×
×
بنیادی عنوان درج کریں
عقائد
عقائد کا تعارف واہمیت
عقیدہ کا لغوی و اصطلاحی معنیٰ
اسلام کے بنیادی عقائدتین ہیں
کسی ایک بنیادی اصول و عقیدہ کا منکر اللہ تعالی کا باغی ہے
عقائد کے ہر مسئلہ میں نجات کے ساتھ ایک غایت بھی ہے
دین اسلام ، قائم رہنے والا دین ہے
اسلام مکمل نظام حیات ہے
اب مدار نجات صرف آپ ﷺکا دین اسلام ہے
شعائر اللہ اسلام کی شان وشوکت ظاہر کرتے ہیں
شعائر اللہ کی تعظیم کیسی ہوتی ہے ؟
احکام شرعیہ میں حکمتیں واہبی ہیں
سیدھا راستہ ، اسلام کا راستہ ہے
اسلام،تمام انبیاءمیں مشترک دین ہے
ارکان اسلام کی تعریف اور ان کے نام
احکام تشریعیہ میں کوئی حکم طاقت سے باہر نہیں ہے
مصائب تکوینیہ میں بھی کوئی مصیبت طاقت سے باہر نہیں ہے
شریعت نہایت حسین و جمیل ہے
عقائد کو دستورالعمل بنانے میں کامیابی ہے
مؤمن زندہ اور کافر مردہ ہے
تمام اعمال ایمان پر موقوف ہیں
شریعت کو سمجھنے کے لیے مزاج شناسی کی ضرورت ہے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ مجتہدین آپ ﷺ کے مزاج شناش تھے
احکام شرعیہ کا مخاطب ہر ایک ہے
نصوص میں کسی امر کی پشین گوئی سے اس کا اختیار سے باہر ہونا لازم نہیں آتا
پشین گوئی حکم تکوینی ہے حکم تشریعی نہیں
دین شریعت کے ہر ہر حکم پر عمل کرنے والا مکمل دین دار ہے
شریعت طبعی امر کو بیان کرے تو وہ امر بہت زیادہ ضروری ہوتا ہے
احکام شریعت کی مصلحت جانناچاہتے ہو تو ان کی وقعت دل میں رکھو
شریعت نے جو چیزیں بدیہی ہیں ان کو ذکر کرنے کا اہتمام نہیں فرمایا
شریعت کی ہر تعلیم طبیعت کے مناسب ہے
ہمارا نفس کیونکہ بصیر نہیں اس لیے شریعت سے بھاگتا ہے
اگر طبیعت سلیم ہوتو شریعت کی طرف مائل ہوگی
شریعت کی تعلیم کے خلاف کرنے پر ضرر ضرور ہوتا ہے
مسائل میں ضروری اور غیر ضروری کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے
احکام شریعت کسی مقام پر معاف نہیں ہوتے
کعبہ محض سمت عبادت ہے خود مقصود ومسجود نہیں ہے
پچھلی امتوں کی شریعتوں کا حکم ہمارے لیے اس وقت واجب العمل ہے جب اسلام ان کی تائید کرے
اصولی عقائد چھ ہیں جو تمام انبیاء کرام میں مشترکہ تھے
اللہ تعالیٰ کے تمام احکام کو وقعت و اہمیت دیں
شعائر کا معنی اور مصداق
اسلام لقب کے لحاظ سے امت محمدیہ کے ساتھ خاص اور معنی وصفی کے لحاظ سب امتوں میں مشترک ہے
ایمان کی تعریف
غیر مسلم جنگجو کے مسلمان ہونے کا اعتماد تین چیزوں پر موقوف ہے
اسلامی برادری میں داخل ہونے کی تین شرطیں
دین اسلام کو اکثر اوقات و حالات میں غلبہ رہے گا
حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ تک تمام انسان ایک قوم یعنی مسلمان تھے
دین اسلام ہر لحاظ سے ایک معتدل دین ہے
اللہ تعالیٰ نے اسلام قبول کرنے پر جبر نہیں کیا
دین اسلام کے مخالف ہمیشہ رہیں گے
شریعت محمدیﷺ اور شریعت ابراہیمی علیہ السلام میں مماثلت ہے
تمام اقوام و مذاہب کے متعلق فیصلہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن کردیں گے
سب سے پہلے سیدنا ابراھیم علیہ السلام نے اہل ایمان کا نام مسلمان رکھا
کلمہ توحید و دیگر اذکار تصدیق قلبی کے بغیر قبول نہیں ہوتے
ایمان بالغیب کا مفہوم
ایمان بالغیب ہی معتبر ہے
ایمان بہت بڑا عمل صالح ہے
شرعاً کون سا ایمان معتبر ہے؟
ایمان کی دو قسمیں ہیں
ایمان سب سے بڑی نعمت ہے
آپ ﷺ اور مؤمنین کے ایمان میں درجات کے لحاظ سے فرق ہے
اصولِ ایمان میں سب شریعتیں مشترک ہیں
خاصیت ایمان
ایمان کے بغیر تمام اعمال بیکار ہیں
ایمان کی حقیقت
ایمان کی حفاظت ہر ایک کے ذمہ ہے
ایمان کے مقبول ہونے کےلیے تصدیق قلبی کے ساتھ اقرار باللسان لازمی ہے
عذاب دیکھ چکنے کے بعد ایمان لانا معتبر نہیں
زبردستی ایمان پر مجبور کرنا ،قانون قدرت نہیں ہے
زبردستی مسلمان بنانا شریعت میں کسی وقت بھی نہیں ہوا
ایمان ،سفید نور کی مثل قلب پر رہتا ہے
ایمان کے اثر سے دین پر دنیا و آخرت میں ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے
دین اسلام کامل دین ہے
اسلام میں تمام اسباب راحت کی تعلیم موجود ہے
راحت کا سبب اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے
اسلام لانے میں ہی حقیقی اطمینان قلب و چین ہے
شریعت کی تعلیم میں تمام مصالح و مضار کی رعایت ہے
ایمان و اسلام میں باہمی تعلق ہے
ایمان اسلام کے بغیر معتبر نہیں
اسلام ایمان کے بغیر معتبر نہیں
ایمان ایک نور ہے
نور ایمان کا فائدہ دوسروں کو پہنچتا ہے
ایمان کا نور ہر حال میں آس پاس اپنا اثر چھوڑے گا
مسلمان ایمان کی وجہ سے خسارے سے بچا ہوا ہے
ایمان کے بعد اس کے نفع کی کوئی انتہاء نہیں
عمل صالح سے ایمان قوی ہوتا ہے
عقائد کی تعلیم سےمقصود اعمال کی تکمیل بھی ہے
عقائد کی دو قسمیں ہیں
عقائد میں تجدید کی حاجت نہیں ہوتی اعمال میں جدید ضرورت ہے
شریعت کے تمام احکام بندوں ہی کی مصالح و شفقت کی خاطر ہیں
ایمان میں تصدیق بالقلب کے ساتھ زبان سے اقرار بھی شرط ہے
اسلام کبھی کمزور نہیں ہوتا بلکہ اہل اسلام میں کمزوری پیدا ہوتی ہے
اسلام اپنی ذات میں کامل مکمل ہے کبھی ضعیف نہیں ہوسکتا
اسلام ضعیف نہیں ہوا بلکہ ہم خود ضعیف ہوگئے ہیں
کفر بغاوت ہے اور اسلام اطاعت ہے
اسلام اول سے آخر تک نور ہی نور ہے
خدا حاکم ہے اور اسلام اس کا قانون ہے
اسلام ہمیشہ قوی رہے گا
دین اسلام کامل دین ہے ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے
شریعت کے پانچ اجزاء ہیں
شریعت کے پانچوں اجزاء میں خاص خاص خوبیاں ہیں
عقیدہ توحید کے فوائد
عقیدہ جزا وسزا کے فوائد
عقیدہ عاقبت کے فوائد
نعمت اسلام کی قدر فرائض و واجبات سے زیادہ ہے
اگر خاتمہ اسلام پر ہوگیا تو انشاءاللہ نجات ہوجائے گی
