایمان ہے
عالمگیر کتاب
حفاظت قرآن
قرآن مجیدایک مکمل اور جامع کتاب
قرآن مجید کی خصوصیات اور اعجازی شان
ہم کو ہر موقع اور ہر شئے میں قرآن مجید کی ضرورت ہے
قرآن مجید کی کلام اللہ ہونے کی دلیل
متشابہات
متشابہات کے متعلق عقیدہ
آیات متشابہات کے معنیٰ کی تعین نہ کرو اس کی مراد کے حق ہونے کا اعتقاد رکھو
فرشتوں پر ایمان
فرشتوں کی تعریف
فرشتوں کا ادب
حضرت جبریل علیہ السلام کی سرداری
حضرت جبریل علیہ السلام کی ذمہ داری
حضرت میکائیل علیہ السلام کی ذمہ داری
حضرت اسرافیل علیہ السلام کی ذمہ داری
روح قبض کرنے والے فرشتے
فرشتوں کی تعداد
مقرب فرشتے
مالک اور رضوان
ھاروت ماروت
فرشتے معصوم ہوتے ہیں
فرشتوں کے بارے میں مشرکین کا عقیدہ
فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا
فرشتے کس شکل میں ظاہر ہوتے ہیں
فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں
ذمہ داریوں کے اعتبار فرشتوں کی اقسام
اچانک آنے والی مصیبتوں سے حفاظت کےلیے فرشتے مقرر ہیں
فرشتے انسان کو گناہ سے بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں
فرشتے ہر وقت عبادت الٰہی میں مشغول ہیں
محافظین فرشتے
کراما کاتبین
چہاں پر فرشتے مقرر ہیں
منکر نکیر فرشتے
فرشتوں کےلیے عبادت الٰہی بمنزل انسانوں کے سانس لینے کی مثل ہے
فرشتوں کے متعلق غلط عقائد رکھنے والوں کی مذمت
سب سے افضل فرشتہ کون ہے
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا لقب"روح القدس"ہے
فرشتوں کے کام
فرشتوں سے خیر وشر دونوں کام لیے جاتے ہیں
فرشتوں کے ذمہ کچھ کام لگانے میں حکمت الہی ہے
رحمت کے فرشتہ کا انسان سے دور ہو جانا خطرناک ہے
ملائکہ بھی اجتہاد کرتے ہیں
جنات بھی انسان کے دشمن ہیں فرشتے انسان کی ان سے حفاظت کرتے ہیں
فرشتوں کے ندا کو قلب سنتا ہے اگرچہ کان سننے سے قاصر ہیں
فرشتوں سے غلطی اور خطا کا احتمال نہیں ہے
تقدیر پر ایمان
تقدیر کی اہمیت
تقدیر کا معنیٰ
راحت کامل تقدیر کے ماننے میں ہے
تقدیر سے مجبور محض نہیں ہوتا
عقیدہ تقدیر کا فائدہ
تقدیر کے مقابل تدبیر کارگر نہیں
تقدیر الٰہی کے منکرپر اللہ ورسول کی لعنت
تقدیر کے درجات
تقدیر کے مسائل دقیق ہوتے ہیں ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آسکتے
تقدیر پر نظر رکھنے کے فوائد
اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جھنم کی تعیین ابتداءً کردی
جنتی و دوزخی کی تعیین کے بعد ،اعمال کا مقصد
مسئلہ تقدیر کے اطلاع کی حکمت
حق تعالیٰ نے مسئلہ تقدیر کو فطری بنادیا ہے
تقدیر پرا یمان کا دنیوی نفع
حضرات صحابہ کو مسئلہ تقدیر میں گفتگو سے ممانعت
مسئلہ تقدیر کا اجمالی تعارف
انسان کے متعلق تمام چیزیں تقدیر میں لکھ دی جاتی ہیں
مخلوقات کے متعلق تمام تقدیر لکھی جا چکی ہے
بعض اعمال اور دعاؤں سے تقدیر میں تبدیلی ہوتی ہے
عہد الست، روح مع جسم سے تھا
عہد الست کب اور کہاں لیا گیا؟
وجود عنصری کے بغیر عہد سمجھنا کیسے ممکن ہے؟
بعض حضرات کو عہد الست یاد رہا
عہد الست کو یاد رکھنا مقصود نہیں،اس کا اثر موجود ہے
عہد الست لینے کا ایک مقصد
انسانوں کی اکثریت عہد الست بھول گئی
تقدیر کی اقسام
تقدیر مبرم
تقدیر معلق
تقدیر کے متعلق متفرق باتیں
تقدیر کے متعلق بحث کرنا
تقدیر ازلی
مستقبل کی باتوں کے پہلے جاننے کا انجام
انسان کی مرضی پر کام چھوڑنے کا نتیجہ
تقدیر پر ایمان لانے کا مفہوم
تقدیر پر مجملاً ایمان بالکل کافی ہے
مسئلہ تقدیر کا حاصل
مصائب تقدیر پر ایمان کے لیے امتحان ہے
ایک دن کی بھی تجویز کی اجازت نہیں البتہ صدیوں کی تدبیر کی اجازت ہے
مسئلہ تقدیر کی کُنہ معلوم کرنا گناہ ہے
تقدیر تجویز حق کا نام ہے
اتفاقی واقعات وحالات ،اللہ کے ہاں حیثیت
عنداللہ ہر چیز کا وقت مقرر ہے
اچھی و بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے
دنیا میں خیر و شر سب اللہ کے ارادہ و مشیت سے ہوتا
بوجہ ادب الٰہی شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف جائز نہیں
کسی انسان کی عمر کا طویل ہونا اور کسی کی عمر کا کم ہونا یہ سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے
عمر کے گزرنے سے اللہ تعالیٰ کے ہاں لوح محفوظ میں اس کی عمر کے درجے کم ہو جاتے ہیں
صلہ رحمی سے عمر اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے
صلہ رحمی اور دیگر اعمال سے عمر کے بڑھنے کا معنیٰ و مفہوم
انسان کو اللہ تعالیٰ نے بااختیار بنایا ہے
اللہ تعالیٰ سے عہد ایمان و اطاعت کی خلاف ورزی
مسئلہ تقدیر کی تعلیم اس لیے کہ تاکہ حزن وفرح حد سے نہ بڑھے
دنیا کی ہر مصیبت پر راحت کا سامان عقید ہ تقدیر میں موجود ہے
جو تقدیر کا قائل نہیں اس کو نعمت میں بھی راحت نہیں
جو تقدیر کا قائل ہے وہ ہر درجہ میں قانع ہوتا ہے
جو تقدیر میں ہے وہ ضرور ملتا ہے اور جو نہیں وہ ہزار تدبیر سے بھی حاصل نہیں ہوسکا
مسئلہ تقدیر کو اصلاح اعمال میں بڑا دخل ہے
محض تدبیر مؤثر نہیں بلکہ تدبیر کےمؤثر ہونے لیے تقدیر کی موافقت شرط ہے
تقدیر حق تعالیٰ کی مشیت کا نام ہے
کتاب الفتن
زمین کی ظاہری اور باطنی اصلاح کیا ہے؟
امت میں فرقہ بازی
آپسی اختلافات کے خاتمہ کےلیے رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی لیکن اللہ تعالی نے قبول نہیں کی
اکثر مصائب کا سبب ،آپسی اختلاف ہے
اس امت کے تہتر فرقے ہوں گے
تفرقے کے زمانہ میں اتباع سنت کو لازم پکڑو
جس نے اتباع صحابہ سے منہ موڑا،اسلام کا قلادہ گلے سے اتار دیا
قرآن وسنت کی تشریحات کو تعامل صحابہ سے لینے سے فرقے ختم ہوں گے
مفاسد و بدعات کا بیان
مفاسد کی وجہ سے فرائض و واجبات ترک نہ کریں
حدیث میں وارد 73 فرقوں کے متعلق کچھ وضاحت
موت
حالت نزاع
حالت نزاع کے وقت بولے گئے کلمات پر مواخذہ نہیں
شدت نزع کے دو سبب ہیں
شدت نزع کا مدار طاعت و معصیت پر نہیں ہے
نزع میں سہولت نا ہی محمود ہے اور نہ ہی کمال ہے
مرنے کے بعد تین مرتبہ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے
نزع کی حالت میں کہے گئے کلمات معاف ہوتے ہیں
نزع روح کے وقت ایمان لانا معتبر نہیں
حالت نزع میں قبول ایمان معتبر نہیں
حالت نزع میں کلمہ کفر معتبر نہیں
موت کے متعلق متفرق باتیں
موت صرف جسم کو آتی ہے روح کو نہیں
روح کے لیے تصرفات اختیاری ثابت نہیں
موت کا کوئی مقرر اور معین وقت نہیں
مرنے کے بعد تمام اعمال منقطع ہوجاتے ہیں
موت قیامت کا مقدمہ ہے جزاوسزا کا سلسلہ اس کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے
موت آخرت کا پیش خیمہ ہے
موت کے اسباب اختیار کرنا حرام ہے
موت کسی کے قبضہ میں نہیں اسباب موت اختیار کرنے سے بھی موت کا آجانا لازم نہیں
موت کے بعد ایمان کالعدم اور غیر قابل اعتبار ہے
آخرت
آخرت کا تعارف واہمیت
آخرت کے نام
عقیدہ آخرت کے فوائد
قیامت کا علم
قیامت کا وقوع
قیامت کا مقصد
قیامت کا مقصد تمام لوگوں کو اپنے اعمال کا بدلہ دینا ہے
انسان کو آخرت کی تیاری و فکر کرنی چاہیے
قیامت کے وقوع کا علم کسی کو معلوم نہیں
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے وقوع کا تعین نہ بتلانا ،حکمتاً ہے
قیامت اچانک برپا ہوگی
قیامت کا مبہم اور غیر معلوم ہونا ،ہمارے لیے ایک نعمت ہے
عقیدہ آخرت کی اہمیت
عقیدہ آخرت کی اہمیت
عقیدہ آخرت کی اہمیت
برزخ
برزخ کا معنیٰ
برزخ کسی جگہ کا نام نہیں
عالم برزخ میں جزا کا سلسلہ
عالم برزخ میں سزا کا سلسلہ
برزخ میں واقع ہونے والے عذاب وثواب کا تعلق روح اور جسم دونو ں کے ساتھ ہے
روح کا جسم کے ساتھ تعلق
قبر کا عذاب
حیات برزخیہ کے مراتب
اقویٰ درجہ کی حیات برزخیہ
سفر آخرت سے غفلت
برزخ کی زندگی کی صورت
برزخ میں سب کو حیات ملے گی
قبر میں نیک بندوں کو اطمینان و راحت ہوتی ہے
قبر میں دیگر ارواح مردہ سے دنیا والوں کے حالات دریافت کرتی ہیں
قبر کے سوال جواب میں اختیار سلب نہ ہوگا
قبر میں تنہائی نہیں ہوتی
عالم برزخ مستقل ایک عالم ہے
اہل اللہ کی حیات برزخیہ دوسروں سے قوی ہوتی ہے
مردہ کی روح اور اس عالم میں قیامت تک کے لیے پردہ ہے
قبر کا عذاب قیامت اور جہنم کے عذاب سے ہلکا ہے
عذاب قبر دیکھا نہیں جا سکتا
قبر میں کوئی جھوٹ نہ بول سکے گا
عالم برزخ میں انسان کو صبح و شام اس کا قیامت کے بعد کا ٹھکانہ دکھلایا جاتا ہے
عذاب قبر کی دلیل قرآن مجید سے
مؤمنین کو قبر میں کلمہ طیبہ پہ ثابت قدم رکھا جائے گا
قبر میں سوال و جواب اور ثواب و عذاب کا عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے
والدین کی نافرمانی کرنے والا کا عذاب قبر
سماع موتیٰ
سماع وعدم سماع موتیٰ کے متعلق قرآن مجید کی آیات خاموش ہیں
سماع موتٰی کا مسئلہ مختلف فیہ ہے
قرآن مجید میں موجود سماع موتیٰ کے متعلق آیات کا مضمون
سماع موتیٰ کا ثبوت قرآن مجید کی روشنی میں
سماع موتیٰ کا ثبوت حدیث شریف کی روشنی میں
سماع موتیٰ وعدم سماع کے متعلق احادیث میں تطبیق
عالم مثال (برزخ) کا مان لینا ضروری ہے
حالت کرب ونزع میں مومن کے جسم کو تکلیف ہوتی ہے روح لذت میں ہوتی ہے
شدت نزع کسی شخص کے عاصی ہونے کی علامت نہیں ہے
برزخ کی لذت و کلفت بھی کامل ہوتی ہے
عالم برزخ دنیا وآخرت کے درمیان میں ہے
دنیا میں جتنے اعزہ مرتے ہیں سب کی مفارقت چند روزہ ہے برزخ میں سب مل جائیں گے
دنیا میں بھی ہر فوت ہونے والی چیز کا نعم البدل ملتا ہے
علامات قیامت
نفخہ اولی
نفخہ ثانیہ
علامات صغری
علامت کبری
دجال
اس امت کا سب سے بڑا گمراہ شخص
خروج دجال
دجال کا استدراج
دجال کے بطلان کی کھلی علامتیں
دجال کے زمین پر چالیس دن رہنے کی حقیقت
دجال کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا امت کو متنبہ کرنا
دجال زمین پہ چالیس دن رہے گا
فتنہ دجال سے حفاظتی آیات
دجال کا مکمل زمین پر سفر کرنا اور اس کے ہاتھ عجیب واقعات کا رونما ہونا
دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا
بیت اللہ کا حج و عمرہ خروج دجال کے وقت اور ہمیشہ جاری رہے گا
امام مہدی کا ظہور
نزول مسیح علیہ السلام
عیسیٰ ؑ جب آئیں گے تو امتی بن کر آئیں گے
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی رحمۃ اللہ علیہ کی مدت قیام
نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی کیفیت
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا دجال سے قتال کرنا
نزول کے بعد سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے کی مدت
خروج یاجوج ماجوج
یاجوج و ماجوج کے متعلق روایات حدیث سے حاصل شدہ نتائج
یاجوج و ماجوج انسان ہیں اور یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں
یاجوج وماجوج دنیا کے انسانوں سے دس گناہ زیادہ ہے
یاجوج و ماجوج قرب قیامت تک محصور رہیں گے
خروج یاجوج و ماجوج پہ زمین پہ ضروریات زندگی کم ہو جائیں گی
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یاجوج و ماجوج ہلاک ہوں گے
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان کی لاشوں کا ٹھکانے لگایا جانا
ہلاکت یاجوج وماجوج کے بعد چالیس سال امن و سکون کا رہنا
یاجوج و ماجوج کے پاس پہنچنا اور دیوار بنانا
یاجوج ماجوج کون ہیں؟
یاجوج وماجوج کے متعلق روایات حدیث
قتل دجال کے بعد یاموج ماجوج کا خروج
یاجوج و ماجوج کے خاتمہ کے بعد زمین پر برکتوں کا ظاہر ہونا
یاجوج ماجوج کا آسمانی مخلوقات ختم کرنے کا ارادہ
موجودہ انسانوں سے دس گنا زیاہ یاجوج ماجوج جہنم میں جائیں گے
یاجوج و ماجوج تک پیغمبروں کی دعوت پہنچ چکی ہے
سد یاجوج و ماجوج
سد ذوالقرنین کمزور ہو چکی ہے
یاجوج و ماجوج و سد ذوالقرنین کے متعلق تاریخی و جغرافیائی بحثوں کی حیثیت
یاجوج و ماجوج کے دیوار کھودنے والی حدیث کا جواب
رسول اللہ ﷺ کا سد یاجوج ماجوج میں سوراخ ہونے کی خبردینا
یاجوج و ماجوج کا مسلسل دیوار کو کھودتے رہنا
یاجوج و ماجوج کے دیوار کھودنے کی حقیقت
خروج دخان
قرب قیامت میں آنے والے دخان کے اثرات کا بیان
نبی کریمﷺ کا کفار مکہ کے کےلیے بد دعا کرنا اور ان پر قحط کا پڑنا
نبی کریمﷺ کی دعا سے قحط کا ٹلنا اور بارش کا نازل ہونا
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
دابۃ الارض
دابتہ الارض کیا ہے اور کہاں اور کب نکلے گا ؟
قیامت کی آخری بڑی نشانی دابۃ الارض کا نکلنا ہے
ٹھنڈی ہوا کا چلنا
حبشہ کا غلبہ
یمن سے آگ کا نکلنا
معاد جسمانی
صور کا پھونکا جانا
صور پھونکے جانے کے وقت کی کیفیت
صور کتنی بار پھونکا جائے گا ؟
صور پھونکے جانے کے وقت انبیاء و شہدا پر گھبراہٹ طاری نہ ہوگی
صور پھونکے جانے کے وقت چھ مقرب فرشتے نہیں مریں گے
دونوں صوروں کا درمیانی وقفہ اور بارش کا ہونا
صور کی آواز مسلسل ہوگی ،اس میں ہلکا سا بھی وقفہ نہ ہوگا
صور کیا چیز ہے؟
سب سے بڑی گھبراہٹ کون سا نفخہ ہے؟
نفخہ ثانیہ کے بعد قبروں سے اٹھنے کے بعد کی مختلف کیفیات
دوسرے صور کا مقصد
صور کی آواز سے اولاً سب مخلوقات بے ہوش اور پھر مر جائیں گی
صور کی آواز سے بعض فرشتوں پر موت واقع نہیں ہوگی
نفخہ اولیٰ کے وقت لوگوں کی چیخ و پکار ہوگی اور بھگدڑ کی سی حالت ہوگی
نفخات تین ہوں گے
بروز قیامت پہاڑوں کی مختلف حالتیں
بروز قیامت پہاڑ بادلوں کی مثل چلیں گے
اللہ تعالیٰ کی کاریگری میں کمال میں کوئی حیرت و تعجب نہیں
روز قیامت زمین و آ سمان کو بدل دیا جائے گا
روز قیامت زمین کی صفات و حالت کیسی ہو گی؟
موجودہ زمین جھنم کا حصہ بن جائے گی
آخرت کے دلائل
مشرکین کے سامنے نبی کریمﷺ کا آخرت کے ثبوت پر متفرق دلائل پیش کرنا
آخرت کے دلائل جاننے کے بعد کفار کا رد عمل
کفار کے رد عمل پر حق تعالی کی جانب سے جواب
دنیا میں عدل و انصاف کے حکم الٰہی سے آخرت کا ثبوت
منکرین قیامت درحقیقت تخلیق کائنات کے عبث ہونے کے دعوے دار ہیں
بعث و قیامت کے دلائل کونیہ اور ان میں غور نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی دھمکی
بعث و قیامت کے ثبوت کے دلائل
بنجر زمین کے آباد ہونے سے بعث و قیامت کی دلیل پیش
بنجر زمین کے آباد ہونے اور بعث بعد الموت میں مشابہت
منکرین قیامت ، ان کے دلائل اور ان کا جواب
رسول اللہ ﷺ کو منکرین قیامت کو جواب دینے کا حکم
منکرین قیامت کا وقوع قیا مت مشاہد ہونے پر عدم کی دلیل پکڑنا
قیامت کے وقت کا معلوم نہ ہونا اس کے عدم کی دلیل نہیں ہے
حکمتاً اللہ تعالیٰ بعض امور کو غیب میں رکھتے ہیں
منکرین قیامت دلائل قیامت میں نظر نہیں کرتے
منکرین قیامت کا وقوع قیا مت مشاہد ہونے پر عدم کی دلیل پکڑنا
عاص بن وائل کا بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے کر آپﷺ سے بعث کے متعلق سوال
ہر انسان قیامت میں اپنا بوجھ خود اٹھائے گا
روز قیامت اولاد اور بیوی بھی کام نہ آئے گی
آخرت و جزا و سزا کے وقوع کی ایک عقلی دلیل
انصاف قائم کرنے کےلیے روز جزا کا ہونا ضروری ہے
دنیا بدلہ کی جگہ نہیں بلکہ دارالعمل ہے
مالدار ہونا عمدہ جزاء کی علامت نہیں ہے
دنیاوی علامتیں اعمال کی جزاء کی یقینی علامت نہیں
حساب و کتاب
پوشیدہ چیزوں اور گناہوں کا محاسبہ
اعمال باطنہ کا حساب آخرت میں ہوگا
قصد و ارادہ والے افعال پہ نتائج کا ترتب ہوگا
حساب کتاب کے وقت اللہ تعالیٰ کی تجلی خاص کا نازل ہونا
کان آنکھ اور دل کے متعلق قیامت کے روز سوال
حواس خمسہ میں سے مذکورہ حواس کا تذکرہ کرنے کا مقصد
آخرت میں بدلہ چکانے میں اعمال کا انتقال ہوگا، ایمان کا انتقال نہیں ہوگا
محشر کی عدالت میں مظلوم کا حق ظالم سے وصول کرنے کی صورت
مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز بدلہ چکانے میں اپنی نیکیاں دوسروں کو دے اور ان کے گناہ اپنے پلڑے میں لےلےگا
روز قیامت رب تعالیٰ کے سامنے اول مقدمہ شوہر اور بیوی کا پیش کیا جائے گا
انسان کے اعضاء وجوارح کی محشر میں گواہی
رات و دن کا انسان کے معاملہ میں محشر میں گواہی دینا
اعراف
اہل اعراف بھی جنت میں چلے جائیں گے
ذی اخلاق کفار کے اہل اعراف ہونے کی کوئی دلیل نہیں
اعراف کا معنیٰ اور مقام
اہل اعراف کو جنت میں داخل کرنا
اعراف اور اہل اعراف کون ہیں؟
قیامت کی ہولناکی
محسنین بروز قیامت عذاب الٰہی سے بے خوف ہوں گے
قیامت کے کچھ ہولناک مناظر
روز قیامت کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا
صور پھونکا جانے کے بعدکافروں کا دنیاوی رشتہ داری کام نہ آئے گی
قیامت کا دن حسرت و افسوس کا دن ہوگا
روز قیامت کے خوف و ہولناکی کی وجہ سے لوگ گھٹنوں کے بل ہوں گے
روز قیامت ادب کی وجہ سے لوگ تشہد کی صورت میں بیٹھے ہوں گے
احوال محشر
روز قیامت اعمال و اخلاق کی بنیاد پر جماعتیں بنیں گی
روز محشر دنیاوی مراسم و مخالفتیں ختم ہو جائیں گی
روز قیامت رسولوں اور لوگوں سے سوال
روز قیامت میں آپ ﷺ کے بارے میں سوال
محشر میں تمام جانوروں کو زندہ کیا جائے گا
جانوروں کا انتقام ،اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا مظہر ہوگا
روز محشر انسان کو باپ کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا
محشر میں کفار بھی اللہ کی حمد وثناء کرتے اٹھیں گے
حشر کی ابتدا اور خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء پر ہو گا
محشر میں ہر شخص کو اس کے امام و پیشوا کے نام سے پکارا جائے گا
روز محشر فرشتوں کے ذریعہ سب کو بلایا جائے گا
محشر میں سوالات پر کفار کا آپس میں جھگڑ پڑنا اور ایک دوسرے کو الزام دینا
کفار کو محشر کی جانب کھینچ کر لایا جائے گا
کفار کا محشر کی سختیوں کو دیکھ کر قبر میں ہی رہنے کی خواہش کرنا
فرشتوں و مومنین کا کفار کی اس خواہش کا جواب دینا
محشر میں کفار، مؤمنین صالحین و فساق کے الگ الگ گروہ کر دئیے جائیں گے
اللہ تعالیٰ کی محشر میں انسانوں و جنات کو شیطان کی عبادت نہ کرنے کے حکم کی یاد دہانی
کفار صرف شیطان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے تو پھر شیطان پر الزام کیوں لگایا گیا؟
مشرکین کا محشر میں اپنے اعمال سے مکرنے کی وجہ سے اللہ تعالی ان کے دیگر اعضاء سے سوال کریں گے
مشرکین کو ان کے ہم مشربوں اور معبودوں کے ساتھ اکٹھے محشر میں جمع کیا جائے گا
کفار و مشرکین جو جھنم کے قریب پل صراط پر کھڑا کر کے سوال کیا جائے گا۔
کفار کے معبودان باطلہ قیامت میں انہیں کے خلاف گواہی دیں گے
میدان حشر میں تمام انبیا کرام اور فرشتے بطور گواہ موجود ہوں گے
اللہ تعالیٰ مشرکین کو لاجواب کرنے کےلیے فرشتوں سے ان کی معبودیت متعلق سوال کریں گے
فرشتوں کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب
میدان حشر ایک مستوی و چٹیل میدان ہوگا
روز قیامت اپنے کیے گناہوں کا انکار کرنے والوں کے اعضا گواہی دیں گے
روز قیامت درست اور غلط کا تعین حتمی ہو گا
کیا محشر میں اللہ کے سامنے کوئی جھوٹ بول سکے گا ؟
محشر میں مومنین اور کفار کے حالات میں فرق
مؤمن روز قیامت ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے
تمام انسان اپنے شیاطین کے ساتھ محشر میں جمع ہوں گے
محشر میں تمام انس و جن کو جھنم کے گرد لایا جائے گا
روز قیامت بت ، ان کی عبادت کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے
محشر میں متقین کو اکراماً سواریوں پہ لایا جائے گا
محشر میں سوالات
محشر میں ایمان کے متعلق سوال ہوگا
محشر میں سوالات ،لیٹ شروع ہوں گے
محشر میں پچاس ہزار سال موجود رہیں گے
آخرت کاایک دن کا عذاب ہزار سال کے برابر ہے
محشر میں کفار،بوکھلا کر جھوٹ بولیں گے
یہ آزادی ،تمام دنیا کے سامنے کرتوت لانے کےلیے ہوگی
محشر میں اعضاء و جوارح کا کلام کرنا
محشر میں جھوٹی قسمیں کھانے والے،منکر عملی ہوں گے
کفار کا جھوٹ انہیں کےلیے وبال جان ہوگا
جنی شیاطین اور انسانی شیاطین سے روز قیامت سوال
جنات وانسانوں سے انبیاء کی آمد کے متعلق استفسار
وزن اعمال
محشر آدم علیہ السلام اولاد کے اعمال کا معائنہ کریں گے
روز قیامت،نیک اعمال سواریاں بن جائیں گی
اللہ تعالیٰ کےلیے اعمال کا وزن کرنا مستبعد نہیں
اعمال صالحہ و سیئہ برزخ و حشر میں مختلف صورتیں اختیار کرلیں گے
انسان اپنے اعمال کو روز قیامت حساً حاضر پائے گا
کلمہ شہادت وزن میں گناہوں کے کئی دفاتر پر بھاری ہوگا
کلمہ لاالٰہ الا اللہ،وزن میں آسمان و زمین پہ بھاری ہے
روز قیامت کافروں کو اپنا موقف بیان کرنے کےلیے دھکے دے کر لایا جائے گا
ہر نیک عمل کا بدلہ اس سے بہترین ملے گا
کامل مؤمنین اور کفار کے وزن اعمال کا تقابل
گنہگار مؤمنین کے احوال اور ان کے اعمال کا وزن اور ٹھکانا
میزان عین عدل و انصاف سے وزن کرے گا
اعمال کا محاسبہ
کیا ہر ایک کےلیے علیحدہ میزان ہوگا؟
وزن اعمال میں کامیابی و ناکامی کی منادی عام فرشتہ کرے گا
وزن اعمال کی صورت
مختلف اعمال کا وزن
کفار کے اعمال کا وزن نہ ہوگا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اعمال کا وزن
تسبیح و تحمید کے دو کلموں کا وزن
حسن اخلاق کا وزن
خوف خدا سے رونے کا وزن
دینی علوم و مسائل سکھانے کا وزن
علم دین کی تصنیف کا وزن
وزن اعمال کی صحیح کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں
کلمہ ایمان یا کسی ایک نیک عمل سے مغفرت کا حکم استثنائی ہے
پل صراط
پل صراط کی حقیقت
منافقین کا پل صراط سے گزرنے کا منظر
پل صراط کفار سے نہیں عبور کروایا جائے گا
یہ شریعت ہی پل صراط ہے
نامہ اعمال کا ملنا
تمام کفار کو بائیں اور تمام مؤمنین کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا
نامہ اعمال دینے کی کیفیت
نامہ اعمال گلے کا ہار ہونے کا مطلب
شفاعت
انبیاء علیہم السلام اور صلحاء امت کی شفاعت مقبول ہوگی
علماء کی شفاعت
شہید اپنےخاندان کے ستر آدمیوں کی شفاعت کرے گا
کثرت سے لوگوں کےلیے شفاعت کا قبول ہونا
رسول اللہﷺ کے شفاعت کے باوجود دیگر صلحاء کی شفاعت کی حیثیت
اہل کبائر کےلیے صرف نبیﷺ کی شفاعت قبول ہوگی
نماز تہجد کو مقام شفاعت حاصل ہونے میں خاص دخل ہے
روز قیامت اہل ایمان والدین و اولاد کی ایک دوسرے کے حق شفاعت قبول ہوگی
اللہ تعالیٰ کے فضل سے گنہگار مسلمانوں کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی
اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کےلیے قابلیت اور قبولیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اجازت بھی شرط ہے
آخرت کے متعلق متفرق احکام
نظام عالم پر تدبر کرنے سے آخرت کا وقوع کے عقیدہ یقین حاصل ہوگا
بعث بعد الموت میں انسان کی حالت
دنیاوی عذاب کی نسبت آخرت کا عذاب بڑا ہے
اعمال کا حساب
پل صراط
قیامت سے قبل توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا
قیامت میں تین قسم کے لوگ ہوں گے
روز قیامت کفار کی اپنی متبوعین اور بڑوں سے سفارش کی درخواست
روز قیامت کفار کی شیطان کو ملامت اور اس کا جواب
قیامت کے شروع میں ایک زور دار آواز آئے گی
قیامت کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا
قیامت کو مخفی رکھنے کی ایک حکمت
قیامت کے برپا ہونے پر سب کام ادھورے رہ جائیں گے
محشر میں چار سوالا ت(مال کے متعلق ایک )
قیامت سے غافل نہ رہنے کا حکم الٰہی
قیامت سے مؤمنوں کا خوف کرنا اعتقادی ہے
قیامت قریب کس اعتبار سے ہے؟
قیامت کا مقصد جزا و سزا کا دینا ہے
قیامت کا وقوع اچانک ہوگا
مسلمان کو طالب آخرت ہونا چاہیے
آخرت فانی نہیں دائمی ہے
آخرت کی طرف توجہ کی ضرورت ہے
دنیا اور آخرت میں نسبت
روزِ جزاء میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت عام ہوگی
عقلاً جزاء و سزاء کا عمل ثابت ہے
آخرت ،وہ ہمیشہ اور زندہ رہنے کا مقام ہے
قرآن و سنت کے مطابق عقیدہ آخرت ہو
متقین آخرت پر یقین رکھتے ہیں
جزاء و سزا کا اصل مقام آخرت ہے
اتباع الٰہی و اتباع رسول نجات اخروی کا باعث ہے
قیامت کے روز پر بندہ اپنا بار خود اٹھائے گا
ہرشخص کی قیامت،مرتے ہی قائم ہو جائے گی
موت اور قیامت کے دن کسی قسم کی دوستی و بیع و شرا نہ چلے گی
اللہ تعالیٰ نے احوال قیامت تنبیہ کےلیے بیان فرمائے
روز قیامت ہر بندے کے اعمال نامے حساب کےلیے ان تک پہنچا دئیے جائیں گے
روز قیامت کامیاب و ناکام لوگوں کا نام لے کر منادی کی جائے گی
منادی کے بعد ناکام لوگوں کو جھنم کی طرف لے جایا جائے گا
تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہیں ،جلد یا بدیر ان کی جزا وسزا ملے گی
آخرت جزا اور سزا کا گھر ہے
ثمرات کا محل دار الجزاء ہے
آخرت اعمال اور سعی کے ساتھ وابستہ ہے
نور ایمان کی خاصیت
پل صراط کی حقیقت
آخرت میں سب کو ایمان حاصل ہوجائے گا
قیامت وآخرت کا تصور ہر مشکل کو آسان کردیتا
موت کا وقت مقررہے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا
آخرت کی نعمتوں کے استحضار سے دنیا کی تکالیف ختم ہو جاتی ہیں
عالم آخرت اس وقت بھی موجود ہے
عالم آخرت کی خاصیت دنیا کی خاصیت سے جد اہے
قیامت کے روز اعمال شکلیں بن کر نظر آئیں گے
کفار کا انکار بعث و قیامت اور اللہ تعالیٰ کا جواب
قیامت کے اثبات پر کفار کا نبی کریمﷺ کو مفتری اور مجنون کے طعنے دینا
بروز قیامت مردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت
انسان کی موت اور جی اٹھنے کا ذکر
آخرت میں کسی قسم کا کوئی رنج نہ ہوگا
آخرت دنیا سے کماً بھی زائد ہے اور کیفاً بھی زائد ہے
آخرت حیات ہی حیات ہے وہاں ممات کا کچھ کام نہیں
آخرت کے دو جز ہیں ایک مکان آخرت اور ایک زمان آخرت
زمان آخرت اس وقت معدوم ہےمکان آخرت معدوم نہیں ہے
جنت
اولاً جنت کی نعمتوں کے حصول میں معاون اعمال و صفات
پہلی صفت : توکل
دوسری صفت: بے حیائی اور دیگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا
تیسری صفت: غصہ کی حالت میں معافی کو اپنانا
چوتھی صفت: احکام الٰہیہ کو بے چون وچرا ماننا
پانچویں صفت: آپس کے کام مشورہ سے طے کرنا
چھٹی صفت: اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
ساتویں صفت: ظلم کا انتقام لینے میں حد سےتجاوز نہ کرنا
اوصاف جنت
جنت میں ہر چیز ارادہ کے ساتھ موجود ہوگی
جنت کی راحت میں الم کا شائبہ نہیں
جنتیوں کو اپنے درجہ کی کمی کا احساس نہ ہوگا
جنت سلامتی کا گھر ہے
جنت میں مزہ والی لڑائی ہوگی
اہل جنت کی جنت میں تسبیح و دعا
اہل جنت کو فرشتوں کی طرف سے سلام
اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی حاصل ہو گی
جنت کی نعمتیں
جنت کی نعمتیں حق تعالیٰ سے حجاب نہ ہوگی
دنیا کی نعمتیں جنت کی نعمتوں کا نمونہ ہیں
جنت میں اہل جنت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے
مؤمنین کا جنت عدن میں دخول
جنت کی عجیب و غریب نعمتیں
جنت بہت ہی مزیدار چیز ہے
جنت میں پہنچ کر سارے اعمال معاف ہو جائیں گے
اہل جنت کی خوشی کی کیفیت
جنت میں ہر خواہش پوری ہوگی
آخرت کی نعمتیں
اشیاء جنت کی حقیقت
حور عین کی صفات
دنیا میں جنت کی کوئی نظیر نہیں
آخرت کی نعمتیں دنیا کے ساتھ صرف متشارک فی الاسم ہیں
نعمائے آخرت کی رغبت واجب ہے
جنت میں نیند کی خواہش بھی نہ ہو گی
جنت میں مضر اور غیر مطلوب چیزیں نہیں
اہل جنت صحیح المزاج اور سلیم العقل ہوں گے
جنت میں ہر شخص کو ثمرہ کا مل ملے گا
جنت کی شراب طاہر ہی نہیں بلکہ طہور ہے
جنت کی لذتیں غیر متناہی ہیں
اہل جنت کے لیے زمین کی روٹی بنائی جائے گی
اہل جنت کو زمین کی روٹی کھلانے پر اشکال کا جواب
جنت کے طبقات الگ الگ نہ ہونگے بلکہ اوپر نیچے ہونگے
جنت کی غذاؤں کا فضلہ نہیں ہے
جنت میں پوری سیری ہوگی
اہل جنت کی زبان عربی ہوگی
جنت کے در ودیوار میں بھی زندگی ہوگی
جنت کے درختوں کی کیفیت
جنت میں جنتیوں کو پہلے زمین کی روٹی بنا کر کھلائی جائے گی اس کی حکمت
اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کےلیے جنت میں بالا خانے ہوں گے
آخرت کی زندگی اور اس میں موجود نعمتیں ہمیشہ کےلیے ہیں
آخرت میں مؤمن کو اللہ تعالیٰ کا سلام کرنا
مؤمنین صالحین آخرت میں بہترین کمروں میں امن سے رہیں گے
جنت میں مردوں کو ریشم اور سونا پہنایا جائے گا
آخرت کے احوال کو دنیا کے احوال پر قیاس کرنا بے عقلی ہے
جنتیوں کے زیورات
موتیوں کے تاج پہنائے جائیں گے
جنتیوں کو مختلف دھاتوں کے کنگن پہنائے جائیں گے
جنت میں تمام غموں کا خاتمہ ہو جائے گا، اہل جنت کا اس پر شکر ادا کرنا
غموں سے نجات پر تمام جنتی (امت محمدیہ کی تینوں اقسام)اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے
جنت کسی طرح کی کوئی مشقت اور تھکاوٹ نہ ہوگی
جنت میں اہل جنت اپنے اپنے شغل و تفریح میں ہوں گے
جنتی جس چیز کو بلائیں گے وہ حاضر ہو جائے گی
اہل جنت کو متفرق رزق جنت میں دائمی و بروقت ملتے رہیں گے
اہل جنت کو فواکہ یعنی لذت کےلیے رزق عطا کیا جائے گا
جنت کے کھانے اور دیگر نعمتیں بطور ضرورت نہیں بلکہ بطور لذت عطا ہوں گی
اہل جنت کو کھانا پورے اعزاز کے ساتھ کھلایا جائے گا
اہل جنت کی مجالس اور بیٹھنے کی کیفیت
جنت کی شراب لذیذ ہوگی
جنت کی شراب سے کسی طرح کی عقلی و جسمانی بیماری نہ ہوگی
جنت کی حوریں آنکھیں نیچے رکھنے والی ہوں گی
حوروں کی پاکیزگی و خوبصورتی کو چھپے ہوئے انڈوں سے تشبیہ دی گئی
جنت کی حوریں آپس میں اور شوہر کے ہم عمر ہوں گی
اہل جنت ملاقات و تفریح کےلیے دوسرے اہل جنت کے پاس جایا کریں گے
جنتیوں کے کم درجہ کے رشتہ داروں کو ان کے ساتھ ملا دیا جائے گا
جنت میں جنتیوں کی ہر خواہش پوری ہوگی اور اعلی درجہ کی مہمان نوازی کی جائے گی
جنتیوں کا پرندے کے گوشت کھانے کی خواہش کرنا
جنتیوں کا جنت میں بچہ پیدا کرنے کی خواہش کرنا
جنت کی نعمتوں کی اصناف کا بیان
جنتیوں کو حوریں ہدیتاً یا نکاح کے ساتھ عطا کی جائیں گی
جنتیوں اور جھنمیوں کو موت نہیں آئے گی
جنت کی نعمتیں دائمی ہیں
جنت کی بڑی نعمت،دیدار الٰہی
اللہ کے خاص بندوں کو ملنے والے انعامات میں اہل خانہ کا بھی حصہ ہوگا
جنت میں اہل جنت کی ایک دوسرے سے رنجش دور کردی جائے گی
جنت میں تعب و تھکاوٹ نہ ہوگی
جنتی،جنت سے اور اس کی نعمتوں سے اکتائے گا نہیں
اہل جنت کے لئے زیور اور اس پر اشکال
جنت میں موجود نعمتوں و اشیاء سے اکتاہٹ نہ ہوگی
جنت میں لغو و بیہودہ کلام نہیں ہوگا
جنت میں صبح و شام کھانا پیش کیا جائے گا
جنت میں بھوک نہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ بھوک لگنے کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی
اہل جنت کو اعزازاً کنگن پہنائے جائیں گے
اہل جنت کو تین طرح کے کنگن پہنائے جائیں گے
اہل جنت ،جنت میں سرور و راحت سے رہیں گے
اہل جنت ریشم کا لباس استعمال کریں گے
دنیا میں ریشم ،سونا اور شراب استعمال کرنے والا جنت میں ان سے محروم ہوگا
جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مشابہ ہیں
جنت کی نعمتیں باقی اور دائمی ہیں
آخرت میں وہ تمام نعمتیں ہیں جس کا عقل ادارک بھی نہیں کرسکتی
جنت کی غذا میں فضلہ بالکل بھی نہیں اور اس غذا سے موٹاپا بھی نہیں ہوگا
جنت میں متقین کی نعمتوں کا اجمالی ذکر
انسان کی اولاد جنت میں ساتھ ہوگی
جنت میں سواری کی صورت
جنت میں کھیتی باڑی کی صورت
جنت میں خصوصی نعمتوں کے حصول کا سرٹیفکیٹ
جنت میں عمومی نعمتیں
جنت میں سب سے بڑی نعمت الٰہی
جنت کے انعامات
اہل جنت کے دلوں سے آپسی رنجشیں ختم کردی جائیں گی
شراباً طھوراً پینے سے آپسی رنجشیں ختم ہو جائیں گی
اہل جنت کا جنت میں اللہ کا شکر ادا کرنا
اہل جنت و دوزخ کا دیکھنا اور مکالمہ دوزخیوں کے عذاب کےلیے ہوگا
اہل جنت کا نعمتوں اور اہل دوزخ کا عذاب کا اقرار
دارالسلام ،جنت کا ایک نام ہے
دارالسلام ،اس دنیا میں ممکن ہے
اللہ سے ڈرنے والے کےلیے دو جنتیں ہیں
جنت کے ناموں پر کسی گھر کا نام رکھنا جائز نہیں
طلب جنت
حضور ﷺ کا جنت مانگنا
جنت کا مانگنا بھی موجب رضا ہے
جنت الفردوس مانگنے کی ترغیب
جنت کے طلب کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں
طلب جنت عدم طلب سےبڑھ کر ہے
جنت کی طلب مامور بہ اور فرض ہے
حصول جنت کے ذرائع کی طلب بھی ہر ایک کے ذمہ ہے
جنت کے حصول میں جامع طرق دو ہیں
طالبین جنت کی پہلی قسم وہ ہے جو نعمتوں کو مقصود سمجھ کر جنت کی طلب کریں
طالبین جنت کی دوسری قسم وہ ہے جوجنت کو اللہ تعالیٰ کی لقاء کے لیے طلب کریں
طالبین جنت کی تیسری قسم وہ ہے جونعمتوں کے طالب ہیں لیکن حظ کی وجہ سے نہیں بلکہ تذلل اور عبدیت کی وجہ سے
جنت کے متعلق متفرق باتیں
جنت حق ہے
جنت اور دوزخ کا وجود
جنت میں جانے کے حقیقی اسباب
دخول جنت بغیر رحمت الٰہی ناممکن ہے
اللہ تعالیٰ کا فضل اور جنت کسے حاصل ہوتی ہے؟
جنت کی تخلیق اور محل(جگہ)
جنت میں حسد نہ ہوگا
جنت اور جہنم دو ہیں
جنت میں جانے کے بعد بھی عبودیت ختم نہ ہوگی
جنت میں حوروں کا گانا بجانا بھی ہوگا
جنت ہمارا اصلی گھر ہے
جنت کے تصور کا ایک آسان طریقہ
عمل دخول جنت کی علت تامہ نہیں
سب سے اعلی جنت
زیادہ برائیوں والی جنت میں نہیں جائے گا
جنت عمل سے نہیں فضل سے ملے گی
جنت کے دروازوں کی تعداد جہنم کے دروازوں سے زیادہ ہے
جنت میں وسعت زیادہ ہے جہنم کی وسعت سے
جنت کی درخواست کرنا سنت ہے
رضائے حق پر نظر کرتے ہوئے جنت کی درخواست ضروری ہے
جنت ایک بہترین ٹھکانا ہے
جنت میں انسان اپنی آخری بیوی کے ساتھ ہوگا
جنت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے
جنت کی چوڑائی کا وسیع ہونا یقیناً اس کی لمبائی کے وسیع ہونے کو مستلزم ہے
ضابطہ کے مطابق جنت کی نعمتیں اولاً ان کو ملیں گی جو ایمان لانے کے بعد خاص اعمال کرتے ہوں گے
جنت کو بھرنے کے لیے نئی مخلوق کو پیدا کیا جائے گا
جنت میں جانا بھی اختیاری ہے اور جہنم سے بچنا بھی اختیاری ہے
جنت میں منہ سے مانگی اور دل میں چاہی مرادیں سب برابر ہیں
جنت میں ابتداء سے انتہاء تک خوشی ہی خوشی ہے
جنت مشقتوں سے گھری ہوئی ہے
جنت تو راحت ہے ہی دوزخ بھی مسلمانوں کے لیے راحت ہے
جنت میں جانے کے لیے اعمال علت تامہ نہیں بلکہ شرط ہیں اور ضروری ہیں
کوئی شخص اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا
جنت بھی مطلوب ہے جن بزرگوں نے جنت کو غیر مطلوب کہا ہے ان کو غلبہ حال کی وجہ سے معذور سمجھا جائے
طالبین جنت کی دو قسمیں مشہور ہیں
حصول جنت کے لیے حق تعالیٰ نے دو طرق بتائے ہیں
عمل کی وجہ سے جنت میں جانا یہ اعلیٰ درجہ نہیں بلکہ رحمت سے جنت میں جانا یہ اعلیٰ درجہ ہے
جنت کا مزہ کبھی مغلوب نہیں ہوگا اس لیے کہ وہاں کا حسن لا محدود ہے
جنت میں جانا اس معنیٰ اختیاری ہے کہ اس کے اسباب اختیار کرنا اختیار میں ہے
نیکیوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان سے جنت ضرور ملے گی جب تک کہ ساتھ کوئی باطل چیز نہ ملے
مومن جنت میں ضرور جائے گا
جہنم
جھنمیوں کے احوال
کفار کا جہنم میں چہرہ کے بل گھسیٹا جانا اور ان کا اطاعت الٰہی کی خواہش کرنا
جہنمیوں کا اپنے سرداروں اور چوہدریوں کو دوگنا عذاب دینے کی استدعا
کفار کا جھنم میں سے نکالنے اور اچھے اعمال کرنے کا ایک موقع دینے کی گزارش اور اللہ تعالیٰ کا جواب
کفار کی آنے والی زندگی میں ان کےلیے جھنم ہے
منکرین آخرت پر آخرت میں آنے والا عذاب بوجہ انکار غیر متوقع وزیادہ تکلیف دہ ہوگا
اہل جھنم کو زنجیروں سے باندھا جائے گا
جھنمیوں کے لباس کی کیفیت
اہل جھنم دنیا کی طرح خود کو کسی چیز میں چھپا کر عذاب سے نہ بچا سکیں گے
جھنمیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر گھسیٹ کر جھنم میں ڈالا جائے گا
جھنمیوں کے ہونٹ جل کر بڑے ہو جائیں گے
جھنمیوں کی رب تعالی سے جھنم سے نکالنے کی درخواست اور اللہ جل شانہ کا جواب
کفار روز قیامت میں تین طرح کی حسرتیں کریں گے
روز قیامت کفار کے متقی بننے اور ہدایت بھیجنے کی حسرت کا جواب
تمام معبودان باطلہ جھنم میں ڈالے جائیں گے