اسلام ایسا کامل دین ہے کہ اس کے مقابلہ میں باقی مذاہب دین ہی نہیں
اب اسلام کے علاوہ کسی دین سے نجات نہیں مل سکتی
نو مسلموں کے تمام گناہ اسلام لانے سے معاف ہوجائیں گے
اسلام کے بغیر مغفرت اور نجا ت ممکن نہیں
ترک اسلام کی دو صورتیں ہیں
اسلام حق تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے
اسلام لانے کے دو درجے ہیں
اسلام کا درجہ کمال مطلوب ہونا چاہیے
اسلام میں اصول عقائدکو کہتے ہیں
اسلام میں فروع اعمال کو کہتے ہیں
دین اسلام کے بعد اب سب ادیان منسوخ ہیں
لاالٰہ الا اللہ کہنااسلام کے تمام احکام کی بجا آوری کو قبول کرنا ہے
عوام کو اجمالی ایمان لانا ضروری ہے تدقیقات سے شبہات مزید بڑھ جائیں گے
اسلام کا معنیٰ تفویض ہے
دعویٰ اسلام کے تین درجے ہیں
زبانی اسلام کو اسلام کہنے کی وجہ یہ ہے کہ زبان قلب کا عنوان ہے
ایمان وہ کارآمد ہے جو بالغیب ہو
بعض لوگوں کا ایمان بہت ہی ضعیف ہوتا ہے
اسلام کامل کی تعریف
اسلام کامل کےچار اجزاء ہیں
اسلام کامل کی طول اور بسط کے ساتھ تفصیل
دین کا مدار اعتقاد پر ہے
عمل کا درجہ عقیدہ سے مؤخر ہے
ایمان کے دو جز ہیں ۔تصدیق بالقلب اور اقرارباللسان
بقاءایمان کی حالت میں کوئی مردود نہیں ہوسکتا اور بقاء کفر کی حالت میں کوئی مقبول نہیں ہوسکتا۔
اسلام کے کسی حکم کی توہین شارع اسلام یعنی حضورﷺ اور بانی اسلام یعنی حق تعالیٰ کی توہین ہے
ایمان میں کمال مطلوب ہے کیونکہ ایمان ہی آخرت میں کام آئے گا
تکمیل ایمان ہی میں دونوں جہاں کی راحت ہے یعنی دنیا اور آخرت دونوں کی
کامل محبت اور یمان کے دو اثر ہیں
حق تعالیٰ کے راضی ہونے کا معیار احکام الہی کا اتباع ہے
شریعت ایسا قانون ہے جس میں تینوں چیزیں بصیرت،طریق اور مقصود موجو د ہے
شریعت ،عقل سے زیادہ خیر خواہ ہے
شریعت پر عمل کرنے کے علاوہ کسی چیز میں اطمیان اور راحت نہیں ہے
جیسے تکوینیات میں آزادی نہیں ایسے ہی شرعیات میں آزاد نہیں ہونا چاہیے
تمام احکام شرعیہ تقاضا طبیعت کے موافق ہیں
مصائب میں ایک حکمت یہ ہے کہ ایمان کی آزمائش مقصود ہوتی ہے
اتباع کرنے کی دو چیزیں ہیں اعمال اور عقائد
عقائد اعمال کے لیےبمنزلہ جڑ کے ہیں
مسلمانوں کو عقائد کی تحقیق ورسوخ کی تو ضرورت نہیں البتہ ان عقائد پر استحضار اور توجہ کی ضرورت ہے
عقائد کی اصلاح عملی اصلاح سے مقدم ہے
اللہ تعالی پر ایمان
ذات باری تعالی
اللہ تعالی کی صفات ذاتیہ
قدرت
انسان کے منہ میں اللہ کی ایک قدرت
اللہ تعالیٰ ہر چیز پر غالب قدرت رکھتا ہے
اللہ تعالیٰ اس دنیا کو ختم کرنے پر قادر ہے
سب چیزیں حق تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں حتیٰ کہ حرکت وسکون بھی
حیات
خالق خیر
خالق شر
بندوں کے افعال کا خالق
سمع
بصر
اللہ تعالیٰ کی نظر تمام کائنات کا احاطہ کیے ہوئے ہے
علم
اللہ تعالیٰ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے
اللہ تعالیٰ کائنات کی چھوٹی چیزوں سے بھی واقف ہے
ارادہ
حق تعالیٰ کا ارادہ دو قسم کا ہے
قدیم
معیت
اللہ تعالی کی صفات فعلیہ
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو غمگین نہیں رکھتے
اللہ کی رحمت ہے جس عمل کو چاہیں پسند فرمالیں
ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے
اللہ تعالیٰ دلوں پہ تصرف رکھتے ہیں
اللہ تعالیٰ فاعل مختار ہیں
اسماءحسنیٰ
تعارف واہمیت
اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہر چیز پر غالب ہے
اسماء الہی جمیل ہیں اور جمال کا تقاضہ ہے کہ ان کا ظہور بھی ہو
اللہ تعالیٰ کے نام پر کسی معبود باطل کا نام نہیں رکھا گیا
اللہ کی رحمت کےسو حصے
اللہ تعالیٰ کے ناموں کا غلط استعمال کرنے کا حکم
اسماء حسنیٰ سے کیا مراد ہے؟
اسماء حسنیٰ پکارنے کا معنیٰ
اسماء حسنیٰ یاد کرنے کی فضیلت
اسماء حسنیٰ پڑھ کر دعا مانگنے سے قبول ہوتی ہے
اسمائے باری تعالیٰ بعض جلالی ہیں اور بعض جمالی ہیں
اول
آخر
واجد
بدیع
ازلی
الحیی القیوم
کلام
حق تعالیٰ کا کلام کہیں تو حکیمانہ ہے اور کہیں حاکمانہ ہے
قدرت
جیسے حق تعالیٰ کو تکوینیات میں قدرت ہے ایسے ہی تشریعات میں بھی حاصل ہے
حق تعالیٰ عادۃ مستمرہ کے موافق کام کرتے ہیں ۔ اظہار قدرت کے لیےاحیانا اس کے خلاف بھی کر لیتے ہیں
جبار
حق تعالیٰ حاکم مطلق ہیں
المحيي
المميت
الرزاق
تمام مخلوقات کی روزی کفالت ،اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہے
اللہ تعالیٰ کا رزق کی ذمہ داری لینے کا مطلب کیا ہے
رزق کا مفہوم اور دائرہ کار
اللہ تعالیٰ کی رزق کی ذمہ داری پر سوال و جواب
سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے سامنے پتھر میں جانور کو رزق عطا کرنا
اللہ تعالیٰ عارضی و مستقل رہائش گاہ سب پہ رزق عطا کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ تمام جا نوروں کو روزانہ کا رزق روازنہ عطا فرماتے ہیں
اللہ کا انسانوں کو رزق بعض کو بعض کے واسطے سے ملنے کی حکمت کیا ہے
اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کو ان کا ضروری رزق عطا فرماتا ہے
رزق خاص کی تقسیم میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے متفرق درجات رکھے ہیں
عمر بھر کا رزق ایک ساتھ نہ دینے میں کیا حکمت ہے
حق تعالیٰ ایسے رازق ہیں کہ رزق نہ دینے کی دعا پر بھی رزق دے دیتے ہیں
حق تعالیٰ پر وثوق ہونے کے بعد اگر کسی وعدہ رزق میں ترددہو تو یہ ایمان کے منافی نہیں بلکہ کمال ایمان کے بھی منافی نہیں
رزق بٹی ہوئی چیز ہے نہ وقت سے پہلے مل سکتا ہے اور نہ مقدر سے زیادہ مل سکتا ہے
الخالق
ساری انسانیت کو اللہ تعالیٰ نے ایک ذات سے پیدا کیا
اللہ تعالیٰ بہترین خالق ہیں
دنیاوی صانعین و کاریگروں اور اللہ تعالیٰ میں فرق