عذاب جہنم
کافروں کا عذاب
سب سے ہلکا عذاب اوراس کی کیفیت
جھنم میں خیالی راحت بھی نہ ہو گی
کفار کو عذاب جہنم کی کمی کا احساس نہ ہو گا
جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی طرح نہیں ہے
جہنمیوں کا بدن مسلسل عذاب سے سن نہ ہو گا
جہنم میں سب کو یکسا سزا نہیں دی جائے گی
مسلمانوں کے حق میں عذاب جہنم تعذیب کے لیے نہیں
حقیقت تعذیب
سورج اور چاند کو جہنم میں ڈالنے کی صورت کیا ہوگی
کافر ہی کو جہنم کا عذاب کامل ہوگا گناہ گار مسلمان کو محض شائبہ عذاب ہوگا
جھنمیوں کو پیپ پینے کا عذاب دیا جائے گا
جھنم کے سات دروازے ہیں
جھنم کے ایک غار کا نام غیّ ہے
کفار میں سے جس کا جرم زیادہ ہوگا دخول جھنم میں وہی مقدم ہوگا
ہر مسلم و کافر کا ورود جھنم پر سے لازمی ہوگا
منافقین جہنم کے نچلے حصے میں ہوں گے
جھنم کا درخت زقوم
زقوم کی حقیقت
جھنمیوں کو دنیا کا زقوم کھلایا جائے گا یا دوزخ میں کوئی اور زقوم ہے؟
زقوم کے تذکرے سے اللہ تعالیٰ کا کفار کا امتحان لینا اور کفار کا اس پر استہزا کرنا
زقوم کے متعلق کفار کے اعتراض و استہزا کا جواب
زقوم کے پھل شیاطین کی سروں کی طرح انتہائی بد صورت ہیں
عذاب جہنم کے مختلف مراتب ہیں
اوصاف دوزخ
دوزخ کی تکلیف میں راحت کا شائبہ نہیں
اہل دوزخ میں باہم عداوت ہو گی
جہنم کے متعلق متفرق باتیں
جہنم حق ہے
جہنم کے درجات اور طبقات مختلف ہیں
دوزخیوں کا کنارے پہ کھڑے ہوکر دنیا میں واپسی کی خواہش کرنا
ایمان کی ٹھنڈک جہنم کی آگ کو بجھا دے گی
مسلمانوں کو عذاب جہنم کا احساس کفار سے بہت کم ہوگا
دوزخ بھی ذی حیات ہے
دنیا کے عذاب کی تو عادت ہوجاتی ہے مگر عقوبت آخرت میں ایسا نہیں ہوگا
تین اشخاص مرفوع القلم ہیں
مرفوع القلم اشخاص کی طاعت اور معصیت کا لکھا جانا صرف دل کے ارادے کی مشارکت سے ہوگا
نابالغ بچےکے افعال جزا و سزا کے مستحق نہیں ہوتے
اولاد مشرکین کو عذاب نہ ہوگا
کفار کو دو وجوہات کی بنا پر سخت عذاب دیا جائے گا
قرآن مجید میں مذکور،اہل جھنم کی علامات
اہل جھنم کو بہرا،گونگا کہنے کا سبب
اہل جھنم اور ان کے معبودان باطلہ میں مکالمہ
کفار کا جھنم میں خود سے نفرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کا ان سے اپنی نفرت کا اظہار کرنا
کفار کا جھنم میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا اور جھنم سے نکالنے کی استدعا کرنا
کمزور و غرباء کفار جھنم میں اپنے سرداروں کو کہیں گے ہم سے عذاب ہٹا دیں
اہل جھنم کو کبھی حمیم (کھولتا پانی) اور کبھی جحیم (جھنم) میں ڈالا جایا جائے گا
اہل جھنم کو جھنم کی طرف روک روک کر اور ہانک کر لے جایا جائے گا
گنہگار مؤمنین کا دوزخ میں جانا تطہیر اور صفائی کےلیے ہوگا
جہنم کو بھرنے کے لیے نئی مخلوق کو پیدا نہیں کیا جائے گا
دوزخ کا عذاب بلحاظ کیفیت بھی ایسا ہے کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے
اہل باطل کو عذاب تو ہوگا لیکن خلود فی النار نہ ہوگا
متفرقات
احکام الٰہی
احکام الٰہی میں نسخ و تبدل ممکن ہے
احکام الٰہی میں نسخ کوئی عیب نہیں ہے
اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جبر نہیں کیا
احکام کے نظری رہنے میں ہی انسان کےلیے آزمائش اور ثواب و عذاب ہے
کوئی بھی اچھا قول اور عمل ہو،سنت کے مطابق نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا
کفار احکام فرعیہ کے مخاطب نہیں
اختلافی معاملات میں فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ماننا چاہیے
کائنات میں فقط حکم اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے،رسول اور اولوالامر کا حکم بھی اللہ کا ہی حکم ہے
مؤمنین کی صفات اور خصوصیات
مؤمنین اور ان کے اعمال کو عمدہ و پاکیزہ درخت سے تشبیہ
مؤمن اور سچے مؤمن میں فرق
سچے مؤمن کے لیے تین انعامات
مؤمن صالح کےلیے حیاۃ طیبہ کیا ہے؟
مؤمن صالح کی دنیوی زندگی بھی حیاۃ طیبہ ہے
مؤمن کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے
حالت اکراہ میں ایمان کے متعلق احکام
حالت اکراہ میں کلمہ کفر کا حکم
اکراہ کا معنیٰ
اکراہ کی اہم شرط
اکراہ کی اقسام/درجات
اکراہ غیر ملجئ
اکراہ ملجئ
عقائد باطلہ
رسومات کی ادائیگی دراصل فساد عقیدہ ہے
انکار رسالت مستلزم ہے انکار خدا کو
واسطہ کو نفعا ً و ضراً مقصود سمجھنا یہ شرک ہے
منکرات کے بڑھ جانے کی تین وجہیں ہوسکتی ہیں
جو رسوم تفاخر کے لیے کی جائیں وہ بھی گناہ ہیں
رسمیں دو قسم کی ہیں
رسوم کا عام ہونے کی اصل اعتقاد میں ان کو معصیت نہ سمجھنا ہے
صحابہ کرام کا بارش کے وقت کفار کے نظریہ کا رد کرتے ہوئے آیت فتح کی تلاوت کرنا
غلط عقائد و نظریات والی جماعت کے ساتھ رہنے کی صورت میں ان کے نظریات سے برءاۃ ضروری ہے
عقائد فاسدہ سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
بدعات
وبال بدعت
بدعات کا رد کریں دل شکنی کی پرروانہ کریں
مباح کا التزام
بدعات کا نقصان
غیر مشروع طریقہ کا نقصان
تیجےکی قرآن خوانی
رسم کا مفہوم
رسمیں دو قسم کی ہیں
بدعت سے مراد اصول دین کے خلاف کرنا ہے
کیا گیارہویں باعث برکت ہے
بدعات کی مصلحت کو دفع مفسدہ کی غرض سے ترک کریں
بدعات سے لوگوں کو دفعتاً منع نہ کریں
بدعات کے زائد علی الدین ہونے کی علامت
عبادات میں حد مقرر سے آگے بڑھنا بدعت ہے
بدعت ایک طرح شرک فی النبوۃ ہے
شرک
شرک تمام اعمال کو ختم کر دیتا ہے
ذات میں شرک
الوہیت میں شرک
ایمان کا ادنی درجہ بت پرستی چھوڑ دینا ہے
شرک کی مذمت
فنائے ارادہ اور فنائے تجویز شرک سے بچنے کے لئے کیا جاتا ہے
تفویض الی الغیر شرک ہے
کفار کا سب سے بڑا جرم حق تعالیٰ کی عظمت کی خبر نہ ہونا ہے
شرک کا مفہوم
کائنات کی تمام اشیاء اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر ڈرتی ہیں
شرک سب سے بڑا گناہ ہے
کفار سے شرک کے متعلق سوال،ان کا جواب اور اس کا رد
شرک و بت پرستی کی احمقانہ حرکت کی ایک مثال سے توضیح
کفر و شرک کرنا اللہ جل شانہ کی ناقدری ہے
اللہ کی صفات میں شریک ٹھہرانے والا ،مشرک ہے
شرکیہ اعمال و علامات او رسومات کا حکم
شرک و کفر اور باطل کی رسوم و نشانات کا مٹانا واجب ہے
باطل ادیان کے اللہ کے شریک کے نظریات کا رد
غیر اللہ کی عبادت کرنا ،کچھ فائدہ نہ دے گا
اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی عبادت کرنا کچھ فائدہ نہ دے گا
شرک کی اقسام
شرک جلی اور خفی
شرک فی العبادت
شرک فی العبادت کی مذمت
شرکیہ افعال کا ارتکاب بھی شرک ہے
شعائراللہ میں غیراللہ کو شریک کرنا
قرآن کریم میں شرک فی العبادت کا رد
اپنی ہر چیز کوکسی غرض سے خدا کے سپرد کرنا شرک خفی ہے
شرک کے علاوہ گناہوں کی مغفرت کے مختلف ذرائع ہیں
گناہ کبیرہ کا عذاب کے بغیر معاف ہوسکنا یہ عقیدہ اقدام جرائم کا سبب نہیں بن سکتا
بعض مرتکب کبیرہ کی مغفرت کسی عمل صالح سے ہوجاتی ہے
غیر اللہ کو سجدہ کرنا اسلام میں حرام ہے
کفر
کفر کے لغوی معنیٰ کا قرآن مجید میں استعمال
کفر کی تعریف
کفر کے ساتھ کوئی عمل صالح معتبر نہیں
کفار و منکرین کا دخول جنت محال ہے مثل اونٹ کے سوئی سے گزرنےکے
کفار کا ٹھکانا،اوڑھنا بچھونا جھنم ہوگی
کفر ایک اندھیرا ہے
رضا بالکفر کفر ہے یعنی کفر سے راضی ہونا بھی کفر ہے
کسی کے کافر ہونے پر راضی ہونے والا بھی کافر ہوجاتا ہے
کفار مخاطب بالفروع نہیں
کافروں کے اچھے اعمال کی حیثیت راکھ کی مثل ہے
کافر بھی اللہ کے بندے ہیں مگر اس کے مقبول نہیں
شرک وکفر کا پیغام کسی بھی سماوی کتاب میں نہیں ہے
کفار اور ان کے کفر کا بیان
کفار کی عمومی تین قسمیں اور ان کے عقائد کا رد
اول قسم کے کفار اور ان کے اعمال کی حالت
دوم قسم کے کفار اور ان کے اعمال کی حالت
اصول دین میں سے ایک جھٹلانا تمام کو جھٹلانے کے مترادف ہے
کفار کےلیے ان کے برے اعمال مزین کرکے پیش کیے جاتے ہیں
اللہ تعالیٰ حق کے مقابلہ میں باطل کو پاش پاش کر دیتے ہیں
توحید جیسے بنیادی عقیدوں کے انکار کی وجہ سے دنیا میں اطمینان و سکون مفقود ہو گیاہے
لوگوں کے کفر سے رب تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا
اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر کو ناپسند کرتے اور ان سے نارض ہو جاتے ہیں
ہر کافر کا کفر اسی کے سر ہوگا،کسی اور پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا
کافر اورمطیع مؤمن برابر نہیں ہو سکتے
کفار کا قول کہ ہمیں زمانہ کی تبدیلی سے موت آتی ہے،اللہ تعالیٰ موت نہیں دیتے
تمام انسانوں و جانوروں سے بدتر ،کفار ہیں
کفار اور ان کے اعمال کی مثل شجرہ خبیثہ سے دی
کفار نے بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک و مثل ٹھہرایا
مشرکین دین فطرت یعنی اسلام چھوڑ کر مختلف گروہوں میں بٹ گئے
کفار کی حالت کفر کی شدت کا بیان
انجام کار مؤمن اور کافر برابر نہیں ہیں
کلمہ کفر کہنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے اور پہلے کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں
کفار کے متفرق احوال
کفار کا قیامت کے روز کے وقوع کے متعلق استفسار اور اللہ تعالیٰ کا جواب
کفار کی روز قیامت فرشتوں سے عذاب سے بچانے کی درخواست
مجرم اور کافر لوگ قیامت والے دن پچھلے عالم یعنی دنیا اور برزخ کو بہت مختصر جانیں گے
روز قیامت اولاد اور والدین میں سے مومن کافر کو فائدہ نہ پہنچا سکے گا
کفار کا موت و قیامت کے وقت حق کو قبول کرنا اور ان کی اس قبولیت کا رد کیا جانا
کفار موت اور قیامت کے وقت بھاگنا چاہیں گے پر بھاگ نہ سکیں گے
روز قیامت کفار ایمان لانا چاہیں گے پر ان کا ایمان قبول نہ ہوگا
کفار اپنے کفر پر بغیر کسی دلیل کے ہیں
کفار جنت و نجات سے محروم رہیں گے
کفار کی محبوب چیز مال و اولاد سے موت ان کو جدا کردے گی
کفار کے معبودان باطلہ درخواست کو سننے اور اسے پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے
حق بات سننے اور قبول کرنے اعتبار سےکافروں کی مثال مردوں کی سی ہے
ایمان نہ لا سکنے والے کفار کی دو مثالیں
دین کے متعلق مجادلہ اکثر متکبرین کا شیوہ رہا ہے
کافر آدمی نعمت الٰہی پر ناشکرا اور مصیبت پر شدید الحا ح و زاری شروع کردیتا ہے
کفار کی عقل و ہوشیاری فقط دنیاوی زندگی میں مقید ہو کر رہ گئی
غیر اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہے
کفار اپنی عقل کو ہمیشہ کے فائدے میں استعمال نہ کرنے کی بنا پر بے عقل سمجھے جاتے ہیں
کفار کا مصیبت میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور خلاصی پر بھول جانا
ایمان قبول نہ کرنے کا مشرکین کی جانب سے عذر اور اس کا جواب
کفار اپنے وطن اصلی یعنی آخرت سے غافل ہیں
کفار دنیا کےصرف ایک رخ سے واقف ہیں
کفار کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے
جدال فی القرآن کفر ہے
کیا کفار فروع اعمال کے مکلف اور مخاطب ہیں یا نہیں ،اگر نہیں تو ان پر اعمال سیئہ کا عتاب کیوں؟
کفار زکوٰۃ ادا نہیں کرتے،اس مضمون پر شبہ اور جواب
نماز کو چھوڑ کر کفار کے ترک پر زکوٰۃ پر مذمت کیوں کی گئی؟
الحاد
الحاد کا معنیٰ
متأول کو کافر نہ کہا جائے، اس اصول کے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ
کفر سے مانع تأویل کون سی ہوتی ہے؟
الحاد اور ملحد کا حکم شرعی
موجودہ زمانہ میں کفر والحاد کا زور و شور ہے
قرآنی آیات کی تاویل اور الحاد کے متعلق شاہ عبدالعزیز دیلوی رحمہ اللہ کا فرمان
کافر کفر کی وجہ سے خسارہ عظیمہ میں ہے
گناہوں کو ہلکا سمجھنا یہ کفر ہے
کفر بغاوت ہے اور اسلام اطاعت ہے
سب گناہوں پر عذاب لازم نہیں سوائے شرک وکفر کے
گناہ کبیرہ بغیر عذاب کے معاف ہوسکتا ہے لیکن کفر معاف نہیں ہوسکتا
گناہ کبیرہ کا بغیر عذاب کے معاف ہونے پر اعتراض و جواب
کفار اور مشرکین ہمیشہ جھنم ہی میں رہیں گے
قتال وجدال کرنے والا عملا کافر ہے اگرچہ حقیقتاً مومن ہے
منافقین دراصل کفار ہی میں داخل ہیں
جو شخص ضروریات دین کا انکار نہ کرتا ہو ہاں عمل میں سستی کرتا ہو وہ کافر نہیں ،گناہگار ہے
مرتد
اسلام لاکر مرتد ہوجانے میں اسلام کی سخت توہین ہے
گناہ کبیرہ سے اسلام سے خروج نہیں ہوجاتا اور نہ ہی خلود فی النار ہوگا
اخلاقیات
اخلاق کا تعارف واہمیت
اخلاق کی تعریف واقسام
اخلاق حسنہ کی تعریف
اخلاق رذیلہ کی تعریف
اخلاق رذیلہ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں ۔
صفات کے دو درجے ہیں (ایک ابتدائی دوسرا ۔ انتہائی)
صفت رحمت کا مبدا ومنتہی
صفت خوف کا مبدا ومنتہی
صفت محبت کامبدا ومنتہی
خَلق (صورت )او ر خُلق (سیرت)میں فرق
جسمانی ترکیب کی طرح انسان کی ایک باطنی ترکیب بھی ہے۔
صورت اور سیرت دونوں میں مخلوق کی الگ الگ شکلیں ہیں ۔
باطنی سیرت کا رتبہ ظاہری صورت سے بڑھا ہوا ہے ۔
اصل حسن، حسنِ سیرت ہے ۔
حسن سیرت میں لوگوں کے مختلف درجات ہیں ۔
حسن ِ سیرت کا معیار "خُلق نبوی سے مناسبت" ہے۔
خُلق(سیرت) کا تعارف
باطنی سیرت میں روح اور نفس دونوں شامل ہیں ۔
باطن (مجموعۂ روح و نفس )کی تعریف
ظاہری صورت کی طرح سیرت کے بھی اعضاء ہیں ۔
باطنی سیرت کے اعضاء کے نام
سیرت کے چاروں باطنی اعضاء کا باہمی تعلق
باطنی اعضاء کی بدصورتی کی مثال
چاروں باطنی اعضاء کا ایک اعتدال ، تناسب اور حسن ہے ۔
اخلاق کی اہمیت
شریعت میں اصل اخلاق ہیں ۔
اعمال ، اخلاق کی فرع ہیں ۔
اخلاق تین قوتوں سے پیدا ہوتا ہے
اخلاق کے اصول(مبدا)تین قوتیں ہیں ۔
قوت عقلیہ کی تعریف
قوت شہویہ کی تعریف
قوت غضبیہ کی تعریف
جلب منفعت اور دفع مضرت کیلئے تین قوتوں کی ضرورت ہے ۔
اخلاق(تین قوتوں ) کے تین درجے ہیں ۔ افراط ،تفریط ،اعتدال
قوت عقلیہ کا افراط وتفریط
قوت شہویہ کا افراط اور تفریط
قوت غضبیہ کاافراط اور تفریط
تین قوتوں کو پابندِشریعت رکھنا اعتدال ہے ۔
اخلاق کے کل نو درجات ہیں۔
قوت عقلیہ کے تین درجات کے نام
قوت شہویہ کے تین درجات کے نام
قوت غضبیہ کے تین درجات کے نام
حکمت ،عفت ،وشجاعت کے مجموعہ کا نام "عدالت " ہے ۔
قوت عقل کا اعتدال ، تناسب اور حسن
قوت عقل کے اعتدال کا ثمرہ حکمت ِ خداداد ہے ۔
قوت عقلیہ معتدل ہو تو انسان مدبر کہلاتا ہے ۔
قوت عقلیہ کا افراط مکاری پیدا کرتا ہے ۔
قوت عقلیہ کی تفریط بیوقوفی کا باعث ہوتی ہے ۔
قوت غضب و قوت شہوت کا اعتدال ، تناسب اور حسن
قوت غضبیہ کے اعتدال سے دیگر اخلاق حسنہ کو وجود ملتا ہے ۔
قوت شہویہ کے اعتدال سے کئی عمدہ خصائل پیدا ہوتے ہیں ۔
قوت غضبیہ کے افراط سے بہت سے رذائل پیدا ہوتے ہیں ۔
قوت غضبیہ کی تفریط سے مزید رذائل پیدا ہوتے ہیں ۔
قوت شہویہ کے افراط وتفریط کا نتیجہ متعدد رذائل ہیں ۔
قوت عدل کا اعتدال ، تناسب اور حسن
اصطلاحات
اصطلاحات کی اہمیت
اصطلاحات پرعلماء خشک کے اعتراضات لچرہیں۔
اصطلاحاتِ امراض سے لاعلمی دو طرح مضرہے۔
اصطلاحات کی حکمت
عوام سےاخفاءِاسرار کیلئےاصطلاحات مقرر ہوئیں۔
اصطلاحات کے احکام
اصطلاحات کو سمجھے بغیر غلط طرح سے تشہیر کرنا خیانت ہے
محض اصطلاحات کی بناء پر کسی کو کافر کہنا درست نہیں
تصوف کے متعلق اصطلاحات
تصوف کی تعریف
تصوف تعمیر ظاہروباطن کا نام ہے
تصوف کا موضوع
تصوف کی غایت
مقاصد تصوف
اعمال کا بجالانا اور معاصی سے بچنا تصوف کی غایت ہے۔
اصطلاحاتِ تصوف کی اقسام
تصوف کی اصطلاحات دوقسم کی ہیں۔
اصطلاحاتِ مقاصد
اصطلاحاتِ زوائد
سلاسل صوفیہ کے متعلق اصطلاحات
تصوف کے چاروں سلسلوں کی امامت مسلَّمہ ہے ۔
نقشبندیت اور چشتیت دنوں حقیقۃً ایک ہی ہیں
نقشبندیہ سلاطین اور چشتیہ مساکین ہیں
سلسلہ نقشبندیہ
سلسلہ نقشبندیہ کا خاصہ
سلسلہ نقشبندیہ میں اتباع سنت زیادہ ہے۔
سلسلہ سہروردیہ
سلسلہ سہروردیہ کا خاصہ
سلسلہ چشتیہ
سلسلہ چشتیہ کا خاصہ
سلسلہ چشتیہ کی نسبت بڑے زور کی ہے ۔
سلسلہ چشتیہ کی بارہ تسبیحات (جو حقیقۃً تیرہ ہیں)
بارہ تسبیح کی مؤثر تدریجی ترتیب
بارہ تسبیحات میں انفع و ماثور صرف کلمہ طیبہ ہے ۔
ذکرکلمہ طیبہ
تکرار کلمہ طیبہ میں مبتدی ،متوسط اور منتہی کا فرق
ولایت کے متعلق اصطلاحات
ولایت کامدار ایمان و تقوی پر ہے ۔
ولایت کی دو اقسام ہیں عامہ وخاصہ
و لایت عامہ کی تعریف
و لایت عامہ ہر مومن کوحاصل ہے ۔
ولایت خاصہ کی تعریف
اعلی درجہ کی ولایت ،ولایت خاصہ ہے ۔
اصطلاحاً ولی صاحب ولایت خاصہ ہے ۔
ولایت خاصہ کیلئے ایمان کامل او ر تقوی کامل کی ضرورت ہے ۔
ولایت خاصہ واجب ہے ۔
نبوت کی طرح ، ولایت کی بھی مختلف شانیں ہیں ۔
ولایت نبوت سے ماخوذ ہے۔
بعض غلبہ شیون سے حالت نزع میں اہل کتاب کا کلمہ بھی پڑھ لیتے ہیں۔
شیون سے مستفید ہونا بحیثیت کمال محمدی کے ہے ۔
متفرق تعریفات
شریعت کی تعریف
علم فقہ کے متعلق اصطلاحات
متقدمین کے ہاں علم فقہ کی تعریف
متاخرین کے ہاں علم فقہ کی تعریف
طریقت کی تعریف
حقیقت کی تعریف
معرفت کی تعریف
محقق اور عارف کا معنی
احسان کی تعریف
صوفی کی تعریف
طریق جذب کی تعریف
طریق سلوک کی تعریف
تزکیہ کی تعریف
مقامات/تفصیلی ریاضت کی تعریف
سکینہ اور نور کی تعریف
وصول کی تعریف
احوال کی تعریف
سالک مجذوب ، مرید ، محب کی تعریف / طریقِ عشق کی تعریف
مجذوب سالک ،مراد،محبوب کی تعریف
ہدایت اور اجتباء کی تعریف
بیعت کی تعریف
بیعت طریقت کی تعریف
بیعت کی غرض وغایت
مرید کی تعریف
شہادت کی تعریف
شقی کی تعریف
سعید کی تعریف
زاہد اور عارف میں فرق
مرض کی تعریف
مرض کی عام تعریف
روحانی بیماری کی تعریف
ضرورت کی تعریف
قسط (اعتدال )کی تعریف
فلاح کی تعریف
عدل کا لغوی معنی اور اس کا محل استعمال
ابرووچشم وجمال کی تعریف
اتحاد کی تعریف
اجتباء کی تعریف
اقامت کی تعریف
اوباش کی تعریف
بادہ وشراب کی تعریف
باز گشت کی تعریف
بادہ فروش،پیرمغاں،پیرخرابات وخمارکی تعریف
بامداد کی تعریف
بت وشاہد کی تعریف
بت خانہ(بت کدہ شراب خانہ،دیر،خرابات اورعالم معنی) کی تعریف
بوسہ(غمزہ وفیض) کی تعریف
تفرد کی تعریف
جفا کی تعریف
جور کی تعریف
چلیپا کی تعریف
خشم کی تعریف
دلبرکی تعریف
دلبر ودوست وصنم ومحبوب ویار کی تعریف
دلدارکی تعریف
دیرکی تعریف
رابطہ(تصور شیخ) کی تعریف
رجعت کی تعریف
زلف کی تعریف
زنارکی تعریف
ساغر وپیمانہ کی تعریف
ساقی ومطرب کی تعریف
سالک، واقف وراجع
سعادت کی تعریف
سفردروطن
سمع کی تعریف
شاہد کی تعریف
شقاوت کی تعریف
شیدا کی تعریف
صبح کی تعریف
صبوحی کی تعریف
طامات کی تعریف
طریق باطن کی تعریف
غمگساری کی تعریف
غیرت کی تعریف
فلاشی کی تعریف
قلندروقلاش کی تعریف
کباب کی تعریف
کشف وشہود کی تعریف
کفرکی تعریف
کلیسنا کی تعریف
مے کی تعریف
گیسو کی تعریف
لب ودہان کی تعریف
محاضرہ، مکاشفہ ومشاہدہ کی تعریف
مست وخراب کی تعریف
مست وشیدا کی تعریف
مستی کی تعریف
میخانہ کی تعریف
می لعل کی تعریف
نگاہداشت کی تعریف
وارد کی تعریف/ خاطرووارد میں فرق
وصل کی تعریف
وفا کی تعریف
وقوف زمانی کی تعریف
وقوف عددی کی تعریف
وقوف قلبی کی تعریف
ہیبت کی تعریف
یادداشت کی تعریف
حریت وآزادی کی تعریف
تخلیہ اور تحلیہ کی تعریف
نسبت کے متعلق اصطلاحات
نسبت کی حقیقت
حال کے متعلق اصطلاحات
حال کا مفہوم
عبث ولایعنی کے متعلق اصطلاحات
عبث اور لایعنی کی تعریف
حزن کے متعلق اصطلاحات
حزن کا معنی
لطیفہ قلب کے متعلق اصطلاحات
صوفیہ کے ہاں لطیفہ قلب جسم سے باہر ہے۔
احسان کا معنی کے متعلق اصطلاحات
احسان کا اردو وعربی استعمال الگ الگ ہے۔
گبر وکافر کے متعلق اصطلاحات
گبر وکافرکی تعریف
صوفیہ کی اصطلاح کافر بمعنی کافر بالطاغوت ہے
ابن الوقت وابو الوقت کے متعلق اصطلاحات
ابن الوقت وابو الوقت کی تعریف
ابن الوقت کا دوسرامعنی
اتصال کے متعلق اصطلاحات
اتصال کی تعریف
حق تعالی کے ساتھ اتصال ذاتی کا اعتقاد کفر ہے۔
انقطاع خلق کے بعد ہرمقام وحال، وصال ہے۔
آزادی حریت کے متعلق اصطلاحات
آزادی وحریت کی تعریف
حریت میں تکلیف کے بجائے کلفت تکلیف ساقط ہوتی ہے۔
بروز کے متعلق اصطلاحات
بروز کی تعریف
بروز میں انسان وجنات کا تصرف مختلف ہے۔
تجرید وتفرید کے متعلق اصطلاحات
تجرید کی تعریف
تفرید کی تعریف
ترسا کے متعلق اصطلاحات
ترسا کی تعریف
ترسابچہ کی تعریف
تمثل کے متعلق اصطلاحات
تمثل کی تعریف
لفظ ''مثال'' کی تعریف
لفظ''مثال'' کی مثال
مثال بیان کرنے کا فائدہ
جمع وفرق وجمع الجمع کے متعلق اصطلاحات
فرق کی تعریف
جمع کی تعریف
وجمع الجمع کی تعریف
جمع وفرق وجمع الجمع کی دوسری تعریف
حال ومقام کے متعلق اصطلاحات
حال کی تعریف
مقام کی تعریف
حال اورمقام میں فرق
چہاردہ خانوادہ کے متعلق اصطلاحات
چہاردہ خانوادہ کی ذیلی شاخیں
خلع بدن کے متعلق اصطلاحات
خلع بدن کی تعریف
خلع بدن ریاضت سے حاصل ہوسکتا ہے۔
خلوت درانجمن کے متعلق اصطلاحات
خلوت درانجمن کی تعریف
خلوت درانجمن میں ذکر سے مراد ذکر ربانی قلبی ہے۔
سیرالی اللہ وسیر فی اللہ کے متعلق اصطلاحات
تعلق مع اللہ کے دودرجے ہیں۔سیرالی اللہ وسیر فی اللہ
سیرالی اللہ وسیر فی اللہ کی تعریف
سیرالی اللہ محدودہے۔ سیر فی اللہ کی کوئی حد نہیں۔
شطح کے متعلق اصطلاحات
شطح کی تعریف
صاحب شطح نہ گنہگار ہے نہ قابل تقلید
صوفی کے متعلق اصطلاحات
صوفی کی تعریف
'صوفی''کالقب دوسری صدی ہجری میں مشہور ہوا۔
علم اعتبار کے متعلق اصطلاحات
علم اعتبارکی تعریف
علم اعتبارکی غرض
علم اعتبارکی غرض وضاحت ہے نہ کہ اثبات
علم اعتبارمجازہےنہ کنایہ،بلکہ قیاس فقہی کےمشابہ ہے۔
محققین، جہلاء اورمتجددین کے اعتبارمیں فرق ہے۔
غیبت وحضوروشہود کے متعلق اصطلاحات
غیبت وحضوروشہود کی تعریف
شہود
شہود وشاہد میں فرق
غیبت وحضور کی دوقسمیں ہیں۔ محمود ومذموم
محو واثبات کے متعلق اصطلاحات
محو واثبات کی تعریف
محوکے ہم معنی کلمات
محق،سحق اورطمس میں فرق
مدارات ومداہنت کے متعلق اصطلاحات
مدارات
مدارات کی تعریف
مدارات دین میں مطلوب ہے۔
مدارات صوفیہ کےخاص اخلاق سے ہے۔
مداہنت
مداہنت کی تعریف
مداہنت حرام ہے۔
مکہ ومدینہ کے متعلق اصطلاحات
مکہ ومدینہ کی تعریف
تجلی الوہیت وعبدیت(مکہ ومدینہ) میں عارف ومحقق میں فرق
نسبت کی تعریف
نسبت(وصول) کی تحصیل کاذریعہ
نسبت تعلق طرفین کا نام ہے۔
تعلق طرفین عمل واطاعت سےپیدا ہوتاہے۔
نسبت کا القاءرفتہ رفتہ غیرمحسوس طورپرہوتاہے۔
نسبت کی ظاہری علامت، بلاتکلف اتباع سنت ہے۔
نظربرقدم کے متعلق اصطلاحات
نظربرقدم کی تعریف
نظربرقدم میں ایک دقیق اشارہ
ہمت کے متعلق اصطلاحات
ہمت کی تعریف
ہمت سے بڑے بڑے کام بنتے ہیں۔
آج کل ہمت کو توجہ کہتے ہیں۔
ہوش دردم کے متعلق اصطلاحات
ہوش دردم کی تعریف
ہوش دردم نفس کے انتشار کودفع کرنے والاہے۔
خاطر کے متعلق اصطلاحات
خاطرکی تعریف
خاطرکی چارقسمیں ہیں۔ خاطرحق،الہام،ہواجس،وسواس
خاطر کی چار اقسام میں فرق
عالم خلق وعالم امر وعالم مثال کے متعلق اصطلاحات
مادہ
مادیات کی تعریف
مادیات میں تمام اجسام علویہ وسفلیہ شامل ہیں۔
مجرد
مجردات کی تعریف
مجردات میں ارواح ولطائف وغیرہ شامل ہیں۔
عالم خلق وعالم امر وعالم مثال
عالم خلق وعالم امر وعالم مثال کی تعریف
عالم امر غیر محدود وزیادہ قوی ہے۔
یقین کے مراتب کے متعلق اصطلاحات
یقین کی تعریف
یقین کے تین مراتب ہیں۔ علم الیقین، عین الیقین، حق الیقین
علم الیقین کی تعریف
عین الیقین کی تعریف
حق الیقین کی تعریف
نفس کے متعلق اصطلاحات
نفس کی تعریف
خواہشات نفس(خیر وشر) کے اسباب الگ الگ ہیں۔
نفس کی 3 اقسام ہیں امارہ، لوامہ، مطمئنہ
نفس امارہ
نفس امارہ کی تعریف
ہوی کی تعریف
نفس امارہ کا کبھی خیر چاہنا اس کے منافی نہیں۔
نفس مطمئنہ کی تعریف
نفس لوامہ
نفس مطمئنہ
احیاناًخواہشِ شربلا عمل نفس مطمئنہ کے منافی نہیں۔
صلحاء وانبیاء کے نفس مطمئنہ میں فرق
وقت ونفس کے متعلق اصطلاحات
نفس
نفس کی تعریف
وقت
وقت کی تعریف
کیفیتِ وقت سالک وغیر سالک دونوں کو پیش آتی ہے۔
وقت مختص بسالک / الصوفی ابن الوقت کی تعریف
عروج وزوال کے متعلق اصطلاحات
عروج
عروج وفناء کی تعریف
بعدازعروج، بعض کو استغراق اوربعض کوافاقہ ہوجاتاہے۔
صاحب سکر(عروج)سے افاضہ کاسلسلہ جاری نہیں ہوتا۔
زوال(نزول)
نزول وبقاء کی تعریف
صاحب نزول کی نسبت زیادہ قوی ہوتی ہے۔
صاحب نزول بغیر غلبہ کے تجلیات کا مشاہدہ کرتاہے۔
صاحب نزول محض توجہ الی الحق کا طالب ہوتاہے۔
صاحب نزول کی توجہ الی الخلق بھی تعمیلاً ہوتی ہے۔
صاحب نزول کی توجہ الی الخلق حجاب نہیں۔
حجابات کے متعلق اصطلاحات
حجاب اکبرکی تعریف
حجاب کی دو قسمیں ہیں نورانی وظلمانی
حجاب نورانی، ظلمانی سے زیادہ حاجب ہے۔
حجاب کے چار مرتبے ہیں۔
مرتبہ ہاہوتاور اس کی لغوی ومعنوی تحقیق
لاہوت مرتبہ اجمال صفات ہے۔
جبروت مرتبہ تفصیل صفات ہے۔
ملکوت عالم ملائکہ ہے۔
ناسوت عالم انسان ہے۔
مراتب حجاب کا عبور
ھاھوت،لاہوت وجبروت کاطے کرنا محال ہے۔
ناسوت کے طے کرنے کی ضرورت نہیں۔
ملکوت میں پہنچنا ممکن تو ہے مگراختیاری نہیں
مرتبہ ھاھوت کا انکشاف مقصود ہے۔
ملکوت وناسوت حجاب ہیں۔
لطائف میں سترہزار حجاباتِ ظلمانی ونورانی ہیں۔
سالک سے رفع حجابات کامعنی
حجابات کی تعیین
طریق جذب وطریق سلوک کے متعلق اصطلاحات
تربیت کے دوطریق ہیں۔ طریق جذب وطریق سلوک
طریق جذب کی تعریف
طریق سلوک کی تعریف
تجلی واستتار کے متعلق اصطلاحات
تجلی اوراستتارکی تعریف
تجلی کی تاثیر
تجلی کی مختلف قسمیں جداگانہ آثاررکھتی ہیں۔
تجلی ذاتی کی تاثیر
تجلی صفات جلالیہ کی تاثیر
تجلی صفات جمالیہ کی تاثیر
تجلی افعالی کی تاثیر
تجلی روح کی تاثیر
تجلی حق کی تاثیر
شیخ کامل کے بغیر سالک تجلی سے گمراہ ہوسکتاہے۔
تلوین وتمکین کے متعلق اصطلاحات
تلوین
تلوین کی تعریف
تلوین مضر نہیں اس سے پریشان ہونا مضرہے۔
تمکین
تمکین(توسط واعتدال) کی تعریف
تمکین کی بدولت تمام حقوق بخوبی اداہوتے ہیں۔
تمکین(اعتدال) کی وجہ سے امت کانام امت وسط ہے۔
صاحب تلوین وصاحب تمکین میں فرق
صاحب تلوین وصاحب تمکین میں پہلا فرق
صاحب تلوین وصاحب تمکین میں دوسرا فرق
صاحب تلوین وصاحب تمکین میں تیسرا فرق
صاحب تلوین وصاحب تمکین کی مثال
عینیت وغیریت کے متعلق اصطلاحات
اصطلاح صوفیہ ''عینیت'' کا معنی
عینیت وغیریت کے تین معانی ہیں۔
عینیت وغیریت کا پہلا معنی
معنی اول میں عینیت وغیریت متناقض ہیں۔
عینیت وغیریت کا معنی اول ہی متعارف معنی ہے۔
باعتبارِمعنیٔ اول کوئی چیز اللہ تعالی کاعین نہیں۔
عینیت وغیریت کا دوسرا معنی
باعتبارمعنی ثانی، عینیت وغیریت متضاد ہیں۔
عینیت وغیریت کامعنی ثانی متکلمین کی اصطلاح ہے۔
باعتبارِمعنیٔ ثانی بھی کوئی چیز اللہ تعالی کاعین نہیں۔
عینیت وغیریت کا تیسرا معنی
باعتبارمعنی ثالث،عینیت وغیریت کااجتماع ممکن ہے۔
عینیت وغیریت کامعنی ثالث صوفیہ کی اصطلاح ہے۔
باعتبارِمعنیٔ ثالث خالق وخلوق میں عینیت وغیریت دونوں ہیں۔
لطائف ستہ کے متعلق اصطلاحات
لطیفہ قالبیہ کوملاکرکل لطائف سات ہیں۔
لطائف کی طرف متوجہ نہ ہوناچاہئے۔
لطیفۂ نفس عالم خلق سے ہےاوربقیہ عالم امر سے۔
لطائف ستہ کےنام
لطائف ستہ کی غذایا فعل
لطائف ستہ کامقام(محل وقوع)
لطائف ستہ کا رنگ
لطائف ستہ کشف سے دریافت ہوئے ہیں۔
لطائف ستہ کے توحد وتعدد میں اختلاف ہے۔
لطائف ستہ کی باہمی نسبت
لطیفہ فوقانی کےاجراءسے تحتانی بھی جاری ہوجاتاہے۔
مقامات لطائف کی تعیین میں اختلاف ہے۔
جملہ لطائف، عکسی آئینوں کی مثل ہیں۔
اولیاء اللہ کے متعلق اصطلاحات
اولیاء اللہ کے بارہ گروہ(اقسام) ہیں۔
اولیاءاللہ کی اقسام حدیث کی روشنی میں ثابت ہیں۔
پہلا گروہ ابدال
ابدال کی برکات
ابدال چالیس آدمی ہوتے ہیں۔
ابدال عراق وشام میں رہتے ہیں۔
دوسرا گروہ ابرار
اکثر نے ابرار ہی کو ابدال کہاہے۔
تیسرا گروہ اخیار
چوتھا گروہ اقطاب
قطب العالم
قطب العالم ایک ہوتاہے۔
قطب العالم کے متعدد نام ہیں۔
قطب العالم کا نام عالم غیب میں عبداللہ ہوتاہے۔
قطب العالم کے علاوہ بارہ قطب اور ہوتے ہیں۔
قطب اقلیم
قطب ولایت
اقطاب غیرمعینہ قریہ قریہ ہوتے ہیں۔
پانچواں گروہ امامین
امامین قطب العالم کے دووزیر ہوتے ہیں ۔
وزیر یمین کا نام عبدالملک ہوتاہے۔
وزیر یسار کا نام عبد الرب ہوتاہے۔
چھٹا گروہ اوتاد
اوتاد چار ہوتے ہیں، عالَم کے چار رکن میں رہتے ہیں۔
ساتواں گروہ عمد
عمد چار ہوتے ہیں زمین کے چاروں گوشوں میں۔
ہر عمد کانام محمد ہوتاہے۔
آٹھواں گروہ غوث
غوث ایک ہوتاہے۔
بعض کے ہاں قطب الاقطاب ہی غوث ہوتاہے۔
غوث کا مستقر (جائے قیام) ختلف فیہ ہے۔
نواں گروہ مفرداں
غوث ترقی کرکے فرد ہوجاتاہے۔
فرد ترقی کرکے قطب وحدت ہوجاتاہے۔
دسواں گروہ مکتوماں
مکتوم تومکتوم ہی ہیں(یعنی پوشیدہ اورچھپے ہوئے)
گیارہواں گروہ نجباء
نجباء ستر ہوتے ہیں۔
نجباء مصر میں رہتے ہیں۔
تمام نجباء کانام حسن ہوتاہے۔
بارہواں گروہ نقباء
نقباء تین سو ہوتے ہیں۔
نقباء ملک مغرب میں رہتے ہیں۔
تمام نقباء کانام علی ہوتاہے۔
خدمت اور شعبہ کے اعتبار سے اولیاء کی دو قسمیں ہیں۔اہل ارشادواہل تکوین
اہل ارشاد اولیاء اللہ
اہل ارشاد انبیاءؑ کے حقیقی نائب ہوتے ہیں۔
قطب الارشاد
اہل ارشاد کی اقسام سالک مجذوب ومجذوب سالک
سالک مجذوب کی تعریف
مجذوب سالک کی تعریف
سالکِ مجذوب، محب اور مجذوبِ سالک، محبوب ہے۔
اہل ارشاد کے مختلف درجات
قلندر
قلندر کی تعریف
طریق القلندر کے دوجز ہیں۔ عمل ومحبت
عندالمتقدمین رہ قلندرمیں اعمال قالبہ کی قلت وقلبیہ کی کثرت شرط ہے۔
قلندر مخلوق سےاوروضع دنیا سے آزاد ہوتاہے۔
ملامتی
ملامتی کی تعریف
ملامتی عوام کو ڈاکو سمجھ کر گزیز کرتے ہیں۔
مجذوب
مجذوب عبادت کا مکلف نہیں ہوتا ۔
مجنون اورمجذوب کی تعریف
مجنون اورمجذوب میں فرق کی علامت
علت سے مجنون ومجذوب میں فرق مشکل ہے۔
صحبت مجذوب قلب کو آخرت کی طرف کھینچتی ہے۔
مجذوب پراہل بصیرت نکیر نہیں کرتے۔
ہرمجنون کامجذوب ہوناضروری نہیں۔
کشفِ مجذوب کی حقیقت
قول مجذوب موافقِ امورہوجاتاہے نہ کہ امور موافق قول مجذوب
قول مجذوب کی موافقتِ امورکی حسی مثال
مجذوب سےنہ دینی فائدہ ہوتاہےنہ دنیوی
مجذوب سے دینی فائدہ نہ ہونے کی وجہ
مجذوب سے دنیوی فائدہ نہ ہونے کی وجہ
دیگر بزرگوں سے دینی ودنیوی دونوں فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
مجذوب کو دعا کی اجازت نہیں ہوتی۔
مجذوب پیشین گوئی کرتاہے۔
صحبتِ مجذوب ضرر(وقعت شرع کی کمی) کومحتمل ہے۔
مجذوب شریعت کا مکلف نہیں ہوتا۔
مجذوب کی صحبت اور سب وشتم دونوں سے بچناچاہئے۔
مجذوب کی حالت
مجذوب کا فعل حجت نہیں۔
مجذوب کا عنداللہ کوئی بہت بڑا مقام نہیں ہوتا۔
مجذوب گو مقبول ہیں مگر کامل نہیں۔
ہوسکے تو مجذوب کی خدمت کردے۔
مجذوب سے توجہ کا طالب ہرگز نہ ہونا چاہئے۔
مجذوب کاعطیہ لقطہ کا حکم رکھتاہے۔
مجذوب کی صحبت اور اس کی کتب کا مطالعہ نا اہل کے لئے مضر ہے۔
اہل تکوین اولیاء اللہ
اہل تکوین مثل ملائکہ کے ہوتے ہیں۔
حضرت خضرؑ اہل تکوین میں سے ہیں۔
ولایت تکوینی کی شرائط
اہل تکوین کیلئے تصرفات عجیبہ کا ہونا لازم ہے۔
قطب التکوین کوعہدۂ قطب کا علم ہوناضروری ہے۔
اہل تکوین کی کرامات کا عوام کو ادراک نہیں ہوتا۔
تذکرہ اہل تکوین کے فوائد
اہل تکوین کے ذکر میں علمی وعملی دوفائدے ہیں۔
تذکرۂ اہل تکوین کا علمی فائدہ
تذکرۂ اہل تکوین کا عملی فائدہ
قطب التکوین
ایک وقت میں قطب التکوین متعدد بھی ہوسکتے ہیں۔
ہربستی حتی کہ بستیِ کفارمیں بھی قطب التکوین ہوتاہے۔
بستیِ کفار میں قطب ہونے کامطلب
بستیِ کفار میں قطب ہونے کادوسرامطلب
بستیِ کفار میں قطب ہونے کاتیسرامطلب
کفار کے مابین قطب کو پہچاننے کی علامت
سلوک کے متعلق اصطلاحات
سلوک کی دو قسمیں ہیں ۔ سلوک نبوت اور سلوک ولایت
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے جدا جداآثار وخواص ہیں ۔
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 1
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 2
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 3
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 4
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 5
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 6
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 7
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 8
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 9
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 10
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 11
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 12
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 13
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 14
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 15
سلوکِ نبوت وسلوکِ ولایت کے آثار وخواص میں فرق 16
دنیا میں سلوک کی انتہا ہے ہی نہیں
توریہ کے متعلق اصطلاحات
فتنہ سے بچنے کےلئے توریہ کرنا حدیث سے ثابت ہے۔
فتنہ سے بچنے کے لئے توریہ کرنا اخفاء حق نہیں۔
تہذیب عقل
عقائد کے بارے میں
اللہ تعالیٰ کے بارے میں
اسباب پرغور کرکے مؤثر حقیقی تک پہنچنا چاہئے
نجات کا اصل مدار رحمت الہی پر ہے
اللہ تعالی نے تمام امور کواسباب کے تابع رکھا ہے۔
اولاد کا نہ ہونا یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار کی بات ہے
اللہ تعالیٰ کے عذاب سے انسانی وسائل بچا نہ سکیں گے
شبہات کا علاج صرف تعلق مع اللہ ہے
حق تعالیٰ کی صفت حکیم میں غور کرنے سے تمام شبہات حل ہوجاتے ہیں
مومن کی کامیابی اللہ تعالی کی مددسے ممکن ہے۔
ہر شخص سے جو اللہ کا معاملہ ہے اس کے لیے وہی مناسب تھا
تمام نعمتیں فضل ہیں
دوسروں کے برابر ہونے کی تمنا ٹھیک نہیں
ہمارا حضور ﷺ کے زمانہ میں نہ ہوناہمارے لیے یہی مناسب تھا
خشیت سے مقصود کیا ہے
تمام کمالات اللہ ہی کے عطا کردہ ہوتے ہیں
حق تعالیٰ کی پوری رضا کے موافق کام سخت مشکل ہے
کسی جماعت کے عروج اورغلبہ سے اس کا اللہ کی جماعت ہونا لازم نہیں ہے
حق تعالیٰ کے سامنے کسی کا زہد و طاعت کچھ حقیقت نہیں رکھتا
محض لا الہ الا اللہ کہنا نجات کے لیے کافی نہیں ہے
من قال لاالہ الا اللہ الخ کے صحیح معنیٰ
ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ کے مخالفین کے ساتھ دوستی نہ کرے
اللہ تعا لیٰ کی اطاعت سے نام روشن ہوتا ہے
آخرت کے متعلق
مسلمانوں کا اصلی مقصود آخرت ہے
فلاح (ہرتمنا کی تکمیل ) دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں نصیب ہوگی
موت گھبرانے کی چیز نہیں
مومن کو موت کے وقت جنت کی بشارت مل جاتی ہے
روزِ قیامت جس چیز کا مؤاخذہ ہو گااس سے خلاصی مشکل ہوگی ۔
قبر حشر کے متعلق
جسم مثالی سب لذات سے منتفع ہوتا ہے
احکام شریعت کے متعلق
عوام کے سامنے اسرار بیان کرنا تکذیب کاباعث ہے۔
عوام کے سامنے اسرار بیان کرنا تکذیب کاباعث ہے۔
اسراربیان کرنے سے تکذیب لازم آنے کا معنی
اسرار کا اخفاء، کتمان دین نہیں ہے۔
اقتضاءات بشریہ کے ساتھ اتباع شریعت، اصل کمال ہے۔
ہرمعاملہ میں تعدیل کا معیار وہ ہے جو شریعت کا حکم ہے
شریعت میں اعتدال کی تعلیم ہے رہبانیت کی نہیں
تہذیب شریعت کا ہی ایک جز ہے
احکام شریعت میں دم مارنے کی کسی کی مجال نہیں
احکام شریعت اللہ ورسولﷺ کے احکام ہیں
شریعت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے
شریعت پر عمل کرنے والے کو پریشانی نہیں ہوتی
پریشانی کی حقیقت
شریعت پر چلنے سے دنیا کی بربادی سے حفاظت رہتی ہے
آزاد وہ ہے جو شریعت پر عمل کرے
شریعت کی تعلیم میں ایسی دلکشی ہے کہ بے اختیار دل کھینچتا ہے
شریعت کے ہرپہلو سے محبوبیت برستی ہے
شریعت کی بے تمیزی پر علماء کا غصہ بجا ہے
شریعت میں تنگی نہیں بلکہ ہماری معاشرت میں تنگی ہے
شریعت کی حرام کرد ہ چیزوں میں دنیاوی ضرر بھی ہے
شریعت نے فطریات کو بیان کرنے کا خاص اہتمام نہیں کیا
شریعت نے ہمیں حدود کے اندر رہنے کی تعلیم دی ہے
کثرت نوافل اور ترک طعام کا نام شریعت نہیں
شریعت تعمیل امر اور اجتناب نہی کا نام ہے
مسلمان کی وضع داری اتباع احکام میں ہے
اصل مقصود اتباع احکام ہے
اتباع کے لائق صرف وحی ہے
اکثر اتباع کرنے والوں کی گمراہی متبوع کی گمراہی کی علامت ہوتی ہے
احکام الہی کی علت دریافت کرنا بے ادبی ہے
عبد کو احکام کے اسرار ومصالح جاننے کاکوئی حق نہیں ۔
احکام الہی پر اعتراض کھلی بغاوت ہے
عصری علوم والے بلا تردد شرعی احکام علماء سے پوچھیں
ناواقف کو احکام دریافت کرناضروری ہے
حاکم سے احکام کی حکمت پوچھنا گستاخی ہے
ہر جگہ احتمالی تاویلات کرنے کی خرابی
خالق کے حکم کے آگے مخلوق کے حکم کی کیا ضرورت
حق تعالیٰ کے حکم پر چوں چراکرنا مطلقا جائز نہیں
اصل مقصود ایمان ہے دنیوی ترقی مقصود نہیں ہے
علماء سے علل دریافت نہ کریں
عوام کو یہ حق نہیں کہ علماء کی بات کو غلط کہہ کر رد کردیں
علماء کا کام صرف قانون الہی کوبیان کرنا ہےنہ کہ سائنسی تحقیقات
عالم شریعت سے کسی کو حق مزاحمت نہیں
عالم کی مزاحمت نبی کی مزاحمت ہے
علماء جو احکام بتلاتے ہیں وہ در حقیقت اللہ تعالی کے احکام ہیں
علماء کی مزاحمت عقلا بھی جائز نہیں
مشتبہ صورت بھی ممنوع ہے
اسلام میں تعصب نہیں غیرت مندی کا درس ہے
تم دنیوی امور میں بھی خود مختار نہیں
دنیاوی امور میں خود مختار نہ ہونے کی دلیل
اگر شریعت کی تعلیم حاصل کرلیں تو کسی قوم کی تقلید کی ضرورت نہیں ۔
شریعت سے اعراض ، عام ہلاکت کا سبب ہے۔
شریعت کی قید میں لذت ہے
شریعت میں تمام امراض روحانیہ کا علاج موجود ہے
نظام عالَم علماء کے اتباع ہی سے قائم رہ سکتا
مسلمانوں کو ترقی احکام الہی کی پابندی ہی سے ملے گی
مسلمان کے لیے احکام شریعت کا علم لازم ہے
احکام کا علم نہ ہونے کا عذر قابل قبو ل نہیں ہے
عبادات کے بارے میں
نماز کے متعلق
نماز میں غفلت عصرحاضرکا اجتماعی مرض ہے۔
نماز کی فرضیت کاانکار سلب ایمان کاباعث ہے۔
نماز کا شوق نماز پڑھنے سے پیدا ہوتا ہے
عبادت کی دوبارہ توفیق کا ملنا یہ اس کے قبول ہونے کی علامت ہے
اعمال کے متعلق
رذائل کا نام بدلنے سےوہ حسنات نہیں ہوسکتے۔
عمل مقصود ہے اس کی لذت مقصود نہیں۔
عمل اتنا اپناؤ جس پر دائم رہ سکو۔
انسان کی شرافت کا معیار،اخلاق حسنہ و اعمال صالحہ ہیں
انسان کا فعل اختیاری ہے اور اس کا ثمرہ غیر اختیاری
فعل اختیاری وثمرہ غیر اختیاری ہونے کی مثال
اپنے اعمال کو اپنا کمال نہ سمجھیں
شریعت پر عمل کی ناگواری چند روزہ ہوتی ہے
رحمت کے بھروسہ عمل کو مت چھوڑیں
عمل کرو کامیابی کے لیے مگر کامیابی کے حصول کی فکر نہ کرو
ہر عمل کو شوق باقی رکھ کر کریں
چند اعمال کی درستگی کو دین سمجھنا درست نہیں
مسلمان کے لیے طول حیات موت سے افضل ہے
نسبت باطنی کو بلا اعمال کے کافی سمجھنا غلط ہے
طلب(عمل)مقصود ہے ۔حصو ل (ثمر)مقصود نہیں ۔
مقصود کے عمل پر منحصر ہونے کی حسی مثال
مقصود کی طلب اختیاری ہے ،حصول غیر اختیار ی ہے ۔
سب مصیبتیں ہمارے اعمال کی وجہ سے آتی ہیں
جسمانی بیماری ہمارے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے
شکر کا تعلق عمل سے بھی ہے صرف قول ہی سے نہیں
صوفیہ کے ہر عمل کا نص سے ثابت ہونا ضروری نہیں
ہر عمل کے پیچھے ایک داعیہ ہوتاہے
کسی عمل کو حقیر نہ سمجھو
حا ل کے بغیر عمل کو کالعدم سمجھنا غلطی ہے
نیک بات بتانا طاعت ہے خود عمل کرے یا نہ کرے
عمل بالمعروف ،امر بالمعروف کی شرط نہیں
صدقات کے متعلق
حرام مال سے کی ہوئی خیرات قبول نہیں ہے
طاعات میں بھی اعتدال ضروری ہے
حرام مال سے کی ہوئی عبادات قبول نہیں ہونگی
معاملات کے بارے میں
ملکیت اموال کے متعلق
ہر ایک کے لیےمال و اسباب کی مقدار یکساں نہ ہونے میں حکمت
اشیاء کی نسبت بندوں کی طرف انتظام تمدن کے لیے ہے
کار خیر زر کو کھینچتا ہے
معاشرت کے بارے میں
میاں بیوی کے متعلق
زوجین میں مساوات سے عائلی نظام نہیں چل سکتا
زوجین میں مساوات کا خیال ہی فساد کی جڑ ہے
ملکیت اموال کے متعلق
مال جس کو ہم اپنا سمجھتے ہیں واقع میں ہمارا نہیں بلکہ وارثوں کا ہے
مشورہ کے متعلق
نفس رائے کی حجیت کے لیے دو شرطیں ہیں
ہر کا م میں اس کے جاننے والوں کی رائے معتبر ہوتی ہے
مصیبت و راحت کے متعلق
راحت کی اصل قدر اہل مصیبت جانتاہے
دنیا کی ہر راحت میں کچھ الم ہے
پریشانیوں کا علاج خدا سے تعلق پیدا کرنے میں ہے
ہرطرح کا چین اہل اللہ کو ہی میسر ہے
(پریشانی میں ) تدبیرنہیں چھوڑنی چاہئے۔
تدبیر کو مؤثر بنانے کیلئے دعا کرنی چاہئے۔
مصائب میں پریشانی کی جڑ خود کو مالک سمجھنا ہے۔
ہر پریشانی محمود نہیں ہے
حق تعالیٰ کا نافرمان پریشانی میں مبتلا رہتا ہے
راحت کی شرط مذاق واستعداد خاص ہے
سزا کبھی شرط راحت ہوتی ہے
راحت کی روح خوشی اور اطمینان قلب ہے
ہر چیز کی راحت اس کے مناسب چیز سے ہوتی ہے
مصیبت حقیقت میں راحت ہے
منزل کی راحت اسی قدر زیادہ ہوتی ہے جتنی سفر میں تکلیف زیادہ ہو
زیادہ سخت بلا انبیاء پر آتی ہے
اولیاء کرام حزن سے بری ہوسکتے ہیں
نظم وضبط کے متعلق
اپنے کاموں کو تدریجاً کرنا سنت اور تعلیمات الٰہی ہے
اتفاق اور اتحاد کے متعلق
ممکنہ طور پر اختلاف سے بچنا اولی ومستحب ہے ۔
مزاحمتوں سے متاثر بھی نہ ہوں نہ بلا وجہ قطع تعلقی کریں
اتفاق کی غرض سے نااتفاقی کرنا جائز ہے
اختلاف کبھی اختلاف فہم کی وجہ سے ہوتا ہے
معصیت پر گٹھ جوڑ سے نااتفاقی محمود ہے۔
متحد قوم کو منتشر قوم کے پیچھے نہیں چلانا چاہئے۔
اتفاق اور اتحاد کی عدم بقا کی وجہ
اتفاق اور اتحاد کی جڑ کسی ایک کو بڑا مان لینا ہے
مل جل کرکام کرنے کا معنی صحیح تقسیم کار ہے
حسب ونسب کے متعلق
شرف نسب پر فخر جائز نہیں
آباؤ اجداد کی برکت سے مومن اولاد کو نفع ہوتاہے
تعلیم نسواں
عورتوں کی تعلیم کا وقت بچپن کا وقت ہے
شعر واشعار کاپڑھنا پڑھانا عورتوں کے لیے فتنہ ہے
تعلیم وتعلم کے متعلق
انگریزی پڑھنے کے چند نقصانات
شادی اور غمی میں بھی حضور ﷺ ہی کا اتباع کریں
ترقی دنیا کے متعلق
قومی ترقی میں مال حلال ذرائع سے کمانا اور حلال جگہوں پر خرچ کرنا بھی ہے
قدیم ہونا عیب نہیں ہے
قدیم ہونا مقبول ہونے کا سبب ہے
قدیم ہونا نہایت مستحکم ہونے کی دلیل ہے
زیب وزینت کے متعلق
عورت کو مردوں کے مشابہ بننا جائز نہیں ہے
بیماری کے متعلق
بیماری کی حالت میں فاقہ کرنا خلاف ادب نہیں
بیماری ڈرنے کی چیز نہیں
بیماری سے بچنے کی بڑی دوا بے فکری ہے
بیماری کا آس پاس ہونا بھی خوفناک ہے
باہمی تعلقات کے متعلق
غیر ضروری تعلقات مضر ہیں ضروری تعلقات نہیں
چندہ کے متعلق
اہل علم کا چندہ مانگنے سے علم اور دین کی ذلت ہوتی ہے
احکام شریعت کے متعلق
مسلمانوں کااصل مقصود دین ہے
متفرق احکامات
ہم جنس پرستی
مرد کو مرد سے راحت نہیں پہنچ سکتی
ذریعہ اور مقصود کے متعلق
کیفیت میثاق الست کا یاد ہونا ضروری نہیں مقصود کی یاد کافی ہے
بعض اہل اللہ کو میثاق عہد کی کیفیت یاد ہے
نوکر کا فیشن کام نہیں آتا خدمت کام آتی ہے
موجود ہوتے ہوئے فاقہ کرنا خلاف آدب ہے
محبت اور وقعت میں احتیاط بہت آجاتی ہے
قرآن مجید کے بارے میں
جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا قرآن پڑھانے کے متعلق نظریہ
قرآن میں شک حقائق سےواقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے
قرآن کے فائدہ کو معنیٰ ہی میں منحصر سمجھنا غلط ہے
آج کل قرآن سے عجیب کام لیے جاتے ہیں
آیات مخصوص واقعات کے ساتھ خاص نہیں
نصوص میں غیر ضروری امور کا ذکر نہیں ہے
امر غیر ضروری کو تکلفا نص میں داخل کرنا نص کی بے وقعتی ہے
اسلامی ریاست کے بارے میں
جہاد کے متعلق
دنیا میں نافرمانوں کو غلبہ وعزت دینے میں حکمت
اسلامی ریاست
جہاد کے متعلق
فتح ونصرت نعمت ہے
حفاظت واشاعت دین کے بارےمیں
ادلہ اربعہ
حدیث بھی بمنزلہ قرآن ہی کے ہے
سنت میں کسی طرح کی کمی نہ نکالیں
سنت کو خلاف تہذیب سمجھ کر چھوڑنا جائز نہیں
دین کے متعلق
دین پر عمل کرنے میں شد ت سے بچنا واجب ہے ۔
دینی کمال اختیاری امور سے ہے ۔
دنیا معین آخرت ہو تو دینداری ہی ہے۔
دل اور زبان کو درست کر لیں دین پر چلنا آسان ہوجائے گا
والدین کی مزاحمت پر نہ تو نیکی کو چھوڑیں نہ والدین کو چھوڑیں
دین صرف رونےگڑگڑانے سے حاصل نہیں ہوتا
دین پر دنیا کے حصول کی غرض سے عمل کرنا برا ہے
بدوں اتباع کےدین ودنیا کا کوئی کام نہیں چلتا
تعمیل حکم میں ہمت کا صرف کردینا ہی کامیابی ہے۔
دیندار وہ ہے جوتمام وجو ہ دین اور انواع عمل کا جامع ہو
دین کی سہل تعلیم کی بھی قدر کریں
دین اختیاری ہے اس میں جس کی جتنی ہمت ہو ترقی کرسکتا ہے
دین کے معاملے میں طعن وتشنیع کا خیال نہ کریں
اپنے دین کی خرابی کی جگہوں سے دور رہیں
قدرت (قادرہونا)کا تعلق ضدین کے ساتھ ہوتا ہے
احکام شرعیہ کی اصل وضع ،فلاح دین کے لئے ہے ۔
احوال دنیا،معاون دین ہونے سے دین نہیں بن سکتے ۔
آج کل لوگ دنیاوی غرض سے دین پر عمل کرتے ہیں
امرا کو دین سے بہت بعد ہوگیا ہے
ضروری علم دین حاصل کریں سب کا عربی پڑھ کر عالم بننا ضروری نہیں
اخلاقیات بھی دین کا حصہ ہیں
آج کل لوگوں نے دین کو حقیر سمجھ رکھا ہے
امور دینیہ کی بنا عقل پر سمجھنا سخت غلطی ہے
دین عقل کے موافق ہونے کا مفہوم
دین میں صرف علماء کی بات معتبر ہوگی
علماء کی بھی وہ رائےمقبول ہے جو موافق نص ہو
دین ترقی چاہتا ہے اور اس کی راہ بھی خود بتاتا ہے
دین کی خرابی کا نتیجہ زیادہ نقصان دہ ہے
دین حکم الہی کا نام ہے جس میں کوئی تخصیص نہیں
دین کا تعلق عادت اور عبادت دونوں سے ہے
جس چیز کو انسان دین سمجھ لے اس سے اس کو ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے
علم دین علماء سے سبقا پڑھیں ۔اپنے مطالعہ سے اجتہاد کرنے کی اجازت نہیں
ہر مسلمان کو علم دین کا ماہر بننا لازم نہیں
اپنی عقل اور رائے کو دین کی راہ میں کافی سمجھنا غلطی ہے
دین پر چلنے سے تبعاً دنیا کا بھی فائدہ ہوتا ہے
دین پر طریقے کے مطابق نہ چلیں تو کوئی نفع نہیں
دین خود جوہر ہے اس کا جوہر نکالنے کی ضرورت نہیں
دین کا کوئی جز بھی زائد نہیں ہے
دین کے سامنے دنیا کی کوئی حقیقت نہیں
دنیا سے زیادہ ضروری دین ہے
دیندار کو جسمانی تکلیف تو ہوتی ہے روح کو تکلیف نہیں ہوتی
دین کو نفع ہمیشہ عقلاء سے ہوا ہے
دین کی بات کو چھپانا دین کے خلاف ہے
دینی تعلیم کبھی مضر نہیں ہوسکتی
تمام دینی کتابوں میں دو ہی کمالات پر بحث کی گئی ہے
بے خبری کا علاج دین سیکھنے ہی سے حاصل ہوتا ہے
پورا دین سیکھنے ہی سے ایمان مکمل ہوتا ہے
دین کی تعلیم میں کسی مستند عالم کی کتاب کا مطالعہ کریں
دین کی ضرورت غیر محدود ہے
مرد اور عورت دونوں کو دین کی تعلیم کی ضرورت ہے
تعلیم دین سے مراد ضروری علم دین ہے نہ کہ مروجہ نصاب
وضع کی درستگی اور ظاہری آراستگی دین داری نہیں
دین میں عقل کی پیروی دین سے دور ی کا سبب ہے
دین کی نسبت کوئی ناشائستہ بات سن کرجوش آہی جاتاہے
احکام دین کو ترک کرنے سے کبھی فلاح نہیں ہوتی
ہماری کامیابی دین کے ساتھ وابستہ ہے
تقلید شخصی کے بغیردینی نظام قائم نہیں رہ سکتا۔
دینی ضرر ایک خسارہ عظیم ہے
مروت میں اپنا دینی ضرر ہرگز گوارا نہ کرنا چاہئے ۔
دین میں غلو کے نقصانات
دین میں غلو کا نتیجہ مایوسی اور تعطل (بیکاری ) ہے ۔
دین میں غلو کا اثر بالواسطہ جان ا ور ایمان دونوں پر پڑتا ہے ۔
دین میں غلو سے صحت خراب ہوجاتی ہے ۔
دین میں غلو سے آخر ِکار حق تعالی سے تنگی وشکایت پیدا ہوجاتی ہے ۔
دین میں غلوکا ایک نتیجہ ناشکری بھی ہے ۔
دین میں غلو کا ایک نتیجہ سلوک ِ طریق سے ہی انحرااف ہے ۔
علم کے متعلق
درس وتدریس کا نفع صحبت اہل اللہ پر موقوف ہے۔
مریض کا خود کومریض نہ سمجھنا حماقت ہے
علوم میں صوفیہ کے بجائے علماء کا اتباع کرنا چاہئے
ہر شخص کو صوفیاء کی کتب دیکھنے کی اجازت نہیں
محاورات میں مخارج کا لحاظ نہیں کیا جاتا
ہر فن کی اصطلاحات جدا ہیں
اعلیٰ کی موجودگی میں ادنیٰ معدوم ہوتا ہے
مختصر دستور العمل ہوتو مضمون کا استحضار سہل ہوتاہے
الفاظ عربی کا ترجمہ ہر جگہ کافی نہیں ہوتا
کسی امر قدیم کو جدید کہنے کی ایک وجہ اس امر کی طرف عدم التفات ہوتاہے
عدم التفات کے اسباب مختلف ہوتے ہیں
کسی چیز کا علم نہ ہونا اس کے عدم کو مستلزم نہیں
علم یقینی بجز وحی کے حاصل نہیں ہوسکتا ۔
صاحب علم کبھی دعوی اجتہاد نہیں کرسکتا
کسی بات کا علم نہ ہونا عیب نہیں
علم حاصل نہ کرنایہ علم ہونے کے باوجود عمل نہ کرنےسے زیادہ سخت ہے
ناتمام علم کافی نہیں
علم بلا عمل فائدہ مند نہیں ہو سکتا
ہر علم مفید نہیں
عمل کے بغیرمحض علم پر ناز نادانی ہے
اردو میں مسائل کی کتابوں کا خود مطالعہ کرنا کافی نہیں
اردو ترجمہ سے زبان سہل ہوتی ہے مضامین نہیں
ہر شخص باطل کی کتابوں کے مطالعہ کا اہل نہیں
ہر مضمون کا کتاب میں لکھا ہوا ہونا ضرور ی نہیں
محض کتابیں دیکھ کر اپنی اصلاح نہیں کی جاسکتی
ہر کتاب غلط نہیں بس سمجھ غلط ہے
جنگل کی زمین میں معاصی کے کم ہونے کی وجہ سے وہاں علوم کا نزول زیادہ ہوتا ہے
تقوے میں جتنی کمی ہوگی اسی مرتبے کی کمی علم میں بھی ہوگی
جو فن کار آمد اور اور ضروری ہو اس کو حاصل کرنا چاہیے
ہرعلم کاکوئی عملی نتیجہ ضرور ہوتاہے
عقل کےمتعلق
ذریعہ اور مقصود میں فرق رکھنا چاہئے ۔
ذریعہ کو مقصود کا درجہ دیں توکبھی منزل تک نہیں پہنچ سکتے ۔
مقصود کس کو کہتے ہیں
ذریعہ کس کو کہتے ہیں
ذریعہ کو مقصودکےلئے استعمال کرنے کی حسی مثال
ہمت کئے بغیر آسان ترکام بھی نہیں ہوسکتا۔
حجب نورانیہ ،حجب ظلمانیہ سے اشد ہیں ۔
صاحب قبر کا اتناادب کرے جتنا اس کی زندگی میں کرتا تھا۔
عبادت پر نازکرنا گمراہ کردیتاہے۔
جب ادب میں غلو ہو تو بے ادبی ہونے لگتی ہے
جہاں تقوٰی سے کسی کی دل شکنی ہو وہاں فتوٰی پر عمل کریں
خواب میں حضور ﷺ کی زیارت مدار کمال نہیں
قصد اور ارادہ کے بغیر انسان معاصی سے نہیں بچ سکتا
شوق باقی رکھ کر کام کیا کریں
شوق کی بھی ایک حد ہے
خود کو مقدس سمجھنا دھوکہ ہے
دنیا و آخرت میں بھی فرق مراتب ضروری ہے
طلب صادق سے مطلوب مل ہی جاتا ہے
غلطی پر ڈٹ جاناعذاب کا باعث ہے۔
کامل کو بھی شیطان سے بے فکر نہ ہونا چاہئے۔
اخلاق سب فطری ویکساں ہیں ۔مدح وذم مواقع ِاستعمال سے آتی ہے۔
محاورہ میں لفظ صورت بمعنی صفت بھی مستعمل ہوتاہے
ناقص کامل کے روبرو ہمیشہ کالعدم سمجھا جاتاہے
ضروری چیز پر بقدر ضرورت اکتفا کیا جاتاہے۔
تمام حواس کی قوت محدو د ہے۔
انسانی عقل محدود ہے
کسی ضرورت کے واقعی اور غیر وقعی ہونے کا ضابطہ
جس زبان کالفظ ہو اسی کے محاورات کا اعتبار کریں
معدوم کی طرف رغبت ہونا نادر ہے
پاک اورناپاک جمع نہیں ہوسکتے
امر ذوقی بیان میں نہیں آسکتا
ہر مطلوب کو اس کے طریقے کے موافق حاصل کریں
انسان اصل ہےسارا عالَم اس کی فرع ہے
عنوان کی تبدیلی سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی
کبھی مقصود بالغیر مقصود بالذات سے مقدم ہوسکتا ہے
مقصود کا ارادہ بھی مقصود ہوتا ہے
ظن محض سے حق ثابت نہیں ہوتا
شریعت میں وہ ظن معتبر ہے جس کا مستند نص ہو
ہر شئے اپنے مرتبہ پر ہونی چاہیے
جوہر کا جوہر نہیں نکالا جاتا ہے
فطری امور کبھی زائل نہیں ہوتے البتہ مغلوب ہوجاتے ہیں
تبدل تشخص سے عین نہیں بدلتا
پہاڑا پنی جگہ سے ہٹ سکتا ہے لیکن انسان کی فطرت نہیں بدل سکتی
بطور خرق عادت ، مشاہدہ کا غلط ہونا ممکن ہے۔
دنیا ہر شخص کو اس کی خواہش کے موافق نہیں ملتی
احکام شریعت عقل کے خلاف نہیں
احکام شریعت میں عقلی گفتگو نہ کیجیے
فرض منصبی کے انجام دینے پر کوئی معاوضہ نہیں
جاہلیت کے افعال کی وجہ بیان کردینا مناسب ہے
نقصان غیر اختیاری موجب نقص نہیں ہے
عذر غیر اختیاری کی دو قسمیں ہیں
ہر شخص کی تصنیف کا مطالعہ نہ کریں
کتب طب سے معالجہ طبیب ہی کاکام ہے
اختیاری افعال کو غیر اختیاری کہہ کر ترک کردینا غلط ہے
شیخ کا اتباع ضروری ہے بیعت ہونا ضروری نہیں
آباؤ اجدادکے مسلمان ہونے کا بڑا اثر ہوتا ہے
حکم عقل موجب پریشانی اور شرع موجب راحت ہے
عقل بے کار محض بھی نہیں ہے
قید حبس خلاف طبع کو کہتے ہیں
اصل دافع مرض طبیعت ہے
انسان کی اصل فطرت خیر ہے
اسباب طبیعیہ کا مقصود اصلی منفعت دنیوی ہے ۔
جو ضعف سبب ہو استحضار کاتووہ مبارک ہے
جو قوت غفلت کا سبب بنے وہ کسی کام کی نہیں
ہر اچھی کتاب کا ہر شخص کے لیےدیکھنا جائز نہیں
کسی بھی معاملہ میں حد سے تجاوز جائز نہیں
عورت کو اپنی ملک میں سمجھنا ناجائز ہے
صاحب ِ اختیار کا عمل کسی غرض کے بغیرنہیں ہوسکتا ۔
عزت یہ ہے کہ اپنی جماعت کا طرز اختیار کرے ۔
ہمت فعل اختیاری ہے
یہ سمجھنا کہ دل پر اختیار نہیں بالکل غلط ہے
اہل دنیا کے طرز ِ حیات سے عزت طلب کرنا انسانیت نہیں ۔
انسان کی ہر خواہش و تمنا کی تسکین ناممکن ہے ۔
انسان اشرف المخلوقات ہے
اشرف المخلوقات ہونے کامطلب
انسان کی مرضی پر امور دنیا اس کی کم عقلی کی وجہ سے نہیں
انسان کی خواہشات کو حق کے تابع رکھا گیا ہے
انسان کو اپنی وضع قطع میں رہنا چاہیے
انسان کی حقیقت روح ہے اعضاء وجوارح نہیں
خیر سے مانع کوئی قوی قوت انسان کے اندر موجود نہیں
انسان ہر شئے کا محتاج ہے
انسان کے محتاج ہونے کا راز
انسان فطرۃ کسی کو اپنے برابر نہیں دیکھنا چاہتا
انسانی طبیعت ہم مثل کی طرف مائل ہوتی ہے۔
دنیا کی ترغیب علماء کے ذمہ نہیں
دنیا طلبی کانام آج ترقی رکھ دیا ہے
دنیا میں ہر شخص کو فضیلت جزئی حاصل ہے
دنیا اور آخرت دونوں میں چین کی ضرورت ہے
دنیا میں کوئی شخص غم و فکر سے خالی نہیں
دنیا میں کسی کی ہر تمنا پوری نہیں ہوتی
آخرت کو دنیا پر قیاس کرنا غلطی ہے
حق نا حق کا مدار دلائل پر ہے دنیا میں کامیابی یا ناکامی پر نہیں
تعلیم وتربیت پر عادت غالب ہوتی ہے
علماء اور مشائخ میں اختلاف کی مثال طبیبوں کی سی ہے
علماء میں سب ہی محقق نہیں ہوتے
ایک عالم کو دوسرے عالم پر قیاس کرنا غلط ہے
ہر شخص مولویت کا اہل نہیں
ہر جگہ مولوی اہل علاقہ کےمزاج کے مطابق ہونا چاہئے
جو شخص مرض کی تشخیص نہیں کرسکتا وہ علاج بھی نہیں کرسکتا
غیر ماہر کسی ماہر کی تشخیص کے باوجود علاج نہیں کرسکتا
امور طبعیہ علاج اور تدبیر سے مغلوب ہوجاتےہیں
امور طبعیہ کو مغلوب کرنے والی دو چیزیں ہیں
اسلام میں حرج نہیں ہے البتہ تعب اور مشقت ہے
طلب کے بعد ناکامی بھی کامیابی ہے
فہم قرآن وحدیث کے لئے محض عقل ناکافی ہے۔
قرآن مجید عمل کے لئے ہے نہ کہ رسومات کے لئے
ہر چیز کا ثبوت قرآن ہی سے تلاش کرنا حماقت ہے
قرآن و حدیث کا صرف ترجمہ خود سے دیکھ لینا کافی نہیں ہے
رزق کا مدار عقل پر نہیں ۔
اللہ تعالیٰ کو اپنے اوپر قیاس کرنا کم عقلی ہے
عقل اہل اللہ ہی میں منحصر ہے
عقل استعمال کرنے کی حد
عقل ہر بات کا ادراک نہیں کر سکتی
عقل کے ادراک کی ایک حد ہے
ہدایت حق تعالیٰ کے کرم پر موقوف ہےنہ کہ عقل وفہم پر
شیطان میں مکر اور فریب تھا عقل نہ تھی
عقل وہ ہے جومضرت سے روکے
عقل اور چیز ہے مکر اور چالاکی اور چیز ہے
ہر شخص کے فہم میں تفاوت ہوتا ہے
ماہر فن کی تصدیق کے بغیر خود کو کامل نہ سمجھیں
کاملین پر خود کو قیاس نہیں کرنا چاہئے
کاملین کو بعض دفعہ ورد کی ضرورت نہیں ہوتی
کامل اور ناقص کا مجموعہ ہمیشہ ناقص ہوتا ہے
رائے تب معتبر ہے جبکہ نص موجود نہ ہو
نص کے خلاف پوری انسانیت کا اتفاق رائے بھی حجت نہیں
کسی بھی کام کی برائی یا بھلائی پرکھنے کا معیار
معاصی کے لیے اہتمام ،خیر سے زیادہ کرنا پڑتا ہے
بڑوں کی موت نے ہمیں بڑا بنادیا
مرد تمام علو م کے جامع ہوسکتے ہیں عورتیں نہیں
مردوں کو عورتوں پر علیٰ الاطلاق فضیلت نہیں ہے
باعتبار زوجیت کے شوہر کو فضیلت حاصل ہے
باعتبار دین کے مرد کو عورت پر مطلقافضیلت نہیں
مرد عورت پر حاکم ہے
بیوی خواہ زیادہ دیندار ہو لیکن مخدومہ نہیں بن سکتی
ہر مومن ہر شیطان پر غالب ہے
اہل فن کی تصدیق سے تکمیل مانی جاتی ہے
استاد کے بغیر کوئی فن نہیں سیکھا جاسکتا
ہر فن کا ایک مرد ہوتا ہے
ہر فن میں تجربہ کی ضرورت ہے
اہل فن ہی فن میں دخل دے سکتا ہے
ہر فن کے سمجھنے کے لئے اس کی اہلیت ہونا ضروری ہے
ترقی کا مدار مذہب کو مضبوط پکڑنے میں ہے
ہر ترقی کی ایک حد ہوتی ہے
تجاوز عن الحدود کا نام ترقی نہیں
ترقی محمود ہی مطلوب ہے
کسی شخص کی کوئی چیز ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے
صحیح العقیدہ شخص کی بری بات کی تاویل کر لو بدنام مت کرو
کوئی شخص کسی کے بگڑنے سے نہیں بگڑتا
ہر شخص ہر بات کے جاننے کا اہل نہیں
جو شخص طعام کا محتاج ہے وہ سارے عالم کا محتاج ہے
جوشخص خود آرام میں ہو اس کو دوسروں کی تکلیف کا اندازا نہیں ہوتا
قابل اعتبار عزت وہ ہے جو خالق کے یہا ں ہوگی ۔
سچی با ت پر بھی اعتماد قطعی بدوں وحی کے نہیں ہوسکتا ۔
ہر شئی کا ایک طریقہ ہے بدوں ا س کےوہ حاصل نہیں ہوتی
محاورات سے ناوقفیت سے اشکالات پیدا ہوتےہیں
برے فعل سے اچھا نتیجہ وسبق نکالا جاسکتا ہے۔
غیر مہتم بالشان میں زیادہ کوتاہی ہونے کی وجہ عدم اہتمام ہوتا ہے
بعض دفعہ غیر مہتم بالشان بھی مہتم بالشان ہو جاتاہے
ہرجگہ منطقی اعتبارات کا لحاظ رکھنا بیوقوفی ہے
اچھے اور برے کا معیار
ضرورت رکاوٹوں کی پرو ا نہیں کرتی
آزاد خیالی کے نقصانات
بہت سے آزاد خیالوں کا ایمان ہی نہیں رہا
ذرا ذرا سی بات پر ہر کسی کا معتقد نہیں ہوجانا چاہئے
بزرگوں کے کمالات ہمارے کمالات سے بدرجہا افضل و اکمل ہیں
تہذیب کی حقیقت یہ ہے کہ تمام رذائل نفس دور ہوجائیں
کھانے پینےکے چھوڑنے پر بزرگی کا مدار نہیں
صرف نرم کلامی وغیرہ ہی اخلاق نہیں ہے
زبان کا پھوڑ دل میں پھوڑ ہونے کی دلیل نہیں
حسن معنوی کی طرح حسن صوری بھی ذوقی ہے
حسن دو قسم کا ہے
ادراک حسن کا مدار آنکھ پر نہیں ہے
کسی کو کافر کہنے میں احتیاط کریں
جومنفعت خالص اور باقی رہنے والی ہو قابل تحصیل ہے
ہر چیز کا ادب اس کے مناسب ہوتا ہے
کسی بھی چیز کا حد سے زیادہ اہتمام شک ووہم میں مبتلا کر دیتا ہے
ہر کام میں نظر غایت اور غرض پر ہونی چاہیے
صاحب کمال کی عزت تو کمال سے ہوتی ہے
برکت کا اندازہ مشاہد ہ سے ہو تا ہے
ہر کام سے پہلےاس کے تمام پہلوؤں کی رعایت رکھ لیں
ہمیشہ مکمل مضمون کو دیکھو ادھورا مضمون اشکال پیدا کرتا ہے
بعض مرتبہ جہل بھی نافع ہوتا ہے
غلو ہر امر میں مذموم ہے
جس کی وقعت ہو تذکرہ اسی کا کیا جاتا ہے
مال اور اولادمقوی قلب ہیں
ہمارے استغفار کو بھی استغفار کی ضرورت ہے
تدبیر کسی تجربہ کار سے پوچھو عاقل سے نہیں
کسی چیز کا کمال ذاتی نہیں
رنج وغم کا سبب لوگوں سے امیدیں رکھنا ہے
عزت کا معیار عمدہ لباس وسواری نہیں ہے۔
عزت کا معیار کپڑے اور زیورات نہیں
جتنی کسی کی عظمت ہو اتنی ہی اس کی ہمکلامی مشکل ہوتی ہے
اہل اللہ سے تعلق قائم کریں مرید چاہے نہ بنیں
ہر لفظ متکلم کے اعتبار سےالگ اثر رکھتا ہے
جب خیال دوسری طرف متوجہ ہوتو بھوک پیاس کا احساس نہیں ہوتا
شر میں فی نفسہ سہولت نہیں ہے
خیر میں فی نفسہ دشواری نہیں ہے
قانون دان کا مقابلہ وہی کر سکتا جو خود قانون جانتا ہو
تکلفات سے عزت کے بجائے ذلت ملتی ہے
حق تعالیٰ کے ہاں ادنی کی بھی قدر ہے
قدرت ہونے کے باوجود قدرت سے کام نہ لینے کی ممانعت ہے
اموال کو اپنی ملک سمجھنے والا احمق ہے
خاندان میں کسی ایک پر انعام ہو تواس کا نفع سب کو پہنچتا ہے
اصلاح کبھی تنگی سے ہوتی ہے کبھی خوشحالی سے
ہمارے حق میں حضور ﷺ کے زمانے سے دور ہونا بھی ایک رحمت ہے
اطاعت رسول ﷺخواب میں زیارت کرنے سے افضل ہے
اُولُو العَزْمی توحید سے ہوتی ہے تکبر سے نہیں
نفع لازم نفع متعدی سے افضل ہے
تمام طبعی خواص جب اپنے محل میں ہوں تو نافع ہیں
ہمارے فعل اور ترک فعل کا ایک داعی ہونا چاہیے
ہمارے فعل اور ترک فعل کا داعی ہدٰی ہونا چاہیے
ہرچیز نہ فخر کے لائق ہے نہ عیب چینی کے
اپنی مفلوک الحالی پر فخر کرنا عقلمندی نہیں
دولت پرفخر کرنا ایسا ہی ہے جیسے جسم پر سانپ لپٹنے پر فخر کرنا
دوسروں کا احساس پیدا کرنے کے لیے ان کے جیسے حالات سے گزریں
حزن سے بری ہونا عام آد می کے بس میں نہیں
بری اشیاء جزوی بری ہے،ہر ایک کےلیے بری نہیں
معیار حق،کثرت نہیں ہے
بعض مواقع پہ عدد کی کثرت کا اعتبار کیا گیا ہے
عدد کی کثرت پہ فیصلہ کرنا عقلاء کا کام نہیں
سعی کے بغیر مقصد حاصل نہیں ہوسکتا ۔
دنیا کے معاملہ میں اپنے سے کم تر کو دیکھو
جس چیز کو مکمل حاصل نہ کیا جاسکے اس کا بالکل چھوڑنا بھی مناسب نہیں
خدا کی غلامی میں آزادی ہے
منفعت اخرویہ قابل تحصیل ہے
حقیقی نفع اخروی ہے جس کے بغیر دنیاوی نفع کسی کام کا نہیں
بڑھاپے سے پہلے جوانی کی قدر کریں
خد اکو راضی کیے بغیر عزت نہیں مل سکتی
ساری خرابیوں کی جڑ جہل ہے
نری پیری مریدی میں کچھ نہیں رکھا اصل کام خود چلنا ہے ۔
تمام صفات محمودہ کے لیے حد مقرر ہے
جب کسی کو اہل مان لیا جائے تو اس کے کام پر اعتراض نہ کرنا چاہیے
فضیلت و اجر کا دار ومدار مشقت اور عمل پر ہے ۔
نفس کے متعلق
نفس پر غلبہ، کفارپر غلبہ سے بھی اہم ہے۔
اپنے نفس پر دوسروں کو ترجیح دینامحمود ہے بشرطیکہ دین میں نقصان نہ آئے
نفع ہمیشہ اسی شئے سے ہوتا ہے جس میں نفس پر گرانی ہو
تہذیب تہذیب نفس کا نام ہے
شہوت اور ہوائے نفسانی فطری امور ہیں جن کا ازالہ ممکن نہیں
تزکیہ نفس سے اعراض کی ایک وجہ نادانی ولاعلمی ہے ۔
ہر وہ عمل جس میں حظ نفس ہو گناہ کا اندیشہ رکھتاہے
حظ نفس کا علاج مجاہدات سے ممکن ہے
مشائخ نے دوسروں کے عیوب جھانکنے کا بہت علاج کیا ہے
وساوس کے متعلق
وساوس کا ورود مضر نہیں ان میں مشغول ہونا مضر ہے
وسوسہ کے بقاء طویل پر سب سے مواخذہ ہوگا
ظاہر باطن کے متعلق
ظاہر کا اثر باطن پر بھی ہوتا ہے
فقط ظاہری اطاعت یا فقط باطنی اخلاص کافی نہیں
باطنی حالات کے اخفاء کےلئے ارتکاب معصیت جائز نہیں
شریعت صرف احکام ظاہرہ کا نام نہیں ہے ۔
بظاہر خستہ حال انسان کو ذلیل سمجھنا جائز نہیں
باطنی نسبت صرف قلبی تعلق مع اللہ کا نام نہیں
ہر قوم کا مزاج باطنی اور معیار ترقی الگ ہے
باطنی امراض کا علاج جو حضور ﷺ نے بتایا ہے اس میں یقینی شفاء ہے
دفع مضرت جلب منفعت کے متعلق
کسی بھی مقصد میں دو امرہوتے ہیں :دفعِ مضرت و جلبِ منفعت
ہر کام کامقصد دفع مضرت ہے یا جلب منفعت
انسان بس اختیاری جلب منفعت ودفع مضرت کا مکلف ہے
کون سی دفع مضرت قابل اہتمام ہے
حالت اور کیفیت کے متعلق
کثرتِ غلبۂ احوال، ترقی سے مانع ہے۔
حال پر غالب آجانا کمال ہے نہ کہ مغلوب ہوجانا
بزرگوں کی تقلید احوال میں نہیں بلکہ عبادات میں کرو
اپنی حالت کو بزرگوں پر قیاس نہ کرو
دوسرے کی حالت سے عبرت حاصل کرنا سعادت ہے
غیر اختیاری حالات نہ مقصود ہیں نہ انکے چھن جانے پر پریشان ہوناچاہئے ۔
نیکی وبدی کے لحاظ سےعام مسلمانوں کی تین حالتیں ہیں
نسبت صرف روحانی کیفیات کا نام نہیں ہے۔
مغلوب الحال کامل نہیں ہوتے
مجذوب مقبو ل ہیں کامل نہیں
مومن ہمیشہ نفع میں ہوتا ہے کسی حالت میں نقصان میں نہیں ۔
ہر شخص کی حالت کی جدا گانہ رعایت ہے
واقعات سے قلبی حالت کا پتہ چلتا ہے
گناہوں کے متعلق
معصیت ہرگز وصول الی اللہ کا ذریعہ نہیں ہو سکتی ۔
ہر شخص کی معصیت برابر نہیں ہو سکتی
گناہ میں تاویل بھی گناہ ہے
ترک گناہ کے ارادہ سے گناہ کرنا فریب خوری ہے
ترک گناہ کے ارادہ سے گناہ کرنے میں کئی مفاسد ہیں
اپنے کو گنہگار کہنا ٹھیک نہیں
گناہوں کے درجات کاتفاوت کرنے میں حکمت
معصیت جسمانی تکالیف کا سبب ہوجاتی ہے
گناہ گار سے نفرت خود کو افضل سمجھتے ہوئے ہو تو جائز نہیں
گناہ ہمیشہ فعل اختیاری سے ہوتا ہے
انسان کا کمال گناہ کا داعیہ موجود ہونے میں ہے
فخر کے واسطے کوئی بھی نیکی کرنا گناہ ہے
گنہگار کو گناہ کی حالت میں بھی حقیر نہ سمجھیں
افلاس ہزاروں گناہوں کا دروازہ ہے
اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو گناہ سے بچنے کی قدرت عطا فرمائی ہے
دل کھول کر گناہ کرنے سے ارمان نہیں نکلتا
گناہوں میں صرف چند روز کی آسائش ہے
گناہ کو گناہ سمجھو
ہمارے گناہوں کو چھوڑنے کی وجہ خشیت نہیں
گناہوں کو چھوڑنے کی وجہ خشیت نہ ہونے کی دلیل
چھوٹے بڑے گناہ چھوٹی بڑی چنگاری کی مثل ہیں
گناہ کو خفیف سمجھ کر کرنا ہماری غلطی ہے
اللہ تعالیٰ کبھی کسی کو اول گناہ پر نہیں پکڑتے
گناہ ہونا کسی فعل کی تاثیر سے مانع نہیں
بیوی بچوں کو چھوڑ کر حجرہ سنبھال لینا معصیت ہے
معصیت کو برا نہ سمجھنا یہ قلب کی موت ہے
خلق معصیت میں حکمت ہےکسب معصیت میں نہیں
جس گنا ہ کو خفیف سمجھ کر کیا جائے وہ کبیرہ سے بھی اشد ہے
جس طرح بدعملی گناہ ہے اسی طرح ترک علم بھی گناہ ہے
جوہر نکالنے کی ضرورت کیوں ہوتی ہے
اصلاح قلب
اخلاق حسنہ
حیا
حیا جب تک مطلوب ہے جب تک موجب قرب ہو
زہد
زہد حلال کو حرام کرلینے کا نام نہیں ہے ۔
صبر
صبر اور شکر میں کوتا ہی ان کی حقیقت اورمحل سے بے خبری کی وجہ سے ہے
صبر اور شکر کا محل
شکر
برائی سے نجات ہر حال میں قابل شکر ہے
لذات کو چھوڑنے کا نام زہد نہیں
نعمت سے اظہار استغناء منافی ادب ہے
تواضع
تابعیت اور چھوٹا پن بڑی اچھی چیز ہے
اصلاح نفس
اخلاق رذیلہ
تکبر
خو د کو بڑا سمجھنا یہ خدا کا کمال ہے اور تواضع بندہ کا کمال ہے
خو د کو کم تر سمجھنا صرف سلیم الطبع کے لئے مفید ہے
تہذیب نفس
نفس کو مزہ ااورسکون سے غرض ہوتی ہے
اچھے کام کر کے مزہ لینے کی مثالیں
رفاہ عامہ کے لیےادارے قائم کرنا
ادارہ تو قائم نہیں کیا لیکن اپنے پیسوں سے کسی غریب کا علاج کروادیا
لسی کی مالی معاونت کرنا
ہمیشہ سچ بولنے کی عادت کو قائم رکھنا
برے کام کر کے مزہ لینے کی مثالیں
کسی کو مالی نقصان پہنچادیا
کسی کو جانی نقصان پہنچایا
اصلاح نفس کی اہمیت
ایمان اور تقوی بدوں اصلاح باطن کے حاصل نہیں ہوتے ۔
اصلاح باطن بھی فرض ہے ۔
مقصود اور موجب نجات باطن کی صفائی ہے ۔
شریعت میں فقہ ظاہر کے ساتھ فقہ باطن کا بھی اعتبار ہے
جس کو علم باطن سے کچھ میسر نہ ہو اس کے سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے۔
تزکیہ نفس(تحلیہ وتخلیہ ) کاشریعت نے صریح حکم فرمایا ہے۔
سعادت ِ اخروی ، حسنِ سیرت پر موقوف ہے ۔
انسانیت اور حیوانیت میں فرق تزکیہ نفس سے ہے ۔
مردانگی و بہادری یہ ہے کہ اپنے نفس پر قابو پالے ۔
اپنے نفس سے واقف عارفِ الہی ہے ۔
نفس کو آزاد رکھنا بربادی کا سبب ہے ۔
نفس کو قابو میں رکھنا عقل کا تقاضا بھی ہے ۔
اعمال باطنہ کی اصلاح پر زیادہ توجہ دینی چاہئے ۔
ظاہرکی طرح، باطن بھی صحیح ومریض ہوتاہے۔
تزکیہ نفس ہی مدار فلاح ہے۔
وصول الی اللہ کا بہترین راستہ اصلاح نفس ہے۔
مشائخ کی اصلاح باطن پر زیادہ توجہ ہوتی ہے۔
اعمال باطنہ کی اصلاح کی بنسبت ظاہرہ کے مشکل ہے۔
بزرگوں کو ہروقت اصلاح نفس کی فکر ہوتی ہے۔
سلوک کا مدار تزکیۂ نفس پر ہے۔
باطن کی درستگی ظاہر پر بھی اثرانداز ہوتی ہے۔
امراض باطن کا ادراک نہایت دشوار ہے
ضبط نفس قرب خداوندی کا ذریعہ ہے۔
باطن کے گناہ شدید اور خطرناک ہیں
ظاہر کے ساتھ ساتھ باطنی اصلاح بھی ضروری ہے
باطن کی درستگی تصحیح عقائد ہے
روح کا مرض جسم کے مرض سے شدید ہے
اصلاح اعمال ہر ایک پر واجب ہے
امراض باطنی ساری عبادت کو غارت کردیتے ہیں
امراض(روحانی وجسمانی) کا علاج تشخیص پر موقوف ہے
امراض باطنی قلب کواندر ہی اند ر کھا جاتے ہیں
علاج میں جس قدر تاخیر ہومرض بڑھتا جاتا ہے
اصلاح اخلاق ذکر ہی کی بڑی فرد ہے
اعمال باطنہ کا اہتمام ضروری ہے
نفس کشی کی ہر شخص کو ضرورت ہے
اخلاق حمیدہ ورذیلہ کا اثر صحت پر بھی پڑتاہے۔
نفس کو رذائل سے پاک کرنا مدار فلاح ہے
مرض روحانی میں بندہ غضب و عذاب کا مستحق ہوتا ہے
اخلاق کی درستگی کے بغیر عبادات کچھ کار آمد نہیں ہیں
اخلاق کا بعض حیثیات سے اعمال سے زیادہ اہتمام کرنا چاہیے
تزکیہ نفس بھی خصوصیات اسلام میں سے ہے
حضورﷺنے صحابہ کی تعلیم وتزکیہ کا اہتمام کیا
صحابہ کی کامیابی کی وجہ تعلیم و تزکیہ یافتہ ہونا ہے
انسان کے اعمال حسنہ و سیئہ کا سرچشمہ باطنی ملکات ہیں
صوفیائے کرام باطنی اصلاح کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔
عموما نفس میں شرکاغلبہ ہے۔
تزکیہ نفس کا دستورالعمل تین چیزیں ہیں ۔مطالعہ،صحبت،مسائل شرعی کا علم
مرض کی تین قسمیں ہیں
نفس کی شرارتیں
نفس بہکانے کے لئے کبھی عقیدہ صحیحہ سے بھی مدد لیتاہے ۔
تربیت یافتہ نفس بھی پژمردہ اژدہا کی طرح ہے۔
حیلہ بازی میں نفس کی مثال شتر مرغ کی سی ہے
نفس کا میلان شر کی طرف زیادہ ہے
سب سے بڑا مولوی نفس ہے
ہر وقت نفس کی نگرانی کی ضرورت ہے
نفس وقتی عمل کو آسان اور ہر وقت کی قید کودشوار سمجھتا ہے
انسان کا نفس شیطان سے زیادہ تباہ کرتا ہے
نفس شیطان سے زیادہ چالاک ہے
عبادت میں ذوق وشوق کی تمنا نفس کا فریب ہے
نفس کی مثال دودھ پیتے بچے جیسی ہے
نفس کی ہزاروں چالیں ہیں
نفس اور شیطان ہمارے دشمن ہیں
نفس کی شرارتوں کے مختلف رنگ ہیں
نفس پر اعتماد کبھی نہ کریں ہمیشہ اس سے بدگمان رہیں
عمل میں ریاکاری لانے کےلئے نفس کا ایک دھوکہ
شیطان کی شرارتیں
شیطان طرح بدل بدل کر بہکاتا ہے ۔
شیطان کا تخت سمندر میں ہوتاہے۔
شیطان نااہلیت کے دھوکے میں ڈال کر عمل چھڑواتاہے
شیطان صاحب ایمان ہی کو بہکاتا ہے
شیطان تواضع کے پردہ میں دعا سے محروم کرتاہے
شیطان کی چال بہت کمزور ہوتی ہے
شیطان ہر شخص کو اس کے مذاق کے موافق دھوکا دیتا ہے
شیطان کو ملامت کرنا فضول ہے
شیطان سے عدم امن
وساوس
وساوس کاعلاج
غیر اختیاری وسوسہ سے پریشان نہ ہونا ہی علاج ہے۔
ذکر اللہ بھی وساوس کا ایک علاج ہے۔
وساوس سے بچنے کی تدابیر
شیطانی وساوس کی مثال کتے کے بھونکنے کی سی ہے۔
اخلاق رذیلہ کی تعریف
اخلاق رذیلہ ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں ۔
اخلاق رذیلہ کی اجمالی فہرست
اخلاق رذیلہ سے متعلق چند باتیں
اخلاق رذیلہ مذمو م نہیں بلکہ انکے مقتضی پر عمل کرنا مذموم ہے۔
رذائل کا امالہ کافی ہے ۔ ازالہ کی فکر ضروری نہیں ۔
اخلاق رذیلہ پر قابو پانا ہر شخص کے اختیار میں ہے ۔
اصلاح نفس کے لئے تمام تر رذائل کی اصلاح ضروری ہے ۔
عقلی مثال
ملائکہ کتوں سے صفات ذمیمہ کی وجہ سے نفرت کرتے ہیں۔
دوسری عقلی مثال
اخلاق رذیلہ کاعلاج
مسلسل مخالفت سے رذائل کمزور ہوجاتے ہیں۔
اخلاق رذیلہ کا مختصر علاج "تامل اور تحمل " ہے ۔
اخلاق رذیلہ کا دوسرا علاج "اطلاع و اتباع " ہے ۔
اخلاق رذیلہ کا تیسرا علاج "انقیاد و اعتماد " ہے ۔
بہ ہمت مخالفت سے رذائل کمزور ہوجاتے ہیں۔
اتباع شہوت (خواہشات نفسانی)
شہوت کی تعریف
اتباع ھوی اور علم جمع نہیں ہو سکتے ۔
شہوت سے بچنے کی فضیلت
نفسانی خواہشات سے بچنے کا انعام جنت ہے ۔
خواہشات کی مخالفت ،معصیت سے حفاظت کا سبب ہے ۔
اتباع شہوت کی مضرتیں
نفسانی خواہشات ہلاک کن ہیں ۔
شہوت کی خاصیت ہے کہ راہ مستقیم سے ہٹا دیتی ہے ۔
شہوت دین اور دنیا دونوں کو مضر ہے ۔
شہوت جملہ شرور کی جڑ ہے ۔
نافرمانی کا سبب ہمیشہ خواہش نفس ہی ہوتی ہے۔
نافرمانی بسبب خواہش نفس کی ایک مثال
گناہ کا منشا شہوت ہوتا ہے
اتباع ہوی سے گناہ کی شناعت دل میں نہیں رہتی
خواہشات نفسانی کی اتباع سے روحانی بیماری
شہوات کی وجہ سے مسلک حق بھی چھوٹتا جاتاہے۔
قضاء شہوت سے شہوت مزید بھڑکتی ہی ہے۔
شہوت کے دو درجات ہیں ادنی اور اعلی
کفر و شرک شہوت (خواہش نفس ) کا اعلی درجہ ہے۔
شہوت کا ادنی درجہ بھی کمال اتباع سے ڈگمگا دیتا ہے ۔
شہوت کی تین قسمیں ہیں ۔
شہوت کی ایک قسم بدعت ہے ۔
شہوت کی دوسری قسم معصیت ہے ۔
شہوت کی تیسری قسم رائے ہے۔
اقسام ہویٰ(خواہشات ) تین ہیں
ضبطِ نفس کی اہمیت پر ایک حسی مثال
شہوت کی صورتیں
آرام اور تن پروری ،خواہش نفسانی ہی ہے ۔
حب مال منجملہ خواہشات نفسانی ہے ۔
توجہ کا ایک طرف نہ رہنا بھی نفس ہی کی خواہش ہے ۔
شہوت کی شناعت
شہوت جہالتِ محض کا نتیجہ ہے ۔
ضبط شہوت کی تدابیر
اللہ تعالی سے ہمت اور توفیق مانگیں ۔