غیر اللہ کی طرف تخلیق کی صفت منسوب کرنا جائز نہیں
معاصی و مکروہات کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے ،ان کی تخلیق کی حکمت وہ خود جانتا ہے
الکفیل
ہر مسلمان کا متولی و کفیل ،اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس ہے
المالک
تمام اشیاء کے مالک حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں
حق تعالیٰ پر کسی کو اجر دینا واجب نہیں
حق تعالیٰ نے جو دنیا میں بندوں کو مالک بنایا ہے وہ ملکیت بطور اباحت کے ہے
تمام چیزیں حق تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں ہماری ملکیت مجازی ہے۔
حق تعالیٰ نے جو دنیاوی اشیاء کی ملکیت بندوں کی طرف منسوب کی اس میں حکمت ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو عالم میں فساد برپا ہوجاتا
الخبیر
اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر چیز سے ہر وقت واقف اور خبر رکھے ہوئے ہیں
المدبر
عنداللہ کوئی کام اتفاقاً نہیں ہوتا
القادر
چاند و سورج اللہ تعالیٰ کے مسخر و تابع ہیں
چاند و سورج کا وجود اور نظام اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل ہے
العلیم
حمل کی جنس اور اس کے اوصاف ظاہری و باطنی اللہ کے علم میں ہیں
اللہ تعالیٰ کا علم الثری کے نیچے تک پھیلا ہوا ہے
ظاہری اور پوشیدہ باتوں کو اللہ تعالی جانتے ہیں
اللہ تعالیٰ دلوں کے احوال سے واقف ہے
اللہ تعالیٰ چوری کی نگاہ کو بھی جانتے ہیں
حق تعالیٰ کا علم ہم سے بہت زیادہ ہے
عالم الغیب و الشھادۃ
اللہ تعالیٰ غائب کو بھی حاضر کی طرح جانتے ہیں
علم غیب اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہے
مفاتیح الغیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں
مفاتیح الغیب میں ان پانچ چیزوں کو ذکر کرنے کی وجہ کیا ہے؟
مفاتح الغیب(پانچ چیزوں ) کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، اس پر سوال
علم غیب کے متعلق اشکالات کا شافع جواب
علم غیب کی دو قسمیں ہیں،احکام غیبیہ اور اکوان غیبیہ
الکبیر اور المتعال
کفار و مشرکین کا صفت الکبیر ،المتعال کے متعلق نظریہ
حق تعالیٰ بہت بڑے ہیں ان میں اور ہم میں اتنی بھی نسبت نہیں جو ایک وبائی کیڑے کو ہم سے ہے
السمیع
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سراً و جہراً قول برابر ہیں
البصیر
اندھیرے و اجالے کی چیز عنداللہ برابر ہے
الھادی
اللہ کی حمد و ثناء لکھنے میں سمندروں کا پانی ختم ہو جائے گا
ایمان اور یقین انسان کا فعل ہے اس میں اثر اور ہدایت دینا حق تعالیٰ کا فعل ہے
مختار کل
جس کے اعمال و افعال کا مواخذہ کیا جائے وہ خدا نہیں ہو سکتا
الممیت
تمام زمینی جانداروں نے موت کا مزہ چکھنا ہے
فرشتوں کو موت آئے گی یا نہیں؟
موت کی حقیقت
الرحمٰن
مطلق رحمت اور مغفرت الٰہی کو طلب کرنے کا حکم
اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے،جب کہ اپنی تدبیروں سے ناامید ہونا فطری بات ہے
اللہ تعالی غفور رحیم کا عقیدہ رکھنے کا فائدہ کیا ہے؟
اتقیاءوصلحاء کو گناہ کے بعد واپس لانے والا عقیدہ یہی ہےکہ اللہ غفور رحیم ہیں
رحمت خدا بہت بڑی چیز ہے
المعطی
اللہ تعالیٰ مخلوق میں جسے چاہیں کسی وصف میں زیادتی عطا فرما دیتے ہیں
اللہ تعالیٰ جس پر اپنی رحمتوں و نعمتوں کی عنایت کرے اس سے کوئی روکنے والا نہیں
حق تعالیٰ مانگنے سے خوش ہوتے ہیں نا مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں
القابض
اللہ تعالیٰ جس پر اپنی رحمتوں و نعمتوں کو روک دے تو کوئی ان پر جاری نہیں کر سکتا
دشمن اور دوست دونوں کا دل اللہ کے قبضہ میں ہے
رب
آسمان و زمین اور اس کے مابین مخلوقات اور مشارق کا رب اللہ تعالیٰ ہے
ہم سب کا پالنہار اللہ تعالیٰ ہے
الحکیم
اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت حکیم کی وجہ سے منکرین کو فوری عذاب نہیں دیا
اللطیف
اللہ تعالیٰ کے نام لطیف کا معنیٰ اور مصداق
حق تعالیٰ بعض دفعہ اپنے بندہ پر لطف بصورت قہر بھی فرماتے ہیں
الباسط
اللہ تعالیٰ بعض اوقات بعض ضروریات اور نعمتیں آزمائش اور اپنی قدرت پر تنبیہ کےلیے روک لیتا ہے
القھار
حق تعالیٰ کی صفت رحمت اور غضب کا صدور
الرحیم
جیسے حق تعالیٰ کی تجلی رحمت ہے ایسے ہی استتار بھی رحمت ہے
حق تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے اس کو تنگ نہ کرنا چاہیے
دنیا میں رحمت یہ حق تعالیٰ کی رحمت کے ایک حصہ کا عکس ہے
آخرت میں نجات کسی کے عمل پر نہ ہوگی بلکہ رحمت الہی کی وجہ سے ہوگی
حق تعالیٰ کی رحمت نافرمانوں کو بھی شامل ہے
حق تعالیٰ کا مصیبت غیر اختیاریہ پر بھی اجر دینا رحمت ہی رحمت ہے
طاعات غذائے روحانی ہےاس پر حق تعالیٰ کا اجر عطا فرمانا رحمت ہے
حق تعالیٰ جو کسی پر رحمت فرماتے ہیں وہ بلا سبب اور بلا علت کے فرماتے ہیں
جیسے تجلی رحمت ہے استتار بھی رحمت ہے
خدا کی رحمت کا جتنا بھی حصہ لے لیا جائے وہ غیر محدود ہی ہوگا
رحمت باری تعالٰی
المغنى
حق تعالیٰ مستغنی ہیں اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی کے محتاج نہیں ہیں
الرؤوف
حق تعالیٰ کی شفقت بے مثال ہے
الغنى
حق تعالیٰ کے غنی ہونے کے معنیٰ یہ ہیں کہ ان کو کسی کی معصیت اور طاعت سے نفع اور ضرر نہیں ہوتا
اللہ تعالی کی صفات سلبیہ
اللہ تعالی مثل سے پاک ہے
حلول سے پاک
وجوب سے پاک
عجز سے پاک
تشابہ سے پاک
عیوب سے پاک
اللہ تعالی بداء سے پاک ہے
اللہ تعالیٰ طبیعت سے پاک ہیں ان کو آدمی پر قیاس نہیں کر سکتے
تمام مخلوقات کی نگاہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا احاطہ نہیں کر سکتیں
انسانی آنکھ اللہ تعالیٰ کو کیوں نہیں دیکھ سکتی؟