خواہشات کو شریعت کے تابع رکھیں ۔
کوئی بھی عمل خواہش ِنفس سے مغلوب ہوکر نہ کریں ۔
نفس کو خواہشات سے روکیں ۔
نفسانی خواہشات ولذات کی مضرت کا استحضار رکھیں ۔
ہر کام سے قبل رضائے الہی کا محاسبہ کرلیا کریں ۔
ہر کام سے قبل اس کے نفع وضرر کا استحضار کرلیاکریں ۔
دل میں خوف الہی پیدا کریں ۔
نفس کے خلاف مجاہدہ کیا کریں۔
شہوت کاعلاج
شہوات کا ازالہ عادۃ ناممکن ہے۔
شہوات کو مضمحل کرکے قابو کرلیناچاہئے۔
شہوات کو مضمحل کرنے کی تدبیر
معصیت اور خواہشات کو پہچاننے کا طریقہ
شہوات موجب نقص نہیں بلکہ یہی موجب کمال ہیں۔
ہمارے اکثر احوال خواہش کی اتباع میں ہوتے ہیں
ہمارے اندر اتباع شرع سے زیادہ اتباع ہوی ہے
اتباع ہوی کیلئے اتباع شریعت کا حیلہ کرنا خطر ناک ہے
خواہش نفسانی کو فنا کرنے کی ضرورت ہے
خواہش کو فانی کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس کا اتباع نہ کرے
خواہش نفسانی کو فنا کرنے والا رفیق شیخ کامل ہے
قساوت قلبی
قساوت قلبی ، اللہ تعالی سے بعد کا سبب ہے ۔
ناشکری
ناشکری کی تعریف
ناشکر ی پر وعید
ناشکری کا عذاب بہت سخت ہے۔
ناشکری پر عذاب شدید کی صورت
ناشکری پر سزا ضروری نہیں معافی ممکن ہے۔
ناشکری کرنے سے عذاب میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
اسراف
اسراف کی تعریف
اسرا ف کی شناعت
رسول اللہ ﷺ نے مال کے ضائع کرنے سے منع فرمایا ہے (الحدیث)
اللہ تعالی کو اسراف اور اسراف کرنے والے بالکل پسند نہیں ۔
بے شک اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے ۔ (سورہ اعراف ،آیت :31)
فضول خرچی کرنے والا شیطان کا بھائی ہے
اسراف بخل سے بھی بدتر مرض ہے
مال کو ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے
اضاعت مال کا شرعی مفہوم
اسراف مستحق کو کھلانے پلانے کےباوجود حرام ہے
مسرف آدمی دین سے پھر سکتا ہے بخیل نہیں
ضرورت دو قسم کی ہوتی ہے ۔ واقعی اور فرضی
واقعی ضروریات محدود ہوتی ہیں۔
واقعی ضرورت مباح بلکہ کبھی ضروری بھی ہوتی ہے ۔
فرضی ضرورت کی کوئی انتہاء نہیں یہ کبھی پوری نہیں ہوسکتی ۔
اسراف کی مضرتیں
اسراف وبا ل اخرو ی کے ساتھ ساتھ وبال دنیوی بھی ہے ۔
اسراف سے دین اور دنیا دونوں خراب ہوتے ہیں
فضول خرچ خود کو اور متعدد لوگوں کوتکلیف دیتاہے۔
رشوت کا بازار بھی اسراف ہی کی وجہ سے گرم ہے
مرد کی حرام آمدنی کا سبب زیادہ رت عورتوں کی فضول خرچی ہے
اعتدال کے ساتھ اللہ تعالی کی نعمتوں کو استعمال کرنا اللہ تعالی کا حکم ہے۔
اسراف سے بچنے کی تدابیر
دفعِ مضرت(وجلبِ منفعت )ہی کے لئے خرچ کریں۔
ضرر سے مراد ضرر واقعی ہے ۔
تدبیر اور مشورہ کے ساتھ اپنا گزر بسر کریں ۔
سادگی اپنائیں ۔ وضعداری سے بچیں ۔
صرف ضرورت کی اشیاء استعمال میں رکھیں ۔
اسراف کاعلاج
اسراف کی حقیقت
حقیقت میں اسراف حد اعتدال سے گزر جانے کو کہتے ہیں
مال کی قدر کریں اس کو فضول ضائع نہ کریں
خرچ کرنے میں میانہ روی کرنی چاہیے
اسراف کی دو حدود ہیں
اسراف کے احکام
جو ضرورتیں اتفاقیہ پیش آجائیں ان کو پورا کرنا اسراف نہیں ہے ۔
اسراف سےرکنا صرف مسلمان کے لئے باعث اجر ہے
اسراف کی صورتیں
لباس اور دیگر اشیاء میں فضول خرچی بھی اسراف ہے
اسراف کی ایک قسم بعض کے لیے اسراف اور بعض کے لیے مباح ہے
جائز مصرف میں خرچ کرنے سے اگر گناہ پیدا ہو تو یہ بھی اسراف ہے
جو قیمتی اشیاء سے لگاؤ رکھے اس کے لئے ان میں خرچ کرنا بھی اسراف ہے
غریب آدمی کی فکر آرائش اسراف ہے
اخراجات میں تخفیف کی سخت ضرورت ہے
اسراف اور تبذیر میں فرق
آفات لسان (زبان کے گناہ)
زبان کی حفاظت کی اہمیت
خاموشی میں عافیت اور نجات ہے ۔
تمام اعضاء کی درستگی ،زبان کی درستگی پر موقوف ہے ۔
زبان کاکام نیک کاموں کی خاطر سہل ہے۔
زبان تعلیم وتعلم واعمال صالحہ کا مصدر ہے
زبان کی اصلاح سے تمام جوارح کی اصلاح ہوتی ہے
زبان ہی سے انسان کے کردار کا علم ہوتاہے
زبان گناہوں سے نہیں تھکتی
برائی ومذمت میں بے احتیاطی سخت گناہ ہے
بدزبانی اور سخت کلامی کفار کے ساتھ بھی درست نہیں
نااتفاقی کا بڑا سبب زبان ہے
آفات لسان سے بچنے کا طریقہ
سوچ سمجھ کر بولنا
فوراً توبہ کرلینا
ذکر اللہ اور تلاوت میں مشغول رہنا
علماء سے تحقیق کرکے درست بات چیت کرنا
آفات لسا ن سے بچاؤ کا واحد اصول
استحضار قبل الوقت
ہمت در عین وقت
تدارک بعد الوقت
احسان جتلانا
احسان جتلانے کی تعریف
تمسخر
تمسخر کی تعریف
تمسخر کی شناعت
قرآن کریم میں تمسخر و استہزاء کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔
تمسخر کی بہت سی صورتیں ہیں ۔
کسی شخص کے کسی بھی عمل کی نقل اتارنا
کسی شخص کے کسی قول و فعل پر ہنسنا
آنکھ یا ہاتھ پیر کے اشارہ سے اس کے کسی عیب کا اظہار کرنا ۔
تمسخر پر وعید
لوگوں کا مذاق اڑانے والے کاروز قیامت مذاق اڑایا جائے گا ۔
اہل حق کو سب و شتم کرنے کا انجام
ریح صادر ہونے پر ہنسنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
مذاق اور مزاح میں فرق
مذاق اور مزاح کو ایک چیز سمجھنا ناواقفیت ، جہالت اور گناہ ہے ۔
مزاح (خوش طبعی) چندشرائط کےساتھ جائز ہے۔
کوئی بات خلاف واقعہ زبا ن سے نہ نکلے ۔
کسی کی دل آزاری نہ ہو ۔
مزاح کو مشغلہ اور عادت نہ بنایا جائے ۔ کبھی کبھی اتفاقا ً ہو جائے۔
مذاق اڑانا باجماع حرام ہے ۔
تہمت اور بہتان
بہتان کی تعریف
افتراءوبہتان پر وعید
مسلمان پر تہمت لگانے والا جہنمی ہے ۔
افتراء اور بہتان مستقل کبیرہ گناہ ہے ۔
تہمت کے احکام
ظالم پر تہمت والزام لگانا بھی ظلم ہے۔
بلادلیل شرعی کسی پر الزام لگانا جائز نہیں
چغل خوری
چغل خوری کی تعریف
چغل خوری کی شناعت
چغلی کھانا کبیرہ گناہ ہے ۔
چغلی کھانا بدترین خُلق ہے۔
چغل خوری کےاحکام
اگر عیب متعلقہ شخص میں موجود نہ ہوتو افتراء اور بہتان کا گناہ بھی ہوگا ۔
متعلقہ شخص کے کسی عیب کا اظہار ہو تو چغل خوری غیبت بھی ہے ۔
چغلی خوری پر وعید
چغل خور جنت میں نہیں جائے گا ۔ ( الحدیث)
چغلی کھاناعذاب ِ قبر ہے ۔
طعنہ زنی
طعنہ زنی کی شناعت
زبان سے طعن و تشنیع کرنا ممنوع ہے
غیبت
غیبت کی تعریف
غیبت کی شدید صورت
کسی کی نقل اتارنا بہت شدید غیبت ہے ۔
غیبت اور بہتان میں فرق
کہی گئی بات اگر متعلقہ شخص میں موجود نہ ہو تو بہتان ہے ۔
غیبت کی شناعت
غیبت بھی گناہ ِ کبیرہ ہے ۔
اللہ تعالی نے غیبت سے منع فرمایا ہے ۔
غیبت کرنے والا اور سننے والا دونوں برابر ہیں ۔
غیبت زنا سے زیادہ اشد ہے
غیبت حق اللہ وحق العبد دونوں کی تلفی ہے
غیبت کی مضرتیں
غیبت کی مضرت دین و دنیا دونوں میں ہے ۔
غیبت کی دنیوی مضرت
غیبت سے باہم نا اتفاقی ہوتی ہے ۔
غیبت کی دینی مضرت
غیبت کرنے والے کی نیکیاں متعلقہ شخص کو دے دی جائیں گی ۔
غیبت حق العبد ہے ۔ اگر وہ معا ف کرے گا تو معاف ہوگا ۔
غیبت گناہِ جاہی ہے ۔ (یعنی حبِ جاہ سے پیدا ہوتی ہے ۔ )
غیبت موجب عجب بھی ہے ۔
غیبت غصہ کا نتیجہ ہے ۔
غیبت کے وقت دین کا بالکل خیال نہیں رہتا ۔
غیبت سے عداوت پیدا ہوتی ہے
غیبت کی عادت سے اچھے برےکی تمیز ختم ہوجاتی ہے
عیب جوئی اور عیب گوئی سے دشمنیاں قائم ہوتی ہیں
چند صورتوں میں خاص لوگوں کی غیبت کرنا جائز ہے ۔
ظالم کی غیبت رفعِ ظلم کی نیت سے جائز ہے ۔
رفع ِ ظلم کی نیت یا مخاطب کو ا س کی طاقت نہ ہو تو ظالم کی غیبت بھی حرام ہے ۔
بعض بزرگوں کے ظالم کی غیبت نہ کرنے کی مصلحت صبر ہے
ظالم کی غیبت کی وجہ جواز اسے عذاب سے بچانا ہے
ظلم کی شکایت غیبت نہیں ہے
معصیت سے بچانے یا ڈرانے کی نیت سے عاصی کی غیبت جائز ہے ۔
مفتی کے سامنے استفتاء کی ضرورت سے صاحب معاملہ کی غیبت جائز ہے ۔
کسی انسان کو شریر کے شر سے بچانے کے لئے شریر کی غیبت جائز ہے ۔
کسی عیب میں معروف شخص کا اس عیب کے ساتھ ذکر کرنا بھی ناجائز نہیں ۔
دینی ضرورت کے لئے غیبت کرنا جائز ہے
بلاضرورت دینی غیبت حرام ہے
غیبت کاعلاج
اپنے اندر سے کبر کا مادہ نکالے بغیر غیبت نہیں چھوٹ سکتی
غیبت کا علاج تکبر کے علاج کے بغیر ممکن نہیں
غیبت کرنے کی وجہ اپنے عیوب پر نظر نہ کرنا ہے
غیبت کا منشاء کبر ہے
غیبت سے احتیاط کی تدبیر
غیبت سے بچنے کے فوائد
غیبت نہ کرنے والا ہر دل عزیز ہوتا ہے
غیبت کامرض خصوصا عورتوں میں زیادہ ہے
کذب (جھوٹ)
جھوٹ کی تعریف
جھوٹ کی حقیقت
جھوٹ،خلاف واقع ہر چیز کو شامل ہے۔
جھوٹ کی شناعت
اللہ تعالی نے جھوٹی با ت کہنے سے منع فرمایا ہے ۔
رسول اللہ ﷺنےجھوٹ سے بچنے اور سچ بولنے کی تاکید فرمائی ہے ۔
جھوٹ ملائکہ رحمت کوایک میل دور کردیتاہے
جھوٹ بولنا کفارو منافقین بھی گوارا نہیں کرتے
اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو بت پرستی کے ساتھ ذکر کیا
جھوٹ بولنے کی عادت محشر میں بھی نہ چھوٹے گی
جھوٹ ،فجور کا ساتھی ہے
جھوٹ بولنے والا کامل مؤمن نہیں ہو سکتا
جھوٹ بولنا بڑے کبیرہ گناہوں میں سے ہے
بلا تحقیق سنی ہوئی بات نقل کردینا بھی گناہ ہے ۔
بغیر تحقیق کے بات آگے پھیلانا جھوٹ کی علامت ہے۔
جھوٹی شہادت تین مرتبہ شرک کے برابر ہے ۔ (الحدیث)
کفرو نفاق اور دیگر روحانی بیماریوں کی جڑ جھوٹ بولنا ہے
جھوٹ پر وعید
جھوٹ جہنم میں داخل کرنے کا باعث ہے ۔
جھوٹے شخص کے عذاب ِ قبر کی کیفیت
جھوٹے آدمی کی مخصوص سزا
جھوٹ کے احکام
بزرگوںکی خوشنودی کے لئے جھوٹ بولنا جائز نہیں۔
گالی گلوچ
گالی گلوچ کی تعریف
گالی گلوچ اور بہتان میں فرق
گالی گلوچ کی شناعت
مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔
کفار کو گالی دینےسےبھی منع کیا گیا ہے ۔
مردوں کو گالی دینا زندوں کی اذیت کا باعث ہے ۔
کافر یاجانور کو گالی دینا بھی حرام ہے ۔
لعنت
لعنت کی تعریف
لعنت کے تین درجات ہیں ۔
پہلا درجہ : عام اوصاف ملعونہ کے ساتھ لعنت کرنا ۔
پہلا درجے کا حکم
دوسرا درجہ: کسی مخصوص فرقۂ ضالہ پر اس کے وصفِ ضلالت کے ساتھ لعنت کرنا ۔
دوسرے درجہ کا حکم
تیسرا درجہ : کسی خاص شخص یا کسی خاص جماعت پر لعنت کرنا ۔
تیسرے درجہ کا حکم
کفار و ظالموں پہ مطلقاً لعنت جائز ہے
جس کا کفر پہ مرنا یقینی نہ ہو اس پہ لعنت جائز نہیں
مسلمان اور جانوروں پہ لعنت بالکل جائز نہیں
لعنت کی شناعت
لعنت حرام ہونے کی پہلی وجہ
لعنت حرام ہونے کی دوسری وجہ
لعنت اگر بلا استحقاق کی جائے تو وا پس لعنت کرنے والے کی طرف لوٹتی ہے ۔
مومن پر لعنت کرنا اس کے قتل کے برابر ہے ۔
خواتین میں لعنت کرنے کا گناہ زیادہ ہے
لعنت لفظ لعنت کے ساتھ خاص نہیں
مدح سرائی
مدح سرائی کا حکم
اگر مدح سرائی سے ممدوح کے بگڑنے کا خدشہ ہو تو اس سے بچنا ضروری ہے ۔
اگر ممدوح کے بگڑنے کااندیشہ نہ ہو تو تعریف جائز بلکہ مستحب ہوتی ہے ۔
نبی کریم ﷺ نے بعض صحابہ کرام کی مدح فرمائی ہے۔
مدح سرائی کی مضرتیں
مدح سرائی سے ممدوح عُجب اور تکبر میں مبتلا ء ہوسکتا ہے ۔
مدح سرائی سے ممدوح اعمال خیر میں سست پڑ جاتا ہے ۔
عموماً مدح سرا جھوٹ میں مبتلاء ہوجاتا ہے ۔
اکثر مدح سرا ریا اور نفاق کا شکار ہوجا تا ہے ۔
عام طور پر مدح سرا ئی میں تخمینی باتوں کو واقعی ظاہر کیا جاتا ہے ۔
اگر ممدوح فاسق ہو تو مدح سرا بھی فسق میں مبتلاء ہوجاتا ہے ۔
فاسق کی تعریف سے حق تعالی کا عرش کانپ اٹھتا ہے ۔ (الحدیث )
مدح سرائی کی شناعت
کند چھری سے ذبح کردینا منہ پر تعریف کرنے سے بہتر ہے ۔
بن کئے عمل پر طالب مدح ہونا منافقین کا شیوہ ہے۔
کیے ہوئے نیک عمل پر تعریف کی خواہش بھی مذموم ہے
مداح کے منہ میں مٹی بھر دو ۔ (الحدیث)
مدح سرائی کے آداب
مدح کرنے کا صحیح او ر پسندیدہ طریقہ
ممدوح کو چاہئے کہ اترانے کے بجائے اپنا احتساب کرے ۔
مسلمان کو چاہئے کہ اپنی تعریف سن کر خوش نہ ہو بلکہ اس کو مکروہ سمجھے
مدح کے فوائد
اگر فساد کا اندیشہ نہ ہو تو مدح سے نشاط اور عمل میں ترقی ہوتی ہے ۔
مدح کے وقت حضرت علی کرم اللہ وجھہ کی جامع دعا
مدح سرائی کے احکام
مدح وتعریف میں بے احتیاطی گناہ ہے
مدح وذم کے لئے الگ الگ مناسب موقع ہوتاہے
اگر ممدوح کادھیان اللہ تعالی کی طرف ہو تو ۔۔
نیک نامی کی محض طبعی خواہش مذموم نہیں۔
اپنی یا کسی کی پاکی بیان کرنا جائز نہیں۔
اپنی مدح کے ممنوع ہونے کے اسباب و وجوہ
محض اظہار نعمت کے لئے اپنی صفت بیان کرنا جائز ہے
حضرت یوسفؑ نے بھی اپنی براءت کو اللہ تعالی سے منسوب کیا ۔
ضرورت کے وقت اپنے اوصاف کا ذکر ،جائز ہے
انسان اپنی پاکی و صفائی کا دعوٰی نہ کریں
انسان کی تعریف کا معیار تقوی ہے
مذکورہ آفات کے علاوہ کچھ مزید لسانی آفات ہیں۔
آفات لسان( غیبت اور چغلی وغیرہ سے توبہ کا طریقہ )
فورا خوب توبہ کریں
متعلقہ شخص سے معافی تلافی کریں
مجمع میں اس (متعلقہ شخص )کی مدح و ثنا کریں ۔
مجمع میں پہلی بات (غیبت یا چغلی وغیرہ)کا غلط ہونا ظاہر کردیں ۔
اگر بات سچی ہو تو بات پر عدم اعتماد ظاہرکریں ۔
اگر متعلقہ شخص سے معافی مانگنا مشکل ہو تو اسکے لئے استغفار کریں ۔
بخل
بخل کی تعریف
شح کی تعریف
بخل کی دو قسمیں ہیں بخل بالمال اور بخل بالعلم
بخل کی مضرتیں
اول بگاڑ اس امت کا بخل اور طول ِ امل ہے ۔ (الحدیث)
بخیل شخص اپنی ذات کو بھی کچھ نہیں دے پاتا ۔
کنجوس انسان اللہ سے دور اور جہنم سے قریب ہے ۔
بخل کی وجہ سے لوگ حرام کو حلال کر لیا کرتے ہیں ۔ (الحدیث )
بخل کے سبب سے فسق و فجور پھیلتا ہے ۔ (الحدیث )
اسلام کو جتنا بخل مٹاتا ہے اتنی کوئی اور چیز نہیں مٹاتی ۔ (الحدیث )
بخل نے پہلی امتوں کو ہلاک کردیا ۔
مسلمان کو شایان نہیں کہ بخل کرے اور جہنم میں جائے ۔
بخل کی بدولت اللہ تعا لی کی محبت کمزور ہوتی ہے۔
بخیل مجبوراًاپنے محبوب ما ل کو چھوڑ کر آخرت کا سفر کرتا ہے۔
بخیل کو حق تعالی کی ملاقات کا شوق نہیں ہوتا۔
آخرت کی تباہی اور دنیا کی بدنامی دونوں بخل سے پیدا ہوتی ہیں ۔
(بخیل کا )مال بخیل کے ساتھ جانے والا نہیں ہے ۔
بخل انسان کے لئے ہلاکت خیز ہے ۔
بخیل کی دولت سے قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
بخیل کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔
بخل کے درجات
بخل کے دو درجے ہیں ۔ بخل خلاف شریعت وبخل خلاف ِ مروت
بخل خلاف ِ مقتضائے شریعت معصیت ہے ۔
بخل خلافِ مقتضائے مروت خلاف ِ اولی ہے معصیت نہیں ۔
مروۃًبخل سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ بخل کے تقاضا پر عمل نہ کیا جائے۔
اگرہمت ہوتے ہوئے بھی مروۃً بخل کے مقتضاء پر عمل کیا تو یہ بھی بخل ہے ۔
بخل کی شناعت
قرآن کریم نے بخل کو بہت برا قراردیا ہے ۔
باوجود استطاعت کے خود پر خرچ نہ کرنا جائز نہیں
بخل طبائع پر غالب ہے
شح وایمان ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔
بخل پر وعید
بخیل کی گردن میں مال کا سانپ بناکر طوق پہنایاجائے گا ۔
حدیث شریف کے مطابق بخیل کو طوق پہنائےجانے کی کیفیت
بخل واعراض سے دوزخ آسان ہوجاتی ہے
بخیل کے لئے ہلاکت کی بددعا کی گئی ہے ۔
بخل کا دائرہ کار
بخل تمام حقوق واجبہ کی عدم ادائیگی کو شامل ہے ۔
امور مستحبہ میں خرچ نہ کرنا بھی بخل میں داخل ہے۔
بخل سے بچنے کی تدبیر
بخل کے نقصانات معلوم کریں ۔
مال و اسباب اپنی ضروریات کی تکمیل کی غرض سے رکھیں ۔
اپنی ضرورت سے زائد ا شیاء کسی محتاج کو دے دیں ۔
د ل سے بخل نکالنے کے لئے نفس سے مجاہدہ کریں ۔
مال کی محبت دل سے نکالیں ۔
حب دنیا سے دل کو پاک کریں ۔
ہر شخص اتنے مال ہی کا حق دار ہے جتنی اس کی ضروریات ہوں
بدگمانی
بدگمانی کی تعریف
بدگمانی کی شناعت
بدگمانی بڑا جھوٹ ہے
بدگمانی کی حلت وحرمت کا معیار
بزدلی
بزدلی کی تعریف
بغض
بغض کی تعریف
بغض کی شناعت
نبی اکرم ﷺ نے بغض و کینہ سے منع فرمایا ہے ۔
بغض بہت سے گناہوں کا تخم ہے ۔
بغض کا منشاء غصہ ہے ۔
میٹھے غصہ میں دو عیب ہیں ۔
بغض وعداوت کی مضرتیں
بغض کی وجہ سے باہمی معاشرت بگڑتی ہی چلی جاتی ہے ۔
کینہ پرور بخشا نہیں جاتا (الحدیث)
بغض رکھنے والا مغفرت عامہ سے محروم رہتاہے ۔
عداوت اور بغض رکھنے پر وعید
عداوت دینی ودنیوی(مالی وجانی )نقصانات کا منبع ہے
بغض کی جائز صورت (بغض فی اللہ )
دینی امورکی خاطر عداوت رکھنا مستحسن اور قابلِ اجر ہے ۔
بغض فی اللہ کا معنی
فساق سے محبت و لگاو نہیں رکھنا چاہئے ۔
فساق کا احسان نہیں اٹھانا چاہئے ۔
حب فی اللہ اور بغض فی اللہ قوت ایمان کامعیار ہے۔
بغض فی اللہ کی علامت
بغض کے احکام
کسی سے محبت ہو تو اللہ کے لئے ، بغض ہو تو اللہ کے لئے ۔
طبعی انقباض ، بغض حرام میں داخل نہیں۔
بغض کے علاج کی تدابیر
عقلاًاور اعتقادایہ استحضار کرنا کہ بغض قابل دفع ہے ۔
بغض کو ختم کرنے کے لئے دعامانگنا
کبھی کچھ انتقام لے لینا
عفو ودرگزر سے کام لینا
متعلقہ شخص سے میل جول شروع کردیں ۔
بغض (کینہ ) پر وعید
کینہ پرور کی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ صلح نہ کریں
تجسس
تجسس کی تعریف
تجسس کی چند اقسام
تفاخر
تفاخر کی شناعت
تفاخر بھی شریعت کی فہرست میں ایک گناہ ہے
تفاخر حلال چیزوں کو ایسے گندہ کرتا ہے جیسے نجاست کنویں کو
اپنے علم و عقل پر ناز نہ کریں
تفاخر وشیخی مارنا اسراف کا ذریعہ ہے
سخت دل
سخت دل ہونا بدبختی کی علامت ہے
غفلت
غفلت کے وقت شیطان کا تسلط بالکل آسان ہوجاتاہے ۔
تکبر کی تعریف
تکبر کی حقیقت
تکبر کے دو جز ہیں ۔ اپنی بڑائی اور دوسرے کی حقارت
اگر دل میں دوسرے کی حقارت نہ ہو تو وہ تکبر نہیں ۔
حقارت کے بغیر خود کو کسی سے بڑا سمجھنے کی مثال
البتہ حقارت کے بغیر خود کو کسی سے بڑا سمجھنا خلاف واقعہ ہو تو کذب ہے ۔
لیکن حقارت کے بغیر خود کو کسی سے بڑا سمجھنامفضی الی الکبر ہوسکتاہے ۔
تکبر پر وعید
تکبر کرنے والا اللہ تعالی کی ناراضگی کا مستحق ہے ۔
تکبر کی وجہ سے جنت میں داخلہ نہیں ہو گا ۔
اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ تکبر کرنے والے کا بہت برا ٹھکانہ ہے ۔
متکبرین کے لئے آگ کے صندوق تیار کئے گئے ہیں ۔
بڑا بننا قانون الہی میں بڑا جرم ہے
تھوڑا سا تکبر بھی دخول جنت سے مانع ہے۔
تکبر کے متعلق وعیدیں
متکبرین کو جھنم کی ایک خاص وادی میں ڈالا جائے گا
متواضع ومتکبر شخص کی حیثیت دوسروں کی نگاہ میں
تکبر کی اقسام
تکبر کی بے شمار اقسام ہیں ۔
تکبر کی اقسام اتنی دقیق ہیں کہ غیر محقق ان کاادراک نہیں کرسکتا۔
کبر خفی: اہل علم میں زیادہ ہوتاہے
تکبر کاعلاج
تکبر کے علا ج میں علماء ظاہر کو بھی محقق کی تقلید سے چارہ نہیں ۔
تکبر کے علاج کے لئےمحاسبہ و مراقبہ بہت مفید ہے ۔
میرا کمال ذاتی نہیں عطیہ حق ہے ۔
یہ کمال بلا استحقاق محض رحمت سے ملا ہے ۔
اس کمال کا بقا میرے اختیار میں نہیں ۔
متعلقہ شخص کا اس کمال میں مجھ سے بڑھ جانا ممکن ہے ۔
ممکن ہے متعلقہ شخص میں کوئی اور بڑا کمال مخفی ہو ۔
شاید علمِ الہی میں متعلقہ شخص کی مقبولیت مجھ سے زیادہ ہو ۔
متعلقہ شخص کی کوتاہی کی اصلاح کی فکر ہونی چاہئے ۔
تکبر کاعلاج پراگندہ لوگوں کے پیر دبانے سے بھی ہوتاہے۔
تکبر کا علاج نماز سے بہتر کوئی نہیں
تکبر کا علاج مسکنت ہے
تکبر کا علاج اپنی حقیقت میں غور کرنا ہے
تکبر کے احکام
جب تکبر کا منشاء ذکر ہو تو علاج ترک ذکر ہی ہو گا
کبر کاسبب دینی احکام کی بجاآوری ہوتو احکام کا ترک جائز نہیں
تکبر حرام اور معصیت ہے ۔
تکبر ِ غیر اختیاری معصیت نہیں ۔
تکبر کے غیر اختیاری خیال کو اچھا سمجھنا یا باختیار باقی رکھنا گناہ ہے ۔
دو مقام میں تکبر جائز ہے
تکبر کی شناعت
شیطان کی بربادی کا سبب تکبر ہے ۔
اخلاق رذیلہ کی اصل کبر ہے۔
تکبر منزل مقصود تک پہنچنے سے مانع ہے۔
عار اور تکبرنیکی سے محرومی کا سبب بنتا ہے
علم پر تکبر دولت وغیرہ پر تکبر سے بدرجہا بدترہے
کفر وشرک کا مبنی کبر ہے
کبر ایمان کے متضاد ہے
کبر تمام مفاسد کی جڑ ہے
بڑائی کا دعوی کرنا کم عقلی ہے
جہنم میں جانے کی علت کفر اور تکبر ہی ہے
تکبر ہی کفر کا سبب ہے
آجکل عموما امیر وغریب دونوں میں تکبر پایا جاتاہے
بعض کبر بصورت تواضع ہوتا ہے
زمین پر متکبرانہ انداز سے چلنا منع ہے۔
تکبر کی مضرتیں
تکبر سے سلب ِ نعمت کا اندیشہ ہوتا ہے ۔
متکبرین میں کبھی اتفاق نہیں ہوتا ۔
تکبر قبول ِ حق او ررجوع عن الباطل سےمانع ہے ۔
تکبر انسان کو تمام فیوض و برکات سے محروم کر دیتا ہے
تکبر ادائے حقوق سے مانع ہے۔
متکبر ،اللہ تعالیٰ کی آیات سمجھنے سے محروم ہو جاتا ہے
متکبر، علوم ربانیہ سے محروم رہتا ہے
تکبر کو ختم کرنے کی تدابیر
اگربغض شرعی علت کی وجہ سے ہو تو بعض تدابیر پھر بھی اختیار کرلینی چاہئیں ۔
متعلقہ شخص کی تکمیل کی کوشش شروع کردیں ۔
کبھی کبھی متعلقہ شخص سے خوش اخلاقی سے کچھ بات چیت کرلیا کریں ۔
تکبر کے مقتضا کی عملاً مخالفت کی جائے۔
اگر پھر بھی وقوع ہو جائے نفس کو کچھ مناسب سزا دیں ۔
قصدا ًکچھ موجب ذلت افعال اختیار کریں ۔
اپنے عیوب کو سوچا کریں ۔
اللہ تعالی کی عظمت کو یاد کریں ۔
متعلقہ شخص کے ساتھ تواضع و تعظیم سے پیش آویں ۔
کبر کا منشاء حرص ہے ۔
کبھی چھوٹوں کی بدولت بڑوں پر فضل ہوتاہے۔
تکبر اور استغنا ءمیں فرق
جزع
جزع کی تعریف
حب جاہ
جاہ کی تعریف
حب جاہ کی شناعت
حب جا ہ ایسا مرض ہے کہ اس کا پتہ چلنا مشکل ہے ۔
حب جاہ عقلا وشرعا قابل نفرت ہے
حب جاہ انسان کو اندھا اور بہرا کردیتی ہے۔
حب مال
حب جاہ کی شناعت
حب مال اور حب جاہ بھوکے بھیڑیے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
حب جاہ محض وہمی انتزاعی کمال ہے ۔
جاہ کا مدار دوسرے کے خیال پرہے ۔ جب چاہے بدل دے ۔
جاہ (دوسروں کے خیال )پر خوش ہونے کی مثال
حب جاہ کےاحکام
جاہِ مضر وہ ہے جو طلب سے حاصل ہو ۔
شہرت مذموم چیز ہے
حب جاہ دنیاوی مقاصد کےلیے نہ ہو تو مطلوب ہے
قابل تعریف نیک عمل کی طلب جائز ہے
دنیا میں عزت و جاہ کی محبت بشرائط جائز ہے
بدترین حب جاہ بصورت تواضع ہے
حب جاہ وحب مال وہ مذموم ہے جو غفلت کاسبب ہو
حب جاہ کی مضرتیں
حب ِ جاہ دین و دنیا دونوں کو مضر ہے ۔
جاہ کا دینی ضر ر یہ ہے کہ اس سے عجب پیدا ہوتا ہے ۔
جاہ کادنیوی ضرر یہ ہے کہ مشہور آدمی کے حاسد بہت پیدا ہوجاتے ہیں ۔
حب جاہ تکبر وغیرہ متعدد رذائل کا باعث ہے۔
حب جاہ کی جائز صورت
طلب کے بغیر جاہ حاصل ہو تو نعمت ہے ۔
مال کی طرح انسان جاہ کا بھی بقدر ِ ضرورت محتاج ہے ۔
بلاطلب ملنے والی جاہ کا فائدہ فراغ قلب ہے ۔
بقدرِ ضرورت طلب جاہ میں مضائقہ نہیں ہے ۔
جاہ کا منشاء تکبر ہے ۔
جاہ کے اقسام ، احکام ومعالجات وہی ہیں جو تکبر کے ہیں ۔
حب جاہ کے علاج کی تدابیر
حب جاہ کی مذمتوں اور وعیدوں کو یاد کریں۔
زبان سے بھی ان (مذمتوں اور وعیدوں )کا تکرار کریں ۔
اپنے عیوب کو یاد کریں۔
لوگوں میں اپنے راز کے کھل جانے کا استحضار کریں ۔
مداح کو زبان سے منع کردیں۔
جو لوگ ذلیل شمار کئے جاتے ہیں انکی تعظیم کریں ۔گو نفس کو گراں ہو ۔
لوگوں کی مدح وستائش کو فانی سمجھ کر اس پر خوش نہ ہوں۔
نماز ،حب جاہ کا علاج ہے
حلال مال نیک آدمی کے ہاتھ میں بہت بڑی نعمت ہے ۔
نیک آدمی مال کے حقوق ادا کرتا ہے۔
حب مال کی مضرتیں
حب مال ،حقوق العباد کی تلفی کا سبب ہے ۔
حب مال نے حلال وحرام کی تمیز ختم کردی ہے
حب مال باہمی عداوت کا سبب بھی ہوجاتی ہے۔
حب مال سے باطنی حالات بگڑتے جاتے ہیں
حب مال متعدد گناہوں کا سبب ہے۔
حب مال قلبی یکسوئی کو برباد کردیتاہے۔
حب مال قومی ترقی سے مانع ہے
حب مال اور حب جاہ دنیوی و اخروی زندگی کیلئے تباہ کن ہیں۔
حب مال سے بخل پیدا ہوتا ہے۔
حب مال سے خود غرضی پیدا ہوتی ہے۔
حب مال خیانت ، مکر رشوت وغیرہ متعدد رذائل کا سبب ہے۔
حب مال راحت مستقل بے چینی کا سبب ہے۔
حب مال انکار حق کا سبب ہے۔
حب مال سے معاشرتی امن برباد ہوتاہے۔
حب مال اور حب جان گناہوں کی جڑ ہیں۔
کثرت مال کی ذاتی مضرتیں
کثرت مال معاشرتی فساد کاباعث ہے۔
فراخی مال سے انسان رذائل کا شکار بھی ہوسکتاہے ۔
حب مال مسلمان کی بنسبت کافرمیں زیادہ ہوتا ہے۔
مسلمان کا اسلام سے جس درجہ کا تعلق ہوتا ہے اس درجہ کی مال سے محبت ہوتی ہے
حب مال کے احکام
حب مال وہ مذموم ہے جو حد سے متجاوز ہو
بقدر ضرورت مال سے دین محفوظ رہتاہے۔
اتباع شریعت کے ساتھ مال کمانا منع نہیں
اطمینان قلب کے لیے مال جمع کرنا جائز ہے
طبعی حب مال زہد کے خلاف نہیں
مال کا جمع کرنا مطلقاً زہد کے خلاف نہیں
صاحب اسباب کا کچھ رقم کا جمع کر لینا کچھ برا نہیں
بقدر ضرورت مال کا حصول ضروری ہے
غربت کفر تک پہنچاسکتی ہے۔
بلاوجہ اسباب دنیا کا دیکھنا دکھانا حرص کاباعث ہے۔
مال فی نفسہ بری چیز نہیں
فی نفسہ مال فراغ قلب کا باعث ہے۔
مال امتحان کی چیز ہے
دولت مند بننا اختیاری نہیں اللہ کا عطیہ ہے
کامیابی کی حقیقت مال ودولت نہیں بلکہ راحت قلب ہے
اللہ تعالی صلاحیت کے اعتبار سے مال یا افلاس دیتے ہیں
مال باطناً تمام خرابیوں کی جڑ ہے
حب مال کا علاج
حب مال کا علاج انفاق فی سبیل اللہ ہے ۔
حب مال کا علاج صبر ہے
حب دنیا
دنیا کی تعریف
دنیا کا لغوی معنی
دنیا کا عرفی معنی
دنیا کا شرعی معنی
دنیا کا مجازی معنی
حب دنیا کا معنی
حب دنیا کا معنی ہے دنیا کی چیزوں کے ساتھ تعلق رکھنا
حب دنیا کا صحیح معنی "اللہ تعالی سے غافل ہوجانا"ہے ۔
دنیا کی شناعت
دنیا کی زندگی دھوکہ کا سامان ہے ۔
دنیا اللہ تعالی کے ہاں مبغوض ہے ۔
حضور ﷺنے دنیا اور اہل دنیا کی مذمت فرمائی ہے
کسی نبی نے کبھی دنیا کی طرف ترغیب نہیں دی
حضورﷺ نے اپنے اور اپنی اولاد کے لیے دنیا کو پسند نہیں فرمایا
دنیا کی مذمت غیبت نہیں عبادت ہے
دنیا ملعون چیز ہے
دنیا کی حیثیت
دنیا مومن کا قید خانہ ہے او رکافر کی جنت ہے ۔ (الحدیث رواہ مسلم )
تخلیق دنیا کا مقصد انسان کی آزمائش ہے ۔
اللہ تعالی کے ہاں دنیا کی قد ر مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ۔
اللہ تعالی مبغوض شئے (دنیا)اپنے دشمنوں کو دیتے ہیں۔
دانا ہمیشہ خدا تعالی کی مبغوض چیز سے گھبراتا ہے ۔
دنیا ایک خواب ہے یا ایک ہوا ہے یا ایک افسانہ ہے ۔ (شعر کامفہوم)
دنیا کی مصلحت ومنفعت بھی ایک درجہ میں مطلوب ہے ۔
مال کو مقصود بالذات نہ بنائیں بلکہ مقصود بالغیر بنائیں ۔
دنیا ہمارا دائمی گھر نہیں ہے۔
دنیا توشہ آخرت ہے ۔
دنیا سے مقصود ''سفر آخرت کی تکمیل میں آسانی ''ہے ۔
دنیا کی حقیقت جاننے کے لئے دنیا پر گہری نظر ضروری ہے ۔
فنا ہونا اموالِ دنیا کی ذاتیات میں سے ہے ۔
دنیا فانی اورآخرت ہی باقی ہے ۔
دنیا اور آخرت کی عجیب مثال
دنیائے مذموم کادائرہ
آخرت سے مانع تمام احوال دنیائے مذموم میں داخل ہیں۔
آخرت سے متعلق احوال ،دنیا سے خارج ہیں۔
حب دنیا مذموم وہ ہےجس پر اطمینان اور آخرت سے بے فکری ہو۔
بذاتِ خود حیات دنیا مذموم نہیں بلکہ اس کے اشغال مذموم ہیں ۔
حب دنیا پر وعید
حب دنیا کی سزا قرآن کریم نے جہنم قرار دی ہے ۔
حب دنیا کی مضرتیں
دنیا کی محبت تمام خرابیوں کی جڑ ہے ۔
دین و آخرت کی فکرو اہتمام کامدار حب دنیا کے تناسب پرہے ۔
طالب دنیا کی تمنا کبھی پوری نہیں ہوتی۔
طالبِ دنیا آخرت سے محروم رہتاہے ۔
زیادہ دنیا کا انجام اچھا نہیں۔
کثرتِ دنیا سے اکثراعمال مضر پیدا ہوتے ہیں ۔
حب دنیا اکثر باطنی امراض کا باعث ہے۔
حب دنیا کی وجہ سے ظاہری وباطنی صلاحیتیں ضائع ہوجاتی ہے۔
دنیا کو مقصد بنانے والا ہمیشہ پریشان رہتاہے ۔
محب دنیا کی آرزو کبھی پوری نہیں ہوتی ۔
محبِ دنیا کی حرص وہوس بڑھتی ہی رہتی ہے ۔
کوئی بھی طالب دنیا راحت میں نہیں ۔
دنیا سے دل لگانا شرمندگی اور رنجیدگی کا نتیجہ ہے۔
علماء سے تمسخر کا ایک سبب دنیا کا استغراق ہے ۔
حب دنیا سے خوف خدا ختم ہوجاتاہے
امراء و سلاطین میں موت کی نفرت ہوتی ہے
حب دنیا حجاب ہے
حب دنیا تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
حب دنیا کے علاج سے تمام گناہوں سے حفاظت ہوتی رہتی ہے ۔
اگرحب الہی پر غیر محبت غالب ہو تو عذابِ خداوندی کا وعدہ ہے ۔
اسباب دنیا کی محبت انسان کی فطرت ہے ۔
حب دنیامیں لوگوں کا مزاج مختلف ہے ۔
کوئی فطرۃً عورتوں کی محبت میں گرفتا ر ہوتاہے ۔
بعض فطرۃً بیٹوں پوتوں کی محبت سے مغلوب ہوتے ہیں ۔
کسی کو مال مویشی سے ازحد لگا ؤ ہوتاہے ۔
حبِ دنیا کے افراط میں جنون ہوتاہے ۔
اسباب دنیا کی محبت فی نفسہ مذموم نہیں ہے ۔
دنیاکے دھوکہ کی حسی مثال
دنیا کی مثال اس کوڑی کی سی ہے جس پرسبزہ جما ہواہو ۔
دنیا کی مثال خوبصورت سانپ کی سی ہے۔
دنیا ریشم میں چھپی چڑیل بڑھیا کی طرح ہے ۔
جس نے دنیا سے دل لگایا وہ یا تو چھلاوہ ہے یا شیطان ہے یاپاگل ہے ۔ (شعر کامفہوم)
محب دنیا خوبصورت سانپ کو پکڑلینے والے بچہ کی مانند ہے ۔
دنیا کی فنائیت کی حسی مثال
دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی راہ گیر کسی سایہ میں سستاکر اپنی راہ لے ۔
دنیا کی مثال ایک پل کی سی ہے جو فانی گزرگاہ ہے۔
دنیا کی مثال آخرت کے سامنے سرائے جیسی ہے ۔
دنیا کی مثال چراغ کے ختم ہوتے تیل کی سی ہے
دنیا کی مثال ایک آراستہ مہمان خانہ کی سی ہے۔
دنیا کی مثال ایک جیل خانہ جیسی ہے
دل کے لئے متاع دنیا ایسے ہے جیسے کشتی کے لئے پانی
دنیا اورآخرت کی ایک توضیحی مثال
عاشق دنیا کی نادانی اور ناکامی کی ایک مثال
حب دنیا میں مشغول ہونے کی حسی مثال
حب دنیا کی شناعت
دنیا میں اتنا انہماک جوآخرت سے غافل کردے بے وقوفی ہے ۔
دنیا کے مشاغل(صنعت وتجارت وغیرہ ) ناپائیدار ہیں ۔
دنیا کو مقصود اصلی سمجھ کر آخرت کو بھلا دینا بے وقوفی ہے ۔
ایک تہائی قرآن دنیا کی مذمت سے بھر ا ہو اہے۔
دنیا ایک دلفریب سبزہ زار ہلاہل(زہر قاتل ) ہے ۔
دنیا کو آخرت پر ترجیح دینا جہنم کا راستہ ہے ۔
ناپائیدار دنیا پر فریفتگی قابل تعجب ہے۔
دنیا پر مطمئن ہونا بڑی حماقت ہے ۔
کفار طالب دنیا ہیں
دنیا کی حقیقت
دنیاوی زندگی کھیل تماشے کے سوا کچھ بھی نہیں ۔
دنیا کی دو حالتیں ہیں راحت وکلفت
آخرت کی راحت وکلفت دنیا سے مختلف ہے۔
دنیا کا گھر عارضی ہے
دنیا کی ہستی نہایت ضعیف ہے
دنیا صحابہ کرام کی نظر میں
دنیا کی کوئی منفعت خالص نہیں ہے
دنیا دار الابتلاء ہے
مال کی فراوانی کے وقت حضرت عمرکی سنہری دعا
حب دنیا کا سبب
حب دنیا کا سبب ،آرائش و آسائش کی خواہش ہے ۔
حب دنیا کے علاج کی تدابیر
مدتوں کے لئے منصوبے اور سامان نہ کریں اور نہ سوچیں ۔
اللہ تعالی کی طاعت کو اپنے اوپر لازم کرلیں ۔
حب دنیا کا علاج ذکر موت ہے
حب دنیا کے احکام
کسب دنیا اور چیز ہے اور حب دنیا اور چیز ہے ۔
مذموم ومباح طلب دنیا کا معیار حد شرع ہے۔
رضا بالدنیا مطلق مذموم نہیں ہے
مال واولاد کے ہوتے ہوئے پابند شریعت رہنا کمال ہے
شریعت میں کسب دنیا کی اجازت ہے انہماک دنیا کی نہیں
ترک دنیا میں حدود شرع سے تجاوز حرام ہے۔
دنیا کی رغبت فطرۃً ہر ذی روح میں موجود ہے۔
انسان کا پیٹ اور پیٹھ ہمہ وقت دنیا کی رغبت دلاتے ہیں۔
دنیا کی محبت فطرت میں رکھنے میں ایک حکمت
دنیا کی محبت فطرت میں رکھنے میں دوسری حکمت
دنیا کی محبت فطرت میں رکھنے میں تیسری حکمت
محبوب و مزین اشیاء سے استفادہ کا طریقہ
مال اور اولاد انسان کو فطرۃً محبوب ہیں
حب اولاد
حب اولاد متعدد گناہوں کاسبب ہے۔
اولاد کے نیک اعمال والدین کے لئے نفع مند ہیں
اولاد بھی فی نفسہ بری چیز نہیں
تارک دنیا کے پیچھے دنیا پڑجاتی ہے
امور دنیا کی اقسام اور احکام
متاع دنیا کا مسلمان کے پاس ہونا شرعا مقصود نہیں
دنیا کی روح راحت ہے
طلب دنیا سے مقصود درحقیقت چین کی طلب ہے
جتنا سامان دنیا بڑھتا ہے اتنا غم بھی بڑھ جاتا ہے
دنیا کا ضرورت سے زیادہ ہونا مصیبت ہے
دنیا کی ضرورت بدیہی ہے
حب دنیا سے متعلق راہ عدل
حرص
حرص کی تعریف
حرص کی شناعت
کسی کے مال ودولت پر آنکھیں نہ للچانی چاہئیں۔
بالعموم بڑھاپے میں بھی مال وطول عمر کی حرص بڑھتی رہتی ہے۔
حرص تمام بیماریوں کی جڑ ہے ۔اس کو ام الامراض کہنا چاہئے۔
اخلاق رذیلہ کی اصل کبر ہے۔
کبر بھی حرص سے پیداہوتاہے
دنیا کی حرص بدبختی کی علامت ہے
حرص کی مضرتیں
جتنا ہوس کو پوراکروگے اتناہی بڑھے گی۔
ہوس کے بڑھتے ہی رہنے کی حسی مثال
حریص کےپیٹ کو مٹی کے سوا کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔
حریص کوکبھی راحت نہیں مل سکتی۔
حریص وطامع ہمیشہ ذلیل و خوار رہتا ہے۔
طمع علماء کی تعظیم وتکریم سے بھی مانع ہے۔
غرض پرستی دین کے لئے سخت مضرہے
حرص کے علاج کی تدابیر
حرص(توجہ الی الدنیا)کا علاج توجہ الی الحق ہے ۔
خرچ کو گھٹائیں تاکہ زیادہ آمدنی کی فکر نہ ہو ۔
آئندہ کی فکر نہ کریں کہ کیا ہوگا۔
یہ سوچیں کہ حریص وطامع ہمیشہ ذلیل و خوار رہتا ہے۔
دل سے دنیا کی محبت کو نکالیں۔
حسد
حسد کی تعریف
حسد کی شناعت
اللہ تعالی نے حاسد کے شرسے پناہ مانگنے کی تلقین فرمائی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ نے حسد سے منع فرمایا ہے ۔
حسد کے اعتبار سے انسان کے تین درجے ہیں ۔ معذور ،مازوراور ماجو ر
درجہ اولی میں انسان معذور ہے ۔
دوسرے درجہ میں انسان مازور (گناہ گار ) ہے ۔
تیسرے درجہ میں انسان ماجور ہے ۔
حسد کی مضرتیں
حسد تقدیرپر ناراضی کا باعث ہوتاہے۔
حسد اعمال کو جلا چھوڑتاہے۔
حسد میں دین و دنیا دونوں کا نقصان ہے۔
حسد کا دینی نقصان: حاسد کے اعمال غارت جاتے ہیں۔
حسد کا دنیاوی نقصان:حاسد ہمیشہ تکلیف اور رنج وغم میں رہتاہے ۔
حسد کی جائز صورت
نعمت کو معصیت میں خرچ کرنے والے پر حسد جائز ہے۔
نعمت کو معصیت میں خرچ کرنے والے پرحسدکرنےکی وجہ جواز
حسد جائز کی شناخت
حسد کا سبب
حسد کا باعث تکبر ، عداوت یا خباثتِ نفس ہے ۔
حسد اورغبطہ میں فرقٍ
دوسرے کے فضائل غیر اختیاریہ کی تمنا کرنا حسد کا باعث ہوسکتا ہے
حسد اور غبطہ میں فرق
غبطہ(اور رشک) شرعاًجائزہے ۔
غبطہ کی تعریف
حسد حرام ہے اورغبطہ جائز ہے۔
حسد کا مقصود اور حاصل
حسد کے علاج کی تدابیر
نفس پر حسد کے خلاف جبر کریں ۔
محسود کی تعریفیں بیان کریں ۔
محسود کے ساتھ نیاز مندی کے ساتھ ملاقات وکلام کریں۔
محسود کے ضرر پر زبان سے رنج ظاہرکیا کریں ۔
محسود کو ہدیہ دیا کریں ۔
محسود سےاعراض کو دل چاہےتو اس سے ملیں ۔
محسود کوابتداء بالسلام کریں۔
محسود کے ساتھ احسان ، سلوک اور تواضع سے پیش آئیں ۔
محسود سے خوش اخلاقی سے پیش آنے سے حسد جاتارہے گا۔
مسلمانوں اور اسلام کی ترقی دیکھ کر کفر اور کافر حسد کرتے ہیں
حسد کے احکام
کسی کے وہبی اور غیر اختیاری کمال کی تمنا نہ کریں
کسی کے علمی و عملی کمالات کی تمنا حسد نہیں
کمالات کے حصول میں راہ عدل
حماقت
حماقت کی تعریف
خیانت
خیانت کی تعریف
دھوکہ
دھوکہ کی تعریف
ریاء
ریاء کی تعریف
ریاء کی حقیقت
ریا کاری کی شناعت
قرآن کریم نے ریا ء کاری منافقین کی صفت قرار دی ہے ۔
ریا کاری شرک اصغر ہے ۔
ریاء کاری عبادت کے مقصود کے بالکل خلاف ہے ۔
ریاء حرام اور گناہ کبیرہ ہے ۔
ریاء شرک اصغر ہے
ریا کے معصیت ہونے کی وجہ
آپؑ کو امت کی ریاکاری کے متعلق بہت زیادہ اندیشہ تھا
تصحیح وفسادِنیت کےاعتبارسےاعمال کی تین جہتیں ہیں۔
جہت 1:عمل کے وقت نیت معصیت کی ہو تو ریا ہے۔
جہت 1 کی مثال
جہت2: عمل کےوقت نیت مباح ہواور عمل دنیوی ہوتوریا نہیں۔
جہت3: عمل کے وقت نیت مباح ہو لیکن عمل دینی ہو توریاہے۔
ریا کی تحقیق میں اختلاف ہے۔
صوفیاء کے ہاں کسی کی وجہ سے عمل کوترک کردینا ریاء ہے ۔
اہل ظاہر کے ہاں دکھاوے کو عمل کو اختیار کرنا ریاء ہے ۔
محققین کے ہاں عبادت کےاخفاء کا اہتمام کرنا بھی ریاء ہے ۔
اہل اخلاص عبادت کے اخفاء کا اہتمام نہیں کرتے ۔
ریا کی صورتیں
ریاء چھ طرح سے ہوا کرتا ہے ۔
1کبھی بدن کے ذریعہ سے ریاء کاری کی جاتی ہے ۔
2کبھی ہئیت کے ذریعہ سے ریاء کاری کی جاتی ہے ۔
سر جھکانے پر حضرت عمر کی ایک شخص کو تنبیہ
3کبھی شکل وشباہت اورلباس میں ریاء کاری کی جاتی ہے ۔
4کبھی گفتگو اور زبان سے ریاء کاری کی جاتی ہے ۔
5کبھی عمل کے ذریعہ ریاء کاری کی جاتی ہے ۔
6کبھی اپنے شاگردوں یا مشائخ کی کثرت پر ریاکاری ہوتی ہے۔
ریا کی جائز صورت: دفع شر کے لئے کسی کوخوش کرنا ریاء نہیں ۔
ریاءکی شنا خت کا طریقہ
ظہور عمل سے جو خوشی ہوتی ہے ا س کی تین اقسام ہیں ۔
ظہور عمل پر طبعی خوشی جائز ہے ۔
ظہور عمل پر ترغیب کی نیت سے خوش ہونا بھی جائز ہے ۔
ظہور عمل پر نیک نامی کی نیت سے خوش ہونا جائز نہیں ۔
ریا کا سبب
ریاء کبر سے پیدا ہوتاہے۔
ریاء وتفاخر کا منشاء تکبر ہے
ریاکاری پروعید
ریاء کار کو حق تعالی دھتکار دیں گے ۔
ریاء کاری والا عمل ہرگز قبو ل نہیں ہوگا ۔
ریا کار شہید کا انجام
ریا کار عالم کا انجام
ریا کار غنی کا انجام
ریا کی نماز دوزخ کی کنجی ہے
دکھلاوے کے لئے خرچ کرنا عذاب کا باعث ہے۔
ریاء کاری کے نتائج بد اور اس پر حدیث کی وعید شدید
ریاء کار کے عمل کو اللہ تعالیٰ بغیر اجر کے چھوڑ دیتے ہیں
ریا کے علاج کی تدابیر
اپنےکام سے کام رکھیں ۔
اپنے اختیار سے ہر کام میں رضائے حق کا قصد کریں ۔
اپنے اختیار سے ہر کام میں رضائے خلق کا قصدنہ کریں ۔
ریا ء کے وسوسہ کی مطلق پرواہ نہ کریں۔
تصحیح ِ نیت کا مراقبہ و محاسبہ کرتے رہیں ۔
اپنے کو کسی مرشد کامل کے سپرد کریں ۔
حب جاہ کو دل سے نکالیں ۔
عبادت پوشیدہ کریں۔
ریاء کا علاج ذکر اللہ ہے ۔
ایک زبردست ترکیب:جس عبادت میں ریا ہو اس کو خوب کثرت سے کریں ۔
ریاء حب جاہ کا ایک شعبہ ہے ۔
ریا کاری رفتہ رفتہ اخلاص میں بدلنے لگتی ہے۔
ریاکاری کے احکام
نفل عبادت میں اہتمام اخفاءکے متعلق حضرت عیسیؑ کافرمان
ریا اپنی اقسام ،درجات اوراحکام میں کبر کی مانند ہے۔
تطییبِ قلبِ اہل اللہ کے لئے عمل کرنا ریانہیں۔
ریاء والا عمل توبہ سے اخلاص والا بن جاتاہے۔
اظہار عمل پر طبعی خوشی ریاء نہیں۔
مطلقا اظہار یا اخفائے عمل نقص یا کمال نہیں
وسوسہ ریاء ،ریا ءنہیں ہے
ریاء اور وسوسہ ریاء میں حد امتیاز
وسوسہ ریا کی مثال آئینہ پر بیٹھی مکھی جیسی ہے
ریا کے خوف سےعبادت کرنا مت چھوڑیں
ریاء کے ہوتے ہوئے بھی اعمال کاپابند رہنا چاہئے۔
جب سے ریا کار مر گئے ابواب خیر بندہوگئے
ریا کاری سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
سستی
سستی کی تعریف
شماتت
شماتت کی تعریف
طول امل (لمبی آرزوئیں)
طول امل پر وعید
انسان کی لمبی لمبی آرزؤوں کی ایک مثال
طول امل بدبختی کی علامت ہے۔
طول امل کی وجہ سے امت ہلاک ہوگی۔
عجب
عجب کی تعریف
عجب کی حقیقت
عجب قرآن کریم کی نظر میں
عجب کی مضرتیں
عجب دیگر امراض باطنی سے زیادہ مضر ہے ۔
عجب انسان کو حق تعالی کی نگاہ میں گرادیتاہے ۔
عجب سے باطن بگڑ جاتا ہے
عجب پر وعید
عجب و کبر غضب خداوندی کا باعث ہے ۔
عجب (کسی نعمت پر خوش ہونے) کی جائز صورت
عجب اور تکبر میں فرق
عجب کے ازالہ کی تدابیر
اپنے کمال کو عطائے خداوندی سمجھے ۔
اللہ تعالی کے استغناء اور قدرت کا استحضار رکھ کر ڈرتا رہے ۔
یہ دھیان رکھے کہ نعمت سلب ہوسکتی ہے ۔
عجب کا سبب
عجب کا سبب حق تعالی سے غفلت ہے ۔
عجب کا منشاء اور بنیادجہالت ہے
غیر کو برا نہ سمجھو اور خود کو سب سے بہتر نہ سمجھو
مؤمن اپنے کسی عمل پر فخر نہ کرے
اپنے کمالات دینی و دنیاوی پہ ناز نہ کرنا چاہیے
عجلت
عجلت کی تعریف
غضب و غصہ
غضب کی تعریف
غصہ کو ضبط کرنے کا معنی
ضبط غصہ کے فضائل
غصہ کو قابو کرنا اللہ تعالی کو بہت محبوب ہے ۔
اصل پہلوان وہ ہے جو اپنے غصہ کو قابو کرسکے ۔
غصہ سے مغلوب نہ ہونا متقین کی صفت ہے
غصہ کی شناعت
حضور اکرم ﷺ نے غصہ سے منع فرمایا ہے ۔
غصہ کے احکام
غصہ میں جوش پیدا ہونا طبعی امر ہے ۔
طبعی غصہ میں ملامت نہیں ۔اس پر عمل کرنا براہے۔
طبعی غصہ پر قابو نہ پانابھی انسانیت کے خلاف ہے ۔
اقتضاء ِغصہ پر عمل کرنے میں اعتدال ہونا چاہئے ۔
غصہ پر قابو پانا امر اختیاری ہے ۔
شریعت نے غصہ کے بھی حدود مقرر کیے ہیں
غصہ کو نافذ کرنے کے لیے علم دین کی ضرورت ہے
غصہ کی تخلیق میں بھی مصلحت اور حکمت ہے ۔
ضبطِ غصہ کی تدابیر
اللہ تعالی سے ہمت اور توفیق مانگیں ۔
ضبط ِ غصہ کے لئے مسلسل اس کی مخالفت کریں
جس پر غصہ کیا ہو مجمع میں اس سے معافی مانگیں ۔
قول یا فعل میں ہر گز تعجیل نہ کریں ۔
بتکلف غصہ کے تقاضا کی مخالفت کریں ۔
جب کوتاہی ہوجائے استغفار کریں ۔
اگر کسی کے حق میں زیادتی ہو جائے تو اس سے معاف کرائیں ۔
ٹھنڈے پانی سے وضو کر ڈالیں ۔
ٹھنڈا پانی پی لیں ۔
فورا کسی کام میں لگ جائیں ۔
متعلقہ شخص سے علیحدہ ہوجائیں ۔
اللہ تعالی کی قدرت اور اپنی معصیت کو یا د کریں ۔
جس بات پر غصہ ہو اسے تقدیر کا حصہ سمجھیں ۔
غصہ کو فورا نافذکرنا شروع نہ کریں
اپنی ہیئت تبدیل کرلیں
کچھ دیر اعوذ باللہ پڑھیں
غصہ کاسبب
نصیحت پر غصہ کا سبب زیادہ تر کبر ہوتا ہے
کینہ
کینہ کی تعریف
لہو ولعب
لہو او رلعب میں فرق
مایوس ہونا
مایوس ہونا کی تعریف
مکر
مکر کی تعریف
اردو وعربی محاورات میں لفظ مکر کا معنی مختلف ہے۔
عشق مجازی
عشق مجازی کےاحکام
عشق مجازی کو طاعت سمجھنا شدید غلطی ہے ۔
عشق مجازی میں الجھنے کے بجائے فورا عشق حقیقی کی طرف متوجہ ہوجاناچاہئے ۔/عشق مجازی کی حسی مثال
فی زمانہ عشق مجازی کی تجویز جائز نہیں ۔
کتمان عشق کئی مصالح کی وجہ سے ضروری ہے
عشق مجازی کے جواز اورعدم جواز میں دو مبحث ہیں ۔
اجمالی مبحث
اہل نظر ہی عشق مجازی سے منع فرماتے ہیں ۔
تفصیلی مبحث
عشق مجازی کے محامل صحیحہ کو بیان کردینا چاہئے ۔
مشائخ کی مراد عشق مجازی حلال ہواکرتی ہے نہ کہ حرام
عشق مجازی کی فنائیت
عشق مجازی کی مضرتیں
عشق مجازی کی مشغولیت،عمر بھر عشق حقیقی سے حجاب ہوتی ہے ۔
عشق کی خاصیت
عشق سوز وگداز (جمعیت خاطر )کا سبب ہے ۔
عشق مجازی کے فوائد
اہل نظر عشق مجازی کو عشق حقیقی کا سبب جانتے ہیں ۔
حلال عشق مجازی کے جواز کےدلائل
عشق مجازی کاعلاج
عشق مجازی سے حقیقی تک آنے کی تدبیر
عشق مجازی کے ازالہ کے بجائے امالہ کرنا چاہئے ۔
عشق مجازی کے امالہ کی حسی مثال
عشق مجازی کا علاج چند اجزاء سے مرکب ہے ۔
1محبوب مجازی سے قطع تعلقی کرلی جائے ۔
2محبوب مجازی سے نفرت کی تدبیر اپنائی جائے ۔
3آداب کےساتھ صلوۃ التوبہ ودعا وزاری کا اہتمام کیاجائے ۔
4ذکر لاالہ الااللہ نفی غیر واثبات حق کے ساتھ کیاجائے ۔
5کسی محبوب بزرگ سےعلاج کرانےکا تصورکیا جائے ۔
6عذا ب و مواعید کا مطالعہ کثرت سے کیا جائے ۔
7روزحساب اور حق تعالی کی باز پرس کا استحضار کیا جائے ۔
باوجود کوشش عشق کاعلاج نہ ہوتو بھی اجربہرحال ملتاہے
عشق مجازی کا ایک علاج
عشق مجازی کے علاج کی ایک تدبیر
عشق مجازی پرصبر کی فضیلت
عشق مجازی پر صبر وعفت ،شہادت کا درجہ رکھتاہے ۔
عشق مجازی کے متعلق ایک غلط فہمی
"عاشق صابر کی موت شہادت ہے " کی تحقیق
عاشق عفت اختیار کرے اور عشق میں مر جائے تو شہید ہے
حرارت حمی سے حرارت عشق اشد ہے
تصنع
تصنع کی شناعت
تصنع کرنے والا شخص جھوٹ میں ملبوس ہوتاہے۔
تصنعا صاحب ارشاد بن جانا نرا دھوکہ ہے۔
تصنع کا عموم (ظاہر وباطن کو)
کمال باطنی میں تصنع بھی عموم وعید میں داخل ہے۔
حقیقت اور صورت میں بہت فرق ہوتاہے۔
(حقیقت کے بغیر)شکل وصورت انسانیت کا معیار نہیں۔
اعمال میں حقیقت اورباطن کو مدنظر رکھنا چاہئے۔
سادگی کی اہمیت
سادگی ایمان میں سے ہے
حسن پرستی
امرد پر ستی
امرد پربدنگاہی کاوبال
امرد پرستی ذلت وخواری کا سبب ہے۔
امرد پرستی کی حرمت ،زن پرستی سے بھی اشد ہے۔
زن پرستی
بد ترین نرمی،عورتوں کے ساتھ نرمی ہے۔
حسن پرستی کی شناعت
حسینوں سے اختلاط آفاتِ تصوف میں سے ہے۔
حسن پرستی کے متعلق احکام
پاک نیتی سےنامحرم کا اختلاط بھی ممنوع ہے۔
میلان کے دودرجے ہیں۔اختیاری وغیر اختیاری
طبعی میلان سے بچنا نہ ممکن ہے نہ لازم ۔
حسن کی طرف طبعی میلان مرد کی فطرت ہے۔
اختیاری میلان سے احتراز لازم ہے۔
نامحرم کی طرف دل کا میلان ہی مرض کی جڑ ہے۔
بطور تفکر حسینوں کی طرف توجہ کرنا
حسنیوں کی طرف توجہ توجہ بخدا نہیں ہوتی
حسن پرستی سے بچنے کی تدابیر
راز کھلنے پر رسوائی کو دھیان میں لائے۔
اللہ تعالی کے علم وحساب کا استحضار کرے۔
عقوبت جہنم کا استحضار کرے۔
اپنی بیوی کی عزت وعفت کااستحضار کرے ۔
ہمت سے نفس کی مخالفت کرے۔
حسین کی طرف دل مائل ہونے کا علاج
بدنگاہی
بدنگاہی کی شناعت
بدنگاہی میں اکثر پاکیزہ لوگ بھی مبتلاء ہیں۔
بوڑھے لوگ بھی بد نظری میں مبتلا ہیں
بدنظری کے حرام ہونے کی دلیل
نگاہ شیطان کا ایک تیر ہے۔
بدنگاہی کے احکام
بدنگاہی کی خواہش بری نہیں بلکہ اس پرعمل براہے۔
بدنگاہی کرنااوراس سےبچنادونوں اختیاری ہیں۔
بدنگاہی سے بچنا بہت ضروری ہے۔
دل میں نامحرم کا تصور کرنا بھی معصیت اور بدنگاہی ہے۔
دل کی معصیت آنکھ کی معصیت سے اشد ہے
بدنگاہی ہوجائے تو فورا توبہ کرلینی چاہئے
بدنگاہی کی مضرتیں
بدنگاہی تمام طاعات کانورتاریک کردیتی ہے۔
بدنگاہی عشق حرام اور ضیاع ایمان کا باعث ہے۔
بدنگاہی سے آنکھ میں ظلمت پیدا ہوجاتی ہے
بدنظری میں سیری نہیں ہوتی
بدنظری شیطانی دھوکا ہے
نظر بد داعی الی الزنا ہے
بدنگاہی کا علاج
نگاہیں نیچی رکھنا نظر بد سے بچنے کا طریقہ ہے
عجلت پسندی
تعجیل کا صحیح مفہوم
سالک کا کام طلب ہےسالک حصول مقصود کا مکلف نہیں
عجلت پسندی کی مضرتیں
عجلت قبولیت دعا سے مانع ہے۔
عجلت راہ سلوک میں مانع ہے۔
عجلت کا نتیجہ شیخ سے بداعتقادی یا ترک سعی ہے۔
عجلت سے ہمیشہ پریشانی بڑھتی ہی رہتی ہے۔
عجلت ظاہری وباطنی نقصان کا سبب ہے۔
عجلت پسندی ناشکری وبے صبری کا سبب ہے۔
عجلت پسندی کی شناعت
تعجیل نہایت بری چیز ہے۔
کوئی بھی چیز دفعۃ حاصل نہیں ہوتی۔
بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کا سبب عجلت تھا۔
جلد بازی مذموم عادت ہے
عجلت پسندی کا علاج
صبر وعمل صالح عجلت پسندی کا علاج ہے۔
انسان طبعاً جلد باز ہے
مخالفت سنت
مخالفت سنت کی مضرتیں
تمام ترفسادکی وجہ قرآن وحدیث سے دوری ہے۔
شریعت سے اعراض عذاب جہنم کا سبب ہے۔
شریعت کے چھوڑنے سے حیا اور غیرت ختم ہوجاتی ہے
بدعت کی مضرتیں
بدعت راہ سلوک میں مانع ہے۔
جب بدعت قاطع طریق ہے تو کفر وشرک کا کیا پوچھنا
شریعت وسنت کی اہمیت
حقیقی اتباعِ سنت کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوتا۔
اطاعت رسولﷺ بحکم الہی فرض ہے۔
محبت الہی اتباع رسولﷺ پرموقوف ہے۔
اتباع سنت وصول کا قریب ترین راستہ ہے۔
اتباع سنت کےسواکوئی صحیح راستہ نہیں۔
اتباع رسولﷺ قولا،فعلاوارادۃ ضروری ہے۔
سالک کی تمام تر ترقی اتباع شرع پر موقوف ہے۔
نجات کا مدار اتباع شرع پر ہے۔
شریعت طریقت کی اصل ہے۔
شریعت وطریقت کی یکسانیت پراشکال اورجواب
شریعت وحقیقت کی یکسانیت کی مثال
اتباع شرع کے بغیرکوئی کرامت معتبرنہیں۔
اتباع رسولﷺاور حضرت جنید بغدادی کا قول
شریعت سے ناواقف کبھی ولی اللہ نہیں ہوسکتا۔
عالمِ شرع کی بدعملی جاہل کے عمل سے بہترہے۔
اتباع شرع کے بغیر وصول کادعوی کرنا وبال ہے۔
باجماع اولیاء کرامؒ، وصول حق اتباع شریعت پر موقوف ہے۔
عند اللہ اطاعت وبندگی کے سوا کچھ معتبر نہیں۔
احکام شرع کی نفی واستہزاء کفر کا باعث ہے۔
طریقت رسوم وبدعات کانام نہیں ہے۔
رسومات طریقت کےمتعلق حضرت شاہ ولی اللہؒ کافرمان
ظاہری احکام کو فضول سمجھنا خطرناک ہے
اتباع شریعت کے بغیر کوئی درویشی معتبر نہیں
ظاہری اطاعت کے بغیر باطنیت کا دعوی جھو ٹ ہے
بزرگی کا معیار اتباع سنت ہے۔
اصلاح حال کا مدار وحی پر ہے
شریعت کی پابندی موصل الی المقصود ہے
اصلاح اعمال کا طریقہ اتباع سنت ہی ہے
جو جتنا انبیاء کے مشابہ ہوگا اتنا دوسروں سے افضل ہوگا
اصطلاحات تصوف کی غلط تعبیراور اتباع ہوی
اصطلاح ''حجاب اکبر'' کی صحیح تعبیراور راہ ہدایت
اصطلاح ''آزادی'' کی صحیح تعبیراور راہ ہدایت
خلاف سنت منقول اقوال سلک کی صحیح تاویل
اصلاح کے مختلف طریقے
تزکیہ نفس کے درجات
تزکیہ نفس کےدو درجات ہیں ۔تحلیہ وتخلیہ
تحلیہ کا معنی
تصوف تحلیہ وتخلیہ کا نام ہے ۔
تحلیہ کا طریقہ
تخلیہ کا معنی
تخلیہ و تحلیہ کی عقلی مثال
تخلیہ و تحلیہ سلوک کی متفقہ ضرورت ہیں ۔
تحلیہ وتخلیہ کی تقدیم وتاخیر میں اختلاف ہے۔
جسمانی علاج میں بھی تحلیہ وتخلیہ کی تقدیم میں اختلاف ہے۔
تخلیہ و تحلیہ دونوں کو ایک ساتھ چلانا زیادہ مفید ہوتا ہے ۔
تخلیہ و تحلیہ کی مطلقا ً تقدیم و تاخیرمضر ہے۔
چشتیہ تخلیہ کو مقدم کرتے تھے اور نقشبندیہ تحلیہ کو
موجودہ زمانہ میں چشتیہ اور نقشبندیہ کا مزاج ِ اصلاح
صحیح مدار طالب کے ذوق واستعداد پر ہے۔
تقدیم وتاخیر تخلیہ وتحلیہ میں نقشبندیہ اور چشتیہ فرق
تخلیہ وتحلیہ کی حسی مثال
اصلاح کا ایک طریقہ نصیحت ہے
نصیحت کا ایک طریقہ خط وکتابت بھی ہے
اصلاح کا ایک طریقہ انعام اور سزا بھی ہے
کسی کی اصلاح انعام سے اور کسی کی سزا سے ہوتی ہے
اصلاح کا ایک طریقہ حکایات سلف کا مطالعہ بھی ہے
حکایات سلف کا مطالعہ
حکایات سلف کے مطالعہ کو اصلاح میں دخل ہے
تعلیمات طریقت
سالک کے متعلق امور
سالک(طالب) کی اقسام
طالب تین قسم کے ہیں۔ مبتدی، منتہی اورمتوسط الحال
متوسط الحال
متوسط الحال مغلوب ہوتاہے۔
متوسط کے غلبہ حال کامعنی
منتہی
منتہی کا پہچاننا آسان کام نہیں۔
طالب منتہی کو ایک عجیب سا استغناء ہوتاہے۔
منتہی (کامل) کواظہار کمال سے غیرت آتی ہے۔
منتہی(کامل) کا شیوہ امتثال امر ہوتاہے۔
منتہی(کامل) نہ اخفاء چاہتاہے نہ اظہار۔
منتہی(کامل) کی دعابھی تعمیل حکم میں ہوتی ہے۔
سالک مبتدی وسالک منتہی کے حالات میں فرق
سکوت کے فضائل مبتدی کے لیے ہیں منتہی کے لیےنہیں
ورود اسرار کےاعتبار سے سالک(اہل ) کی دوقسمیں ہیں
سالک کے لئے ہدایات
بیعت میں جلدی نہ کرے بلکہ شیخ کامل کو خوب تلاش کرے ۔
کم از کم اپنے عیوب پر نظر ہوجا نا بھی مفتاحِ طریق ہے ۔
سالک اعتدال کے ساتھ بس قرب حق کاطالب رہے۔
سالک کی اصلاح ِنیت یہ ہے کہ بس اپنی اصلاح چاہے ۔
رہبر بلکہ بزرگ بننے کی نیت بھی فاسد ہے۔
نیک کام کی عادت ڈال لیں تو باربار عزم کی ضرورت نہیں ہوتی
وسعت سے زیادہ کام سر لینا ذلتِ نفس کے مترادف ہے۔
جو حقوق اللہ وحقوق العباد کو بخوبی ادا کرتاہو وہی کامیاب ہے
سالک کو غذائے جسمانی میں توسط کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔
خود کو بزرگ ہستیوں پر قیاس نہیں کرناچاہئے ۔
شریر کے شر سے بچاؤ کی تدبیر معین طاعت ہے۔
مخفی حال کااظہار (بجز شیخ کے) مضرہے۔
سالک ہرگزتقاضا اورجلدی نہ مچاوے
بجز شیخ کے کسی پر اظہار راز کی مضرت
دوسرے مشائخ اور مجتہدین کو برا سمجھنا درست نہیں
سالک ہمت کر کے اعمال میں لگا رہے۔
سالک کو امید وبیم کے ساتھ رہنا چاہئے۔
ہر حال میں اللہ تعالی کا خوف رکھے۔
ہمیشہ فکر وتدبر کے ساتھ تلاوت قرآن مجید کرے۔
تمام احکام میں آیات محکمہ کی طرف رجوع کرے۔
علم شریعت سے قدم نہ ہٹا ئے ۔ علم فقہ پڑھے۔
نہ جاہل صوفیوں میں سے ہو نہ ان کے قریب رہے۔
دین میں نئی باتیں اختیار کرنے سے بچے ۔
عام لوگوں سے زائد ازضرورت میل جول سے بچے۔
خلوت اختیار کرے۔
قلیل دنیا پر قناعت اختیار کرے۔
رزق حلال کھائے ۔ حرام سے بچے۔
رزق حلال خیر کی کنجی اور ایمانی حلاوت کا ذریعہ ہے۔
شب میں نوافل اور دن میں روزوں کی کثرت رکھے۔
جماعت نہ چھوڑے۔
حکومت کا طالب نہ ہو۔
حکومت کا طالب فلاح نہیں پاتا۔
حکام اور معاملات حکام سے گریز کرے۔
بوقت ضرورت سفر کرلے۔
احادیث میں سفر کرنے کی ترغیب وارد ہے۔
مشائخ کا ادب کرتارہے۔
اپنی مدح وذم میں فرق نہ کرے۔
مخلوق کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے۔
ہر شخص کو خود سے افضل سمجھے۔
تزکیہ مامور بہ ہے نہ کہ تزکی
زیادہ نہ ہنسے کہ یہ دل کو مردہ کرتاہے ۔
اللہ تعالی کے ساتھ خوف ورجاء کا تعلق رکھے۔
دنیا اور اس کی آرائشوں سے بچتا رہے۔
سالک کے لئے بہترین صفات
مشائخ کی خدمت کا اہتمام رکھے۔
مشائخ کی کسی بات پراعتراض نہ کرے۔
لوگوں سے سوال نہ کرے۔
لوگوں کا (مال ودولت میں ) مقابلہ نہ کرے۔
اللہ تعالی کادیا ہوا مال بچابچا کر نہ رکھے۔
اللہ کے دئے ہوئے مال میں بخل نہ کرے۔
بخل اور حسد سے دور رہے۔
ظاہر کے سنوارنے کی زیادہ فکر نہ کرے۔
ظاہری بناوٹ کے پیچھے پڑنا باطن کو ویران کرتاہے۔
رزق کے متعلق اللہ تعالی کے وعدوں پر اعتماد رکھے۔
اپنے حالات کسی پر نہ کھلنے دے۔
مخلوق سے دل نہ لگائے۔
ہر ایک معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کردے۔
کسی مخلوق کا آسرا نہ لے۔
اپنے نفس کا محاسبہ کرتارہے۔
بلاضرورت نہ کھائے نہ سوئے۔
اللہ واسطہ کے سماع میں بھی زیادہ نہ بیٹھے۔
سالک ان صفات سے متصف ہوناچاہئے
دینی بھائی بنانے میں احتیاط کرے۔
آخرت کے سفر کے لئے تیار رہے۔
دنیا میں مسافروں کی طرح رہے۔
عقائد کی اصلاح اور علم دین حاصل کرے۔
گناہوں سے توبہ کرے۔
مال وجاہ کے تعلقات کو قطع کرے۔
اپنے شیخ کی مخالفت نہ کرے۔
اپنے شیخ پر کوئی اعتراض نہ کرے۔
شیخ سے باطنی حالات نہ چھپائے۔
شیخ کے سامنے فورا کوتاہی پر معافی چاہے۔
بلاضرورت شدیدہ سفر نہ کرے۔
بہت ہنسے نہیں کسی سے لڑائی جھگڑا نہ کرے۔
اپنے پیر بھائیوں پر حسد نہ کرے۔
لڑکوں اورعورتوں کی صحبت سے بچے
جب تک صاحب نسبت نہ ہوجاوے کسی کو مرید نہ کرے۔
آداب شرع کا بہت پاس کرے۔
مجاہدہ وعبادت میں سستی نہ کرے۔
مجمع میں رہے تو تواضع کے ساتھ رہے۔
دنیا داروں کی صحبت سے پرہیز رکھے
سالک ان لوگوں کی صحبت بچے
اہل اللہ کی صحبت اختیار کرے۔
مذاہب میں ترجیح نہ دے، اپنے مذہب پر عمل کرتارہے۔
سلاسل میں بھی ترجیح نہ دے۔
خرافات سے بچے۔
مغلوبانِ حال پر نکیر نہ کرے۔
خود وہی کرے جو قواعد شرعیہ کے موافق ہے۔
رذائل سےتزکیہ کرے۔
اخلاق حسنہ اختیارکرے۔
گناہوں کا تدارک عمل صالح سے کرے۔
نماز باجماعت وقت پر پڑھے۔
کسی وقت یاد الہی سے غافل نہ ہو۔
لذت ذکر پر شکر بجا لائے ۔
کشف وکرامات کا طالب نہ ہو۔
اپنا حال یا سخنِ تصوف ،غیر قوم سے نہ کہے۔
دنیا ومافیہا کو دل سے ترک کرے۔
خلاف شرع فقراء کی صحبت سے بچے۔
لوگوں سے بقدر ضرورت خلق کے ساتھ ملے۔
اولیاء اللہ کاابتلاء، رفع درجات کے لئے ہوتاہے۔
اظہار ولایت کی کوئی ضرورت نہیں۔
اپنے آپ کو سب سے کمتر جانے ۔
کسی پر اعتراض نہ کرے۔
اپنے متعلقین سے نرمی برتے۔
سکوت وخلوت کو محبوب رکھے۔
اوقات منضبط رکھے۔
د ل میں تشویش نہ آنے دے۔
جو کچھ پیش آوے حق کی طرف سے سمجھے۔
غیر اللہ کا خطرہ نہ آنے دے۔
دینی کاموں میں نفع پہنچاتارہے۔
نیت خالص رکھے۔
خورد ونوش میں اعتدال رکھے۔
کسب حلال اختیار کرے یا توکل کرے۔
حق تعالی کی طلب میں بے چین رہے۔
نعمت پر شکر بجالاوے۔
فقر وفاقے سے تنگ دل نہ ہو۔
غیبت و عیب جوئی نہ کرے۔
اپنے عیوب کو پیش نظر رکھے۔
کسی سے تکرار نہ کرے۔
مہمان نواز ومسافر پرور رہے۔
غرباء ومساکین وعلماء وصلحاء کی صحبت اختیار کرے۔
قناعت وایثار کی عادت رکھے۔
بھوک پیاس کو محبوب سمجھے۔
کم ہنسے اورزیادہ روئے۔
عذاب الہی اور اس کی بے نیازی سے لرزاں رہے۔
موت کا ہر وقت خیال رکھے۔
روزانہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرلیا کرے۔
نیکی پر شکر ،بدی پر توبہ کرے۔
صدقِ مقال واکلِ حلال اپنا شعار کرے۔
غیرمشروع مجلس میں نہ جائے۔
رسوم جہالت سے بچے۔
باوقار وبردبار رہے۔
صفات پر مغرور نہ ہو۔
اولیاء کے مزارات سےمستفید ہوتا رہے۔
گاہ گاہ عوام مسلمین کی قبور پر جاکر ایصال ثواب کرے۔
مرشد کا ادب وفرمانبراداری کامل طور پر بجالاوے۔
ہمیشہ استقامت کی دعا کرتارہے۔
شہوت وغضب کے متضاء پر عمل نہ کریں۔
بے مشور ہ کوئی کام نہ کریں۔
غیبت قطعا چھوڑ دیں۔
غیر ضروری مباح کلام وملاقاتوں سے بھی بچیں۔
بدوں پوری رغبت کے کھانا ہرگز نہ کھائیں۔
بدوں سخت تقاضا کے ہمبستر نہ ہوں۔
بدوں سخت حاجت کے قرض نہ لیں۔
فضول خرچی کے پاس نہ جائیں۔
غیر ضروری سامان جمع نہ کریں۔
سخت مزاجی وتندخوئی کی عادت نہ ڈالیں۔
قلبی سکون کی ایک ہی تدبیر ہے
رفق وضبط وتحمل کو اپنا شعار بنائیں۔
تکلف سے بہت بچیں۔
معاملات کی صفائی کو دیانات سے زیادہ مہتم بالشان سمجھیں۔
رویات وحکایات میں بے انتہا احتیاط کریں۔
بلاضرورت وبلا تجویز دوا استعمال نہ کریں۔
زبان کی حفاظت رکھیں۔
حق پرست رہیں۔
اپنے قول پر جمود نہ کریں۔
تعلقات نہ بڑھائیں۔
کسی کے دنیوی معاملہ میں دخل نہ دیں ۔
خلاف سنت وبدعات سے بچیں۔
حتی الامکان دنیا ومافیہا سے جی نہ لگاویں۔
کسی وقت فکر آخرت سے غافل نہ ہوں۔
ہر وقت موت کے لئے تیار رہیں۔
ہمیشہ گناہوں سے فورا توبہ کرتے رہیں۔
حتی الوسع حقوق العباد سے سبکدوش رہیں۔
خاتمہ بالخیر کے لئے ہمیشہ دعا کریں۔
ایمان حاصل پر شکر کریں۔
ایمان حاصل پر شکر کرنا خاتمہ بالخیر کا یقینی سبب ہے۔
ہمیشہ اپنے ہی علم پر اعتماد نہ کریں
نیک صحبت کی فکر کریں
اپنے باطنی امراض بتلاکر شیخ کی ہدایات پر عمل کریں۔
ہر وقت کسی دینی یامباح دنیوی کام میں مشغول رہیں۔
مشائخ کاکوئی مستحب چھڑاکر ذکر تعلیم کرنا قابل ملامت نہیں
حرام کو حرام اور گناہ کو گناہ سمجھو
کوئی شئی خود باخود حاصل نہیں ہو تی محنت شرط ہے
بزرگ سے دعا کروائیں پر ساتھ دوا(محنت و کوشش) بھی کریں
ہر چیز سے زیادہ اللہ تعالی سے تعلق ہونا چاہئے
غفلت کو دور کرنے کی ضرورت ہے
ہر کام میں حق تعالیٰ کی رضا تلاش کریں
ایک شیخ کامل سے وابستہ ہو نے کی ضرورت ہے
معترضین کی پروا نہ کریں اللہ پر بھروسہ رکھیں
جس درجہ کا مقصود ہو ویسی ہی کوشش ہو
گنہگار پر غصہ کریں لیکن اسے حقیر نہ سمجھیں
کامل کو اپنے اعمال صالحہ کا اظہار کرنا چاہئے
متوسط کے لئے اظہار عمل مضر ہے۔
سالک کو سکوت لازم ہے
سخت مرض (جسمانی وروحانی ) وہ ہےجسے ہلکا سمجھا جائے۔
بزرگوں کی ظاہری خستہ حالی مانع نہیں ہونی چاہئے
بغیر محنت کے صرف خیالات سے کمال نہیں ملتا
مسلمان کو عجائب پرست نہیں ہونا چاہیے
مکمل تحقیق کے بعد اصلاحی تعلق قائم کریں
ہدایت پر ہونا بڑی رحمت ہے
طالب خدا کسی ملامت وطعنہ کی پروا نہ کریں
قبر سے فیض بس صاحب کشف کو ہو سکتاہے
جلوت اور خلوت میں پسندیدہ معمول
کوتاہی معلوم ہونے کےبعد فورا تدارک کریں
طلب کے بغیر کچھ نہیں ملتا
عمل اور مجاہدہ کے بغیر آنسو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں
دل کی اصلاح میں جو مشقت ہے وہ چند روزہ ہے
طریق باطن میں یکسوئی کی بہت ضرورت ہے
خود عمل کیے بغیر نفس میں قوت اعمال پیدا نہیں ہوتی
کسی کی خدمت کر کے دعا کی درخواست نہ کرو
وصول الی اللہ حاصل کرنے کرنے کاطریقہ
حصول حال کا طریقہ
احسان (حق تعالی کا استحضار رکھنا) ایمان کا اعلی درجہ ہے۔
عبدیت کی اہمیت
جن وانس کی تخلیق کا مقصد عبادت و بندگی ہے ۔
عبدیت کی حقیقت
خدا ورسول کی ہر بات کو بے چون چرا مان لینا عبدیت ہے۔
عبادات میں احسان کا معنیٰ
اللہ تعالی کی بندگی(غلامی ) دا ئمی اور لا زوال ہے ۔
کمال عبدیت یہ ہے کہ خود کو اللہ تعالی کے سپرد کردے ۔
عبد کو احکام کے اسرار ومصالح جاننے کاکوئی حق نہیں ۔
طلب اسرار کا منشاء کبر ہے
اپنی تجویز سے امتیازی شان بنانا عبدیت کے منافی ہے ۔
جملہ احکام میں شریعت پر عمل کرنا عبدیت کاباعث ہے ۔
توجہ الی اللہ میں دنیا وآخرت کے مصالح کی رعایت ہے
احسان(حضور) کی اقسام
احسان کی دو قسمیں ہیں۔عبادات میں احسان اور معاملات و معاشرت احسان
عبادات میں صفت احسان کی صورت
معاملات و معاشرت میں صفت احسان کی صورت
دوسروں کے عیوب کو دیکھنا باطنی مرض ہے
خود کو ہمیشہ گناہگار سمجھیں
فیض ونفع کو شیخ کے قبضہ میں سمجھنا شدید غلطی ہے۔
ترک مباحثہ
جھگڑے سے بچنے والے کےلئے نوید
وہ امور جن سے سالک کو محرومی ہوتی ہے
مخالفت شیخ
مخالفت شیخ کا معنی
مشائخ سے عداوت پر وعید
اولیاء اللہ سےعداوت، اللہ تعالی سےعداوت ہے۔
مخالفت شیخ کی مضرتیں
شیخ ابن منصورؒپرمخالفت شیخ کا وبال
مخالفت شیخ سےاکثر دنیا میں ضرر ہوجاتاہے۔
اہل اللہ کی مخالفت میں نقصان ہے
شیخ کی اہمیت
طریقت میں شیخ کی رہنمائی کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔
وصول حق کاطریقہ شیخ کامل کی صحبت وتعلیم ہے۔
مخالفت شیخ کا حکم
مخالفت شیخ پرآخرت میں مؤاخذہ نہیں ہوگا۔
تمام معاصی وتعلقات ماسوی اللہ راہ سلوک میں مانع ہیں۔
بدعتی شیخ سے بیعت رہنا
بیمار کی رائے بھی بیمار ہے ۔(ناقابل اعتبار ہے)
مبتدع شیخ کی بیعت میں سخت گمراہی کا اندیشہ ہے ۔
شیخ فاسق کی تعلیم میں تاثیر و امداد غیبی نہیں ہوتی ۔
تعلیم شیخ سے بڑھ کر مجاہدات کرنا
تعلیم شیخ سے زائد، غایت مجاہدہ بھی مانع سلوک ہے۔
بے شرع پیر کی بیعت
بے شرع پیر کی بیعت پر جمے رہنا بھی مانع ہے۔
بدعتی کی صحبت اعراض عن الحق کا باعث ہے۔
'شیخ من خس۔۔۔'' کا صحیح محمل
کھانے پینے میں بے احتیاطی
طعام وکلام میں بے احتیاطی راہ سلوک میں بہت مضرہے۔
نورالہی حرام خوری کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا۔
حق تعالی سے بدگمانی
حق تعالی سے بدگمانی باطنی ترقی سے مانع ہے۔
دوران اصلاح مصلح بننا
اپنی اصلاح کے دوران اصلاح خلق کی مشغولی موانع میں سے ہے
باوجود قدرت کے ناقص عمل
باوجود قدرت کے ناقص عمل میں ہی لگے رہنا تکمیل سے مانع ہے
اسرار طلب نہ کرنے والے پر ہی اسرار کھلتے ہیں
شیطان کا جرم انکار توحید نہیں بلکہ طلب اسرار تھا
طلب اسرار سے بھی مرض ابلیس پیدا ہوتا ہے
سالک کی لغزشیں
راہ سلوک کی لغزش کے درجات کی تفصیل
سالکین کے لئے خاص دستور العمل(باعتبار اقسام )
سالک کی چار قسمیں ہیں ۔
عامی مشغول کےلئےخاص دستور العمل
عامی فارغ کےلئے خاص دستور العمل
عالم مشغول کےلئے خاص دستور العمل
عالم فارغ کے لئے خاص دستور العمل
سالک عالم فارغ کے لئے بارہ تسبیح میں تکرارِکلمہ طیبہ کا طریقہ وآداب
سالک عالم فارغ کے لئےبارہ تسبیح میں ذکر اثبات مجرد کا طریقہ وآداب
سالک عالم فارغ کے لئےبارہ تسبیح میں ذکر اسم ذات کا طریقہ وآداب
اتباع شیخ
شیخ کی اطاعت شرعی حدود سے مقید ہے۔
معصیت میں شیخ کی اطاعت بھی ایک باطنی مرض ہے۔
شیخ کی خلاف شرع بات قابل اتباع نہیں۔
اتباع شیخ کی اہمیت
غیر محقق کو محقق کی اتباع کے بغیر چارہ نہیں
محقق سے ملنے کی دو صورتیں ہیں
محقق سے ملنے کا پہلا طریقہ غیر مکتسب ہے
محقق سے ملنے کا دوسرا طریقہ مکتسب ہے
کتاب پر اعتماد کرنا اور محقق کےقول پر اعتبار نہ کرنا زہر قاتل ہے
آداب شیخ
شیخ میں علامات ِ کمال موجود ہوں تو تصرفات پر دھیان نہ دے ۔
شیخ و مرید کی باہمی مناسبت شرط ہے ۔
مناسبت شیخ و مرید کامعنی ہے "باہمی موانست و الفت "
شیخ سے طبعی مناسبت نہ ہو تو کم از کم عقلی مناسبت پیدا کرلی جائے ۔
اہل اللہ کی صحبت کے ساتھ اہل دنیا کی صحبت سے بچنا چاہئے ۔
اہل اللہ سے بد اعتقادی نہ رکھنی چاہئے ۔
مشائخ کی شان میں افراط وتفریط دونوں مضرہیں۔
مشائخ کوایک دوسرے پر فضیلت دینے کا حکم
شیخ کے ہوتے ہوئے دوسری بیعت کی صحیح صورت
اپنے شیخ کوافضل ترین سمجھنے کا مطلب
شیخ کامل کی اتفاقی لغزش پراعتراض سے بچنا چاہئے۔
اپنے شیخ کے علاوہ کسی دوسری جگہ حاضری کی دو شرائط
مشائخ کے بظاہر ایہامی کلام کی تردید نہ کرنی چاہئے
متبع سنت مشائخ کی مبہم باتوں کی تاویل کرنی چاہئے۔
مشائخ کی لطیف المزاجی پر بلا وجہ اعتراض نہ کرنا چاہئے۔
مشائخ پر اعتراض کرنے والا فلاح نہیں پاتا۔
بوجہ ایک شیخ سے دوسرے شیخ کی طرف رجوع کے آداب
شیخ اول کو قطع تعلق کی اطلاع ضرور دیں
بزرگوں کی خطا پکڑنا بھی خطا ہے
بزرگوں کے اقوال کی تاویل کریں
حد سے زیادہ تعظیم تکریم سے دوسرے کو ضرر ہوتا ہے
بزرگوں کے عام کلام سے دھوکہ میں نہ پڑیں
بزرگوں کی خطا بھی عوام کے صواب سے بہتر ہے
بڑوں پر اعتراض نہ کرنے میں ہی خیر ہے۔
شیخ کے سامنے خود کو پامال کردینا شرط اول ہے
جانتے ہوئے کسی بزرگ کی غلط بات کی تاویل وتوجیہ کرنا جائز نہیں
بزرگوں کی راحت رسانی کا ہمیشہ خیال رکھیں
تعظیم اتنی ہوجو موجب راحت ہو
اہل اللہ سے تمسخر کا انجام
صحبت شیخ کے آداب
شیخ کی مجلس میں غیبت ہوتو اٹھ جانا چاہئے۔
محب کامل کو شیخ سے ظاہری دوری مانع فیض نہیں۔
اپنے مذاق کو علماءکے تابع کریں ان کو اپنے تابع نہیں
صحبت کا اثر ہونے کے لیے تابعیت شرط ہے
مجلس میں شیخ وسالک دونوں کی نیت دین کی ہو
جتنا شیخ سے قرب ہوتا ہے اتنا ہی نفع زیادہ ہوتا ہے
صحبت شیخ سے مقصود دنیا نہیں ہونی چاہئے
شیخ کامل کی ضرورت واہمیت
شیخ کامل کی رہنمائی کے بغیر نفسانی امراض کا علاج مشکل ہوتا ہے ۔
بے خطر منزل پر پہنچنے کیلئے رہبر کا ہاتھ تھام لینا ضروری ہے ۔
سلوکِ طریق کیلئےشیخ کامل ضرور تلاش کرنا چاہئے ۔
غلبہ حال میں شیخ کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔
بغیرشیخ کے ،بذریعہ کتب اپنی اصلاح کرناعادۃً مشکل ہے۔
اصلاح کے لئے علم وکسی ماہر کی رہنمائی مشروط ہے۔
کسی چیز پر بغیر ماہر کے بتائے اعتماد نہیں کرنا چاہیے
دین کا راستہ صاف ہے مگر رہبر کے بغیر چلنا مشکل ہے
کسی عالم متبع سنت کو اپنا مقتدا بنانے میں ایمان کی حفاظت ہے
شیخ کی تدبیر میں غیبی برکت ہوتی ہے
نرا وظیفہ ہی اصلاح کے لیے کافی نہیں
شیخ کامل کی تلاش کا طریقہ
باعمل علماء کی مدد سے شیخ کا انتخاب کیا جائے
شیخ کامل گھر بیٹھے نہیں ملتا
غور وفکر کے بعد مناسبت تامہ دیکھ کر بیعت کریں
محض مریدوں کی تعریف پر بیعت ہونا بڑی غلطی ہے
شیخ کے انتخاب پر ایمان کی تکمیل و
روحانی امراض کی درستی مرشد کامل کرتا ہے
شیخ کے بغیر کتب فن سے بھی عموما اصلاح نہیں ہوسکتی
ماہر کی تجویز پر تھوڑا عمل اپنے مجوزہ بہت زیادہ عمل سے بہترہے
قیامت کے روز انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے
صالح رفقاء ذکر و عبادت میں بھی مددگار ہوتے ہیں
بزرگوں سے تعلق رکھنے کا نفع
صحبت شیخ کی اہمیت
آدمی کی پہچان اس کے دوستوں سے ہوتی ہے
ہر آدمی اپنے ہم نشین کی مثل اعمال کرتا ہے
تزکیہ کاملہ کا حصول بدوں صحبت کاملین کے ممکن نہیں ۔
ادنی درجہ کا تزکیہ صحبت کاملین کے بغیر بھی میسر ہو سکتا ہے ۔
فضیلت وکمال کا مدار صحبت کامل پر ہے ۔
صحبت ِکامل، تحصیل ِ علم سے زیادہ اہم ہے ۔
صحبت کی اچھائی یا بدی انسان کو متاثر کرتی ہے۔
صحبت شیخ کی اہمیت اور ایک عقلی مثال
اعمال کی توفیق عادۃً صحبت کامل پر موقوف ہے ۔
صالحین کی صحبت قرآنِ کریم کا حکم ہے ۔
صلحاء کی محض مجالست بھی غنیمت ہے۔
مبتدی کے لئے شیخ سے قرب جسمانی امر ضروری ہے۔
اصلاح کے لئےا ہل اللہ کی صحبت بہت ضروری ہے۔
صحبت اہل اللہ ،علم سے زیادہ ضروری ہے
نیک صحبت خلوت سے بہتر ہے
کسی رہبر کامل کا دامن پکڑ لینے میں کامیابی ہے
اسلام کےراستہ کو کسی رہبر کی رہنمائی سے طے کرو
ہر حال میں اہل اللہ سے وابستہ رہنے کی ضرورت ہے
نوجوان عالم کو بزرگوں کی صحبت کی ضرورت ہے
صحبت نیک کی سخت ضرورت ہے
صحبت نیک کابہت اہتمام اور التزام کرنا چاہیے
محض کسی گناہ کی برائی معلوم ہونے سے وہ گناہ نہیں چھوٹتا
اطاعت کا سہل طریق اہل اللہ کی صحبت ہے
علم اور عمل دونوں نیک صحبت پر موقوف ہیں
عمل پر ہمت اللہ والوں کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے
گناہو ں سے بچنا ہے تو نیک صحبت اختیار کریں
جہاد بالنفس عموماً شیخ کی صحبت پر موقوف ہوتا ہے
بری صحبت سے گناہ کی عادت ہو جاتی ہے
صحبت شیخ کا بدل
اگر صحبت میسر نہ ہو تو کم از کم ملفوظات کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔
ملفوظات سے استفادہ کیلئے نیت کا درست ہونا ضروری ہے ۔
حضرت تھانوی ؒ کے ملفوظات بالخصوص بہت مفید ہیں ۔
صحبت شیخ میسر نہ ہو تو پیر بھائی بھی غنیمت ہے۔
نیک صحبت میسر نہ ہو تو خلوت اختیار کرنی چاہئے۔
صحبت شیخ میسر نہ ہو تو پیر بھائی سے استفادہ کرنا چاہئے۔
صحبت میسر نہ ہو تو اصلاح کا دوسرا طریق مکاتبت طویلہ ہے ۔
صحبت شیخ کے فوائد
صحبت مشائخ سے طاعت کی رغبت اور معاصی سے نفرت پیدا ہوتی ہے ۔
پیر کے اعمال و اخلاق کا اثر مرید میں سرایت کرجاتا ہے ۔
مجاہدہ کی طرح صحبت شیخ بھی موثر ہے۔
اہل اللہ کی صحبت قرب خداوندی کاباعث ہے۔
اہل اللہ کی تھوڑی سی صحبت سوسالہ عبادت سے بہترہے۔
یک زمانہ صحبت بااولیاء ۔۔۔کا صحیح مطلب
شیخ کے اخلاق مرید پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔
مشائخ کی صحبت سے کم از کم اپنے عیوب پرنظر ہوجاتی ہے ۔
اہل اللہ کی صحبت کی برکت سے اتباع میں نشاط او ر قوت ملتی ہے ۔
صحبت سے اپنی تحقیق ِ احوال میں تشفی رہتی ہے ۔
تحقیقا ت و مسائل کا خلاصہ ہاتھ آجاتا ہے ۔
مشائخ کی صحبت سے کم از کم برکت تو حاصل ہوجاتی ہے ۔
اہل اللہ کی صحبت کی برکت سےعمل کا شوق بڑھتا ہے ۔
اہل اللہ کی صحبت کی برکت سے اپنی استعداد معلوم ہوجاتی ہے ۔
اہل محبت کی صحبت سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔
مشائخ کی تاثیرِ صحبت سے اصلاح جلد ہوجاتی ہے ۔
اہل اللہ کی صحبت کے مؤثر ہونے کا ایک باطنی سبب بھی ہے۔
بار بار آنے جانے سے اصلاح ہوہی جاتی ہے ۔
صحبت کے نور سے ہرچیز کی حقیقت کھل جاتی ہے اور شبہ جاتا رہتا ہے۔
صلحاء سے محبت کی بدولت ترقی ِ کمال کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔
صحبت کی بدولت سالک کو شیخ کی برکات حاصل رہتی ہیں۔
صحبت شیخ کا فائدہ شیخ وسالک دونوں کو ہوتاہے۔
بزرگوں سے محبت قبولیت ومغفرت کا ذریعہ ہے ۔
اہل اللہ کی صحبت مغفرت اور قبولیت کا باعث ہے
نیک مجلس کی برکت
بزرگوں کی صحبت سے انسان متنبہ وہوشیاررہتاہے
اہل اللہ سے تعلق پر جنت کا حصول آسان ہے
حصول ہمت کی آسان تدبیر نیک صحبت ہے
اہل اللہ کی صحبت سے آدمی عقل مند ہوجاتا ہے
ذوق سلیم اللہ والوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے
مقبولان الہی کی صحبت سے نفع پہنچتا ہے
صحبت اور تعلق کا اثر ضرور ہوتا ہے
نیک صحبت سے دل میں دین کی عظمت پیدا ہوتی ہے
بزرگوں کے ساتھ تعلق بشرط ایمان آخرت میں مفید ہوگا۔
شیخ کی تعیین اور وحدت کی حکمت جانبین کے تعلق کی مضبوطی ہے۔
صحبتِ شیخ ِکامل کی خاصیت
سالک کے لیے متفرق امور
ذکر واذکار تجویز کرنے کے متعلق
سالک کے لئے ذکر ماثور کے علاوہ اذکار تجویز کرنےکی حکمت
سالک کے لئے ذکر کے آداب
سچے سالک کو ثمرہ ضرور ملتا ہے ۔
طریقت کا اخرو ی ثمرہ رضا ءحق ہے ۔
شیخ و مرید کا باہمی معاہدہ ہی پیری مریدی کی حقیقت ہے ۔
صحبت کے لئے رسمی علم کا ہونا ضروری نہیں ۔
سلیم الطبع کیلئے اہل اللہ کو ایک نظر دیکھنا لینا ہی کافی ہوتا ہے ۔
اہل طریق کے نزدیک سلوک کی ترتیب / خلافت کاملہ کا حصول
سلوکِ طریق سے پہلے سابقہ حقوق و واجبات کی ادائیگی بہت ضروری ہے ۔
مقصود سلوک کی تحصیل، تعمیل شریعت اور ذکر بدوام سے ہے۔
سلوک میں سب سے بڑی دولت جمعیتِ خاطر ہے ۔
تمام تر سلوک کی اصل اجتناب عن المعصیت ہے ۔
سلوک کا خلاصہ دو چیزیں ہیں :طاعت وذکر
تمام سلوک کا مقصد فنافی الحق یعنی تخلق باخلاق اللہ ہے۔
احکام شرعیہ پر استقامت، تخلق باخلاق اللہ ہے۔
سلوک کا اصل موضوع نفع فی الدین ہے۔
مقامات سلوک کاطے کرنا دائمی امر ہے۔
ہر شخص راہِ سلوک طے کرنے کی اہلیت رکھتاہے۔
سلوک عمل بالشریعت کا نام ہے
مبتدی کواسم ذات کی کثرت دیگر اذکار سے زیادہ مفیدہے ۔
توجہ الی اللہ کے لئے جمعیت خاطربہت ضروری ہے ۔
مبتدی کے لئے توجہ الی اللہ انتشار فکر کی وجہ سےمشکل ہے ۔
غیر منزل پر اطمینان ،ہمیشہ وصول منزل سے محروم رکھتاہے۔
نفسانی خواہشات سے بچنا روحانی ترقی کاسبب ہے۔
تمام کوتاہیوں کا اصل علاج ،بجز ہمت کے کچھ نہیں۔
لذت کے بغیر عمل کرنا زیادہ مفید ہے۔
کسی صاحب حال کی عبارت موہمہ پر اعتراض نہ کرنا چاہئے۔
شیطان سے بچنے کی ایک ہی صورت ہے
ازالہ غفلت کی ہر عمل میں ضرورت ہے
حالات مشتبہ ہوتے ہیں
دل ہر وقت زیر زبر ہوتا رہتا ہے
راحت اور سستی میں فرق
وعظ کی مجلس بھی مجلس ذکر ہے
عمل میں دوام دل میں پیدا ہونے والے داعیہ سے ہوتا ہے
سعید وہ ہے جو دوسرے کی حالت دیکھ کر عبرت حاصل کر لے
اپنے برے عمل کو اچھا سمجھنا نفاق کی علامت ہے
کیفیات کی طرف نفیاواثباتا متوجہ ہونا حجاب ہے۔
ضررواضرارسے بچنے کےلئےباطنی احوال کو چھپاناچاہئے۔
حقیقی طالب کی پہچان
طالب صادق سے بھی صدور گناہ کی وجہ