اس عالَم میں رؤیت باری ممکن نہیں
حضور ﷺ کو شب معراج میں روئیت حق ہوئی
دنیا میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کو کوئی برداشت نہیں کر سکتا
ہمارا وجود رؤیت باری تعالیٰ کا متحمل نہیں
آخرت میں اللہ تعالی کا دیدار نصیب ہو گا
اس دنیا میں کسی کےلیے اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ ہم کلام ہونا اور دیکھناممکن نہیں
کسی انسان کی اللہ تعالیٰ سے اس دنیا میں ہم کلام ہونے کی صورتیں
اول: بذریعہ وحی
دوم: پس پردہ
سوم: کسی فرشتے وغیرہ کے واسطے سے
انسانی کان اور آنکھ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے کلام کو بالمشافہ سننے اور اسے براہ راست دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتی
فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو دیکھنے اور سننے کی طاقت نہیں رکھتے
حق تعالیٰ انفعال اور تاثر سے منزہ ہیں
اللہ تعالیٰ کی اولاد اور اس کے جزء کے موجود ہونے کی نفی
حق تعالیٰ کا ذہن میں آنا محال ہے
حق تعالیٰ جوش محبت اور جوش غضب سے پاک ہیں
حق تعالیٰ کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں مجبور نہیں ہیں
اللہ کی صفات متشابہات
عین
نفس
ساق
ید
ید کا معنیٰ قدرت کا کیا جاتا ہے
وجہ
اصابع
استوی علی العرش
مستوی علی العرش
عرش الٰہی کیا ہے؟
استوی علی العرش،متشابہات میں سے ہے
حق تعالیٰ طبیعت اور انفعال سے پاک ہیں
جس بات سے حق تعالیٰ منزہ ہیں اس بات کے ایہام سے بھی بچنا واجب ہے
اللہ تعالی کے حقوق
اللہ تعالی کی ذات وصفات کے متعلق عقیدہ
عقائد واعمال ومعاملات
اللہ تعالی کی محبت
اللہ کے لیے بغض
مسلمان کی اصل کامیابی رضائے الہی ہے
خدا سے غفلت کرنا،خدا کی طرف پشت کرنا ہے
عظمت صرف حق تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے
اطاعت
اطاعت صرف اللہ ہی کا حق ہے
دل کا سکون صرف اللہ کی فرمانبرداری میں ہے
اللہ کی اطاعت کے فوائد
توحید
کلمہ توحید
کلمہ طیبہ
کلمہ طیبہ کا اقرار کرنا در اصل ایک عظیم عہد کا اقرار کرنا ہے
کلمہ طیبہ اور سورۃ الاخلاص
کلمہ شہادت مع ترجمہ یاد کرے
کلمہ شہادت کی اہمیت
توحید کے تقاضے
عقیدہ توحید کی اہمیت
دلائل عقلیہ کی وجہ سے توحید الٰہی پر ایمان لانا ضروری ہے
فرشتوں کی تین بڑی صفات کی قسم کھا کر توحید الٰہی کا دعوہ
محرف شدہ بائبل میں توحید کے چند نمونہ جات
توحید ربوبیت
توحید الوہیت
توحید اسماو صفات
عبادت کی فرد اعظم توحید ہے
انسان کو انسان بنانے والا عقیدہ،عقیدہ توحید ہے
توحید کی دلیل، نظام قدرت کا چلانا
توحید الٰہی کے دلائل
توحید کے متعلق اللہ تعالیٰ کی اپنی گواہی
توحید کے متعلق فرشتوں کی گواہی
توحید کے متعلق اہل علم کی گواہی
تو حید کا قائل ہونا ہر شخص کے لیے ضروری ہے
مسئلہ توحید مسئلہ رسالت پر موقوف ہے
مسئلہ توحید مسئلہ رسالت کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا
صرف توحید کا قائل ہونا نجات ابدی کے لیے کافی نہیں ہے
تمام انبیاء کا مشترکہ وظیفہ دعوت توحید ہے
حقیقت میں موثر اللہ تعالی کی ذات ہے
کائنات کا نظام ذات الٰہی اور آخرت و جنت و جہنم کے وجود کی دلیل ہے
کائنات میں موجود اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں انسان کےلیے نشانیاں ہیں
انسان کے اپنے غلام کے ساتھ برتاؤ سے توحید الٰہی کی دلیل
اسلام کے علاوہ توحید کسی مذہب میں نہیں
توحید مطلوب کے مختلف درجات ہیں
توحید اعتقادی
توحید اعتقادی کا مقابل شرک اعتقادی ہے
توحید قصدی
توحید قصدی کا مقابل شرک قصدی ہے
توحید وجودی
توحید وجودی ماموربہ نہیں ہے
جس قدر توحید کا غلبہ ہوگا اعمال بھی مکمل ہونگے
عقلاً کسی سے طمع وخوف نہ رکھو یہ توحید کے خلاف ہے
موحد کو امید اور خوف خدا کے سوا کسی سے نہیں ہوتا
موحد کو امید اور خوف خدا کے سوا کسی سے نہیں ہوتا ۔اگر ایسا نہیں تو اعتقاد میں کمی ہوگی
عقیدہ توحید جس شخص میں ہو وہ بادشاہ ہے
عبادت میں خدا تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے
حق تعالیٰ کے بندوں پر تین حقوق ہیں
محبت الہی ایمان کے لوازم میں سے ہے
شارع حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں
اللہ کے حلال و حرام کے خلاف کو حق سمجھنا
اللہ تعالیٰ کے بارے میں عمومی عقائد
مدد صرف اللہ تعالی سے مانگنی چاہیے
اللہ تعالیٰ کی بندوں سے محبت
رسول اللہﷺ اور تمام لوگوں کو اللہ رب العزت نے سیدھا رستہ دکھلایا
اللہ کی رحمت سے کوئی گنہگار مایوس نہیں ہوسکتا
بانی اسلام صرف خدا ہے
آج حق تعالیٰ سے محبت محبت احسانی ہے
اللہ کو اپنے اوپر قیاس نہ کرو
انعامات باری تعالیٰ
مشیت الہٰی کے بغیر کوئی مرض متعدی نہیں
فاعل حقیقی اور قادر مطلق صرف اللہ ہے
اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کےحقوق ادا کرنا ضروری ہے
حق تعالی کے ذمہ رسول کی ہر بات ماننا ضروری نہیں
ہدایت بلا توفیق خداوندی کے نہیں ہوسکتی
تمام مخلوق اللہ کی حمد کرتی ہے
اللہ تعالیٰ کے خزانے غیر متناہی ہیں
ہر نعمت اللہ ہی کی عطا کردہ ہے
ہر زخم کا علاج اللہ تعالیٰ کے پاس ہے
امراض باطنی کا علاج بھی اللہ ہی فرماتے ہیں
حق تعالیٰ نے ہر شئے میں ایک خاصیت رکھی ہے
اللہ تعالیٰ کو دنیامیں سے کسی پر قیاس نہ کروں
اللہ کی نظر حقائق پر ہے
اسباب میں فی نفسہ کوئی تا ثیر نہیں
مصنوعات کو دیکھنا ایک معنی میں صانع کو دیکھنا ہے
ہمارے ناقص عمل کو قبول کرنا اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے
ہر انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات بیشمار ہیں
ہم جو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ اسی کی عطا ہے
اللہ تعالیٰ کی رضا بندوں کی رضا کی طرح نہیں