سلوک جذب سے مقدم ہے
سلوک سے پہلے اگر جذب طاری ہوجائے تو بند ہ مجذوب ہوجاتا ہے
مرید کا اصل کام اتباع ہے
شرم کی وجہ سے اپنے امراض کو معالج سے چھپایا نہ کرو
فضائل غیر اختیاریہ کے حصول پر شکر اور عدم حصول پر صبر کریں
اپنے ہر قول وعمل میں عدل وانصاف کا لحاظ رکھیں۔
تمام تر احکام واعمال میں اپنا رخ درست رکھنا چاہئے
سالک اپنے اعمال پر فخرو غرور نہ کرے
کوشش کے باوجود علاج نہ ہوتوفوراً شیخ کو اطلاع کردینی چاہئے۔
مبتدی کاصرف قبرشیخ سے فیض حاصل کرناناکافی ہے۔
مبتدی کاخود کومستقل سمجھنا ہلاکت کاباعث ہے۔
تمام طرق اور سلاسل کا مقصود نسبت سکینہ کا حصول ہے ۔
نسبت مع اللہ کی حقیقت دائمی رضا الہی ہے ۔
قرن حاضر اور قرن اول کی نسبتِ قلبی میں فرق/شاہ عبد العزیزؒ کاخواب
قوی نسبت کے لئے تین اعمال کی ضرورت ہے ۔نماز ،تلاوت و ذکر
روحانی نسبت، معاصی کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔
فاسق وکافر صاحب نسبت نہیں ہوسکتا۔
نسبت روحانی وہ مطلوب ہے جو دوطرفہ ہو
ماضی و مستقبل میں الجھنے کے متعلق مولانا رومیؒ کا قول
اللہ تعالی سے ناراضگی کی بدگمانی سے تعلق مع اللہ ختم ہوتا چلا جاتا ہے ۔
اولیاء اللہ خوف وغم سے آزاد ہونگے۔
سالک کو سلوک میں ترقی کی فکر میں رہنا چاہیے
اصلاح باطن ایک ہی شیخ سے کرانی چاہئے
نیکی کر دریا میں ڈال
دین کے معاملہ میں اپنے سے برتر کو دیکھو
شیخ کاکام بس رہنمائی ہے اصل عمل سالک کوخود کرنا ہے
حضرات صحابہ کرام کی اصلاح تدریجا ہوئی
باطنی حدود غیر اختیاری ہیں ان میں اللہ تعالی سے دعا کرنی چاہئے
مبتدی کو وعظ کہنا منع ہے
مقبولیت محض مشائخ کی دعاہی سے حاصل نہیں ہوتی
شیخ کی دعا کے ساتھ ساتھ محنت وکوشش بھی کرنی چاہئے
شیخ کی صحبت میسر نہ ہوتوفضول مجلسوں کے بجائےبیوی کے پاس بیٹھو
مبتدی کے لئے اوراد چھوڑکر تعلق مع الخلق میں پڑنا مضر ہے
تصوف کی کتابیں بیکار نہیں بلکہ شیخ کے لئےکارآمد ہیں
بزرگوں کے ہاتھ سے جوذلت ہو وہ ذلت نہیں
احوال غیر اختیاری ہیں وہ مطلوب نہیں
اصلاح اس کی ہوتی ہے جس کی نظر اپنے عیوب پر ہو
باطنی کلفت پر راضی رہنا بڑا صبر ہے
طریقت میں تقویٰ و دانش پر بھروسہ کفر ہے
بزرگوں سے اپنے حال کا اخفا مناسب نہیں
بزرگوں سے ملاقات میں ہدیہ کا التزام ہر گز نہ کریں
دوسروں کے عیبوں کا دیکھنا ایک زہریلا مرض ہے
ہر شخص کو اپنی اچھائی اور برائی کی فکر ہونی چاہیے
سالک کے لئے دوسروں کو الزام دینا مناسب نہیں
قیل قال میں نہیں پڑنا چاہیے
جو بات اور کام کرو لوجہ اللہ کرو
لوجہ اللہ بات کرنے کی علامت
مبتدی کتب سے معمول مقرر نہ کرے شیخ سے رجوع کرے
حس روحانی کو ترقی منظور ہو تو مرشد کامل سے رجوع کرو
غیر اللہ میں منہمک ہوجانا کوئی پسندیدہ شئے نہیں
صالح بننا آسان ہے مصلح بننا مشکل ہے
صوفی کی مشابہت بھی قابل قدر ہے
سالک عمل میں مشغول رہے سوالات نہ کرے
محقق کی اجازت کے بغیر کوئی کتاب مت دیکھو
محقق سے حاصل کرنے کی اصل چیز وصول الی اللہ ہے
محقق سے اپنا کوئی عیب مت چھپاؤ
جب مصلح کے پاس آئے ہو تو اپنی رائے چھوڑ دو
شیخ محقق اگر خلاف شرع کام کرے تو حتی الامکان تاویل کرو
شیخ محقق اگر باربار غیر شرعی کام کرے تو اسے چھوڑدو
شیخ محقق کے غیر شرعی کام پر بھی اس کی گستاخی نہ کرو
اپنی ہمت اور طاقت کے موافق اعمال کریں
ترقی باطن میں تسلی شیخ کو بڑا دخل ہے
تسلی شیخ کا سب سے بڑھ کر طریقہ مشورہ ہے
سالک کا کام طلب ہے نہ کہ تحصیل مقصود
صلحاء کی ریاءًصورت بنانے والے کی بھی قدر کریں
وقت کو غنیمت جانیں
اعمال
ثمرۂ اعمال
رضائے الہی
رضائے الہی کی فضیلت
اللہ تعالی کی رضا بہت عظیم الشان ہے ۔
حق تعالیٰ کی رضامندی بڑی دولت ہے
رضائے الہی کی اہمیت
دعا میں اللہ تعالی کی رضا طلب کرنا مسنون ہے ۔
انسانیت اللہ کی رضا کا نام ہے(مولانا رومیؒ)
رضا الہی کی تعریف
رضائے الہی کے فوائد
رضا الہی کا خاصہ سہولت ِ اطاعت اور حضور دائم ہے ۔
رضائے حق کے علم سے ناگواریاں بشاشت میں بدل جاتی ہیں
رضائے الہی وہبی ہے کسبی نہیں ۔
رضائے الہی کبھی زائل نہیں ہوتی ۔
رضائے الہی کے عدم زوال پرایک اشکال اور اس کا جواب
تحصیل رضائے الہی کی تدابیر
اللہ تعالی سے اس کی رضا خوب مانگیں ۔
طاعات میں صرف خدا کو مطلوب سمجھیں ۔
کیفیات کو ہر گز مطلوب نہ سمجھیں ۔
صرف عمل کو مقصود سمجھیں ۔
رضائے الہی کا ذریعہ اللہ تعالی کاذکر(یاد ) ہے ۔
اعمال صالحہ اختیار کرنےپر اللہ تعالی کی رضانصیب ہوتی ہے۔
قرب ووصول
جو بندہ اللہ تعالی کی طرف آئے اللہ تعالی اس کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں ۔
قرب کی اقسا م
قرب حقیقی
حق تعالی کے ساتھ کسی کو قرب حقیقی نہیں ہوسکتا ۔
قرب مجازی(قرب رضا )
قرب مجازی (قرب رضا ) کی تحقیق
قرب وبعد ِرضا کی حسی مثال
قرب علمی
قرب تعلق خصوصیات
قرب کی دو قسمیں ہیں کسبی ووہبی
مراتب قرب
قرب نوافل/فنائے صفات
قرب فرائض /فنائے ذات
تقرب بالفرائض ،تقرب بالنوافل سے افضل ہے ۔
قرب کے درجات
قرب کے مختلف درجات ہیں۔
کثرت اموال واولاد قرب الہی کا سبب نہیں ۔
قرب الہی کی فضیلت
قرب الہی کمال دین و ایمان کا نام ہے ۔
قرب الہی انسانیت کا بلند ترین مقام ہے ۔
خدا کا قرب جس کو ہو اس پر حقیقت مصیبت نہیں آسکتی
قرب الہی کی اہمیت
قرب الہی تصوف کا ہی قرآنی نام ہے ۔
مقصود اصلی رضائے الہی ہے ۔
قرب الہی کے احکام
قرب ووصول وہی معتبر ہے جو رضا کے ساتھ ہو ۔
قرب جو رضا کے ساتھ ہو وہ مفید ہے
قرب الہی کی کوئی حد نہیں ۔
قرب اور اس کا ہر درجہ طبعاً محبوب ہے ۔
عاشق قرب کے کسی بھی درجہ پر صبر نہیں کرسکتا ۔
قرب جانبین کے تعلق سے بڑھتا ہے ۔
بندہ کی طلب (عمل )پر حق تعالی کا تعلق ِقرب بڑھتاہے ۔
عالم ارواح میں بھی قرب تھا لیکن محدود تھا ۔
قرب کی ترقی کے لئے طلب اور سعی کی ضرورت ہے ۔
دنیا میں بھی حق تعالی سے قرب بصورت بعدحاصل ہے ۔
عبد، درجات ِقرب میں جتنی چاہے ترقی کرسکتا ہے ۔
قریب وواصل، فی الحقیقت بندہ کے بجائے اللہ تعالی کی ذات ہے ۔
قرب ووصول اللہ کی حسی مثال
وصول الی اللہ کےلئے طلب و سعی ضروری ہے ۔
قرب الہی کی تحصیل کی تدابیر
قرب الہی کی تحصیل کی تدابیر
اللہ تعالی سے دعامیں انکا قرب مانگیں۔
اپنے اوپر نظر کرنا چھوڑدیں ۔
تکبر کو دماغ سے نکال دیں ۔
حق تعالی کے سامنے الحاح والتجا کریں ۔
تفویض کلی او رعبدیت کاملہ اختیار کریں ۔
اخلاق رذیلہ اور معاصی سے چھٹکارا پائیں ۔
غفلت سے گریز کریں ۔
اعمال صالحہ میں مسابقت قرب الہی کا ذریعہ ہے ۔
قرب الہی اعمال اختیاری سے حاصل ہوجاتا ہے ۔
اللہ تعالی کاقرب و معرفت انکی عنایت کے بغیر ناممکن ہے ۔
قرب الہی کا مختصر ترین راستہ (حضرت بسطامیؒ کا خواب )
اللہ تعالی کی مشیت کے بغیر وصول ممکن نہیں
قرب الہی دین کو دین کے طریقے سے کرنے سے حاصل ہوتا ہے
قرب ووصول (ثمرہ من الحق)
تصوف کاثمرہ رضاوقرب حق ہے۔
سکون تام مقصود حقیقی پر پہنچ کر ہوسکتا ہے
حق تعالیٰ کا طالب کو فورا واصل نہ کرنے میں حکمت
غایت قرب میں تحیر پیداہوتا ہے
ہر شخص کو اس کے اعمال کا ثمرہ ضرور ملے گا ۔
اچھے یا برے عمل کا نتیجہ اپنی ذات پر وارد ہوتا ہے ۔
کامل ثمرات ، کامل اعمال پر موقوف ہیں۔
ایمان وعمل صالح کی جزاء دوہرا اجراور جنت ہے ۔
حصولِ ثمر کے لئے دعا کرنی چاہئے ۔
عمل صالح کانفع معلوم نہ بھی ہو حاصل تو ہوتاہی ہے۔
تعلق مع اللہ
قرب خداوندی کےحصول کا طریقہ
فضیلت کا مدار قرب الہی واخلاص عبادت پرہے۔
شیخ سے متعلق امور
شیخ کامل کی علامات
شیخ کامل ،معرفت اور عشق الہی کا سر چشمہ ہوتا ہے ۔
شیخ ، صالح و مصلح ہونا چاہئے۔
شیخ علم شرعی سے بقدر ضرورت واقف ہو ۔
شیخ پابند شرع ہو ۔
شیخ تارک دنیا ہو ۔
شیخ طاعات پر مداومت رکھتا ہو
شیخ مدعیِ کمال نہ ہو ۔
خود شیخ نے بزرگوں کی صحبت اٹھائی ہو۔
شیخ مریدین پر شفیق ہو ۔
شیخ کے مریدین میں سے اکثر دیندار ہوں ۔
منصف علماء اس شیخ کو اچھا سمجھتے ہوں ۔
اس شیخ کی طرف خواص کا میلان زیادہ ہو ۔
شیخ کے پاس بیٹھنے سے روحانی فائدہ ہوتا ہو۔
شیخ خود بھی ذاکر و شاغل ہو۔
ولی وہ ہے جسے دیکھ کر اللہ تعالی یاد آجائیں ۔
کاملین پر عجز و نیاز کا غلبہ ہوتا ہے ۔
کاملین صدیقین اختلاط میں بھی لغویات سےپرہیز کرتے ہیں ۔
بہترین شیخ کامل کی تین علامات
شیوخ اور مربین کشش کرتے ہیں
کاملین کی مثال
شیخ کامل وغیر کامل(متصنع) میں امتیاز کا معیار
شیخ کامل وہ ہے جو صاحب کمالات ہو
ضعف قلب بزرگی اور ولایت کے منافی نہیں
کامل صاحب نظر وہ ہیں جو شریعت وطریقت کے جامع ہوں
تمنائے موت اولیاء اللہ کا کام ہے
مشائخ کو امراض قلبی کا علم ہوجاتا ہے
وہ شیخ قابل انتخاب ہے جو علم و محبت کا جامع ہو
جو شیخ عاقل کامل نہ ہو اس سے بیعت کرنا جائز نہیں
شیخ محقق شفقت وعقل میں ماں اورباپ کی طرح ہے
شیخ کامل طالب کی تسلی ودلجوئی کرتاہے
شیخ کی کشش کے سبب مرید جلد عروج حاصل کر لیتا ہے
شیخ کامل شبہات اور تعارض کو دور کرتا ہے
اہل اللہ باطنی خواص وکیفیات کو خوب ترجانتے ہیں ۔
محققین ومحقین کے اقوال واحوال باہم متعارض نہیں ہوتے ۔
کامل کوبوجہ کمال حال،اپنے کشف پریقین نہیں ہوتا۔
اہل اللہ حوادث سے نہیں گھبراتے
اہل اللہ کو موت سے بجائے خوف کے مسرت ہوتی ہے۔
صوفیہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتے ہیں
کاملین ضروری توجہ الی الخلق میں بھی خالق سے غافل نہیں ہوتے
عارف کا اعوذباللہ پڑھنا محض محبوب کے حکم کی تعمیل ہے
ہدایات برائے شیخ
ناخواندہ لوگوں کی اصلاح قلب کا ایک طریقہ
شیخ کوئی بھی مناسب شغل تجویز کرسکتاہے ۔
عوام کو کشف والے اشغال تعلیم کرنا مناسب نہیں ہے ۔
اصلاح کامسنون طریقہ بس وعظ ونصیحت اوردعاہے۔
شیخ کوبھی کمالات میں ترقی کرنی چاہئے۔
شیخ کو دعوائے کمال نہ کرناچاہئے۔
اظہار نعمت میں مضائقہ نہیں
شیخ کوافشائے طریق پر حریص رہنا چاہئے۔
شیخ کومریدین پر شفقت ومحبت کرنی چاہئے۔
شیخ کو مریدین کی خطا سےدرگزر کرنا چاہئے۔
اہل دنیا کی خاطر مریدین کوپیچھے نہ ہٹاناچاہئے۔
شیخ کومریدین سے دنیوی توقعات نہ لگانی چاہئیں۔
شیخ کو ایذائے خلق پر صبر کرنا چاہئے۔
شیخ کومتانت ووقار سے رہنا چاہئے۔
شیخ کو مریدین میں بلاوجہ امتیاز نہ کرنا چاہئے۔
شیخ کوخلقت کی بداعتقادی سے بچنا چاہئے۔
شیخ کو طالب کی استعداد کابہت خیال کرنا چاہئے۔
کسی کی فوری ضرورت کے وقت ملنےسے انکار نہ کرنا چاہئے۔
کاملین کو بھی ہمہ دم اصلاح نفس کی فکر رکھنی چاہئے۔
مشائخ امراء سے میل جول میں احتیاط کریں۔
شیخ کو چاہیے مر ض کو سمجھ کر دوا بتائے وگرنہ نقصان ہوگا
کبھی کبھی مریدین سے مزاح بھی کرلینا چاہئے
مریدین کی تعلیم وتربیت ہی ان کا ادب ہے
شیخ کامل سالک کی بتدریج تربیت کرتاہے
شیخ کو چاہئے کہ ضعیف النفس کو مال جمع کرنے سے نہ روکے
ہر حالت میں ہر شخص کو تلقین صبر وتوکل کرنا مناسب نہیں
افراط شفقت مرض ہے
اصلاح میں نرمی اور سختی دونوں کی ضرورت ہے
اصلاح میں سختی کے موقع پر نرمی کرنا ظلم ہے
سختی شفقت ودل سوزی کے ساتھ ہوآزاری نہیں ہوتی
نرمی کی دو قسمیں ہیں
سختی کی دو قسمیں ہیں
اصلاح و تعلیم تواضع کی نیت سے کبھی خدمت بھی لینی چاہئے
علماء کو امراء کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہیے
کسی شخص کی اصلاح مجمع عام میں نہ کی جائے
کثرت معتقدین سے خوش نہیں ہونا چاہئے
نفع شفقت کے تعلق سے ہوتا ہے ضابطہ کے تعلق سے نہیں
مریدین کے ساتھ بے جا رعایت بگاڑ کا سبب ہے
ہر شخص کو اس کے حال کے مناسب تعلیم دی جائے
شیخ کا فرض منصبی خواب کی تعبیر دینا نہیں ہوتا
ہر شخص کو حسب استعداد تعلیم کرنی چاہئے
شیخ کے دو کام ہیں تعلیم ذکر واصلاح
ذکر اصلاح میں اعانت اور برکت کے لیے ہے
مصلح کوتفتیش حالات کی اجازت ہے
مصلح کو بھی تفتیش کی اجازت جب ہے جب مقصود اصلاح ہو
مقتداء غیبت سے بچنے کی زیادہ فکر کریں
لوگوں کی اصلاح کی نیت سے ان سے میل جول پیدا کریں
اصلاح میں لوگوں سے وہی برتاؤ کیا جائے جو اپنی اولاد سے کیا جاتا ہے
لوگوں سے بقدر استطاعت سرسری اطاعت قبول کرلینی چاہئے
مشائخ مکالمات میں الجھنے سے اعراض فرماتے ہیں۔
اصلاح سالک کے اصول
نرم روی سے دشمن کی بھی اصلاح ہوجاتی ہے ۔
کج روؤں کی اصلاح کے لیے سختی کی ضرورت ہے
غصہ میں اصلاح کے لیےسختی کی اجازت نہیں
شیخ کے لیے متفرق امور
تربیت ِ سالکین کے لئے تجدیدی ر اہِ عمل
تکمیل وتربیت کی فکر کرنے سے محبت ہوجاتی ہے ۔
تربیت کے دو طریق ہیں جذب وسلوک جذب
مرض کا علاج ازالہ سبب ہے
شیخ محقق اور غیر محقق کے علاج میں بہت فرق ہے۔
مشائخ کی تین قسمیں ہیں
شیخ کامل کامصداق
شیخ(صاحب سلسلہ) کی تعریف
مشہورشیخ(صاحب سلسلہ) چار ہیں۔
تنبیہا ًمرید سے قطع تعلقی
محض تنبیہاًمرید سے قطع تعلقی حدیث سے ثابت ہے۔
اختلاف تعلیم حسب استعداد
حضور اکرم ﷺ حسب استعداد تعلیم وتلقین فرماتے تھے۔
مشائخ ہر شخص کو حسب استعداد تعلیم فرماتے ہیں۔
مشائخ کی اخفاء تعلیم کی حکمت
مشائخ کی اخفاء تعلیم کی دوسری حکمت
مبہم بات سے امتحان لینا
امتحاناً وضرورۃً طالب سے مبہم کلام کرنا جائز ہے۔
لطیف المزاج ہونا
مشائخ کی لطیف المزاجی حدیث سے ثابت ہے۔
لطیف المزاجی حد شرع سے متجاوز نہ ہونی چاہئے۔
حضور اکرم ﷺ نہایت لطیف المزاج تھے۔
مشائخ کا فرض منصبی نفس کی اصلاح ہے
ضبط اوقات ، خلوت و دربان بٹھانا
ضبط اوقات ، خلوت میں خاص مجلسیں اور دربان بٹھانا جائز ہے۔
مشیخت کےلئے فرزندگی اورتبرکات معیارنہیں۔
مجاہدات وریاضات
مجاہدہ کی تعریف
مجاہدہ کی حقیقت
مجاہدہ ترک محرمات وترک مباحات کا نام ہے
مجاہدہ کی حکمت
مجاہدات کو ایجا د کرنے کی وجہ
روحانی تنزل کی تلافی کیلئے مجاہدات ایجاد کیےگئے ۔
منافع نفس دو قسم کے ہیں ۔ حقوق و حظوظ
مجاہدہ میں حظوظ(لذات و منافع) کی تقلیل ہوتی ہے ۔
نفسانی تقاضوں کی تین قسمیں ہیں ۔ مذمومہ ، محمودہ اورمحتملہ (جویقینا ً مذموم ہیں نہ محمود )
اقتضاءات مذمومہ کی مخالفت ضروری ہے ۔
اقتضاءات محمودہ کی موافقت ضروری ہے ۔
اقتضاءات محتملہ کی تقلیلا مخالفت مستحب ہے ۔
اقتضاءات محتملہ کی مخالفت، اقتضاءات مذمومہ کی مخالفت کے لیے موقوف علیہ ہے ۔
مباحات کا تقاضا زیادہ ہو تو شیخ سے رجوع کرے ۔
بلحاظِ ارکان ،مجاہدہ کی دو قسمیں ہیں :مجاہدہ جسمانیہ اور مجاہدہ نفسانیہ
مجاہدہ جسمانیہ
مجاہدہ نفسانیہ
مجاہدہ نفسانی میں آسانی کے لئے مجاہدہ جسمانی کیا جاتاہے۔
اگر مجاہدہ جسمانی کے بغیر نفس پر قدرت ہوجائے تو مجاہدہ نفسانی کی ضرورت نہیں ۔
مجاہدہ کی دو اقسام ہیں :اختیاری واضطراری
مجاہد ہ اختیاریہ
مجاہدہ اضطراریہ
مجاہدہ اختیاریہ میں فعل (اعمال صالحہ ) کا غلبہ ہوتا ہے۔
مجاہد ہ اختیاریہ اور مجاہدہ اضطراریہ کو جمع کرنا محمو د و مطلوب ہے ۔
مجاہدہ اضطراریہ مجاہدہ اختیاریہ سے زیادہ کارآمد ہوتا ہے ۔
مجاہدہ اضطراریہ میں انفعال کا غلبہ ہوتا ہے جس سے قابلیت بڑھتی ہے۔
مجاہدہ اضطراریہ سے عمل میں قلت بھی ہو جائے تب بھی کامل ثواب ملتاہے ۔
مجاہدہ کی مزید دو اقسام ہیں ۔ مجاہدہ حقیقیہ اور مجاہدہ حکمیہ
مجاہد ہ حقیقیہ
مجاہد ہ حقیقیہ کی اہمیت
حقیقی مجاہدہ کا اہتمام نہ کرنا جہلاء صوفیہ کی غلطی ہے ۔
مجاہدہ حکمیہ
مجاہدہ حکمیہ کی اہمیت
مجاہدہ حکمیہ ،مجاہدہ حقیقیہ کی تسہیل کےلئے ہے ۔
مجاہدِ کامل، مجاہدِ نفس ہے ۔
مجاہدہ منصوص(نص میں مذکور ) ہے ۔
مجاہدہ حکمیہ کو غیر ضروری سمجھنا زاہدانِ خشک کی غلطی ہے ۔
مجاہدہ تمام شریعت کی روح ہے ۔
مباحات میں نفس کو بالکل آزاد رکھنے سے معصیت سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔
عموماًمجاہدہ حکمیہ کے بغیر اتباع شریعت میں سہولت نہیں ہوتی ۔
اللہ تعالی کے ہاں افضل و اکمل عمل وہ ہے جو مجاہدہ کے ساتھ ہو ۔
مجاہدہ اتباعِ شریعت کا نام ہے ۔
مخالفت نفس کی عمر بھر ضرورت ہے ۔
منتہی کا مجاہدہ سے اپنے کو مستغنی سمجھنا سخت غلطی ہے ۔
اصلاح اعمال و اصلاح نفس کا مدارِ عادی مجاہدہ پر ہے ۔
نفس کو معصیت سے روکنے کیلئے مباحات سے روکنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے ۔
سارے دین کی روح مجاہدہ ہے۔
احیاء قلب کے لیے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے
بلند مرتبہ مجاہدات سے حاصل ہوتا ہے
مجاہدہ کی ضرورت دائمی ہے
نفس کا ذبح مجاہدہ سے ہوتا ہے
مشقت اور مجاہدہ سے عمل کا ثواب بڑھ جاتاہے
مجاہدہ حکمیہ کے احکام
شریعت نے ہرمجاہدہ کو کسی نہ کسی عمل کے ساتھ مشروط فرمایا ہے ۔
تقلیل طَعام (روزہ )کے ساتھ متعدد اعمال کی ترغیب ہے ۔
تقلیل منام قیام اللیل سے منسلک ہے۔
تقلیل کلام کا تعلق کثرت اذکار سے ہے ۔
تقلیل الاختلاط کے لئے اعتکاف مشروع ہے۔
مجاہدہ بالعمل کی حکمت قلب کی شیطان سے حفاظت ہے ۔
زمانہ متقدمین کے مجاہدات ،طبائع حاضرہ کے موافق نہیں ہیں ۔
مجاہدہ حکمیہ بشرط ضرورت ، بقدرِ ضرورت جائز ہے ۔
مجاہدہ شیخ کامل کی تعلیم کے موافق ہونا چاہئے ۔
مجاہدہ میں توسط اور اعتدال ہونا چاہئے ۔
شریعت میں مجاہدہ محض تبدیل عادت کانام ہے۔
مطلقاً مخالفت نفس کا نام مجاہدہ نہیں ہے ۔
مجاہدہ کا محل وحی سے معلوم ہوگا نہ کہ محض رغبت یا عدم رغبت سے ۔
ترک لذات (مجاہدہ )کو بدعت نہیں کہا جاسکتا ۔
ترک لذات کو تقرب کی نیت سے اختیارکرنا بدعت ہے ۔
مستحسن محنت ومجاہدہ وہی ہے جس پر اچھا ثمرہ مرتب ہو
مخالفت ِنفس، حد اباحت سے متجاوز نہ ہونی چاہئے ۔
مجاہدہ میں غلو ممنوع ہے۔
اہل عشق کوغلبہ محبت میں افراطِ مجاہدہ مضر نہیں ہوتا۔
مشقت میں ثواب تب ہے جبکہ مقاصد میں مشقت ہو
مقاصد میں مشقت اس وقت موجب اجر ہے جب کوئی سہل طریق نہ ہو
اصلاح نفس کے بعد مجاہدہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے
اعتدال کا اتباع کرو ہر مشقت میں مجاہدہ اور ثواب نہیں ہے
مجاہدہ حکمیہ کی غایت
ترک لذات سے مقصود نفس کی قوت توڑنا ہے ۔
مجاہدہ حکمیہ کی فضیلت
مجاہدہ حکمیہ بھی مجاہدہ حقیقیہ ہی کی طرح فضیلت والاعمل ہے۔
مجاہدہ میں افراط وتفریط
مجاہدہ حکمیہ کی حد افراط وتفریط
زیادہ مجاہدہ قرب کا مدار نہیں ہے
مجاہدہ میں افراط وتفریط کی مضرتیں
مجاہدہ میں افراط سے عمل متروک ہوجاتاہے۔
مجاہدہ میں افراط سے صحت بھی خراب ہوجاتی ہے۔
مجاہدہ میں افراط جنون کا سبب بھی ہوسکتاہے۔
مجاہدہ میں افراط سے صحت و قوت زائل ہوجاتی ہے۔
مجاہدہ میں تفریط سے غفلت و قساوت وکاہلی پیدا ہوتی ہے ۔
مجاہدہ حکمیہ کے فوائد
ریاضت ومجاہدہ کی بدولت شریعت ،طبیعت بننے لگتی ہے ۔
مجاہدہ کرنے والے کو ہدایت ملتی ہے ۔
ہدایت صرف اس مجاہد ہ پر ملتی ہے جو شریعت کے مطابق ہو ۔
نفس کے خلاف مجاہدات سے استقامت حاصل ہوتی ہے
مجاہدہ حکمیہ کی شرعی حیثیت
صرف عملامجاہدہ کو مقصود سمجھنا بھی مایوسی اور کم عملی کا باعث ہے ۔
مجاہدہ حکمیہ کی حسی مثال
متفرق باتیں
کبھی ترک لذات غلبۂ محبت ِالٰہی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
کسی کام کے التزام کے بعد وہ کام آسان ہوجاتاہے۔
کافر کامجاہدہ اسے کفر پر پختہ کرتاہے۔
عارف کا مجاہدہ مخالفت نفس ہے
بزرگوں کو استقامت مجاہدہ کی بدولت ملی
مجاہدات سے نفس کے حملے ضعیف الاثر ہوتے ہیں ختم نہیں
حقیقی مجاہدہ ہمت کا نام ہے
مجاہدے میں دو چیزیں ہیں
مجاہدہ کے آداب
درجہ اعتدا ل کسی محقق سے معلوم کرنا چاہئےاپنی رائےکا اعتبار نہیں
مجاہدہ میں افراط و تفریط سے بچنا چاہئے۔
اتنی مشقت برداشت نہ کرو کہ نفس گھبرا کر عمل چھوڑ دے
فراغت کے ساتھ مجاہدہ کرنا زیادہ کارآمدہوتا ہے
مجاہدہ حکمیہ کے چار رکن ہیں
فی زمانہ صرف قلت کلام وقلت اختلاط تجویز کیا جائے
پہلا رکن : کم کھانا
زیادہ کھانے کی مضرتیں
بے اعتدالی سے کھانا اسراف ہے ۔
کثرتِ طَعام ، قلتِ طاعت کو لازم ہے ۔
گناہوں کا عمومی سبب پیٹ بھر کا کھانا ہے
حد سے زیادہ کھانا کم کردینے کی مضرتیں
قلتِ طَعام میں افراط سے عبادت میں خشوع نہیں رہتا۔
حد سے زیادہ کھانا کم کردینے کے دو ضرر ہیں :ایک جسمانی ،دوسرا روحانی
حد سے زیادہ کھانا کم کردینے کاجسمانی ضرر ضعف و ناتوانی ہے ۔
حد سے زیادہ کھانا کم کردینے کاروحانی ضررصفات ملکیہ سے محرومی ہے ۔
کم کھانے کے متعلق احکام
اعتدال کے ساتھ کھانے پینے کا اللہ تعالی نے حکم فرمایا ہے
تقلیل طَعام کے گزشتہ واقعات اب قابل اتباع نہیں ہیں۔
فضائل صرف غیر اختیاری بھوک پر وارد ہیں ۔
غیر اختیاری بھوک ترقیِ درجات کا باعث ہے ۔
اختیاراً کم کھانا اور بھوکا رہنا شرعی مجاہدہ نہیں ۔
نبی ؐ،صحابہؓ وتابعینؒ سب کی بھوک غیر اختیاری تھی ۔
حلوا نہ کھانے پر حضرت حسن بصریؒ کی نکیر
پاکیزہ وزینت کی نعمتوں کو استعمال کرناحکم الہی ہے ۔
رزق حلال کھانے کا مرسلین کوبھی حکم ہواہے ۔
سالک کو غذائے جسمانی میں توسط کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔
ایک دن میں ایک بارسے زیادہ کھانے کاحکم
تقلیل طَعام کا صحیح مفہوم
تقلیل طَعام کی افضل ترین صورت روزہ ہے ۔
روزہ کے علاوہ تقلیل طَعام کی صورتیں خود ساختہ ہیں ۔
تقلیل طَعام کا بہترین طریقہ
کم کھانے کا مقصد
قلتِ طَعام سے مقصود کسرِ قوت بہیمہ ہے ۔
قوت بہیمہ ضبط میں ہو تو قلت طَعام کی ضرورت نہیں۔
کھانے سے مقصود جمعیتِ قلب ہے ۔
قلت و کثرتِ طَعام دونوں سے جمعیتِ خاطر فوت ہوجاتی ہے ۔
کثرت طَعام سے ہجوم خطرات کی وجہ
قلتِ طَعام سے ہجوم خطرات کی وجہ
دوسرا رکن: کم سونا
شرعی اور غالی مجاہدہ(تقلیل منام)میں قند اور شیرہ کا سا فرق ہے ۔
تقلیل المنام میں دینی ودنیوی فوائد دونوں ہیں ۔
کم سونے کا دنیاوی فائدہ: صحت بحال رہتی ہے ۔
کم سونے کا دینی فائدہ: چہرہ پر نور پیدا ہوتا ہے ۔
کثرت منام کی مضرتیں
زیادہ سونے سےقوت فکریہ کم ہو جاتی ہے ۔
زیادہ سونے سے امور انتظامیہ میں بہت خلل پڑتاہے ۔
زیادہ سونے والا پابندیِ اوقات سے محروم رہتا ہے۔
تقلیل منام کی تدابیر
اللہ تعالی سے مدد و توفیق مانگیں ۔
نیند کا علاج یہ ہے کہ پانی کم پئیں ۔
اگر نیند غالب ہوتو سیاہ مرچ چبالیں ۔
دن کو قیلولہ کی عادت اپنائیں ۔
کم سونے کے متعلق احکام
غلبہ نیند میں وظیفہ کے بجائے سونا چاہئے ۔
اگر نیند زیادہ غالب نہ ہوتو ہمت کرکے جاگنا چاہئے ۔
غلبہ نیند میں جبراً جاگنے کی مضرتیں
دماغ خشک ہوجاتاہے۔
صفرا میں اشتعال بڑھ جاتا ہے۔
سودا میں ترقی ہوجاتی ہے ۔
خیالات فاسدہ آنے لگتے ہیں ۔
بالآخر جنون ہوجاتاہے ۔
آپ ﷺ نے نیندکی تفریط (کمی )سے منع فرمایا ہے ۔
تیسرا رکن : کم بولنا
زیادہ بولنے کی مضرتیں
زیادہ بولنا قساوتِ قلبی کا باعث ہے ۔
زیادہ بولنا بہت سے گناہوں اور آفات کا سبب ہے ۔
زیادہ ہنسی دل کی مردگی کا باعث ہے ۔
ضرورت سے زائد گفتگو قلب کی حالت بدل دیتی ہے ۔
زیادہ بولنے کے متعلق شیخ عطارؒ کا قول
زیادہ بولنا بہت سے گناہوں کا سبب ہے ۔
زیادہ بولنا عجب وکبر کا نتیجہ ہے ۔
کم بولناسب سے زیادہ دشوار مجاہدہ ہے ۔
قلتِ کلام کی دشواری ، شدت اہتمام کی وجہ سے ہے ۔
قلت کلام کی دشواری ، زیادتِ لذت کی وجہ سے ہے ۔
قلت کلام کی حقیقت
تقلیل کلام کا معنی ہے فضول باتوں میں نہ الجھنا ۔
حرام کلام سے بچنا تو مجاہدہ حقیقیہ ہے ۔
لایعنی کلام کی تعریف
قلت کلام کے احکام
ضروی کلام کا ترک جائز نہیں ۔
کلام ضروری وہ ہے جس کا ترک مضر ہو ۔
کلام ضروری کی مثال
کلام ضروری کی دوسری مثال
کلام ضروری وغیر ضروری میں فرق کرنا بس فقہاء کاکام ہے ۔
ضروری کلام سے قلب میں ذرہ برابر ظلمت نہیں ہوتی ۔
شریعت نے سکوت محض کے بجائے ذکر واذکار کومشروع فرمایاہے ۔
سکوتِ محض سے ذکر بہترہے ۔
قلت کلام کی اہمیت
قیامت والے دن لایعنی کلام اور فضول گفتگو کا حساب ہوگا ۔
فضول گفتگو سے بچنا شریعت کی بہت اہم تعلیم ہے ۔
فضولیات سے بچنا ایمان میں نکھار کاباعث ہے۔
تقلیل کلام کی تدابیر
اللہ تعالی سے مدد و توفیق کا سوال کریں۔
بات وہ کریں جس کی کچھ غایت ہو ۔
ضبط کلام میں ہمت سے کام لیں ۔
اگر مخاطب کو اٹھانا مشکل ہو تو خود اٹھ جائیں ۔
مہمان کے فضول کلام سے بھی احتراز کریں ۔
چوتھا رکن : لوگوں سے میل جول کم رکھنا
تقلیل اختلاط کی فضیلت
حفظِ ایمان کے لئے خلوت گزینی جہاد کے بعد افضل ترین عمل ہے ۔
غیر ضروری تعلقات کو چھوڑدینا صلحاء کا طرز ہے ۔
قلت اختلاط کی اہمیت
بوقت ضرورت گوشہ نشینی حدیث سے ثابت ہے۔
عام اختلاط کی ہر شخص میں صلاحیت نہیں ہوتی
تقلیل اختلاط کی حکمت
خلوت کی حکمت ضرر ایمانی سے بچاٖوہے ۔
تقلیل اختلاط کا مقصد
خلوت کا مقصد عبادت وبندگی میں یکسوئی پیدا کرناہے ۔
خلوت سے مقصو د تحصیل نسبتِ قلبی مع اللہ ہے ۔
تقلیل اختلاط کے احکام
جس سے خیر ونفعِ عام متوقع ہو اس کے لئے جلوت افضل ہے ۔
قلت اختلاط سے مراد تعلق مذموم و مباح سےبچنا ہے ۔
خلوت کے جواز وعدم جواز میں قو ل فیصل
حدیث میں اس کی خلوت کی ممانعت ہے جس سے کوئی حق متعلق ہو ۔
خلوت تب تک مفید ہے جب تک دل جمعی کا باعث ہو ۔
اگر خلوت میں دلجمعی نہ ہو تو نیک جلوت اختیار کریں ۔
تعلق مع الخلق مقصود بالذات نہیں ہے
چالیس برس تک خانقاہ سے باہر نہ نکلنا کمال نہیں
عوام سے اختلاط کی کمی مطلوب ہے نہ کہ ترک
اختلاط کی اقسام
ماسوی اللہ سے تعلقات تین قسم کے ہیں ۔محمود ،مذموم ومباح
قطعِ تعلق محمود جائز نہیں ۔
قطعِ تعلق مذموم واجب ہے ۔
تعلق مباح میں بس تقلیل کی ضرورت ہے ۔
خلوت کی اقسام
خلوت کی دو قسمیں ہیں ۔دائمی و عارضی
مبتدی کو عارضی خلوت کی ضرورت بہر حال ہوتی ہے۔
اختلاط کی مضرتیں
تعلق بالخالق کے بغیر بلا ضرورت تعلق بالخلق نرا مضر ہے ۔
تعلق بالخالق کے بغیر حقِ خلق بھی ادا نہیں ہوسکتا۔
اختلاط میں اکثر گناہ ہوجاتے ہیں ۔
اختلاط میں قلتِ کلام بہت دشوار ہے ۔
اختلاط قلب کی مردگی کاسبب ہے ۔
اختلاط کے فوائد
تعلیم و تعلم اختلاط پر موقوف ہے ۔
اختلاط میں خدمتِ خلق کا موقع ملتاہے ۔
جماعت کی فضیلت اختلاط ہی سے مل سکتی ہے ۔
اختلاط سے تواضع پیداہوتی ہے ۔
بزرگانِ دین سے فیض حاصل ہوتاہے ۔
خلوت کے فوائد
گناہوں سے اجتناب ہوتاہے ۔
گناہوں سے محافظ خلوت کی شرائط
دفعِ مضرت ،جلبِ منفعت پر مقدم ہے ۔
خلوت اختلاط پر مقدم ہے۔
قلت اختلاط فہم میں نورانیت کا باعث ہے
تقلیل اختلاط(میں افراط) کی مضرتیں
بالکل گوشہ نشینی سے شوق اور امنگ کا مادہ ضعیف ہوجاتاہے ۔
تقلیل اختلاط کی تدابیر
ہر کام کو اپنے اوقاتِ مقررہ پر کریں ۔
مباح تعلقات کی بھی کثرت سے بچیں ۔
غیر مذموم تعلق مع الخلق کا معیار
اہل اللہ کو تعلقات دنیا میں انہماک نہیں ہوتا
قلت اختلاط کے آداب
خلوت میں اپنے شر سے خلقت کو بچانے کی نیت رکھے
سکینہ کاحصول صرف خاص اشغال پر موقوف نہیں ہے ۔
صحابہ کرام اور تابعینؒ نے نسبت سکینہ دیگر ذرائع (عبادات)سےحاصل کی ۔
ہر کام سے پہلے مراقبہ کریں
چلہ نشینی
چلہ نشینی کا مؤثر ہونا حدیث سے ثابت ہے۔
اشغال واذکار
اشغال واذکار کی اہمیت
نسبت ِ قلب کو قوی کرنے کیلئے اذکار و اشغال کی ضرورت پڑتی ہے ۔
ذکر اللہ
ذکر کالغوی معنی
ذکر اللہ کی اقسام
ذکر (یاد رکھنے ) کی دو قسمیں ہیں ۔صوری وحقیقی
ذکر صوری زبان سے یاد کرنے اور نام لینے کو کہتے ہیں ۔
ذکر حقیقی ادائے حقوق (اطاعت)کو کہتے ہیں ۔
ذکر اللہ کا درجہ اکمل ذکر حقیقی وصوری دونوں کو جمع کرلینا ہے ۔
ذکر اللہ کی جامعیت
ذکر اللہ تمام احکام شرعیہ کو محیط ہے ۔
ذکر اللہ تمام اعمال اور شعائردین کی اصل ہے ۔
ہر عمل محدود ہے لیکن ذکر اللہ کی کوئی حد و انتہا نہیں ۔
ذکر اللہ کی فضیلت
جو اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالی ان کو یاد کرتے ہیں ۔
عقلمند لوگ وہ ہیں جو ہر حال میں اللہ تعالی کا ذکر کرتے ہیں ۔
اللہ تعالی کا ذکر بہت عظیم الشان ہے ۔
مومن اللہ تعالی کو ہر حال میں یاد رکھتاہے ۔
ذکر اللہ دل کا صیقل ہے ۔
اللہ تعالی ذکر کرنے والے کو اللہ تعالی بھی یاد رکھتے ہیں ۔
کلمہ طیبہ قرب الہی کا سب سے بڑا اور مؤثر ترین سبب ہے ۔
اللہ کا ذکر کرنے والے کےلیے انعامات
ذکر اللہ سے غفلت
ذکر اللہ سے غفلت کے درجات دو ہیں
ذکر اللہ سےغفلت کی مضرتیں
ذکراللہ سے غفلت اور قساوت ِ قلبی پر ہلاکت کی وعید ہے ۔
قساوت ِ قلبی اللہ تعالی سے دوری کا باعث ہے ۔
غفلت عن اللہ تمام امراض کی اصل ہے ۔
خدا سے غفلت کرنا،خدا کی طرف پشت کرنا ہے
امراض باطنہ کی جڑ ذکر اللہ سے غفلت ہے۔
غافل انسان کی آخرت تباہ ہو جاتی ہے۔
غافل ہمیشہ غمزدہ رہتاہے۔
گناہوں کا سبب اکثر نسیان ہوتا ہے
ذکر اللہ کے فوائد
بعض اوقات ذکر غذا کاکام بھی دیتاہے ۔
ذکر اللہ تمام اخلاق حسنہ میں تسہیل کا باعث ہے ۔
ذکر اللہ سے عقل میں نورانیت آجاتی ہے۔
ذکر سے معاش میں برکت ہوتی ہے ۔
ذکراللہ ،نجات اخروی کا باعث ہے ۔
ذکر اللہ سے قلب پر علوم ومعارف اور اسرار احکام کا ورود ہوتاہے۔
ذکر اللہ کی بدولت معاصی اور لغویات سے نفرت ہوجاتی ہے ۔
ذکر اللہ اطمینان قلبی کا باعث ہے
ذکر پر اطمینان کا ترتب فورا ہونا ضروری نہیں
ذکر کرنے والے کو اللہ یاد کرتا ہے
اللہ تعالیٰ ذاکر کے کارساز بن جاتے ہیں
ذکر سے عذاب سے نجات ہے
ذکر میں معیتِ الٰہی کا حصول
ذاکر کے لئے آسائش دنیا کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔
ذکر اللہ ہمت کا معین ہے
تمام اعمال کی روح واساس اور مقصود ذکر الہی ہے ۔
خوف عذاب ورجاء ثواب بھی ذکر میں داخل ہے۔
نماز سے مقصود ذکر الہی ہے ۔
نمازکا فحاشی اور منکرات سے مانع ہوناذکر کی بدولت ہے ۔
ذکر کو نماز میں دخل ہے۔
ذکرکوروزہ میں دخل ہے۔
حج کی ادائیگی کے وقت جابجا ذکر کا حکم ہے۔
ذکر کو انفاق فی سبیل اللہ میں دخل ہے۔
قربانی کا عمل بھی ذکرکے حکم سے مزین ہے۔
ذکر اللہ کو خشیت میں دخل ہے ۔
ذکر استغفار کا سبب ہوجاتا ہے ۔
ذکر کو شکر میں دخل ہے ۔
ذکر کو صبر میں دخل ہے ۔
ذکر کو فکر میں دخل ہے ۔
ذکر کو عدم انہماک فی الدنیا (فکر آخرت)میں دخل ہے ۔
ذکر کو ریاءکاری سے بچاؤ میں دخل ہے ۔
ذکر کو اطمینان قلبی (مقام وحال)میں دخل ہے ۔
ذکر وساوس وشیطانی خیالات سے بچاؤ کا ضامن ہے ۔
ذکر شیطان کے تسلط سے حفاظت کرتاہے۔
ذکر کو ایمان بالآخرت میں دخل ہے ۔
ذکر کو صحت استدلال میں دخل ہے ۔
مشغولی معاش کے وقت بھی ذکر سے غفلت نہ چاہئے ۔
ذکر کو حقوق نفس ادا کرنے میں دخل ہے ۔
ذکر کو عبرت ونصیحت حاصل کرنے میں دخل ہے۔
دنیوی نعمتوں کے تذکرہ کا حکم ہے
ثواب وعقاب آخرت کو یادرکھنے کا حکم ہے
ذکر اللہ کی حقیقت
ذکر کا معنی زبان سے رٹنا نہیں بلکہ ہر کام میں اللہ کو یاد رکھناہے ۔
ذکر اللہ کی حقیقت ہے''اللہ تعالی کو دل میں بسا لینا''۔
جس چیز کا بھی یاد کرنا معاصی سے روک دے وہ ذکر اللہ ہے ۔
اگر ذکر معاصی سے نہ روکے تو وہ حقیقی ذکر نہیں ۔
اللہ کی یاد کاصحیح مطلب
ذکراللہ سے مراد اطاعتِ الٰہی ہے
ذکر کی حقیقت و علامت اطاعت کاملہ ہے ۔
ذکر اللہ کے احکام
صرف ذکر لسانی کرنے والاحقیقت ذکرسے محروم ہے ۔
صر ف ذکر لسانی کی توفیق ہو تو اسے بھی غنیمت سمجھنا چاہئے ۔
ذکر جہری ذکر قلبی سے افضل ہے ۔
ذکر قلبی میں ذہول کا قوی اندیشہ رہتاہے ۔
ذکراٹھتے بیٹھتے ہر حال میں کرتے رہنا چاہئے ۔
ذکر میں تدریجی رفتار کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔
ذکر میں لذت کا نہ آناغیر نافع ہونے کی دلیل نہیں
زبان سے ذکر کرنا زیادہ مؤثر ہوتاہے
عمل کے بغیر ذکر کار آمد نہیں ہوسکتا ۔
اللہ اللہ کی تکرار کا حکم
بس اللہ اللہ کرنا گو ذکر نہیں مگر بحکم ذکر ہے ۔
اللہ اللہ کی تکرار کی نافعیت کے لئے بس تجربہ بھی کافی ہے
بیت الخلاء میں ذکر کے احکام
بیت الخلاء میں زبان سے ذکر کرنا ممنوع ہے ۔
بیت الخلاء میں ذکر قلبی جائز ہے ۔
تعویذ ملفوف بیت الخلاء میں لے جانا جائز ہے ۔
ذکر لسانی کے احکام
ذکر لسانی کے لئے لب ودندان کی حرکت ضروری ہے ۔
ذکر اللہ کا مقصد
ذکرحقیقی کا مقصد یہ ہے کہ شریعت طبیعت بن جائے ۔
ذکرجہری کے احکام
ذکر کے وقت جہر اور ضرب میں اعتدال رکھے ۔
ذکر میں جہر فی نفسہ جائز بلکہ حدیث میں وارد ہے ۔
ذکرمیں جہر کو فی ذاتہ نیکی سمجھ لینا بدعت ہے ۔
ذکر ِجہری میں رفعِ صوت کا مفصل حکم
حدیث انکم لاتدعون اصم ولاغائبا کی تشریح
ذکر میں جہر مفرط اور اس کی مثال
امام ابو حنیفہؒ کے ذکر جہری سے منع فرمانے کی توجیہ
ذکر اللہ کی اہمیت
حق تعالیٰ فی ذاتہ دل میں بسالئے جانے کے حقدار ہیں ۔
اہتمامِ ذکر اہتمامِ نماز سے مقدم ہے۔
نماز کے بعدبھی انسان ذکر سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔
ذکر سے اعراض خسرانِ دارین کا سبب ہے ۔
جس نے خدا کو بھلا دیا اس نے خود کو بھی بھلا دیا
فقط زبان سے ذکر بھی بے فائدہ نہیں
ذکر کو کثرت سے کرنے کا حکم دینے کی وجہ
ذکر اللہ کے آداب
ذکر کے وقت بیٹھنے کا بہتر طریقہ
ذکر جہری خوش الحانی کے ساتھ کرنا چاہئے ۔
استحضارِ معنی کے ساتھ ذکر اللہ زیادہ مفید ہوتاہے ۔
ذکر وشغل کے ساتھ سیروتفریح میں بھی مشغول ہوں
اللہ تعالی کا ذکر ہر حال میں کیا جاسکتاہے۔
ذکرجہری کی حکمت
جہری ذکر کی حکمت ،دفع وساوس ہے ۔
ضرب قلبی
ضرب قلبی ،فی ذاتہ نیکی نہیں ہے ۔
ضرب قلبی ،بالواسطہ اطاعت و محبت الہی میں معین ہے ۔
ضرب قلبی میں بےاعتدالی خفقان قلب کا سبب ہوسکتی ہے۔
ذکراللہ کی عادت ڈالنے کی تد ابیر
ہر وقت اٹھتے بیٹھتے کلمہ طیبہ کا ورد رکھیں ۔
بس ہر وقت ذکر کا ہی دھیان رکھیں ۔
تسبیح ہاتھ میں رکھنے کی عادت ڈالیں ۔
توجہ الی الخالق کے دو جز ہیں
اشغال
اشغال کا مقصد
تمام تر اشغال کا مقصود اصلی مکمل توجہ الی اللہ کا حصول ہے ۔
ذکر کے وقت جمعیت وخشوع حاصل ہو تو اشغال کی حاجت نہیں ۔
جمعیت خاطر حاصل نہ ہورہی ہو تو اشغال اختیار کرلینے چاہئیں ۔
اشغال کی اہمیت
تصور حق کے لئے کسی محسوس کا تصور معین ہے
اللہ تعالی کا براہ راست تصور ذرا مشکل ہوتاہے
اشغال کی حیثیت
اشغال مقصود بالذات نہیں ہیں ۔
شغل انحد (سرمدی یا سلطان الاذکار)
شغل انحد (سرمدی یا سلطان الاذکار)کی اہمیت وافادیت
سب سے مفید وآسان شغل انحد (سرمدی یا سلطان الاذکار)ہے ۔
شغل سلطان الاذکارکا حدیث کی روشنی میں اثبات ۔
شغل سلطان الاذکار کی صورت
شغل سلطان الاذکار کااچھا وقت آخر شب ہے ۔
شغل سلطان الاذکار ،ایک چلہ بارہ تسبیح کے بعد کرنا چاہئے ۔
شغل سلطان الاذکار کےوقت ذکر اسم ذات بھی کرتارہے ۔
شغل سلطان الاذکار میں صو ت محسوس کی طرف توجہ کرنے کی حکمت
شغل اسم ذات
شغل اسم ذات کی صورت
شغل حبس بصر
شغل حبس بصر کی صورت
شغل حبس بصرکی اہمیت
شغل حبس بصر ،حدیث سے ثابت ہے ۔
حبس بصر ایک مجرب شغل ہے ۔
شغل حبس دم
مشائخ نے شغل''حبس دم '' جوگیوں سے لیا ہے ۔
جوگیوں سے ماخوذ شغل حبس دم کی شرعی حیثیت
شغل حبس دم کی حکمت
حبس دم دفع خواطر کی ایک طبعی تدبیر ہے ۔
آج کل شغل حبس دم ، قلب ودماغ کے لئے مضر ہے ۔
شغل حبس دم کی اہمیت
شغل حبس دم حضور ﷺ کے عمل سے بالواسطہ ثابت ہے۔
شغل "صلوۃ معکوس "
متروک اشغال
مراقبہ وحدۃ الوجود ،شغل رابطہ اور تصور شیخ بوجہ ضرر متروک ہیں ۔
شغل رابطہ
شغل رابطہ میں اعتقادِ حضورِشیخ شرک ہے۔
مراقبات
مراقبہ کی اہمیت
اللہ تعالی کا دھیان رکھو اپنے مقابل پاؤگے ۔
مراقبہ اعمال مقصودہ قلبیہ میں سے ہے ۔
ہمیشہ محاسبہ کرتے رہنے کی ضرورت ہے۔
فکر کانام مراقبہ ہے
مراقبہ کے فوائد
مراقبہ و محاسبہ سے اعمال صالح کی رغبت پیدا ہوتی ہے ۔
مراقبات سے تصور میں رسوخ حاصل ہوتاہے ۔
مراقبہ کےآداب
ذات حق سبحانہ وتعالی کا تصو ر اجمالاًا ور بے تکلف ہونا چاہئے ۔
مراقبہ سے پہلے مشارطہ اور بعد میں محاسبہ ہوتاہے ۔
مشارطہ کی تعریف
مراقبہ کی تعریف
احسان(مراقبہ) کا معنی
محاسبہ
محاسبہ کی تعریف اور طریقہ کار
محاسبہ کرنا قرآنی حکم ہے ۔
روزانہ محاسبہ کی ضرورت ہے
محاسہ نفس دین ودنیا کے سنوارنے میں معین ہے۔
اپنے گناہوں کا محاسبہ کرنا اصلاح باطن کا ذریعہ ہے
تمام ترقی اس قوت فکریہ(محاسبہ نفس) ہی کی بدولت ہوتی ہے
سونے سے پہلے اپنا محاسبہ کیا کرو
مراقبہ آخرت
آخرت کا مراقبہ کرنے سے خوف خدا حاصل ہوتا ہے
امراض قلب کی زیادہ تر وجہ آخرت سے بے فکری ہے
آخرت درست بنانے کا طریق
رب سے ملاقات کا مراقبہ تمام افکار کو ختم کرنے والا ہے
آخرت کی سوچ پیدا کرنے کی ضرورت ہے
مراقبہ سفر آخرت
مراقبہ سفر آخرت کی صورت
انسان ہمہ وقت مسافر(آخرت )ہے ۔
سستی اور گناہ مانع سفر نہ ہونا چاہئے ۔
مسلمان کو طالب آخرت ہونا چاہیے
ہر کام میں سفر آخرت کا مراقبہ کرلیاکریں
آخرت سے غفلت اعمال کی خرابی کا سبب ہو جاتی ہے
مسلمان کا اصل مقصود آخرت کی طرف متوجہ ہونا ہے
آخرت کی دو قسمیں ہیں
آخرت سے بے فکری،اکثر گناہوں کا سبب ہے
مراقبہ عذاب آخرت
فکر آخرت سے جو خوف پیدا ہوتاہے عین مطلوب ہے ۔
عذاب آخرت کا سوچنا تمام پریشانیوں سے نجات دینے والا ہے ۔
فکر عذاب آخرت کلفت کےبجائے نورانیت وشرح صدر کا باعث ہے ۔
فکر عذاب آخرت کے باعث نورانیت ہونے کا راز
فکر آخرت کی بدولت اللہ تعالی افکار دنیا سے حفاظت فرماتے ہیں ۔
مراقبہ ارض
مراقبہ ارض کی صورت
مراقبہ ارض کو اصلاح حال میں بہت ہی تاثیر ہے۔
مراقبہ ترغیب مجاہدہ
مراقبہ ترغیب مجاہدہ کی صورت
مراقبہ تفویضیہ عبدیہ
مراقبہ تفویضیہ عبدیہ کی صورت
مراقبہ تلاوت
مراقبہ تلاوت کی صورت
مراقبہ جنت
مراقبہ جنت ،قلبی یکسوئی کا ذریعہ ہے۔
مراقبہ جنت گناہوں سے اجتناب میں معاون ہے۔
مراقبہ دفع معاصی
مراقبہ دفع معاصی کی صورت
مراقبہ دفع معاصی کے فوائد
مراقبہ رزق
مراقبہ رزق کی صورت
فراخی مال اللہ تعالی کی نعمت ہے ۔
فراخی مال پر رذائل سے بچنے کےلئے مراقبہ رزق کارآمد ہے۔
مراقبہ رؤیت
مراقبہ رؤیت کی صورت
مراقبہ فنا
مراقبہ فنا کی صورت
مراقبہ محبت حق
مراقبہ محبت حق کی صورت
مراقبہ محبت حق کی بدولت بندہ پریشانی سے محفوظ رہتاہے ۔
مراقبہ موت
حدیث شریف میں مراقبہ موت کاحکم ہے ۔
مراقبہ موت کی صورت
مراقبہ موت بہر صورت گناہوں سے مانع ہے ۔
مراقبہ موت سے اگر کوئی جسمانی اندیشہ ہو تو مسلسل نہ کرنا چاہئے ۔
مراقبہ موت خشوع پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
موت مومن کا تحفہ ہے
دن میں چالیس مرتبہ موت کو یاد کرنے والے کو شہادت کا مرتبہ ملتا ہے
روزانہ بیس دفعہ مراقبہ موت شہادت کا درجہ رکھتاہے
موت سے ہر وقت ڈرنا چاہیے
موت سے کسی کو مہلت نہیں دی جاتی
ام المصائب موت ہے
موت و بعد الموت کا یاد کرناذکر وفکر کا اہم جز ہے
موت کا ذکر لذتوں کو ختم کر دینے والا ہے
موت کے دو مقدمات ہیں ان سے بھی دنیا کی لذت ختم ہوجاتی ہے
بڑھاپا پیغام موت ہے
عمر کے ہر جز میں موت کا منتظر رہنا عقلمندی ہے
بے صبر ی سے موت کی تمنا کرنا جائز نہیں
موت کی تمنا نہ سہی فکر تو کرنی چاہئے
طاعون سے خوف کے بقدر موت کا خوف بھی کافی ہے
ذکر موت سے دنیاوی لذات ختم ہوجاتی ہیں
موت ہر مسلمان کے لیے عید ہے
موت کو یاد کرنے کا طریق
مراقبہ موت کی حسی مثال
جنازوں میں شرکت کے باوجود موت کی فکر نہیں
موت کا استحضار،گناہ چھوڑوا دیتا ہے
مراقبہ حیات
مراقبہ حیات کی صورت
مراقبہ نماز
مراقبہ نماز(نماز میں حضوری حاصل کرنے) کی تدابیر
یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہوں ۔
یہ خیال کرنا کہ اللہ تعالی مجھ کو دیکھ رہا ہے ۔
معنی کا خیال رکھنا ۔
ہر لفظ کو بقصد منہ سے نکالنا ۔
ہر نماز کو آخری سمجھ کر ادا کرنا ۔
تصور شیخ
تصور شیخ کی اہمیت
تصور شیخ کی ماہیت حدیث سے ثابت ہے ۔
غیر اختیاری خیالات کو ضبط کرنے کی تدبیر
تصور شیخ سے محققین منع کرتے ہیں ۔
محققین کے تصور شیخ سے منع کرنے کا معنی
تصور شیخ کو برزخ ،رابطہ اور واسطہ بھی کہتے ہیں ۔
تصور شیخ کا ایک باطل معنی
تصور شیخ کی حکمت
تصور شیخ کی کی حکمت تقویت نسبت ہے ۔
تصور شیخ کی حکمت ،جمعیت خاطرہے ۔
قطع وساوس بتصور شیخ کی حسی مثال
تصور شیخ کے احکام
تصور شیخ مقصود بالذات نہیں بلکہ توجہ الی اللہ کا ایک ذریعہ ہے ۔
تصور حق حاصل ہوجانے کے بعد تصور شیخ ترک کردینا چاہئے ۔
تصور شیخ کے بغیر براہ راست تصور حق جم جائے تو بہت بہتر ہے ۔
تصور شیخ، عوام کے لئے سخت مضرہے ۔
تصور شیخ خواص کو بھی ایک حد تک باحتیاط اپنانا چاہئے ۔
حضرت تھانویؒ کے ہاں تصور شیخ خلاف توحید ہے ۔
عوام کوتصور شیخ کا ضرر نفع سے زیادہ ہے۔
تصور شیخ کافائدہ
تصور شیخ کافائدہ سہولت فی الاتباع ہے۔
سماع
سماع کا حکم
برائے تسہیل عبادت،بشرائط منظوم کلام کہناسننا جائزہے۔
شرائط کی رعایت کےبغیرسماع تلعب بالدین ہے۔
سماع جائز کے لئے کئی شرائط کی رعایت ضروری ہے ۔
سماع حضرت گنج شکر رحمہ اللہ کی نظر میں
مزامیر کا استعمال بالاجماع حرام ہے
سماع کا مسئلہ مختلف فیہ ہے ۔
سماع کی چار قسمیں ہیں ۔حلال ،حرام ،مکروہ ،مباح
سماع کےمتعلق قول فیصل
سماع حنفیہ کے ہاں مطقا ناجائز ہے ۔
حنفی صوفیاء کے سماع پرایک اشکال اوراس کاپہلا جواب
حنفی صوفیاء کے سماع پراشکال کادوسرا جواب
چشتیہ نے بھی گو سماع کو بقیود لیا ہے لیکن جزو طریق نہیں کہا
اختلافی گنجائش کے باوجود ،فقہاء کے ہاں سماع حرام ہی ہے ۔
سماع سے مطلقا منع کرنے کی فقہی علت
سماع کی مضرتیں
سماع شیطان کے تسلط کا سبب ہے ۔
راگ باجوں اور معاصی کی شامت
غناء ،زناکا منترہے ۔
جو اولیاء سماع کےقائل تھے ان کے ہاں نظم ونثر برابر تھا۔
اسلاف کا سماع مروجہ بری رسوم کا پابند نہ تھا
کانوں کے غلط استعما ل پر وعید
سماع شیخ نصیر الدین محمود اور سلطان المشائخ کی نظر میں
اباحت سماع کی شرائط
سماع مباح کے لئے مسمع ،مستمع ،مسموع وآلہ سماع چاروں کی شرائط ہیں۔
مجالس سماع میں شرکت سے متعلق سلطان اولیاء کا قول
حضرت سلطان اولیاءؒ کے سماع پر قاضی سنامیؒ کی نکیر
کثرتِ سماع ،نفاق قلب کا باعث ہے۔
سماع کی جائز صورت
سماع جائز سے اعمال بہر حال افضل ہیں۔
احوال وکیفیات
احوال کی تعریف
احوال کی حسی مثال
احوال کے احکام
احوال مقصود نہیں کہ غیر اختیاری ہیں ۔
تغیر ِ احوال مضر نہیں ،اس پر پریشان ہونا مضر ہے ۔
کیفیات کامدار یکسوئی پر ہے۔
کیفیات صاحب ذکاوت کو کم میسر ہوتی ہیں۔
وجد،استغراق وشوق وغیرہ فی ذاتہا دنیاوی امورہیں۔
ذوق و شوق وغیرہ کو احوال دنیا کہنے کی وجہ
کیفیات کی طلب خفی شرک ہے
کیفیات ومقامات کی تمنا خلاف عبدیت ہے
ہر حال اور کیفیت کو شریعت پر پیش کریں
اتباع شریعت کے بعد جو بھی احوال ہوں مضر نہیں
اہل کمال اور غیر اہل کمال کے غلبہ حال میں فرق
اہل ِ حال سالکین اپنے اقوال میں معذور ہوتے ہیں ۔
احوال کی اہمیت
کیفیات حصول مقصود کا ذریعہ ہوں تو محمود ہیں
صاحب حال اور غیر صاحب حال میں تفاوت ہوتاہے
احوال حاصل کرنے کاطریقہ
حصول احوال کا طریق اعمال میں لگ جانا ہے
طلب احوال کی شناعت
طالب احوال کو اعمال کا شوق نہیں ہوتا
احوال کی حیثیت
کیفیات کامل ہونے کی دلیل نہیں
احوال کے اعتبار سے سالک کی دو قسمیں ہیں
سالک کو معاصی کےباوجود احوال پر مطمئن نہ رہنا چاہئے ۔
کمال یہ ہے کہ غلبہ احوال کے بغیر استقامت حاصل ہو ۔
استقامت بدوں احوال کوسمجھنے کی تمہیدی بحث
احوال کا غلبہ دائم نہیں ہوتا ،بالخصوص مبتدی پر
احوال کی دو قسمیں ہیں۔ محمود ومذموم
احوال محمودہ ومذمومہ میں امتیاز کا معیار
احوال محمودہ کی دو قسمیں ہیں ۔
غیر مضر احوال
احوال مع احتمال ضرر
غیر مضر احوال
اجابت دعا
اللہ تعالی نے دعا قبول کرنے کا وعدہ فرمایا ہے ۔
اجابت دعا کا حکم
اجابت دعا، لوازم ولایت سےنہیں۔
اجابت دعاکی فضیلت
اجابت دعا احوال رفیعہ میں سے ہے ۔
اجابت دعاکی تین صورتیں ہیں ۔
اجابت دعاکی پہلی صورت:قبولیت
اجابت دعاکی دوسری صورت:بلا سے حفاظت
دوسری صورت میں عدم قبول کی بدگمانی سے بچنا چاہئے۔
اجابت دعاکی تیسری صورت:ذخیرہ آخرت
اجابت دعا بصورت ذخیرہ آخرت کی حسی مثال
اجابت دعاکی اہمیت
دعامانگتے وقت اجابت کا یقین رکھو۔(الحدیث)
اطمینان قلبی
اطمینان قلبی ،ذکر اللہ ہی سے ممکن ہے۔
اطمینان کے دودرجے ہیں ۔مقام و حال
الہام
الہام کی تعریف
الہام کی اہمیت
الہام ،حدیث اور اولیاء کی زندگی سے ثابت ہے ۔
الہام کے احکام
الہام کی مخالفت سے گناہ نہیں ہوتا۔دنیوی ضرر ہوسکتاہے
الہام کی مخالفت سےدنیوی ضررہوجاتاہے۔
دنیوی ضرر کی دو قسمیں ہیں ۔
الہام سے متعلق جمہور امت کاعقیدہ
الہام ہر وقت نہیں ہوتا
ہر القاء صحیح اور قطعی نہیں ہوتا
بعض القاء شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں
القاء صحیح وہ ہے جو شریعت کے مطابق ہو
رؤیائے صالحہ
رؤیائے صالحہ کی فضیلت
رؤیائے صالحہ کو حدیث میں مبشرات کانام دیا گیا ہے ۔
وحی کی ابتداء رؤیائے صالحہ سے ہوئی ۔
سچاخوا ب ایک حال محمود ہے ۔
خواب کی تین قسمیں ہیں ۔
رؤیا کے احکام
بعض ناواقفین کی خواب کے متعلق افراط وتفریط
خواب مؤثر تو ہوتانہیں ۔کبھی کبھارخواب اثرہوسکتاہے ۔
آجکل کے خواب قابل التفات ہی نہیں ہیں ۔
اچھا خواب دیکھے تو خوش وشکر گزار ہو
فراست صادقہ
فراست کی تعریف
حکمت کی تعریف
حکمت کا معنیٰ
بصیرت، باطنی روشنی کو کہتے ہیں ۔
فراست صادقہ کی فضیلت
جس کو حکمت نصیب ہوئی اس کو خیر ِ کثیر عطا ہوئی
تمام فضیلتوں کی جڑ حکمت ِ خداداد ہے ۔
صاحب فراست کی نگاہ ،نور الہی سے منور ہوتی ہے ۔
فراست صادقہ احوال رفیعہ میں سے ایک ہے ۔
غیراللہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے حکمت کا معنیٰ
فراست کشف کا ایک شعبہ ہے۔
صاحب فراست صورت دیکھ کر نام بتلاسکتاہے ۔
اہل اللہ کو فراست کاملہ سے حظ وافر عطا ہوتاہے ۔
فراست کے احکام
صاحب فراست کا ادراک بلا دلیل شرعی ،حجت نہیں ۔
تعبیر دینا کوئی بزرگی کی بات نہیں
ناقص کااپنی خواہش کو فراست سمجھنا سخت غلطی ہے
صاحب کمال کو حق اور باطل کی شناخت ہو جاتی ہے
فناء وبقاء
بقا کی تعریف
فناء الفناء کی تعریف
فناء الفناء کی دوسری تعریف
فنائیت کا معیار
فنا دو قسم کی ہے ۔فنائے واقعی وفنائے علمی
فنائے واقعی
فنائے واقعی کی تعریف
فنائےواقعی کی وجہ تسمیہ
فنائے واقعی کا فائدہ
فنائے علمی
فنائے علمی کی تعریف
فنائے علمی کی مثال عشق مجازی ہے ۔
فنا ئے علمی کے مراتب حسب استعداد سالک مختلف ہیں ۔
فنائے علمی کی وجہ تسمیہ
فنائے علمی کا فائدہ
فناء وحیات نفس کی علامت
فنا ووصل کے بعد کوئی مردود نہیں ہوتا۔
فناء فی اللہ کا معنی ہےاہنی خواہشات کو فنا کردینا
فناء وبقاء کو کفر واسلام سے بھی تعبیر کرتے ہیں
فناء کے احکام
فنا بغرض شہرت کبر ہے
وجد
وجد کی تعریف
وجد کے درجات
وجد کا درجہ کمال (محض رونا)
سلف صالحین میں بیہوشی وچلانا بوجہ تحمل بہت کم تھا۔
وجد کا درجہ متوسط (بیہوشی وچلانا)
حضرت ابو ہریرہ ؓ کا وجد میں بیہوش ہوجانا ثابت ہے ۔
وجد کی اہمیت
حضور ﷺ کو بھی وجد طاری ہوا ۔
وجد،وجوداور تواجد میں فرق
تواجد (وجد بالقصد)کے مراتبٍ
مراتب تواجد (وجد بالقصد)کی حسی مثال
تواجد (وجد بالقصد) کا حکم
تواجد(وجد بالقصد)اگربقصد ریاء ہوتو گناہ ہے ۔
وحدۃ الوجود
وحدۃ الوجود کا معنی
وحدۃ الوجود کی تشریح
وحدۃ الوجود کی حسی مثال
وحدۃ الوجود کی دوسری حسی مثال
وحدۃ الوجود کی تیسری حسی مثال
وحدۃ الوجود والشہود کی چوتھی حسی مثال
وحدۃ الوجود کی واضح ترین حسی مثال
وحدۃ الوجود کاعلمی تحقیقی نام توحید ہے۔
وحدۃ الوجود کی حدیث سے تائید
وحدۃ الوجود کاحکم
اللہ تعالی اور ممکن کوحقیقۃً ایک سمجھنا کفر ہے۔
وحدۃ الوجود کی شرعی حیثیت
مسئلہ وحدۃ الوجود کا حاصل ارتباط الحادث بالقدیم ہے۔
وحدۃ الوجود پر کلام کرنے کے اصول
اعتقادیات میں کلام کے احکام کالحاظ رکھیں۔
اجمالا عالم کے حدوث وتخلیق کا استحضار رکھیں۔
وحدۃ الشہود کا معنی
وحدۃ الوجوداوروحدۃ الشہود میں اختلاف لفظی ہے۔
عام غلطی سے بچاؤ کے لئے وحدۃ الوجودکووحدۃ الشہود کہاگیا
وجود ظلی
وجود ظلی کی تعریف
ظل اللہ (سایہ حق)کی تاویل
وحدۃ الوجود اور عینیت کے مسئلے پر ایک تنبیہ
استغراق
حضرت ابوذرغفاریؓ کااستغراق
حضرت ابوذرغفاریؓ پرنہایت استغراق طاری رہتاتھا۔
استغراق کاحکم
استغراق،محمود توہے،کوئی بہت بڑا کمال نہیں۔
تصرف وتاثیر(توجہ)
تصرف کی حیثیت
تصرف نفسانی عمل ہے جسے غیر مسلم بھی کرسکتاہے۔
اہل حق سے زیادہ اہل باطل کاتصرف قوی ہوتاہے۔
کبھی قوت پیدا کرنے کے لئے توجہ سے کام لیاجاتاہے
تصرف غیر مسلم بھی کرسکتاہے۔
تصرف کاحکم
توجہ ڈالنا صرف غبی مرید کیلئے ہے ۔ اس کے اثر کو بقاء نہیں ۔
تصرف بوقتِ ضرورت،بقدرِضرورت اختیار کرناچاہئے۔
تصرف کو بقدر ضرورت استعمال کرنے کی صورت
تصرف کی اہمیت
حضور اکرمﷺ نے بھی تصرف فرمایا۔
تصرف منصوص قرآنی ہے۔
تصرف کی اقسام
تصرف کی دوقسمیں ہیں۔ باطنی وظاہری
تصرف ظاہری کے لئے نسبت ضروری نہیں۔
تصرف باطنی کی اقسام: اختیاری وغیر اختیاری
تصرف اختیاری کاطریق ہمت کاصرف کرناہے۔
باطنی تصرف کے لئے نسبت ضروری ہے۔
تصرف اختیاری کا مدارمشق پرہے۔
تصرف کے درجات
تصرف کا درجہ غیر اختیاری
تصرف غیر اختیاری جائز ہے ۔
تصرف کا درجہ اختیاری
تصرف اختیاری جائز ہے مگر ذوقاً پسند نہیں۔
تصرف اختیاری قوت برقیہ کی بدولت ہوتاہے۔
تصرف اورمسمریزم کا منشاءوماخذ ایک ہی ہے۔
تصرف ومسمریزم میں فرق
کثرت تصرف کی مضرتیں
تصرف کوباقاعدہ اختیار کرنے سےنفع نہیں ہوتا۔
کثرتِ تصرف میں فاعل ومنفعل دونوں کےلئے فتنہ ہے ۔
کثرتِ تصرف کا بڑا فتنہ اس کو کمال سمجھنا ہے۔
تصرف کےمتعلق متعدد خلجان ہیں۔
پہلا خلجان:تصرف سنت میں منقول نہیں۔
دوسراخلجان:تصرف سےاکثرکام میں سستی ہونے لگتی ہے۔
تیسراخلجان:تصرف میں حق تعالی سے توجہ ہٹانی پڑتی ہے۔
تصرف میں عدم توجہ الی اللہ پر اشکال اور جواب
تصرف کے آداب
تصرف کا طریق اورغرض مباح ہو۔
ظاہرا یاباطنا تصرف پر عجب نہ ہو۔
تصرف میں زیادہ اشتغال نہ ہو۔
ثواب امور اختیاریہ پر ہوتا ہے
سکر
سکراورصحو کی تعریف
سکر کےاحکام
سکرمیں کلام نہ قابل ملامت ہےنہ لائق نقل وتقلید
حالت سکر شرعی عذر ہے۔
سکر ناقص وکامل دونوں پر طاری ہوسکتاہے۔
حالت سکرمیں کامل بھی لائق اتباع نہیں رہتا۔
صاحب سکرکی بات پربوقت ضرورت نکیرواجب ہے۔
حضرت جبریل امینؑ کا سکر(بغض فی اللہ)
حضرت عمرؓ کاغلبہ سکر(بغض فی اللہ)
کاملین سکرمیں مغلوب الحواس نہیں ہوتے۔
حالت صحو کےاحکام
حالت صحو میں ضبط،ورع وتقوی واجب ہے۔
صحو میں اعمالِ سکرسے توبہ کرلینی چاہئے ۔
اعمال سکرسے توبہ کرنے پر اشکال اورپہلاجواب
حضرت بسطامیؒ اقوال سکر سے استغفارفرمالیتےتھے۔
قبض وبسط
قبض کی تعریف
بسط کی تعریف
قبض کی اہمیت
قبض حدیث سے ثابت ہے۔
بسط کا لطف قبض کے بعد ہے
قبض آثار کے اعتبار سے بسط سے زیادہ نافع ہے
قبض وبسط کاسبب
خوف ورجاء کے بڑھاؤ سے قبض وبسط ہوتاہے۔
قبض کی وجوہات
قبض کا سبب صرف عدم رضائے حق نہیں ۔
قبض کبھی سوء عمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔
قبض کبھی بوجہ فتور وکسل و ملال کے طبعا پیش آتی ہے۔
کبھی امتحانا قبض ہوتی ہے۔
کبھی اصلاح وحفاظت کےلئے قبض ہوتی ہے۔
قبض کی فضیلت
قبض درحقیقت لطف (بصورت قہر) ہے۔
قبض راہ قطع ہونے کی علامت ہے۔
عبادت میں ناگواری فضیلت کو اور زیادہ بڑھانے والی ہے
قبض کے فوائد
قبض، بسط سے زیادہ نافع ہے۔
قبض عجز وانکسار کا ذریعہ بن جاتاہے۔
قبض فی نفسہ مضرنہیں حال نافع ہے۔
قبض قبیح
قبض قبیح وہ ہے جس کا سبب فعل قبیح ہو۔
قبض کے احکام
قبض کےعلاج کی ضرورت نہیں۔
مشائخ کے معالجہ قبض کا معنی
قبض میں ہمت کرکے اعمال جاری رکھیں۔
قبض میں جس عمل سے زیادہ کلفت ہو وہ کم کردیں۔
در حقیقت قبض تسلی کی چیز نہیں
تسلی کے لئے قبض کی حکمتوں کا استحضار کرنا چاہئے
بسط سے مطمئن اور قبض سے پریشان نہ ہونا چاہیے
حالت قبض کی تدبیریں۔
صلوۃ التوبۃ والحاجۃ پڑھیں۔
استغفارکثرت سے کریں۔
ایک ہزار بار یاباسط پڑھیں۔
جس قدر ہو ذکر کریں۔
ہفتہ میں ایک دوبار (اپنےشیخ کو) اطلاع کریں۔
قبض کا ایک علاج
حالت قبض میں صبر کرنا
حالت قبض میں صبر کرنا موجب بسط بنتا ہے
قبض کی حالت میں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے
عبادت میں لذت اور حلاوت بھی کمال ہے
کرامت
کرامت کی تعریف
کرامت کی حیثیت
استقامت ِشرع کے ساتھ خوارق اطمینان بخش ضرور ہوتےہیں۔
کرامت لوازم ولایت میں سے نہیں ہے۔
کرامت ذکر لسانی وقلبی سے بھی کم ترہے۔
کرامت قرب کی علامت ہے قرب کا سبب نہیں۔
غیراہل خوارق، اہل خوارق سے افضل ہیں۔
کاملین اولیاء کی پہچان کرامات کے بجائے ان کی صحبت سے ہوتی ہے
استقامت، کرامت سے بڑھ کر ہے۔
کرامت کی فضیلت
قرآن اورحدیث میں عظیم کرامتیں مذکور ہیں۔
کرامات بشرط اتباع شرع احوال رفیعہ میں سے ہیں۔
کرامت کی شرائط
کرامت کے لئے خرق عادت اور اتباع شرع ضروری ہے۔
کرامت کےلئے اسباب طبعیہ کا نہ ہوناشرط ہے۔
استدراج
استدراج کی تعریف
صاحب استدراج ہمیشہ طلب حق سے محروم رہتاہے۔
کرامت کے احکام
کرامت کے متعلق عوام سخت غلطی کے شکار ہیں۔
بعض علماءکے ہاں کرامت کا دائرہ محدود ہے۔
محققین کے نزدیک کرامت کی کوئی حد نہیں۔
محققین کی دلیل
کرامت کے لامحدود ہونے پر اشکال اور جواب
کرامت حقیقۃً اللہ تعالی کا فعل ہے۔
کرامت شارعؑ کی تحدید سے ماوراء نہیں ہوسکتی۔
اپنی کرامت کا اخفاء واجب ہے۔
بعض صورتوں میں اظہار کرامت جائز ہے۔
کرامت کے متعلق افراط وتفریط اور راہ اعتدال
قوت باطنی سے بھی فعل ممنوع کرنا، ناجائز ہی ہے۔
احیانا عصیان(بشرط توبہ)کرامت سے مانع نہیں۔
کرامت کی اقسام
علم وقصد کے اعتبار سے کرامت کی تین قسمیں ہیں۔
قسم اول: کرامت کا علم وقصد دونوں ہوں
قسم دوم: کرامت کاعلم ہو، قصد نہ ہو
قسم سوم: کرامت کا علم وقصد دونوں نہ ہوں
کرامت کی ایک اور تقسیم حسی کرامت اور معنوی کرامت
معنوی کرامت اصل کمال ہے۔
کرامت معنویہ میں احتمالِ استدراج نہیں۔
کاملین ہمیشہ حسی کرامت سے ڈرتے ہیں۔
حسی کرامت خطرات سے خالی نہیں
کرامت اورتصرف میں نسبت
کرامت کےفوائد
کرامت، صاحب کرامت کے اظہارقرب کے لئےہے۔
کبھی بعد از انتقال بھی کرامت کا ظہور ہوتاہے۔
صحیح کرامت و کشف کا معیار
بلا کرامت، ولی کی معرفت کابہترین طریقہ
کرامات کے متعلق حضرت بسطامیؒ کا فرمان
کشف
کشف کی تعریف
کشف کی اقسام
کشف کی دو اقسام ہیں: کشف کونی، کشف الہی
کشف کونی کی تعریف
کشف الہی کی تعریف
کشف الہی کےسامنے ہفت اقلیم کی سلطنت گردہے۔
کشف الہی،کشف کونی سے بہت افضل ہے۔
کشف کی حیثیت
کشف دلائل ظنیہ میں بھی سب سے انزل(ادنی) ہے۔
حقیقت کشف سےواقف کئی غلطیوں سے بچارہتاہے۔
کشف کوئی کمال نہیں بلکہ اصل کمال رضا اور قرب ہے
بہت سے لوگ کشف وکرامت کی بدولت گمراہ ہوچکے ہیں
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کا کشف
انس بن نضرؓنے دنیا میں جنت کی خوشبو سونگھ لی۔
سعد بن ابی وقاصؓ نے غزوہ احدمیں فرشتے دیکھے۔
کشف کےاحکام
کبھی کبھی خوداپنے کشف کی حقیقت کابھی ادراک نہیں ہوتا۔
کشف کسی کے اختیار میں نہیں۔
کشف ہونا کوئی بڑاکمال نہیں۔
کشف کافر ومجنون کو بھی ہوسکتاہے۔
کشف والہام پر عمل کامدارموافقتِ شرع ہے۔
تعارضِ کشف کی صورتیں اورترجیح کے اصول
مسائل کشفیہ وہی معتبرہیں جو نص سے متصادم نہ ہوں۔
مشائل کشفیہ کو نص سے بطور تفسیر یاتاویل ثابت کرنے کے درجات
پہلا درجہ:تکلف
دوسرا درجہ: غلو
تیسرا درجہ: تحریف
پہلا درجہ:معتبر
دوسرا درجہ:تکلف
کشف اورعلم غیب میں فرق
اہل باطل کا کشف غیر مقبول و غیر معتبر ہے۔
کشف کو علامت ولایت سمجھنا یا ہر کشف پر یقین کرنا درست نہیں۔
کشف وکرامات کا صدور فاسق وکافر سے بھی ہوسکتاہے
محقق کے لیے صاحب کشف اور صاحب تصرف ہونا لازم نہیں ہے
مشاہدہ
مشاہدہ کی تعریف
مشاہدہ کی اہمیت
صحابہ کرامؓ احوال غیب کا مشاہدہ فرماتے تھے۔
مشاہدہ کی اقسام
مشاہدہ حق کی دو قسمیں ہیں۔ تام اور ناقص
مشاہدہ تام(رؤیت) دنیا میں ممکن نہیں۔
مشاہدہ ناقص(استحضار تام)
مشاہدہ ناقص، تام کے سامنے استتار ہی ہے۔
مشاہدہ کاحکم
مشاہدہ کا دوام مصلحت کے خلاف ہے۔
بندہ کو دوام مشاہدہ کا تحمل کا نہیں۔
عدم دوام مشاہدہ، حق تعالی کا فضل ہے۔
فضل بصورت عدم دوام مشاہدہ کی مثال
مشاہدہ صرف غلبہ استحضار کانام ہے۔
معارف وحقائق
معارف وحقائق میں ہرشخص کا جداگانہ مذاق ہے۔
معارف وحقائق کے احکام
موافق شرع حقائق ومعارف ہی قابل اعتبارہیں۔
حقائق ومعارف کامدار کشف(ظن) پر ہے۔
قرآن وحدیث میں معارف کو داخل کرنا تکلف ہے۔
تحصیلِ معارف وحقائق کا ذریعہ
خلاف شرع اسرار ہرگز معتبر نہیں
اطاعت حق،تحصیلِ معارف وحقائق کا ذریعہ ہے۔
تحصیل معارف باطاعت کی حسی مثال
حقائق ومعارف بے شمار ہیں۔
تجدد امثال
تجددامثال کی تعریف
تجدد امثال کی حسی مثال
تجدد امثال اور صانع کے مراتب
اللہ تعالی کا ظہور مخلوقات سے ہوا۔
عالم اجسام، عالم امثال اورعالم ارواح
انسان جامع الصفات ہے۔
مصنوع صانع کےوجود پر دلیل ہے
مصنوعات سے صانع پر استدلال کرنا فطری امر ہے
تنزلات ستہ
تنزلات ستہ کی تعریف
تنزلات میں ذات وصفات کی ترتیب اعتباری ہے۔
تنزل بمعنیٔ ظہور ہے(نہ کہ حلول)۔
وجودات سات ہیں۔
وجود ھاھوت
ساتواں ؟؟؟
ایک ضروری تنبیہ
تنزلات ستہ کی بحث کے متعلق ایک تنبیہ
متفرق تعلیمات
تصوف کے متعلق امور
امور تصوف کامختصر تعارف
تمام تر امور تصوف نصوص کا مدلول ہیں
تصوف کی حقانیت پر لاکھوں معتبر و متواتر شہادات موجود ہیں۔
تصوف کی حقانیت پر شہادات کشفیہ متواترہ بھی موجود ہیں ۔
تصوف ہر خوبی کی جان ہے
تصوف کی حقیقت خدا تعالی سے تعلق بڑھ جانا ہے۔
تصوف کی حقیقت نسبتِ فناء وبقاء کا حصول ہے۔
تصوف کا مقصود اصلی ادائے ماموربہ ہے ۔
تصوف ظاہر وباطن کی درستگی کا نام ہے
تصوف اور فقہ میں عقل کامل کا ہونا لازم ہے
تصوف کا خلاصہ ہوٰی کو ہدٰی کے تابع کرنا ہے
تصوف رہبانیت کا نام نہیں ہے۔
تصوف کو قرآن وحدیث سے جدا سمجھنا غلط ہے۔
تصوف کےمتعلق افراط وتفریط اور راہ عدل
تصوف کے متعلق خشک علماء کا غلط تصور (تفریط)
تصوف کے متعلق غالی صوفیہ کا غلط تصور (افراط)
تصوف فقہِ ظاہر سے خارج نہیں ہے ۔
درویشی(تصوف) محض رسوم کا نام نہیں ہے۔
تصوف کے متعلق عوام کی ایک غلط فہمی
احوال کو عین تصوف یا منافی تصوف سمجھنا غلط ہے
اشعار کا نام تصوف نہیں ہے
اخلاق کی درستگی نثر سے ہوسکتی ہے نظم سے نہیں ہوسکتی
تصوف میں کوئی اشکال عقلی اور شرعی واقع نہیں ہوتا
تصوف محققین کے ارشادات کا نام ہے نہ کہ کلمات عشاق کا
طریقت شریعت سے جدا نہیں
تصوف میں د وعلوم مدون ہیں مکاشفہ ومعاملہ
علم مکاشفہ مقصود نہیں
تصوف میں علم معاملہ ہی مقصود ہے
علم معاملہ کے سب مسائل قرآن وحدیث سے ثابت ہیں
معاملہ درست نہ ہوتو مکاشفات کاکوئی اعتبار نہیں
خلافت وسجادہ نشینی
حدیث سے خلافت وجانشینی کی اصل ثابت ہے۔
سجادہ نشینی کا یک غلط مروجہ طریقہ
سجادہ نشینی کا مروجہ طریقہ اضاعت دین ودنیا کا سبب ہے۔
حضرت عمر نے نااہل کو خلافت دینے سے منع فرمایا۔
تعظیم منتسبین مشائخ
منتسبین کی تعظیم حضرات صحابہ کرام سے بھی ثابت ہے۔
بیعت کے متعلق امور
بیعت صغیر
حضور اکرمﷺ بچوں کو بیعت نہیں فرماتے تھے۔
بچوں کی بیعت معتبر نہیں ۔ تبرک اس کا ثابت ہے۔
بیعت واصلاح کے متعلق ایک رائے
بیعت کیلئے ہاتھ میں ہاتھ لینا تاکید ِمعاہدہ کیلئے ہے ۔جزو ِ معاہدہ نہیں
بیعت کیلئے ہاتھ میں ہاتھ لینا سنت سے ثابت ہے ۔
غائب کی بیعت کیلئے ہاتھ میں ہاتھ لینا ضروری نہیں ہے ۔
بیعت کا بڑا مقصد راستہ کے خطرات سے حفاظت ہے ۔
بلاضرورت متعدد بیعت کرنا مضرہے۔
بیعت ِطریقت سنت (حدیث) سے ثابت ہے ۔
بیعت کی خاصیت ہیکہ مرید میں فرمانبرداری کاجذبہ بڑھ جاتا ہے
مقاصدِطریقت ، اعمال خاصہ (اختیاریہ ) ہیں ۔
مقاصد (اعمال خاصہ اختیاریہ) ہی مامور بالتحصیل ہیں ۔
زوائد ِطریقت ( احوال خاصہ ) غیر اختیاری و محمود ہیں مقصود نہیں ۔
طریق میں دو امر ہیں :اطلاع و اتباع تا حصول مقصود
سلو ک کو اصل الاصول سمجھنا غلطی ہے اصل مقصود رضائے حق ہے ۔
طریقت کے زوائد، احوال خاصہ ہیں ۔
طریق میں (علوم ، اعمال و احوال )تین امور سے بحث ہوتی ہے ۔
سلسلہ طریقت میں داخل ہونا بھی برکات کا باعث ہے ۔
طریقت، صحیح ایمان کے بعد معتبر ہے۔
اعمال میں بھی اعمال مقصودہ وذرائع میں امتیاز ضروری ہے
اعمال صالحہ کی غایت ،رضائے حق ہے ۔
ارادت سعی وکوشش کانام ہے نہ کہ محض آرزو و تمنا کا ۔
امراض باطن کا علاج
اصلاح نفس کی بوڑھوں کو جوانوں سے زیادہ ضرورت ہے
کامیابی کا آسان طریقہ
عمل پر آمادہ کرنے کی دوتدابیر
روحانی دولت کے سامنے سلطنت کی کوئی حقیقت نہیں
محبوب حقیقی کی رضا کے لئے کلفتیں برداشت کرنی چاہئیں
قصد وارادہ سے عمل کی ہمت وتوفیق ہوتی ہے
سب کو راضی کرنا ناممکن ہے کسی کی ملامت کی پراوہ نہ کرے
ملامت سے ہمت قوی ہوجاتی ہے
کسی کی عیب چینی سے نہ گھبرائیں
توفیق طلب اللہ تعالی ہی کے دینے سے ہوتی ہے
تین چیزیں انسان کیلئے سوہان روح ہیں ۔
ماضی و مستقبل میں الجھنا حق تعالی سے حجاب کا باعث ہے ۔
ماضی و مستقبل پر نظر رکھنے کی حکمت " توبہ و عزم "ہے۔
ماضی و مستقبل کو مد نظر رکھنے کی بھی ایک حد ہے ۔
اصل کا م اللہ تعالی کی ذات کا استحضا ر اور دھیان ہے ۔
اللہ تعالی کی ذات کا استحضار ذکر و فکر اور عمل سے حاصل ہوتا ہے ۔
سالک کیلئے عمل کے وقت عمل کرنا بھی ذکر و شغل ہی ہے ۔
اصلاح نفس میں زیادہ کاوش بھی نہ کریں۔
گذشتہ کوتاہیوں میں الجھے ہی رہنا غلو ہے جو مموع ہے۔
تمام تر ریاضات کا مقصد اعمال ظاہرہ وباطنہ کی اصلاح ہے ۔
اصلاح کے لیے تین امور کی ضرورت ہے
کسی محقق عالم کے بغیر خود اپنی اصلاح کرنا حماقت ہے
علماء بھی اپنی اصلاح کے لئے دوسرے علماء سے رجوع کریں
اپنے امراض باطنیہ سے لاعلم کی اصلاح نہایت دشوار ہے
اصلاح باطن کے لئے دوچیزیں ضروری ہیں
اصلاح علم اور عمل سے پیدا ہوتی ہے
حالات کی چار اقسام ہیں ۔ ہر قسم کے الگ حقوق ہیں ۔
امور غیر اختیاریہ پراجر اعمال اختیاریہ کی وجہ سے ملتا ہے ۔
طاعات و معاصی کا مدار قلب کے نورانی یا ظلمت پر ہے ۔
شیخ کے متعلق امور
دعا مجذوب کے بجائے سالک منتہی سے کرانی چاہئے۔
باطنی امراض ، بوجہ فواتِ حس کے محسوس نہیں ہوتے۔
ہمیشہ اپنے گناہوں پر نظررکھنی چاہئے۔
کامل کبھی خطا وغلطی پر بھی اصرار نہیں کیا کرتا۔
تین امور قابل اخفاء ہیں۔ اسرار،طرق تعلیم ومکاشفات
علم اسرار کے اخفاء کی وجہ
تعلیم سلوک کے طرق کے اخفاء کی وجہ
مکاشفات وغیرہ کے اخفاء کی وجہ
ابتلاء ظاہری اکثر اولیاء اللہ کوہوتاہے تمام کا نہیں ۔
ابتلاء باطنی تمام اولیاء اللہ کو پیش آتاہے۔
ایمان کی پختگی سب سے افضل باطنی خلق ہے۔
روحانیات کےسینہ بسینہ منتقل ہونےکاصحیح معنی
سینہ بسینہ روحانیات کی غلط تعبیر اوراس کاضرر
بزرگوں پر اعتراض سے بچنا چاہئے۔
اللہ تعالی کی پکڑ سے بے فکر نہیں ہونا چاہئے۔
گناہ پر ہمیشہ ندامت ہو
معرفت الہیٰ بڑھاپے میں بڑھ جاتی ہے
کمال و نقص کا مدار امور اختیاریہ پر ہے
نفس کی حکم الہی سے منازعت ابتداً ہوتی ہے
گناہ کو چھوڑنے میں کلفت نہیں حلاوت ہے
عشق اورمعرفت کا غلبہ اعمال پر الگ الگ اثر انداز ہوتاہے
ناقص عبادت کی تکمیل کی کوشش کرتے رہیں
اہل اللہ کی تعلیمات سے منتفع ہونےکی شرط ان کا تابع بننا ہے
علم اور عمل ہی سے کمال شرعی ودنیوی حاصل ہوتا ہے
اپنے دل کو خیالات سے خالی رکھو
تصوف کاحاصل تفویض محض ہے
خلوت میں اللہ تعالی سے مانگنا اصلاح کا آسان نسخہ ہے۔
عورتوں کے لئے ہدایات
عورتوں کے لئے ہدایات
عورتوں کے لیے نیک صحبت کے دو طریقے ہوسکتے ہیں
عورتوں کے لئے ہدایات
عقلمند مومن کی صفات
سلوک کا بالتفصیل جامع خلاصہ
شیخ کا ریاء (اظہار عمل)مرید کے اخفاء سے بہتر ہے۔
اصلاح کے دو ثمرات ہیں
فاقہ اختیار کرنا سنت ہے
قرآن کریم نے پچھلے گمراہ لوگوں کی سیرت اپنانے سے منع فرمایا ہے ۔
ذرائع
ذرائع کی دوقسمیں ہیں ۔
متعلق معدہ (مجاہدہ)ومتعلق فعل (افعال واعمال)
افعال واعمال
افعال کی دوقسمیں ہیں مفید بلاخطر اورمفید بالخطر
افعال مفیدہ بلاخطر کی تعداد اور معنی
افعال مفید ہ مع الخطر کی تعداد
توجیہات
باطن شیخ کی توجیہ
باطن شیخ کے ہرجگہ موجود ہونے کا معنی
باطن شیخ کے افادۂ عام کی شرط
"باطنِ شیخ ہرجگہ ہے" کی غلط تعبیر
کرامۃ ًشیخ کا کسی دوسری جگہ نظر آجانا ممکن ہے۔
باطن اصطلاح میں اسم الہی کا نام ہے۔
باطن(اسم الہی) کو شیخ کی طرف منسوب کرنے کی وجہ
"باطنِ شیخ ہرجگہ ہے" کی تو جیہ وتحقیق
تجلی حق در خلق کی توجیہ
تجلی حق در خلق کا حدیث میں ذکر ہے۔
تجلی حق در خلق سمجھ سے بالا تر بحث نہیں۔
تجلی حق کو معنی عرفی ولغوی پر محمول کرنا جائز نہیں۔
تجلی حق در خلق کی توجیہ اور تحقیق
تشبیہ نفس بافرعون کی توجیہ وتحقیق
تشبیہ نفس بافرعون صورت قیاس ہے نہ کہ مدلول
الصوفی لامذہب لہ کی توجیہ وتحقیق
خود کو بددین کہنے کی توجیہ
صحابہ کرام کے خود کو منافق سمجھنے کی توجیہ
اصلاح قلب کی اہمیت
مقصود ِاصلی دل کی اصلاح ہے ۔
قیامت کے دن کام آنے والی چیز قلب سلیم ہے ۔
دل بمنزلہ بادشاہ کے ہے اور اعضاء اسکے غلام ہیں ۔
دل میں جو چیز بیٹھ جائے سارے اعضاء کواس کی دھن ہوتی ہے۔
بیت اللہ کی طرح انسان کا قلب بھی مورد تجلیات ہے۔
دل کی تطہیر بہت ضروری ہے۔
تمام نیکیوں اور برائیوں کا مرکز دل ہے
قرآن مجید سے کماحقہ استفادہ اصلاح قلب پر موقوف ہے
امراض قلب کی طرف توجہ کی ضرورت ہے
دل کی اصلاح ہی سے تمام اعمال کی اصلاح ہے
مرض کا علاج نہ کرنا سخت خطرناک ہے
ہر کام دیکھ بھال کرکرنا اصلاح قلب کے لئے اکسیر ہے
متعدد اعمال باطنی کا اجمالی تذکرہ
نور وظلمت قلب کی توضیح
طاعت کا اثر نورانیت اورمعصیت کا اثر ظلمت ہے۔
دل کی نورانیت یا ظلمت غیر محسوس ہے۔
جوانوار قلب محسوس ہوتے ہیں غیر مقصودہیں۔
اخلاق حسنہ کا تعارف و اہمیت
افضل ترین مومن وہ ہے جسکا خُلق سب سے بہتر ہو ۔
دین تکمیلِ ا خلاق کا نام ہے۔
آپﷺ کی بعثت کا مقصد اخلاق حسنہ کی تکمیل ہے ۔
اصل عزت کمالات اور عمدہ اخلاق کا مالک ہونے میں ہے ۔
روحانیت و اخلاقیت انسانی شرف کا باعث ہیں
ذکر اللہ تمام اخلاق حسنہ میں تسہیل کا باعث ہے ۔
اخلاق حسنہ کا اثر صحت پر بھی ہوتا ہے
اخلاق باطنہ کی حقیقت
اخلاق کے حسن و قبح کا اصل مدار اللہ تعالی کی رضا و عدم ِرضا ہے ۔
حسن سلوک
تقوی اور لوگوں سے حسن سلوک سے اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے
دشمنوں کی ایذاؤں سے بچنے کا علاج صبر اور اللہ کی یاد میں مشغول ہونا ہے
خود کو پست بناؤ تکبر چھوڑ دو
ایفائے عہد
عقلمند مومن اللہ تعالی سے کئے گئے وعدوں کی پاسداری کرتاہے۔
عقلمند مومن اپنے تمام تر وعدوں کی تکمیل کرتاہے۔
تقویٰ
عقلمند مومن خشیت الہی سے آراستہ ہوتاہے۔
عقلمند مومن حساب کی سختی سے ڈرتاہے۔
ذکر وتقوی کی مواظبت سے نور الہی (صفاء قلب ) حاصل ہوتاہے ۔
اعتدال
اعتدال کی اہمیت
انسان وہ ہے جس کی طبیعت میں اعتدال ہو ۔
اعتدال سے گھٹنا اور بڑھنا دونوں حالتیں حسن سے خارج ہیں ۔
بعض صحابہ کی شدت اور آپﷺ کی تنبیہ
اعتدال اور یکسوئی سے خدمتِ خلق اللہ ،سالک کے لئے بہت نافع ہے ۔
احکام شرعیہ میں قسط یعنی انصاف کا حکم الٰہی
احکام میں اعتدال کا اعتبار ضروری ہے۔
حقوق نفس وحقوق اللہ میں عدل کریں۔
اپنی ذات کے ساتھ عدل کریں۔
اپنے اور دیگر مخلوقات کے مابین عدل کریں۔
دوفریقین کے درمیان عدل کریں۔
تمام احکام شرعیہ میں عدل کا لحاظ رکھیں۔
اعتدال کی فضیلت
سب سے بہترین عمل وہ ہے جو میانہ روی سے کیا جائے ۔
میانہ روی عباد الرحمن (بندگان ِ خدا )کی صفت ہے ۔
اعتدال کے دودرجات ہیں حقیقی واصطلاحی
معتد ل اور مسنون سلوک
احسان
احسان کی تعریف
استقامت
استقامت کی تعریف
استقامت کا معنی
استقامت کی اہمیت
ہر کام او ر ہر حال میں استقامت مطلوب ہے
حدود اللہ سے تجاوز کرنا تمام تر فساد کا سبب ہے۔
استقامت سے ہٹنے کی مضرتیں
استقامت سے ہٹ جانا گمراہیوں کا سبب ہے۔
امانت
امانت کی تعریف
ایثار
ایثار کی تعریف
اخلاص
اخلاص کی تعریف
اخلاص کے تین درجات ہیں ۔
اخلاص کا پہلا درجہ : غایت صحیح کا قصد ہو ۔
اخلاص کا دوسرا درجہ : غایت فاسدہ کا قصد ہو ۔
اخلاص کا تیسرا درجہ : کچھ بھی قصد نہ ہو ۔
اخلاص کے تین درجات کی ایک مثال سے وضاحت
اخلاص کے احکام
غیر مکرر عمل میں اخلاص کےلئے غرضِ صحیح کا تصور ضروری ہے۔
اخلاص میں حد سے تجاوز ،بدعت ہے
اخلاص کے فوائد
اخلاص سے عمل میں عمل میں برکت ہوتی ہے ۔
عمل پر ثواب بقدر ِ اخلاص ملتا ہے ۔
اخلاص قبولیت عامہ کا ذریعہ ہے۔
خلوص کو اختیار کرنے سے عمل بڑھتا ہے
اخلاص کے مدارج
اخلاص کا اعلی رتبہ : رضاء حق مقصود ہو ۔
اخلاص کا درمیانہ رتبہ :مخلوق کا دل خوش کرنا مقصود ہو ۔
اخلاص کا ادنی رتبہ : خالی الذہن ہو کر عمل کرے ۔
ریاء کاری کا نہ ہونا بھی اخلاص کا ایک رتبہ ہے ۔
اخلاص کے حصول کی تدبیر
اخلاص کا حصول دفع ریاء سے ممکن ہے
اخلاص کی اہمیت
اخلاص سب اخلاق کے بعد میسر ہوتاہے۔
اخلاص مسلمان کی دینی ودنیوی کامیابی نہیں ہوتی
اہل اللہ مخلص تھے اور ہم مفلس ہیں
تہذیب نفس کا بڑا شعبہ خلوص ہے
اسلام تلوار سے نہیں بلکہ اخلاص سے پھیلا ہے
اخلاص کے معنیٰ حضرت سعید بن جبیر ؒ کے نزدیک
بندہ کے اخلاص کو کوئی تیسرا نہیں پہچان سکتا۔
بے اعتدالی کی مضرتیں
جسمانی امراض بے اعتدالی سے پیدا ہوتے
اعتدال کالغوی معنی
اعتدال انسانیت کا معیار شرافت ہے۔
انسانیت کا کمال جسمانی وروحانی اعتدال ہے ۔
روحانیات میں بے اعتدالی بھی روحانی مرض ہے۔
اعتدال کی حسی مثال
روح بھی اعتدال وبے اعتدالی کا شکار ہوتی ہے ۔
انس
انس کی تعریف
اللہ تعالی مومنین کے دلوں میں تسکین اتارتے ہیں
حق تعالی سے اُنس پیدا کرنے کا طریقہ
اللہ تعالی کا ذکر اطمینان و انس کا ذریعہ ہے
انبساط وادلال (ناز ) کی تعریف
ناز متوسطینِ سلوک کا حال ہے ۔
ناز (انبساط ) کے احکام
غلبۂ حال کے بغیر ناز ،زیب نہیں دیتا ۔
ناز و انبساط پر گوشمالی بھی کردی جاتی ہے ۔
ناز کے بجائے ہروقت تغیر و زوال سے ڈرتےرہنا چاہئے ۔
غلبہ حال کے بغیراہل حال کی تقلید کرنا گستاخی ہے
اہل نیاز کو ناز زیبا نہیں
شوق جب حد سے بڑھتا ہے تو ادب نہیں رہتا
غلبہ شوق کے دو اثر ہیں جسمانی وروحانی
لذت کا مدار معرفت اور محبت ہے
فرح وبطر میں فرق
فرح شکر عمدہ حالت ہے اور فرح بطر (اترانا)مذموم حالت ہے
فرح بطر (اترانا)کے بعد غفلت ہوتی ہے فرح شکر کے بعد نہیں
تفکر
تفکر کا لغوی معنی
تفکر کی تعریف
تفکر کی ایک مثال
تفکر کی حکمت
کائنات میں غور وفکر کرنے کی ایک حکمت اللہ تعالی کی معرفت ہے ۔
کائنات میں غور وفکر کرنے کی ایک حکمت وقوعِ قیامت پر استدلال ہے ۔
تفکر کے فوائد
فکر کی وجہ سے راستہ خود بخود منکشف ہونے لگتا ہے ۔
تفکر کی بدلت دین پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔
تفکر کے ذریعے دنیا و آخرت میں موازنہ آسان ہوجاتا ہے ۔
اہل اللہ نے دنیا کو بذریعہ فکر ہی سمجھا ہے ۔
ذکر وفکر سے نور ِ ایمان کی تکمیل ہوتی ہے ۔
سوچ سمجھ کر بات کرنے سے انسان غلطی سے محفوظ رہتا ہے ۔
تفکر کی اہمیت
غور و فکر کرناعقلمندی کی علامت ہے ۔
طریقت کا مدار تفکر پر ہے ۔
تربیت یافتہ حضرات کو بھی ہمیشہ فکر مند رہنا چاہئے ۔
قرآن ِ مجید نے تفکر کی بہت تاکید کی ہے ۔
قوت فکریہ کی کمی سے دنیا اور دین دونوں کے کام خراب ہوتے ہیں ۔
نابینا وہ ہے جو آنکھ سے (مشاہدہ قدرت)کام نہ لے
ہر عمل میں غور وفکر کی ضرورت ہے
خیال ایک مؤثر چیز ہے
امراض باطنی پیدا ہونے کی ایک وجہ تعلیم شریعت میں غور نا کرنا ہے
انسان کو کائنات اور اپنی عمر کے متعلق غور و فکر کرنے کا حکم
تفکر کی فضیلت
ذکروفکر ، عقلمندی کی علامت ہے۔
تفکر بھی مثل ذکر ، ایک عبادت ہے۔
ایک گھڑی کاتفکرپوری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔
تفکر افضل ترین عبادت ہے۔
مسلمان کے لئے کسی فکر میں گھرے رہنا ڈھال ہے۔
تفکر کے احکام
عالم کی طرف توجہ توجہ بخدا ہو تو محمود ہے
تفکر کا میدان مخلوقات الٰہی ہیں
تفکر فی الدنیا
تفکر فی الدنیا کی بھی تاکید ہے
تفکر فی الدنیا پر ایک اشکال اور اس کا جواب
تفکر فی الدنیا کا حکم
انسان کا اپنی ذات میں تفکر کرنا
انسان کی تخلیق قابل تعجب ہے