حق تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے
حق تعالیٰ کی بڑائی
حق تعالیٰ پر قصدا اعتراض کفرہے
حق تعالیٰ آخرت میں زیادہ مہربان ہوں گے
بوڑھے مسلمان کومحض بڑھاپے کی وجہ سے بخش دینارحمت ہے
اللہ تعالیٰ کا نام دونوں عالم کی قیمت میں بھی ارزاں ہے
حق تعالیٰ کی رحمت طالب کی طرف متوجہ ہوتی ہے
حق تعالیٰ کی محبت پیدا کرنے کی آسا ن ترکیب
اللہ تعالیٰ کے حکم کو خلاف حکمت سمجھنا سنگین جرم ہے
اللہ تعالیٰ کا علم غیر متناہی ہے
دنیا کے تمام خزانے اللہ کے ہاتھ میں ہیں
ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے ہمارے پاس امانت ہے
دنیا کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی ہے
اللہ کو ناراض کر کے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا
حق تعالیٰ کی عظمت سب سے بڑی ہے
ہر شخص کو بلخصوص مومن کو اللہ سے محبت ہوتی ہے
کفار کو بھی حق تعالیٰ سے محبت ہے
حق تعالیٰ ہی سب کے محبوب ہیں
خد اتعالیٰ سے محبت ہونی چاہیے
حق تعالیٰ غنی بالذات ہیں
حق تعالیٰ کی تجلی اور استتار دونوں نعمت ہیں
اللہ کا بندوں سے شفقت کا تعلق ہے ضابطہ کا نہیں
اللہ تعالی کو ہم سے خاص تعلق ہے
خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے
تفویض الی اللہ سے راحت ہوتی ہے
اللہ تعالیٰ بندوں کو راحت میں رکھنا چاہتے ہیں
حق تعالیٰ کو حقوق العباد معاف کرنے کا پورا حق ہے
سب کچھ اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے
معبود کےلیے ہمیشہ خود سے قائم ہونا ضروری ہے
اللہ تعالیٰ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتے
حق تعالیٰ کا ہر کام بہتر اور موقع پر ہوتا ہے
حق تعالیٰ کو کسی کی ذات سے من حیث الذات نفرت نہیں ہے
ہر چیز میں تاثیر اللہ تعالیٰ کی ذات ڈالتی ہے
حق تعالیٰ پر طبیعت غالب نہیں ہوتی
اللہ تعالیٰ کےلیےعشق کی بے قراری ثابت کرنا گناہ ہے
حق تعالیٰ بندوں کی مدد کام اور اسباب دونوں میں کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ ہمارے جذبات کی رعایت کرتے ہیں
حق تعالیٰ کےکسی تصرف سے ناگواری اگر حد اضطراری میں ہوتو یہ محل ملامت نہیں
عدم صحت میں حق تعالیٰ پر اعتراض مذموم ہے،حزن (غمگین ہونا) مذموم نہیں ہے
حق تعالیٰ کے یہاں کسی چیز کو گراں یا معمولی سمجھنا عظمت حق کے خلاف ہے
اللہ تعالیٰ بے پروا ہیں کہ معنیٰ یہ ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں
وجودحقیقت میں اللہ تعالیٰ کی صفت ذاتی ہے باقی تمام میں صفت عرضی ہے
دنیا میں حق تعالیٰ کو دیکھنے کی چند قسمیں ہیں
حق تعالیٰ ہماری پردہ پوشی فرماتے رہتے ہیں
حق تعالیٰ اگر کسی گناہ میں دس لاکھ برس کے بعد بھی جہنم سے نکال دیں تو یہ ان کی بخشش ہے
حق تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز اثر نہیں کر سکتی
خدا پر کسی کو کچھ اختیار نہیں
حق تعالیٰ کی حاکمیت میں کسی کو چوں چراں کی طاقت نہیں ہے
حدیث میں حق تعالیٰ کے لیے مکان کا ذکر کرنے سے مقصود عظمت کا اظہار ہے
خدا کو کسی کے پیسے کی ضرورت نہیں
حق تعالیٰ کی سلطنت پر زوال ممتنع ہے
کبریائی حق تعالیٰ کا خاصہ خاص ہے
حق تعالیٰ کا غضب اور عتاب ان کو بے اختیار نہیں بناتا
حق تعالیٰ کی ذات وصفات کا علماً احاطہ بھی ممکن نہیں ہے
اللہ تعالیٰ بدوں غذا کے بھی زندہ رکھ سکتے ہیں
اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی رحم نہیں کرسکتا
حق تعالیٰ ہر صفت کمال میں بڑے ہوئے ہیں
اللہ تعالیٰ کے کلام کا بھی وہی حال ہے جو تجلی کا ہے
حق تعالیٰ کی محبت مثل حق تعالیٰ کے پوشید ہ ہے
عوام حق تعالیٰ کو اوپر سمجھیں اور خواص حق تعالیٰ کو مکان سے پاک سمجھیں
مؤثر حقیقی حق تعالیٰ ہی ہیں
موحد کہتا ہے کہ ہر چیز کا فاعل خدا ہے
حق تعالیٰ کے ہر معاملہ میں رحمت ، حکمت اور خیر ہی ہے
ایمان کے لیے معرفت حق لازم ہے
حق تعالیٰ کے ہر تصرف پر راضی رہنا چاہیے
جس شخص میں محبت نہ ہو اور بس معرفت ہی ہو اس کا ایمان خطر ے میں ہے
عرش سے بڑی کوئی چیز نہیں
اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کو انسانی صفات کی مثل مت سمجھو
خالق مخلوق میں فرق ذی شعور باکمال اور اجڈ انسان کی مثال سے سمجھیں
تمام جانداروں کی ارواح اللہ تعالیٰ کے زیر تصرف ہیں
ہر چیز کا خالق و نگہبان اور ان کی حفاظت و تصرف کلی کا مالک اللہ تعالیٰ ہے
آسمان و زمین کے تمام خزانوں کی کنجیاں اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں
اللہ تعالیٰ نے کسی قوم پر ظلم نہیں کیا
اللہ کا اگر کوئی شریک ہوتا کائنات کا نظام خراب ہو جاتا
اللہ تعالیٰ کا کلام لفظی قدیم ہے
تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی مطیع و فرمانبردار ہیں
اللہ تعالیٰ مالک مستقل بالذات و فاعل مختار ہیں
اللہ تعالیٰ کوئی بدیہی نشانی اتار کر سب کو مطیع بنانے پر قادر ہیں
خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے
اللہ تعالیٰ اپنی تخلیقات اور احکامات میں منفرد ہیں
ذات باری تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فنا ہونے والی ہے
احکام الٰہیہ کو بجا لانے میں انسان کو کسی کا ڈر اور فکر نہیں ہونا چاہیے،اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی حفاظت کےلیے کافی ہیں
اللہ تعالیٰ بلند صفات کے مالک ہیں
اللہ تعالیٰ بندے کے اعتقاد کے مطابق معاملہ فرماتے ہیں
اللہ تعالیٰ کی صفات قدیم اورلازوال ہیں
اللہ تعالی بے نیاز ذات ہے
ہم ہر وقت اللہ کے محتاج ہیں
اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت کے متعلق عقیدہ
کسی چیز کو پیدا کرنے کےلیے اردہ الٰہی کافی ہوتا ہے