انسانی غذا کا جزو بدن بننا اللہ تعالی کی قدرت محض ہے
ذکر اورفکر میں فرق
تفکر کی صفت پیدا کرنے کا طریقہ
تفکر و تدبر نہ کرنے والوں کی مذمت
تفویض
تفویض کی تعریف
تفویض کی اہمیت
حدیث شریف میں تفویض کاحکم وارد ہوا ہے ۔
غم کا سبب خدا کی مملوکات میں اپنی تجویز لگانا ہے
تفویض کی فضیلت
تفویض کرنا اولیاء و مومنین کا شیوہ ہے ۔
عبدیت یہ ہے کہ خود کو اللہ تعالی کے سپرد کردے ۔
ہر حال میں اللہ تعالی سے راضی رہنا کمال عبدیت ہے
صفت ِ تفویض حاصل کرنے کا طریقہ
تفویض کے احکام
تفویض ایک جامع صفت ہے جو تمام حالات کو شامل ہے ۔
اپنی رائے کوکچھ سمجھنا عبدیت کی ضد وتکبر ہے
تفویض کے معنی ترک ِ تدبیر نہیں ۔
اللہ تعالی کو اپنی طرف سے کوئی رائے نہیں دینی چاہئے۔
تفویض کے فوائد
صاحب تفویض پریشانیوں سے حفاظت اور راحت میں رہتا ہے ۔
صاحبِ تفویض راحت میں رہتا ہے ۔
تفویض میں راحت ہی راحت ہے
کلفت کا راز تجویز ہے
تفویض کے درجات
تفویض کے دو درجات ہیں ۔
1حصول ثواب کے لئے تفویض کرنا
2محض رضائے حق کے لئے تفویض کرنا(اعلی درجہ)
تدبیر کے آداب
تدبیر کو سنت اور اطاعت سمجھ کر کرنا چاہئے ۔
تدبیر کا نتیجہ اللہ تعالی کے سپرد کردینا چاہئے۔
امور غیر اختیاریہ میں خلاف کی تمنا مذموم ہے
امور غیر اختیاریہ کے پیچھے نہ پڑیں
تفویض کے آداب
راحت کی نیت سے تفویض کرنا دین نہیں بلکہ دنیا ہے ۔
راحت کے لئے تفویض کرنے سے ثواب نہیں ملتا ۔
راحت کے لئے تفویض کرنےسے راحت بھی نہیں ملتی ۔
راحت کے لئے تفویض کرنےسے حقیقی قرب بھی نہیں ملتا ۔
تفویض اللہ تعالی کا حق سمجھتے ہوئے اختیار کرنی چاہئے
تقوی کا معنی
تقوی کی تعریف
تقویٰ کا معنیٰ و مفہوم
تقوی کی حقیقت
تقوی کی اہمیت
تقوی اعمال قلب میں سے ہے ۔
تقوی کا حصول فرض ہے ۔
قرآن ِ کریم میں تقوی کا حکم بار بار آیا ہے۔
دونوں جہانوں کی کامیابی اللہ تعالی سے ڈرنے میں ہی ہے ۔
عبادات صرف اہل تقویٰ کی قبول ہوتی ہیں
تقویٰ کے متعلق حضرت عمر بن عبدالعزیز کی نصیحت
صادق اور متقی وہ ہے جو دین میں کامل ہو ۔
فاتقوا اللہ حق تقاتہ کے احتمالاًدو معانی ہیں ۔
تقوی کے احکام
انسان اللہ تعالی کی شان کے مطابق تقوی کا مکلف نہیں
اصل تقوی اور کمال "حرام سے بچنا "ہے ۔
ہر عضو کا تقوی الگ نوعیت کا ہے ۔
آنکھ کا تقوی
زبان کا تقوی
ہاتھ کا تقوی
پاؤں کا تقوی
کان کا تقوی
پیٹ کا تقوی
وضع قطع کا تقوی
خشیت وہی معتبر ہے جس کا منشاء ذکر اللہ ہے۔
کمال تقوی اسباب بعیدہ سے بھی بچنےکانام ہے ۔
مافات کی تلافی لوازم تقوی سے ہے۔
تقوی محض مخلصاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہو
تقوی کمال دین کو کہتے ہیں
مشتبہات میں پڑنا بھی خطر ناک ہے
بعضوں کا تقویٰ کلابی ہوتا ہے
تقویٰ صلاحیت قلب کا نام ہے
تقویٰ ایک پوشیدہ چیز ہے
تقویٰ کا تعلق دل سے ہے
تقوی کے مختلف مدارج ہیں ۔
اول:ادنیٰ درجہ
دوم:متوسط و مطلوب درجہ
سوم:اعلیٰ درجہ
کفر اور شرک سے بچنا تقوی کا پہلا زینہ ہے ۔
تقوی کا دوسر ازینہ ہے واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے بچنا ۔
تقوی اور ایمان کا درجۂ کمال "احسان " ہے ۔
تقوی کا درجہ کمال / ایمان کامل کا حصول تدریجا ً ہوتا ہے ۔
تقوی کے فوائد
حمایت الہی صبروتقوی پرمتوجہ ہوتی ہے۔
تقویٰ کو زیادت فہم میں بڑا دخل ہے
مصائب کا قرآنی علاج صبر وتقوی ہے۔
باہمی اتفاق و اتحا دکے حصول کا ذریعہ تقویٰ ہے
تقوی کی بدولت گناہ جھڑ جاتے ہیں۔
تقویٰ تمام مصائب و مشکلات کا حل ہے
تقوی کی فضیلت
دین میں کامل ہونے کا طریقہ تقوی کا حاصل کرنا ہے
تقوی واعطاء سے جنت آسان ہوجاتی ہے
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے نزدیک تقویٰ کی تعریف
متقی کو فرقان عطا ہونے کا معنی
اجمالاًتمام ابواب تقوی کا احاطہ کرنے والی آیت
تقوی اور خشیت پیدا کرنے کا طریقہ
متقی بننے کا طریقہ یہ ہے کہ تمام کام دیکھ بھال کر کیے جائیں ۔
عبادت کرنے سے صفت تقویٰ لازمی حاصل ہوتی ہے
تواضع کی تعریف
تواضع کی حقیقت
تواضع کی اصل مجاہدۂ نفس ہے ۔
تواضع کا اعلی درجہ
تواضع کا اعلی درجہ یہ ہے کہ مدح و ذم برابر ہوجائے ۔
تواضع کے لئے مدح و ذ م کا عقلاً برابر ہوجانا کافی ہے کہ طبعاً ممکن نہیں ۔
تواضع کی فضیلت
تواضع اللہ تعالی کے مقرب بندوں کا شیوہ ہے ۔
متواضع (عاجزی والے ) مومن کے لئے رفعت کا وعدہ ہے ۔
شکستہ دل قرب وفضل الہی کا زیادہ مستحق ہوتاہے۔
عزت ورفعت تواضع ہی میں ہے
اللہ تعالی کوعاجزپر بہت رحم آتاہے۔
متواضع کو بلند مرتبہ ملتا ہے۔
توبہ کے بعد ایک رہزن کی تواضع اور اللہ تعالی کا انعام
تواضع کے فوائد
تواضع کا نتیجہ اتفا ق و یگانگت ہے ۔
تواضع سے جذب ِ باہمی (ایک دوسرے کی طرف میلان ) پیدا ہوتا ہے ۔
خود کو مٹانے میں بھی شہرت ہے
اہل اللہ کی تواضع میں من جانب اللہ بھی معاونت ہوتی ہے
تواضع پیدا کرنے کا طریقہ
تواضع پیدا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عظمت کاستحضار رکھے ۔
تواضع حاصل کرنے کا طریقہ وہی ہے جو تکبر کا علاج ہے ۔
تواضع کاملین کے جوتے سیدھا کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
تواضع میں اعتدال
تواضع میں دوسروں کی راحت کا بھی خیال رکھنا چاہئے ۔
غلبۂ حال یا بے توجہی سے کسی کو کچھ کلفت ہو تو معذور شمار ہوگا ۔
تواضع کے احکام
اپنی صفات کی نفی کرنا تواضع نہیں
اتنی زیادہ تواضع سے بچنا چاہئے جو تکلیف کا باعث ہو
بڑا بننے کی نیت سے تواضع کرنا کبر ہے
تواضع کی اہمیت
اتفاق کی اصل تواضع ہے
تواضع بڑے کام کی اور نفع کی چیز ہے
اہل تواضع کا مصداق
توکل
توکل کی تعریف
توکل کی حقیقت
ترک اسباب کا نام توکل نہیں ہے
توکل یہ ہے کہ اسباب کے بجائے اللہ تعالی پر بھروسہ ہو
اسباب پراعتماد نہ کرنے کی دو صورتیں ہیں
توکل کی عقلی مثال
توکل کی اہمیت
توکل کرنا اللہ تعالی کا حکم ہے ۔
توکل کی اقسام
توکل کی دو قسمیں ہیں ۔ علماً وعملاً
پہلی قسم :توکل علمی
توکل علمی فرض اور جزو ایمان ہے ۔
دوسری قسم: توکل عملی
اسباب کی دو اقسام ہیں ۔ دینی و دنیوی
پہلی قسم :اسباب دینیہ
اسباب دینیہ کو ترک کرنا شرعا توکل نہیں بلکہ مذموم ہے ۔
دینی امورِ واجبہ کے اسباب اختیار کرنا واجب ہے ۔
دینی امور ِ مستحبہ کے اسبا ب اختیار کرنا مستحب ہے ۔
دوسری قسم : اسباب دنیویہ
نفع دنیاوی کی دو قسمیں ہیں :حلال اور حرام
نفع دنیاوی کی پہلی قسم : نفع حلال
نفع حلال کی تین قسمیں ہیں ۔ یقینی ، ظنی ، وہمی ۔
اسباب وہمیہ کو ترک کردینا ضروری ہوتاہے ۔
اسباب وہمیہ کے درپئے ہونا "طول الامل " ہے ۔
اسباب یقینیہ کوترک کرنا جائز نہیں ۔
اسباب ظنیہ کا ترک کرنا یا نہ کرنا حقیقی توکل کا مدار ہے ۔
اسباب ظنیہ کوترک کرنا ضعیف النفس کے لئے جائز نہیں ۔
قوی النفس کے لئے اسباب ظنیہ کوترک کرنا بالکل جائز ہے ۔
نفع دنیاوی کی دوسری قسم : نفع حرام
نفع حرام کے اسباب کا ترک کرنا فرض ہے ۔
توکل کے فوائد
اللہ پر توکل کرنے والا کبھی ذلیل نہ ہوگا
متوکلین کے رزق کی اللہ نے ذمہ داری لے رکھی ہے
توکل کے احکام
مومن ہمیشہ اللہ تعالی ہی سے مانگنے کا پابند ہے ۔
خدمت دینی میں مشغو ل قوی النفس کے لئے توکل کرنا تاکیداًمستحب ہے ۔
حضور اکرم ﷺ نے اپنے عمل سے توکل میں اعتدال کی تعلیم فرمائی ۔
پہلے ممکنہ تدابیر اختیار کرکے پھر توکل کرنا چاہئے ۔
اگر توکل کی شرائط نہ ہوں تو توکل کے بجائے تدبیر اختیار کرنی چاہئے ۔
تدبیر اختیار کرکے اللہ تعالی پر بھروسہ کرنا چاہئے ۔
ترک اسباب میں جلدی نہ کریں
تدبیر کریں اس پر بھروسہ نہ کریں
صرف اسباب پر نظر نہ رکھیں
اسباب میں انہماک ا ور ترک اسباب دونوں ناجائز ہیں
ترک اسباب علی الاطلاق جائز نہیں
اسباب کے اختیار کرنے میں دو فائدے ہیں
خدا کی جانچ کرنا بھی بے ادبی ہے
تدبیر کے ساتھ توکل ہونا چاہیے
جانوروں کو رزق بھی تدبیر کے واسطے سے دیا جاتا ہے
ہر شخص کو اپنی قابلیت کے موافق اسباب اختیار کرنے کا حکم ہے
جن اسباب پر مسبب عادتاً مرتب ہوتا ہے ان کا ترک حرام ہے
اختیار وعدم اختیار اسباب دونوں میں توکل ہونا چاہئے
اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی محتاجی کااظہار توکل کے منافی نہیں
اسباب کو مطلوب بنانا منافی توکل ہے
تدابیر کی مشروعیت میں ایک حکمت
مضبوط گھر بنانا توکل کے خلاف نہیں
مادی اسباب کو بروئے کار لانا،توکل کے منافی نہیں
مصیبت سے خلاصی کےلیے کسی کو واسطہ بنانا توکل کے منافی نہیں
انسانی وعدہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں
مضر اشیاء سے بچنے کےلیے ظاہری تدابیر اختیار کرنا منافی توکل نہیں
ظاہری اسباب کوبروئے کار لانا منافی توکل نہیں
اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں
اسباب کی طرف توجہ سے قبل اللہ تعالی کی طرف توجہ ہو
توکل(ترک اسباب) کی تمام اقسام کا خلاصہ اور اجمالی حکم
توکل کے ساتھ ظاہری اسباب اختیار کرنا سنت ہے۔
اسباب کے متعلق مؤمن و غیر مؤمن کا رویہ
آپﷺ اور صحابہ کے توکل کی صورت
تمام ذرائع اختیار کرکے توکل کرنا چاہئے۔
رزق کے اسباب اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں
توکل کی شرائط
توکل صحیح کی شرط یہ ہے کہ نفس اشراف سے بھی بچتا ہو ۔
تدبیر اختیار کرنے کی دو شرائط ہیں ۔
تدبیر اختیار کرنے کی پہلی شرط
تدبیر اختیار کرنے کی دو سری شرط
توکل حاصل کرنے کا طریقہ
تحمل
بردباری اخلاق حمیدہ میں سے اعلیٰ خلق ہے
تدبیر
تدبیر کی تعریف
حلم
حلم کی تعریف
حیاء
حیاء کی تعریف
حیا خوف کی ایک قسم ہے
بے حیائی کی وجہ سے وبائی امراض کی سزا
خوف وخشیت
خوف کا لغوی معنی
خوف کا شرعی معنی
خشیت کی تعریف
خشیت کے درجات
کسبی ووہبی ہونے میں خشیت کے درجات
خشیت کا پہلا درجہ عقلی کسبی
خوف عقلی شرط ایمان ہے ۔
خشیت کا دوسرا درجہ عملی کسبی
خو ف عملی فرض توہے لیکن شرط ایمان نہیں ۔
خشیت کا تیسرا درجہ کسبی
خوف کا درجہ مستحب
خشیت کا چوتھا درجہ وہبی
خوف کا درجہ وہبی
خوف کے دومراتب ہیں ادنی واعلی
خوف کے دو درجات ہیں مذموم ومحمود
خشیت کا پہلا درجہ خشیت اعتقادی ہے
خشیت کا دوسرا درجہ استحضارخشیت ہے
خشیت الہی پیدا کرنے کا طریقہ
دل میں خشیت پیدا کرنے کا طریقہ
خشیت الہٰی علم سے پیدا ہوتی ہے
خشیت کے لیے علم وتفکر دونوں کی ضرورت ہے
تقوی اور قول سدید خشیت کا ذریعہ ہیں۔
خشیت پیدا کرنے کا طریقہ غور وفکر ہے۔
مراقبہ آخرت تحصیل خشیت کے لئے اکسیر ہے
خشیت کی اہمیت
اللہ تعالی نے خشیت کا حکم فرمایا ہے ۔
حضور اکرم ﷺ نے ہمیں اللہ سے ڈرتے رہنے کا حکم فرمایا ہے ۔
اللہ تعالی سے دعا میں خشیت مانگنی چاہئے ۔
خشیت الہی سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ۔
بہت کم ہی لوگ محض تہذیب و تعلیم کی وجہ سے گناہ کو چھوڑتے ہیں
اخلاق حمیدہ خشیت ہی سےبآسانی پیدا ہو سکتے ہیں
ایمان کا مدار خوف پر ہے
خشیت الہی فرض ہے۔
خشیت کے احکام
ایمان خوف و رجا ء دونوں کے مجموعہ کا نام ہے ۔
اگررجاء کے بغیر خوف ہی خوف ہو تو یہ کفر ہے ۔
اللہ تعالی کا طبعی خوف ضروری نہیں ۔ بلکہ عقلی خوف ہونا چاہئے ۔
اللہ تعالی کے خوف سے طبعاً گریہ کا طاری ہونا محمود تو ہے مطلوب نہیں ۔
خشیت بالذات مقصود نہیں بلکہ معصیت سے بچنے کے لئے مطلوب ہے ۔
غلبۂ خوف جس سے کہ تعطل ہوجاتا ہے مطلوب نہیں ۔
اللہ سے بے خوفی کفر ہے
وہ خشیت معتبر ہے جس پر عمل صالح مرتب ہو
خوف الہی کی بھی حدود مقرر ہیں
طاعت کے ساتھ خوف میں نور ہوتاہے
طاعت کر کے ڈرنا اہل محبت کی علامت ہے
خشیت کی حقیقت
مطلوب وہ خوف ہے جسکے ساتھ دوسرے مصالح بھی باقی ہوں ۔ تعطل نہ ہو ۔
صرف رونے دھونے کا نام خشیت نہیں۔
غیر اللہ کا طبعی خوف، تقوی کے منافی نہیں۔
خشیت کے فوائد
خوف خدا سے گناہ سے حفاظت رہتی ہے ۔
خوف ِ خدا سے نیکی کی رغبت اور رجحان پیدا ہوتا ہے ۔
اللہ تعالی سے ڈرنے والے مجموعہ کمالات ہوتےہیں ۔
جو شخص خد اسے ڈرتا ہے اس سے ہر شئے ڈرنے لگتی ہے ۔
دنیا میں خوف رکھتے والا آخرت میں مطمئن ہوگا ۔
خوف خدا والی آنکھ قیامت والے دن رونے سے محفوظ رہے گی ۔
خوف خدا والی آنکھ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گی ۔
اللہ تعالی سے ڈرنے والا شخص ایک وقت ضرور جہنم سے نکال لیا جائے گا ۔
خوف جملہ برائیوں کی جڑ کاٹنے والا ہے ۔ جملہ طاعات کا ذریعہ ہے ۔
خوف کو ترک معاصی میں بڑا دخل ہے
رغبت وخوف سے دل میں عمل کا تقاضا پیدا ہوتاہے
خشیت ہی امراض قلب کا علاج ہے
خشیت کے واجب ہونے کی وجہ
خشیت کے وجوب کی دو وجوہ ہیں ۔
خشیت کے وجوب کی پہلی وجہ
خشیت کے وجوب کی وسری وجہ
خشیت کی فضیلت
خوف خداسے گناہوں سے بچنے والے کےلیے دوجنتیں ہے
خشیت اعمال صالحہ کی کنجی ہے
قرآن کریم نے اہل خشیت کی مدح فرمائی ہے۔
خوف خدا سے رونا جہنم سے نجات دلاتاہے۔
خشیت میں مبالغہ کی مضرتیں
شدت خوف سے امور معاش اور اموردین معطل ہوجاتے ہیں
خوف کی دو قسمیں ہیں
خوف خدا کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے
خوف میں شدت اور خفت مخوف عنہ کے اختیارات کےمطابق ہوتی ہے
حیا اورخوف خدا پیدا کرنےکا دستور العمل
اللہ ورسول کی ملامت ہی کے خوف سے گناہ چھوڑدیں
خشیت اور محبت کا جمع ہونا ضروری ہے
مؤمن غیر اللہ سے نہیں ڈرتا
رجاء
رجا کی تعریف
رجا کے درجات
رجا کا ایک درجہ وہبی ہے ۔
رجاء کی اہمیت
اللہ تعالی نے ناامیدی سے منع فرمایا ہے ۔
رجا کے احکام
رجا کے لئے عمل شرط ہے ۔
دل میں رجا پیدا کرنے کا طریقہ
رجاء اور غرور میں فرق
عمل کے بغیر رجاء سے کامیابی حاصل نہ ہوگی
مومن یوم آخرت کا بہت زیادہ خوف نہ رکھیں
اہل محبت کے لیےقیامت آسان ہے
فکر آخرت وعمل صالح کے بعدحد سے زیادہ خوف نہ ہو
خوف اور رجاء ہر وقت ہونا چاہیے
رضاءبالقضاء
رضاء کی تعریف
رضا کی اہمیت
اللہ تعالی نے قران کریم میں رضا کا ذکر فرمایا ہے ۔
رضا کی فضیلت
قضا ء پر راضی رہنا انسان کی سعادتمندی ہے ۔
راضی برضائے حق رہنا حضور اکرم ﷺ کی سنت ہے ۔
رضا کی اقسام
رضا طبعی
رضا عقلی
رضا کے احکام
انسان رضا عقلی کا مکلف ہے ۔رضا طبعی غیر اختیاری وغیر مطلوب ہے ۔
تقدیر پر راضی رہتے ہوئے اداء حکم کے لئے دعا بھی کرلینی چاہئے ۔
تکلفا خستہ حال رہنا ناشکری اور خلاف اطاعت ہے ۔
عوام امور کو مسبب کے بجائے اسباب کی طرف منسوب کریں
رضا پیدا کرنے کا طریقہ
تقدیر پر راضی رہنے کی وجہ ثواب کا استحضار ہے ۔
رضا کی صفت بھی محبت کے ساتھ ہی حاصل ہوجاتی ہے ۔
تقدیر پر راضی رہنے کی حسی مثال
اللہ تعالی کی رضا کے سامنے کسی کی ملامت کی فکر نہ کرنی چاہئے ۔
اگر مصیبت پر ملنے والے اجر کا یقین ہو تو تکلیف پر بھی راحت ہوتی ہے ۔
اللہ تعالی جس حال میں رکھیں وہی سب سے بہترہے ۔
دوسروں کے حالات کی تمنا نہیں کرنی چاہئے ۔
رضا کی علامت
سالک کو ہر حال میں راضی رہنا چاہیے
رحمت
رحمت کی تعریف
زہدکی تعریف
زہد کی اہمیت
اول بہتری اس امت کی یقین اور زہد ہے ۔ (الحدیث)
زہد کی حقیقت
زہد ایک نور کانام ہے جو بندہ کے قلب میں ڈال دیا جاتا ہے ۔
زہد کی حقیقت اور صحیح مفہوم
مصیبت پر صبر اجر کے لئے کرتے ہیں نہ اس لئے کہ مصیبت پر خوش ہیں ۔
دنیا کی حقیقت
زاہد کے دل میں دنیا کی حیثیت پھٹے پرانے چیتھڑے کی سی ہوتی ہے ۔
زاہد کی نگاہ ِ بے نیاز میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ۔
زہد کے فوائد
زہد کا ثمرہ یہ ہے کہ بقدر ضرورت دنیا پر قناعت حاصل ہوجاتی ہے ۔
زہد قلب اور بدن دونوں کی راحت کا باعث ہے ۔
زہد کے درجات
پہلا درجہ : نفس کو جبراً دنیا سے روکا جائے۔
دوسرا درجہ: نفس کا دنیاکی طرف میلان ہی نہ رہے۔
تیسرا درجہ : دل میں دولت ِدنیا کا ہونا ، نہ ہونا برابر ہوجائے ۔
حضور اکرم ﷺ نے دنیا کو زائد از ضرورت پسند نہیں فرمایا ۔
افسوس اور اترانے کے بین بین رہنا چاہئے
دل میں زہد پیدا کرنے کا طریقہ
سخاوت
سخاوت کے احکام
جس مال کے ذریعے آدمی اپنی آبرو کو بچائے وہ بھی صدقہ ہے۔ (الحدیث)
کسی شاعر یا ہیجڑے کو ہجو سے روکنے کے لئے کچھ دینا پڑے تو دے دینا چاہئے ۔
سکوت
سکوت کی تعریف
شکر کی تعریف
شکر کی حقیقت
شکر کی روح یہ ہے کہ منعم اور نعمت کی دل سے قدرکی جائے ۔
تفاخر کے بغیراظہار نعمت بھی شکر ہے
ناشکری کی حقیقت
نعمت کی تعریف
نعمت کی دو قسمیں ہیں ظاہری وباطنی
باطنی نعمت اسلام کی دولت پر اللہ کا شکر ادا کریں
عقل بھی ایک باطنی نعمت ہے
شکر کی اہمیت
اللہ تعالی نے شکر کا حکم فرمایا ہے ۔
حدیث شریف میں بھی شکر کی ترغیب آئی ہے ۔
تمام دینی و دنیاوی نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کفار کے ہاتھ سے بھی نعمت حاصل ہو سکتی ہے
نعمتوں پر شکر کا طریقہ
شکر کے لئے نعمتوں کی غرض تخلیق معلوم ہونا ضروری ہے ۔
شکر کے جذبات پیدا کرنے کا طریقہ
شکر کے فوائد
شکر سے رضاء وطاعت کے جذبات ضرور پیداہوتے ہیں
شکر کرنے سے نعمت میں اضافہ ہوتا ہے ۔
شکر کی بدولت حق تعالی کاقرب نصیب ہوتا ہے ۔
شکر سے نعمت بڑھتی ہے
شکر کرنا نعمت میں اضافہ وبرکت کا سبب ہے۔
ہر ہرعضو کا الگ شکر ہے۔
اللہ تعالی کی نعمت "آنکھ " کا شکر
اللہ تعالی کی نعمت "کان " کا شکر
اللہ تعالی کی نعمت "زبان" کا شکر
دل کا شکر یہ ہے کہ اس میں اللہ اور رسول کی محبت پیدا کرو
بدن کا شکر یہ ہے کہ خلاف شرع لباس نہ پہنو
کامل شکر تمام اعضاء بدن کا عبادت میں مشغول ہونا ہے
شکر کے احکام
بندوں کے سامنے اپنےحالات پر شکوہ کرنا معصیت ہے ۔
صرف زبان سے شکر کرنے سے حقیقت میں شکر ادا نہیں ہوتا ۔
صرف زبانی شکر کی حسی مثال
شکر ِحقیقی کے دودرجات ہیں ۔ ابتدائی (عقلی) و انتہائی (طبعی)
شکر ِحقیقی کا ابتدائی عقلی درجہ
شکر ِ حقیقی کا انتہائی طبعی درجہ
اعیان و اشیاء کی طرح اعراض و اعمال کے ملنے چھننے پر بھی شکر صبر واجب ہے ۔
تکلفا ظاہری یاباطنی نعمت کو چھپانا ناشکری ہے
باوجود علم کے تکلفاخود کو جاہل کہنا نا شکری ہے
منعم کے احسان کے بقدر شکر واجب ہے
ہر نعمت کی حقیقت کو سمجھ کر شکر کرنا چاہئے
چھوٹی چھوٹی نعمتوں پر بھی شکر اداکرنا چاہئے
نعمت کو چھپانا ناشکری ہے
ہر حال میں شکر گزار رہیں
بڑی نعمت کی ناشکری کا وبال بھی سخت ہوتا ہے
استغنا ء عن اللہ کوئی چیز نہیں ہے
اپنی بے بسی کا اعتراف ، شکر کامل کے قائم مقام ہے۔
شوق
شوق کی تعریف
شوق کی اہمیت
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں اپنی ملاقات کا شوق دلایا ہے ۔
حضور اکرم ﷺ دعا میں اللہ تعالی کی ملاقا ت کا شوق مانگا کرتے تھے ۔
شوق کی کیفیت آہستہ آہستہ انس کی صورت اختیار کرلیتی ہے ۔
شوق کے احکام
شوق کی بھی ایک حدِ اعتدال ہے ۔
شوق اور عشق اگر اعتدا ل سے بڑھ کر ہو تو مضر ہے ۔
دل میں شوق پیدا کرنے کا طریقہ
شجاعت
شجاعت کی تعریف
صبر کی تعریف
صبرکی تعریف
صبر کے لغوی معنیٰ
صبر کی حقیقت
صبر کا حاصل یہ ہے کہ مؤحد کامل بن جائے ۔
صبر کو آسان بنانے کی تدبیر
غم کے اظہار کا اہتمام تصنع ہے
صبر کی اقسام
شرعاًصبر کی تین قسمیں ہیں ۔
صبر علی العمل
صبر فی العمل
صبر عن العمل
صبر کی تین قسمیں ہیں۔
اول : صبر علی الطاعات
دوسرے، صبر عن المعاصی
تیسرے صبر علی المصائب
صبر کی اہمیت
اللہ تعالی نے صبر کاحکم فرمایا ہے ۔
نبی کریم ﷺ کو خصوصاً صبر کی تلقین کی گئی
صبر کے فوائد
مومن کی خصوصیت ہے کہ صبر و شکر کی بدولت ہمیشہ راحت میں ہوتا ہے ۔
غم نورانیتِ قلب کا باعث ہے۔
مصیبت حقیقت میں تجارت ہے۔
مصیبت مآل کے اعتبار سے نعمت ہے۔
مصیبت سے ایمان پختہ ہوتاہے۔
صبر حب جاہ اور حب مال کا علاج ہے
مصائب کا قرآنی علاج صبر وتقوی ہے۔
صبر،کامیابی مقاصد کا راستہ ہے۔
طاقتور کے سامنے کامیابی کا راستہ،صبر کرنا ہے
صبر سے باہمی نزاع سے بچا جا سکتا ہے
صبر سے یکسوئی کی عادت پیداہوتی ہے
صبر کی فضیلت
صبر نصف ایمان ہے ۔
صبر ایک جامع خلق ہے جو تمام اعمال شرعیہ کو عام ہے ۔
اللہ تعالی نے مصیبت کا بہت ثواب رکھا ہے ۔
صبر کرنے والوں کے مددگار اللہ تعالی ہیں ۔
مصائب کی حکمت ایمان کی آزمائش اور تطہیر ہے ۔
مصائب کی بدولت انسان مقام عبودیت پر فائز ہوجاتا ہے ۔
مصائب سے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے ۔
مصائب کی بدولت حق تعالی کا قرب نصیب ہوتا ہے ۔
قیامت میں مصائب کی جزا دیکھ کر اہل نعمت حسرت کریں گے ۔
صبر کرنے والے مظلوم کا انتقام خود حق تعالی لیتے ہیں ۔
ابتلاءپر صبر،رفع درجات کا باعث ہے۔
دنیوی نعمتوں کی کمی اخروی اجر کاباعث ہے۔
صبر کا گھونٹ اللہ تعالیٰ کو پسند ہے
مسلمان کو چھوٹے سے چھوٹے رنج پر بھی اجر ملتاہے ۔
صبر سے قطع نظر ، نفس ِ تکلیف پر بھی ایک اجر ملتا ہے ۔
مصائب پر صبر
مصیبت کی دو قسمیں ہیں ۔ صورت ِمصیبت اور حقیقت ِمصیبت
حقیقی مصیبت
مصیبت ِصوری
پریشانی کی دو اقسام ہیں اختیاری وغیر اختیاری
اختیاری پریشانی کی دواقسام ہیں
پہلی قسم جس کا جلب و سلب اختیاری ہو
پریشانی کے اختیاری اسباب جلب کو اختیار کرنا مضر ہے
دوسری قسم جس کا صرف سلب اختیاری ہو
پریشانی کے اختیاری اسباب سلب کو اختیار نہ کرنا مضر ہے
غیر اختیاری پریشانی میں خیر ہے
فقر و تنگدستی میں صبر کرنے کا معنی
ظاہری وباطنی بیماریوں میں صبر
اہل معرفت کو مصیبت کا احسا س وادراک زیادہ ہوتا ہے ۔
عارفین کو مصیبت میں رنج وغم بہت زیادہ نہیں ہوتا ۔
مصیبتِ رحمت ومصیبتِ زحمت میں فرق کامعیار
بلاء و مصیبت بھی نعمت ہے
محبت کا خاصہ ہے محبوب عشاق کو آزمایا کرتے ہیں
مصیبت میں مطیع وعاصی میں امتیاز ہوتاہے
دنیاوی مضرتوں میں دین اور دنیا کی کچھ منفعت بھی ہے
دنیا کی مضرت کو بقا نہیں
مسلمانوں پر مصائب ان کے گناہوں کی وجہ سے ہیں
مصائب کا ایک سبب آزمائش و رفع درجات بھی ہے
مصائب سے اخلاق درست ہو جاتے ہیں
مصیبت کی شدت افضلیت کے حساب ہوتی ہے
مصیبت اور نعمت کی دو دو قسمیں ہیں
حق تعالیٰ ہمیں مصیبت بھیج کر صابر بنانا چاہتے ہیں
نفس مصیبت کااجر الگ ہے صبر کا اجر الگ ہے
مصائب پر صبر سے حق تعالیٰ کاقرب بڑھتا ہے
انبیاء ؑ پر بھی بلائیں اور ایذائیں امت کی طرف سے آئی
کبھی رنج وغم ہلکا کرنے کے لئے بھی سزا دی جاتی ہے
مصیبت میں بے فکری کا راز
بیماری میں آہ آہ کرنا صبر کے خلاف نہیں ہے
ہر شکایت منافی صبر نہیں
مرض جسمانی پر ثواب ملتاہے اور گنا ہ معاف ہوتے ہیں
مصیبت کا آنا باطن کی اصلاح کے لئے ہے۔
مصیبت میں اپنے اعمال کی طرف نظر رکھیں
مصیبت آنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں
مصائب تکوینیہ کے تحمل کا طریقہ تعلق مع اللہ کو مضبوط کرنا ہے
ابتلاء کی حکمت بندوں کا عجز ظاہر کرنا ہے
عقلی رنج ہی پریشانی کی جڑ ہے
عارف کو طبعی رنج ہوتاہے عقلی نہیں ہوتا
مصیبت میں اپنی زبان کی حفاظت زیادہ کرنی چاہیے
مصیبت اور بلا کے دو حق ہیں
مصیبت زائل ہونے پر خداکا شکر کرنا چاہیے
اپنی اختیاری تکلیف کو برداشت کرنا تقوی نہیں
ازالہ مصیبت کے لئے ازالہ سبب ضروری ہے
بیماری پر صبر
غیر اختیاری بیماری کی فضیلت
صبر کا تعلق مصیبت اور عبادت دو چیزوں سے ہے ۔
مصیبت میں صبر یہ ہے کہ جزع فزع نہ کرنا ۔
عبادت میں صبر کا معنی ہے نفس کو عبادت پر جمانا
بے صبری کی اقسام
صبر پر قدرت کے اعتبار سے بے صبر ی کی متعدد صورتیں ہیں ۔
انتقام بالمثل لینا ۔
زبان سے برا بھلا کہنا ، سامنے یا پس پشت بددعا دینا ۔
میت پر نوحہ و شکایت کرنا ۔
جو کسی فعل پربھی قادر نہ ہو اس کا فعل کی تمنا یا عزم کرنا ۔
صبر پیدا کرنے کے مدارج
مصیبت کے وقت کی دعا پڑھنا ۔
دل میں اللہ تعالی کی قدرت اور اختیار اورحکمت کو سوچنا ۔
مصیبت کو بار بار یاد نہ کرنا ۔
اپنے گناہوں کو یاد کرکےمصیبت کو سزا سمجھنا ۔
مصیبت پر ملنے والے اجر کو سوچنا ۔
شکوہ شکایت سے بچنا ۔
اللہ تعالی سے بدگمانی سے بچنا ۔
صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ۔
مصیبت پر ملنے والے بدل اور نفع کوسوچنا ۔
قوت ہوی کو کمزور کرنا
صبر کے احکام
مصیبت میں صبرورضا کےساتھ دعاوتدبیرکابھی حکم ہے۔
صبر(مصیبت) کی دعا سے رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے
ہر ایک سے مصیبت کا ذکر کرنے والا صابر نہیں ہے
صبر محمود وہ ہےجو اول صدمہ کے وقت باختیار ہو
کلفت ظاہری اور باطنی دونوں میں صبر کرنا چاہیے
صبر کے متعلق عوام کی غلط فہمی
نماز اور دیگر عبادات صبر کے جزء ہیں
حضور اکرمﷺ کے صبر کے دومعنی ہیں۔
عام انسان اور انبیاء کے صبر و شکر میں فرق
صبر اور شکر ہر وقت واجب ہے
حصول صبر وشکر کا طریقہ خشیت اور محبت ہے
عقلمند مومن رضائے الہی کے لئے صبر کرتاہے۔
صبر اور شکر کی حفاظت کا طریق ذکر اللہ ہے
صدق
صدق کی تعریف
صدق قول (سچ بولنے ) کی تعریف
صدق کی حقیقت
صدیق وہ ہے جو تقوی و صلاح میں مرتبۂ رسوخ حاصل کرلے۔
صدیقیت کی حقیقت یہ ہے کہ شریعت طبیعت بن جائے ۔
صد ق حاصل کرنے کا طریقہ
تمہید خاص (فقط متعلقہ کتاب )
اہل صدق کی صفات
صحیح سچا مومن وہ ہے جو ایمان لانے کے بعد کبھی تردد کا شکار نہ ہو ۔
صدق والے مومنین لعن طعن کرنے والے نہیں ہوتے ۔
صدق کی جامعیت
ظاہرا وباطنا درست فعل بھی صدق کہلاتاہے۔
شرعاً صدق افعال ، اقوال اور احوال کو عام ہے۔
اقوال کا صدق
افعال کا صدق
اعلانیہ و تنہائی میں اچھی نماز پڑھنے والا اللہ کا سچا بندہ ہے
احوال کا صدق
صدق احوال کا ایک دوسرا معنی
صدق احوال کا معنی ہمیشہ غلبۂ احوال نہیں ہے ۔
صدق کی اہمیت
قرآن کریم نے سچے لوگوں کے ساتھ رہنے کاحکم دیا ہے ۔
صدیقیت کا درجہ نبوت کے بعد ہے ۔
اعمال کو درجہ کمال پر ادا کرنا صدق ہے ۔
صدق کی فضیلت
صدیقین کا صدق روز قیامت فائدہ دے گا
صدق کے احکام
خود کوتکلفا ایسے زیور سےآراستہ کرنا بھی کذب ہے جو موجود نہیں
سچے آدمی کی نشانی ہے کہ وہ اپنے جذبات فطریہ کے موافق عمل کرتا ہے
عدل
عدل کی تعریف
عفت و پاکدامنی
عفت و پاکدامنی کی تعریف
قناعت
قناعت کی تعریف
استقامت کے اہتمام سے ہر عمل کامل ہوتا ہے
محبت الہی
محبت کی تعریف
عشق کی تعریف
محبت الہی کی فضیلت
عشاقِ خدا ،درحقیقت بے تاج بادشاہ ہوتے ہیں ۔
اللہ تعالی مومنین سے اور مومنین اللہ تعالی سے محبت کرتے ہیں ۔
رسول اللہ ﷺنے اللہ تعالی سے محبت پر نوید سنائی ہے ۔
محبت الہی کے دو درجات ہیں ۔ طبعی وعقلی
حب الہی طبعی مقصود نہیں گو محمود ہے ۔
اللہ تعالی سے حب عقلی فرض ہے ۔
کاملین حب طبعی وعقلی دونوں کے جامع ہوتے ہیں ۔
ناقصین میں حب طبعی کا غلبہ ہوتا ہے ۔
تعلق مع اللہ کے دو درجے ہیں
رضائے حق کی رضائے غیر پر ترجیح کے اعتبار سے محبت کی اقسام
محبت الہی کے احکام
عشقِ خدا کی طلب ہو تو ملامت تو سننی ہی پڑتی ہے ۔
غیر اللہ کی محبت کو حب الہی پر غالب رکھنا عذاب کا باعث ہے ۔
امور دنیویہ کی وہ محبت منع ہے جو دین سے مانع ہو ۔
محبت عقلی ، محبت طبعی سے افضل اور راجح ہے ۔
حب عقلی صرف اللہ تعالی سے ہی ہوسکتی ہے ۔
حب طبعی اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور سے بھی ہوسکتی ہے ۔
عمل کے بغیر محبت کا کوئی مقام نہیں ۔
عمل و محبت کے تلازم (ایک دوسرے کے لازم ہونا ) کی حسی مثال
غیر اللہ کی وہ محبت مذموم ہے جو محبت الہی پر غالب ہو
غیراللہ کی وہ محبت جو مذموم نہیں
اللہ اور رسول ﷺ کے بارے میں عشق کا لفظ استعمال کرنا بے ادبی ہے
جوش کاکم ہوجانا زوال محبت کی دلیل نہیں ہے
اللہ و رسول کی مطلوب محبت،محبت اختیاری ہے ،طبعی نہیں
اللہ ورسول سے محبت کا اعلیٰ معیار،طبعی محبت ہے۔
محبت الہی کی اہمیت
ایمان کی مضبوطی حب اللہ کی پختگی کے بقدر ہوتی ہے ۔
جو (شخص حب الہی طبعی اور عقلی ) دونوں سے کورا ہے وہ خطرہ میں ہے ۔
محبت ضروری ہے ۔ اس کے بغیر نری عبادت ناکافی ہے ۔
شیطان محبت نہ ہونے کی وجہ سے گمراہ ہوا ۔
حق تعالی کی محبت کے بغیر اخروی نعمتیں نہیں مل سکتیں ۔
عقل اور دین دونوں محبت الہی کی تعلیم دیتے ہیں
اسرار کا علم عقل کے بجائے تعلق مع اللہ سے حاصل ہوتاہے
دل میں اگر محبت الہی نہ ہو تو زندگی تلخ ہوجاتی ہے
کامل محبت ہی اطاعت کاملہ کا سبب ہوتی ہے
دین کی محبت دل میں نہ ہو تو سب لفافہ ہے
تکمیل ایمان کےلیے اللہ و رسول اللہ کی محبت سب پہ غالب ہو
محبت کے3 سبب ہوتے ہیں ۔ انعام ونوال ،حسن و جمال اور فضل وکمال
اللہ تعالی سے محبت کی عقلی وجہ
عاشق کی تین قسمیں ہیں
محبت الہی کے فوائد
محبت وصول الی اللہ کے لئے بہت مختصر راستہ ہے ۔
محبت کی وجہ سے محبوب سے کوئی شکوہ نہیں رہتا ۔
محبت کے ہوتے ہوئے کسی دوسری چیز کی پرواہ اور خواہش نہیں رہتی ۔
محبت سے معرفت بڑھتی ہے۔
تعلق مع اللہ مصائب میں بھی قلبی لذت کا باعث ہے
محبت قائد ہوتی ہے اور خوف سائق ہوتاہے
غلبہ محبت مشکل چیز کو آسان کر دیتی ہے
محبت الہی ہر چیز کا تحمل پیدا کر دیتی ہے
محبت اور عشق سے عقل کامل ہوتی ہے
طریق محبت میں قدم رکھنے سے اسرار کاخزانہ ملتا ہے
تعلق مع اللہ کے دنیوی فوائد
اللہ و رسول کی محبت سے حلاوت ایمان حاصل ہوتی ہے
محبت الہی پیداکرنے کاطریقہ
محبت الہی کے حصول کے لئے اختیاری اور عملی تدابیر ہیں ۔
دین کا علم سیکھیں ۔
شریعت کی پابندی کی جائے ۔
خود کو ممکنہ حد تک راحت پہنچائی جائے ۔
احکام خدا وندی کی مکمل پیروی کی جائے ۔
نیک عمل محبت بڑھنے کی نیت سے کیا جائے ۔
خلوت میں اللہ تعالی کا ذکر کیا جائے ۔
محبان ِ خدا سے تعلق پید اکیا جائے ۔
اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کو سوچا جائے ۔
دعا میں محبت مانگی جائے ۔
یہ سوچا جائے کہ اللہ تعالی ہم سے محبت فرماتےہیں ۔
غیر اللہ کی محبت کو دل سے نکالا جائے ۔
دنیا سے منہ پھیرے بغیر حق تعالی کی محبت پیدا نہیں ہوسکتی ۔
شریعت پر استقامت محبت الہی کاذریعہ ہے۔
نعمتوں کے یاد کرنے سے اللہ سے محبت بڑھتی ہے
دنیا سے منہ پھیر لے ۔
فانی و غیر ضروری تعلقات منقطع کرلے ۔
بقدرِ ضرورت دنیا پر قناعت کرے ۔
باطمینان ذکر و فکر میں مشغول ہوجائے ۔
تعلق مع اللہ کے حصول کا واحد طریقہ اہل اللہ کی صحبت ہے
محبت الہی کی تحصیل کے دوطریقے ہیں
معرفت سے محبت پیدا ہوتی ہے
محبت الہی کے حصول کاذریعہ اتباع سنت ہے۔
اللہ و رسول کی محبت،صحبت اولیاء سے حاصل ہوگی
اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے کے دو طریقےہیں
محبت الہی کے آداب
جب کسی چیز سے محبت ہوتی ہےتواس کا ذکر کثرت سے کیا جاتا ہے
محبوب کی عظمت لوازم محبت میں سے ہے۔
تم اللہ تعالیٰ کے عاشق بن جاؤ ملامت کی پروا نہ کرو
محبت الہی میں پختگی کے مدارج
حب الہی کی پختگی کا پہلامرحلہ
حب الہی کی پختگی کا دوسرامرحلہ
حب الہی کی پختگی کا تیسرامرحلہ
محبت الہی نہ ہونے پر وعید
جو شخص مرتے وقت اللہ تعالی کی ملاقات کو پسند نہ کرے وہ جہنمی ہے ۔ (الحدیث )
غیراللہ کی طرف میلان طبعی گناہ نہیں ۔
منصب ومحبت میں فرق ہے۔
عشق بے زبان زیادہ روشن ہے
عشاق کو بو ئےمحبوب اپنی طرف کھینچ لیتی ہے
محبت کا خاصہ ہے کہ سخت سے سخت مصیبت ہلکی معلوم ہوتی ہے
عشق ایسی بلا ہے کہ پوشیدہ نہیں رہ سکتا
عشق بے زبان کو بھی زبان لگ جاتی ہے
عشق بے زبان کو سننے کے لیے بڑاکلیجہ چاہیے
حقیقی محبت کا معیار
عشق ذاتی کا معیار
حقیقی محبت کبھی زائل نہیں ہوسکتی
سچا عاشق فاسق نہیں ہوتا
محبت الہی کامعیار اطاعت ہے۔
دل میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت ٹٹولنے کا معیار
حب الہی کی کسوٹی اتباع سنت ہے۔
محبوب کی اطاعت کے بغیر محبت معتبر نہیں
محض دعوی محبت کافی نہیں
ذکر کے بغیر دعوی محبت جھوٹ ہے
مؤمنین کو اللہ کی محبت حاصل ہو گی
محبوب کو شکایت محل محبت پر ہی ہوا کرتی ہے
عاشق کا مزاج
اللہ تعالیٰ سے چھوٹنے پر صبر کر لینا بہت اشد ہے
اللہ تعالی کی طرف قلبی انجذاب ہونا چاہئے
اللہ تعالی کی طرف قلبی انجذاب کا ذریعہ اطاعت ہے
محبت کا مدار دیکھنے پر نہیں
غایت قرب بھی بعض اوقات مانع ادراک ہوتا ہے
تمہارا دوست خدا کے سوا کوئی نہیں
محبت اور شوق پیدا کرنے کا دستور العمل
خوف ومحبت کا جامع سب سے بڑا فرمانبردارہے
مسلمان دنیا دار نہیں عاشق ہے
عشق میں ملامت سے لطف آتا ہے
حق تعالیٰ سے ہمارا تعلق محبت اور جانثاری کا ہونا چاہیے
تعلق مع اللہ کا بقا استحکام پر موقوف ہے
اللہ تعالیٰ سے نفس تعلق بھی نعمت ہے
اللہ تعالی سے ضعیف تعلق پر قناعت کرلینا ظلم ہے
محبت الہی تمام اعمال کی روح ہے
محبت حق کے بغیر نماز بھی نماز نہیں
محبت کے دو رنگ ہیں
محبت الہی کو دشواریا محال سمجھنا غلطی ہے
عشق کی زبان معذور ہوتی ہے
عاشقی محبوب کابندہ ہوجانا ہے
اللہ تعالٰی سے محبت اختیاری امر ہے
اللہ کی محبت کا حصول بھی اختیاری ہے
مدارات
مدارات کی تعریف
مواسات
مواسات کی تعریف
نرمی و رفق
نرمی و رفق کی تعریف
یقین
ابلیس نے قوت یقین سے دنیا میں خلود حاصل کرلیا ۔
زہد ترکِ لذات کانام نہیں ۔ محض تقلیل ِلذات زہد کے لئے کافی ہے ۔
غناء ِقلب
اصل غنا ء دل کا غنا ہے
تعلق مع اللہ
تعلق مع اللہ کی دو قسمیں ہیں۔
نسبت محمود
تمام تعلقات پر اللہ و رسول کا تعلق مقدم ہے
تعلق مع اللہ اطمینان قلبی کاباعث ہے ۔
تعلق خدا مقوی قلب ہے
کتاب الرقاق
قساوت قلبی
کسی مسلمان میں قساوت نہیں
فکر آخرت
انسان کی طبیعت میں لذات ِ دنیا کی طرح لذات ِ آخرت کی بھی خواہش ہے ۔
جابجا موتیں ہونا یہ آخرت کا الارم ہے
اگر احوال غیب منکشف ہوجاتے تو سب خشیت سے روتے ہی رہتے ۔
موت اور اس کے بعد کے حالات
ذکر موت سے متعلق حضورﷺ کا ارشاد
مرنے والا دنیا سے راحت پاتاہے یا دنیا اس سے راحت پاتی ہے۔
بوڑھاپا موت کی خبر لاتا ہے
تہذیب مزاج
صداقت اور تقو ی، صبر و استقلال (مستقل مزاجی) میں ہے ۔
مکارم اخلاق کی صحیح روح اسلاف میں تھی
تہذیب اخلاق خدا کے خوف سے ہو تو مستحکم ہے
غلطی کا اقرار کرلینے سے عمل کی توفیق ہوتی ہے
اخلاق فاضلہ کے حصول کےلیے شیطان سے لازمی پناہ مانگیں
تمام احوال میں اللہ تعالی پر مکمل بھروسہ کریں۔
عوام کے مذاق کے تابع نہ بنوشریعت کے تابع بنو
شریعت کا اتباع ہونا چاہیے عادت کا اتباع نہیں
شریعت پر اعتراض کرنا ذوق فاسد کا کام ہے
اسلام کے درست ہونے کی ایک علامت" لغویات سے بچنا" ہے ۔
بے انتظامی بہت سی خرابیوں کی جڑ ہے
ہر کام میں ترقی انتظام سے ہوتی ہے
ہمہ وقت ایک ہی کام کرنا اکتاہٹ کا سبب ہے۔
جائز کاموں میں بھی ترتیب ضروری ہے
موجود ہوتے ہوئے فاقہ کرنا خلاف ادب ہے
ہر چیز میں بڑا کمال اقتصاد و اعتدال ہے
ہر کام میں میانہ روی ضروری ہے
ہر امر میں انتظام مطلوب ہے
ہر وہ فعل جو بے موقع کیا جائے وہ مذموم ہے
ہر کام کو اس کے قاعدہ سے کرنا چاہے
امر فضول بھی قابل ترک ہے
دو باتوں میں سے آسان کو اختیار کرنا سنت ہے
آج کل طبائع لہو لعب کی طرف زیادہ راغب ہیں
ہر کام میں ضابطہ سے آسانی ہوجاتی ہے
ہر کام کا جو طریقہ ہے اس کو اسی طریقہ سے کریں
ہر نیک کام کرنے کی علیٰ الاطلاق اجازت نہیں
ہر کام کو اس کے طریقے سے کرو
آسانی و سہولت ا وراچھے دنوں میں مشکل دنوں کو یاد رکھنا چاہیے
قاعدہ درج کریں
کلی
جزوی
اکثری
استثنائی
×
×
تعلیم درج کریں
علمی
عملی
عملی درج کریں
مشقی
غیر مشقی
حکم درج کریں
فرض
فرض عین
فرض کفایہ
واجب
سنت
سنت مؤکدہ
سنت غیر مؤکدہ
نفل
مستحب
افضل
جائز
مباح
حرام
مکروہ تحریمی
مکروہ تنزیہی
ناجائز
بنیادی
دفعِ مضرت
ابہام
یاد دہانی درج کریں
عملی تکرار
علمی تکرار
ایک بار
مخاطب درج کریں
خواص
مقتداء
جنس درج کریں
مرد
عورت
دہرائی درج کریں
ضروری
غیر ضروری
حیثیت درج کریں
انفرادی
اجتماعی
زمانہ درج کریں
قبل آدمؑ
حضرت آدمؑ سے حضرت نوحؑ تک
حضرت نوحؑ سے حضرت ابراہیمؑ تک
حضرت ابراہیمؑ سے حضرت موسیٰؑ تک
حضرت موسیٰؑ سے حضرت عیسیٰئ تک
حضرت عیسیٰؑ سے آپ ﷺ تک
آپ ﷺ کے زمانے سے قیامت تک
قیامت کے بعد تک
تعلق درج کریں
ظاہری
باطنی
اندراج کریں
بند کریں
مکطس کے نصاب کے ساتھ مکتب تربیت المسلمین کے نصاب کا موازنہ
پہلی جماعت
دوسری جماعت
تیسری جماعت
چوتھی جماعت
پانچویں جماعت
چھٹی جماعت
ساتویں جماعت
آٹھویں جماعت
نویں جماعت
دسویں جماعت
گیارہویں جماعت
بارہویں جماعت