قوت ارادی سے پیدا کرنے پر قادر ہونے سے ہر چیز کا دفعۃً پیدا ہونا لازم نہیں آتا
غلبہ اور عزت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے
معبود وہی ہے جو تمام تر تصرفات رکھتا ہو
عبادت کا مستحق رب ہی ہو سکتا ہے
رب کی صفت صرف اللہ تعالیٰ کی ذات میں ہے
دنیا کی تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں
مطلع کرنے یا اسباب و آلات سے جاننے کا نام علم الغیب نہیں ہے
اگر اللہ نہ چاہیں تو کوئی فائدہ و نقصان نہیں پہنچا سکتا
انبیاء و اولیاء کو دیا گیا علم،انباء الغیب ہے
اللہ تعالیٰ کےلیے صرف قرآن وحدیث سے ثابت صفات استعمال کی جائیں
جنت میں اللہ تعالیٰ کی رؤیت ہوگی
دین وغیرہ انسانوں کی ضرورت و حاجت کےلیے پیدا کیے گئے،اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہیں
بانی اسلام صرف اللہ تعالیٰ ہیں حضور ﷺ مبلغ اسلام ہیں
وحدۃ الوجود
وحدۃ الشہود
تمام مخلوقات اللہ کے تابع ہیں
اللہ تعالیٰ ہر چیز کی مصلحت کو جانتے ہیں
مؤثر حقیقی اللہ تعالیٰ ہیں
اللہ تعالیٰ اعمال کے خواص و نتائج سے باخبر ہیں
اللہ تعالیٰ کی رحمت،اللہ کے غضب پر غالب ہے
حقیقی نافع و ضار اللہ تعالیٰ کی ذات ہے
نافع و ضار الٰہی کا عقیدہ،ایک انقلابی عقیدہ ہے
تمام عالم پہ حاکمیت فقط اللہ تعالیٰ کی ہے
حق تعالیٰ ذرا سی بات پر رحمت تو فرماتے ہیں مگر ذرا سی بات پر کبھی عذاب نہیں فرماتے
وحدۃ الوجود کا مطلب
وحدۃ الوجود ایمان ہے اور اتحاد وجود کفر ہے
محال عقلی کا اعتقاد جناب باری تعالیٰ میں کفر ہے
ذات واجب کے احکام تک عقول نہیں پہنچ سکتی کیونکہ وہاں دلائل کا اجرا نہیں ہوسکتا
اللہ تعالیٰ کی عظمت دل میں سب سے زیادہ ہونی چاہیے
حق تعالیٰ ایسے جمیل ہیں کہ کوئی دوسرا اس کے قریب تک بھی نہیں
مسئلہ وحدۃ الوجود میں دو درجے ہیں
کامیابی اور ناکامی کو حق تعالیٰ کے سپرد کر کے تدبیر اختیار کرنا یہ بھی تفویض ہے
ہمارے حالات اختیاریہ اور غیر اختیاریہ اللہ تعالیٰ کی ملک ہیں
اسباب صرف علامت ہیں حقیقی مؤثر حق تعالیٰ ہی ہیں
تمام دنیا اپنے افعال میں آلات کی محتاج ہے سوائے حق تعالیٰ کے وہ فاعل مختار مطلق ہیں
حق تعالیٰ کے تمام کمالات ذاتی ہیں
حق تعالیٰ ناپاکی سے تو پاک ہیں ہی وہ ہماری بیان کی ہوئی پاکی کی گواہی کے بھی محتاج نہیں ہیں
حق تعالیٰ ہماری بیان کی ہوئی پاکی سے بھی بالا تر پاک ہیں جہاں ہمارا ذہن نہیں پہنچ سکتا
حق تعالیٰ فاعل بالاختیار ہیں
حق تعالیٰ بندوں سے ان کے جذبات کے موافق برتاؤ فرماتے ہیں
کسی کو سلب اصلی پر بھی ثواب دے دینا یہ حق تعالیٰ کا فضل اور انعام ہے قاعدہ وقانون نہیں
حق تعالیٰ کے افعال معلل بالاغراض نہیں ہیں
غریب کو غریب اور امیر کو امیر رکھنے کی مصلحت جو حق تعالیٰ نے تجویز فرمائی ہے وہی سب کے لیے بہتر ہے
حق تعالیٰ کے کسی کام کو نامناسب قصداً کہنا کفر ہے اور بدں التزام کے سخت گناہ ہے
وحدت الوجود کی حقیقت یہی ہے کہ تمام مخلوقات آئینہ جمال حق ہے
تفویض راحت کی بنیاد ہے
حق تعالیٰ کو کسی کی ذات سے بغض اور محبت نہیں بلکہ محبت اور بغض کا مدار صفات پر ہے
تفویض ہی میں راحت ہے
ہر سبب پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ باذنہ تعالیٰ ہے
حق تعالیٰ کے کلمات اور اسرار کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا
تمام مخلوقات حق تعالیٰ کے کمالات کا آئینہ ہے
غریب کو امیر اور امیر کو غریب کرینا حق تعالیٰ کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے
حق تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ سے نری محبت کافی نہیں بلکہ سب محبتوں سے بڑھ کر محبت فرض ہے
تمام مخلوق میں حسن وجمال اصل میں حق تعالیٰ ہی کا ہے
حق تعالیٰ کا حسن ایک ہی سا ہے جس کی مثال بیان نہیں کی جاسکتی
حق تعالیٰ جس طرح اعیان میں تصرف کرتے ہیں ایسے ہی اعراض میں بھی کرتے ہیں
انبیا ء پر ایمان
انبیاء کرام
تمام انبیاء کرام کے متعلق مشترک باتیں
نبوت وہبی ہے
اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے جسے چاہیں نبوت کے اعزازا اکرام سے نوازدیں
انبیاء معصوم ہیں
عام کلام میں سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف عصیان کی نسبت کرنا جائز نہیں
انبیاء کرام کی معصومیت کے متعلق عقیدہ
انبیاء کرام علیھم السلام کی لغزشیں حقیقتاً گناہ نہیں بلکہ صورتاً ہیں
انبیاء علیہم السلام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے
ایسے بندوں کو جن کو حق تعالیٰ گناہوں سے محفوظ رکھیں ان میں انبیاء کو معصوم اور اولیاء کو مراد اور محفوظ کہتے ہیں
انبیاء کی لغزشیں حقیقت میں طاعت ہی ہیں
انبیاء امین ہیں
انبیاء کرام علیہم السلام نیک اور چنے ہوئے ہوتے ہیں۔
انبیاء کرام معزول نہیں ہوتے
انبیاء کرام پر ایمان لائے بغیر ایمان معتبر نہیں
سب سے پہلا پیغمبر
سب سے آخری پیغمبر
سب سے افضل نبی
نبی اور رسول میں فرق
عام نبوت
انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کامقصد
انبیاء فرشتوں سے افضل
کسی ایک نبی کو جھٹلانا
انکار رسالت کفر ہے
تمام انبیاء کامل ہیں
انبیاء میں سب سے زیادہ کمال علمی وعملی تھا
انبیاء کی وراثت علم اور عمل دونوں ہیں
وراثت انبیاء میں وہی علم ہوگا جو مقرون بالعمل ہو
جنات میں سے نبی و رسول نہیں آئے
انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کےلیے آسمان کے دروازے بند ہیں
رسول بندوں او رخدا کے درمیان واسطہ ہے
رسالت کو نہ ماننا حق تعالیٰ کی تکذیب کرنا ہے
علوم نبوی کے حکماء بھی قائل ہیں
نبوت کو مانے بغیر توحید ،توحید ہی نہیں رہتی
نبوت ناقابل انقسام منصب ہے
یعقوب علیہ السلام کی خاص خصوصیت
انبیاء مظہر ہدایت ہوتے ہیں
شریعت میں انبیاء ورسل کے متعلق اعتدال کا حکم ہے
انبیاء و اولیاء کے وسیلہ کا حکم
انبیاء علیہم السلام کی موت دفعتہً نہیں آتی
انبیاء کی روح قبض کرنے سے پہلے اجازت لی جاتی ہے
ملائکہ اور انبیاء کے سوا کوئی گناہوں سے معصوم نہیں
انبیاء کی بیویاں سب پاک دامن ہوتی ہیں
بدحواسی سے انبیاء معصوم ہیں
انبیاء علیہم السلام کبھی مغلوب الحال نہیں ہوتے
انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے
وحی میں شبہ کا احتمال نہیں ہے
حق تعالیٰ کے نزدیک انبیاء کا مرتبہ سب مخلوق سے زیادہ ہے
ایک نبی کا انکار کرنا سب انبیاء علیہ السلام کا انکار ہے
سب سے پہلے نبی کو اپنی نبوت پر ایمان لانا لازم ہوتا ہے
اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو کسی بھی زمانے میں انبیاء یا ان کے نائبین سے خالی نہیں رکھا
تمام انبیاء علیھم السلام کی بنیادی تعلیمات کو مکمل ماننے لازمی ہے
تمام انبیاء کرام نے خدمت و دعوت دین پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا
تمام نبی نبوت عطا ہونے سے قبل بھی صاحب ایمان ہوتے ہیں
امت کو اپنے رسول سے مختلف قسم کے تعلقات ہوتے ہیں
ہر قوم میں اللہ تعالیٰ نے ھادی بھیجے ہیں
ہر نبی کی شریعت اپنے وقت کے لحاظ سے کامل تھی
اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے پاس نبی بھیجے
اللہ تعالیٰ نےفرشتوں اور انسانوں میں سے بعض کو رسالت کےلیے چنا
اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں نبی یا نبی کا کوئی خلیفہ لوگوں کی اصلاح کےلیے بھیجا
کیا ہندوستان و پاکستان میں بھی اللہ کا کوئی رسول آیا ہے ؟
تمام انبیاء علیھم السلام کے دین میں متفقہ عقائد و اعمال
اللہ کا رسول انسان ہی ہوسکتا ہے فرشتے انسانوں کی طرف رسول نہیں ہو سکتے
انسان کا جنات کےلیے نبی ہونے پر شبہ اور جواب
بالفرض زمین پہ فرشتے رہتے تو ان کا نبی بھی فرشتہ ہوتا
انبیاء علیہ السلام ابتداء ہی سے کامل الاستعداد ہوتے ہیں
پیغمبر دو قسم کے ہوئے ہیں
حضرت نوح علیہ الاسلام ان پیغمبروں میں سے پہلے ہیں جن کو صرف تعلیم میعاد کے لیے مبعوث فرمایا
جو لوگ اسباب ہی کو مؤثر بالذات سمجھتے ہیں وہ خوارق عادت اور معجزات انبیاء کا انکار کرنے لگتے ہیں
سب سے زیادہ کامل ایمان انبیاء علیہ السلام کا ہے
انبیاء میں باہم علاتی بھائیوں جیسا تعلق ہے
ابنیاء علیہ السلام امور دنیوی میں اسباب ظنیہ کو ترک کرتے ہیں اسباب قطعیہ کو نہیں
انبیاء کی تعلیم بظاہر معمولی نظر آتی ہےمگر فائدہ بہت بڑا ہوتا ہے
انبیاء علیہ السلام ہرقوت میں کامل ہوتے ہیں
انبیاء علیہ السلام امور دنیا کے متعلق جواحکام ہیں ان کوزیادہ جانتے ہیں
تجربات کا جاننا نبی کے لیے ضروری نہیں ہوتا بلکہ حقائق کا جاننا ضروری ہے
ہر نبی کی شان جدا ہوتی ہے ان میں تمام صفات ہوتی ہیں لیکن حکم کسی کو کسی صفت سے کام لینے کا ہوتا ہے
انبیاء کرام کے اجتہاد کا حکم
رائے کی غلطی کسی نبی سے صادر ہونا ممکن ہے
انبیاء کرام مالی وراثت نہیں چھوڑتے
سیدنا سلیمان علیہ السلام سیدنا داود علیہ السلام کے مال کے وارث نہ ہوئے
انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کے خلفاء ہیں
زمین پہ وقتاً فوقتاً اللہ تعالیٰ نے اپنے نائب بھیجے
اللہ تعالیٰ کے خلفاء کا کام
معجزات وکرامات
معجزہ اور کرامت میں فرق
معجزات و کرامات کے متعلق عقیدہ
رسول اللہ ﷺ کے معجزات کی تعداد
سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے
معجزہ کی تعریف
معجزات و کرامات کی حقیقت
حیات عیسی علیہ السلام
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام روح مع جسد اطہر اٹھائے گئے
اسلام میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے متعلق عقیدہ
آپﷺ کے بعد امت میں سب سے بزرگ ہستی
عیسی علیہ الاسلام کا قرب قیامت تشریف لانا لانبی بعدی کے خلاف نہیں
سید الانبیاﷺ
حضور ﷺ پر اعتماد کرنا لازم ہے
رسول اللہ ﷺ پر ایمان تین حیثیتوں سے ضروری ہے
لواء الحمد
حوض کوثر
شفاعت کبری
شفاعت کی اقسام
عام نبوت
رحمت
وجوب اطاعت
اتباع کامل کے فوائد
امت کے گناہوں سے حضور ﷺ کا دل دکھتا ہے
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ایمان لانا ضروری ہے
آپ ﷺ سے محبت
حضور ﷺ کا روضہ مبارک عرش وکعبہ سے افضل ہے
آپ ﷺ پر صلاۃ پڑھنا
درود شریف کی کثرت
بشریت
معاصی کے باوجود محبت نبوی ﷺ کا درجہ ضعیف ہے
حضور ﷺ کے اقوال اور افعال دونوں متبوع ہیں
رسول اللہ ﷺکی محبت ایسی ہو جیسی صحابہ کرام کے دل میں تھی
ظلی وبروزی نبی ماننا یہ زندقہ و الحاد ہے
رسول اللہﷺ کی طاعت کا حکم
کیا رسول اللہﷺ کی طاعت بعینہ اللہ تعالیٰ کی طاعت نہیں؟
حضور ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے سے ہر پریشانی سے نجات ہوتی ہے
حکم رسولﷺ حکم خدا ہے
حضور ﷺ کے فیصلے کا انکار کفر ہے
رسول اللہﷺکی تکذیب ،اللہ تعالیٰ کی تکذیب ہے
حضور ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا شرط ایما ن ہے
تمام نیکیاں اور علم و فضل اقرار نبوت کے بغیرمقبول نہیں
معجزات رسول ﷺ
حضور ﷺ نے امت کے نفع کی ہر بات کو بیان کیا ہے
تہجد دوسروں پرسنت ہے اور حضور ﷺپرایک قول کے مطابق فرض تھی
حضو رﷺکو خدا کی حد میں داخل کرنا یہ توہین ہے
حضورﷺکو بشریت سے نکالنا یہ حضورﷺ کی تعظیم نہیں توہین ہے
حضور ﷺ کی رضا ء و محبت بحیثیت رسول مطلوب ہے
حضور ﷺ قدیم نہیں حادث ہیں
امر اور شفاعت کا درجہ
جو شفاعت حق تعالیٰ کے حکم اور وعدہ قبول کے بعد ہوگی اس میں رد کا احتما ل نہیں
حضور ﷺ کے معجزات وفات کے بعد بھی ظاہر ہوتے ہیں
حضور ﷺ کی اس طرح فضیلت بیان کرنا کہ باقی انبیاء کی تنقیص کا ابہام ہو یہ منہی عنہ ہے
حضور ﷺ کی اتباع کر کے کامیابی حاصل کرو
حضور ﷺ کا فقر اختیاری تھا
آپﷺ تارک دنیا تھے متروک الدنیا نہ تھے
اسوہ رسول ﷺ ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے
ہمارے تمام افعال میں حضور ﷺ ہی کی زندگی نمونہ ہے
حضور ﷺ کے اقوال میں غلطی نہیں ہوسکتی
اہل عرب میں نبی کریمﷺ سے اسماعیل علیہ السلام تک کوئی نبی نہیں آیا
سید الانبیاءﷺ کی نبوت کے دلائل
فلاح پانے کےلیے آپﷺکی تعظیم و محبت لازم ہے
سیدالانبیاءﷺ کی تائید اور آپ کے مخالفین سے نفرت کرنا ایمان کی شرط ہے
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے اتباع کے ساتھ محبت و احترام لازم قرار دیا
نبی کریم ﷺ تمام جن و انس کے قیامت تک کے نبی ہیں
رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا فرض ہے
رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے بغیر اللہ پر ایمان نہیں ہو سکتا
رسول اللہﷺ کی تعلیمات پر ایمان نہ لانے والے اہل کتاب جہنمی ہیں
نبی کریم ﷺ امت کے باپ ہیں
رسول اللہﷺ کی رسالت کے منکرین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے
رسول اللہﷺ اور آپ کی تعلیمات کے بغیر ہدایت ممکن نہیں
ایمان والوں کےلیے نبی کریمﷺ ان کی اپنی جانوں سے زیادہ قریب تر ہیں
نبی کریمﷺ کی اطاعت والدین کے حکم زیادہ واجب التعمیل ہے
نبی کریمﷺ سے محبت ہر مومن کو خود اور والدین سے زیادہ مطلوب ہے
نبی کریمﷺ تخلیق وتکوین میں اول اور بعثت میں انبیاء سے آخر ہیں
نبیﷺ کا دعویٰ نبوت عقلی طور سے بھی ثابت ہے
آپ ﷺ کے حقوق
رسالت کا اعتقاد
آپ ﷺ کی عظمت
آپ ﷺ کی اطاعت
رسول اللہ ﷺکی بے ادبی کرنے سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں
ایذا رسول حرام ہے
ایذا رسول سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں
آپﷺ کی خصوصیت
ختم نبوت
ختم نبوت پر قرآن وحدیث سے دلائل
عقیدہ ختم نبوت،مسلمان کا بنیادی عقیدہ
عقیدہ ختم نبوت اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ
عقیدہ ختم نبوت کا تقاضا
ختم نبوت کی ایک دلیل
ختم نبوت میں کمال نبوت و رسالت ہے
ختم نبوت کی وجہ سے نبی کریمﷺ کی امت سب سے بڑی امت ہوگی
ختم نبوت کی وجہ سے نبی کریمﷺ کی شفقت اپنی امت نسبتاً زیادہ ہوگی
مسئلہ ختم نبوت امت کا مجمع ومتفق علیہ عقیدہ ہے
آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا آخر زمانہ میں عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے منافی نہیں
منکر ختم نبوت سے قتال،صحابہ کرام کا سب سے پہلا اجماع
نبی کریمﷺ کے بعد ہر طرح کی نبوت کا دعویٰ دار دائرہ اسلام سے خارج ہے
نبی کریمﷺ کا ختم نبوت کو ایک مکمل محل سے تشبیہ دینا(ظلی و بروزی کا رد)
نبی کریمﷺ کا اپنے بعد نبی کے نہ آنے اور خلفاء کے سلسلہ کے متعلق پیشنگوئی(ظلی و بروزی کا رد)
نبی کریمﷺ کا فرمانا کہ میرے بعد مبشرات باقی رہیں گے(ظلی و بروزی کا رد)
معراج
حیات النبی
حضور ﷺ واقع میں زندہ ہیں
انبیاء علیہ السلام کی حیات قوی ہے
انبیاء کی حیات شہدا کی حیات سے بھی قوی ہے
سب سے زیادہ علم
علم غیب
آپﷺ کی بعثت عام تھی
آپﷺ کے بعد آپ کے خلفاء و نائب آئے گے
آپﷺ کی امت کی اجتماعیت گمراہ نہ ہو گی
صحابہ کرام
معیار حق
انبیاء کے بعد صحابہ کرام
ولی صحابی کے برابر نہیں ہوسکتا
صحابہ کرام میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ ہیں
حضرت عمر
حضرت عثمان
حضرت علی
عشرہ مبشرہ
اہل بدر
اہل احد
بیعت رضوان
عورتوں میں سب سے افضل
حضرت خدیجہؓ
حضرت عائشہؓ
باقی امہات المؤمنین
مشاجرات صحابہ کرام
عدالت صحابہ کرام
صحابہ کرام کی ثقاہت
صحابہ کرام کی تعظیم
صحابہ کرام سب بلا استثناء جنتی اور اللہ تعالیٰ کی رضا سے مشرف ہیں
مشاجرات صحابہؓ کے متعلق ایک اہم ہدایت
ازواج مطہرات
اہل بیت نبوی
نبیﷺ اور اہل بیت کی محبت ایمان کا ایک جزو ہے
اہل بیت و آل رسولﷺ کی محبت متفق علیہ ہے
سادات کی عزت و تکریم باعث اجرو ثواب ہے
اہل سنت والجماعت کا صحابہ کرام کے متعلق عقیدہ
صحابہ کرام پہ طعن کرنا جائز نہیں
صحابہ کرام کی آپسی لڑائیوں کے بارے میں طعن تنقیص کرنا جائز نہیں
حضرات صحابہ کرام سب سے زیادہ کامل،مضبوط اور مستقل مزاج تھے
صحابہ کرام کو بہت کم شبہات ،احکام میں پیش آئے
صحابہ رضی اللہ عنہم کو حضور ﷺ کی سلامتی ہر چیز سے زیادہ محبوب تھی
اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی داخل ہیں
ازواج مطہرات میں جو کبھی آپس میں چھیڑ چھاڑ ہوجاتی تھی وہ حضور ﷺ کی محبت کے کی وجہ سے ہی تھا
ازواج مطہرات کو حضور ﷺ سے بے حد محبت تھی
ازواج مطہرات کامل ولیات تھی
حضور ﷺ بھی خدا کے مساوی اور شریک ہرگز نہیں
حضور ﷺ کو سجدہ کرنا نہ زندگی میں جائز تھا اور نہ ہی اب روضہ کو سجدہ کرنا جائز ہے
آپ ﷺ کا ہر حکم پیغمبر ہونے کی احیثیت سے خدا ہی کا حکم ہے
حضور ﷺ تشریعی احکام میں بھی اول ہیں اور تکوینی امور میں بھی اول ہیں
حضور ﷺ کا بعض علوم سے ناواقف ہونا کچھ عیب نہیں
حضورﷺ کا کسی بات کی خبر دے دینا ہمارے لئے مشاہدہ سے بڑھ کر ہے
حضورﷺ کے اعمال ہر طرح کامل ہیں
اگر حضورﷺ کے طریقے پر نہیں چل رہے تو حضورﷺ سے کس منہ سے محبت کا دعویٰ ہے
حضور ﷺ اصلاح امت کے لیے مامور ہیں
حضور ﷺ کی معراج جسمانی تھی
حضورﷺ کے حقوق بھی مثل حقوق اللہ کے تین ہیں
حق تعالیٰ کی اطاعت اور محبت کی طرح حضور ﷺ کی اطاعت اور محبت بھی فرض ہے
حضورﷺ میں اصل صفت تو نبوت ہے سلطنت اس کے تابع ہے
حضور ﷺ میں اصل کمال خاتم النبیین ہونا ہے
حضور ﷺ کے تین حقوق ہیں مطاوعت،عظمت،ومحبت
اطاعت ،عظمت اور محبت رسول ﷺ کی حقیقت محققین اور ان کی کتب سے معلوم کریں خود سے نہ گھڑیں
حضور ﷺ کی دو شانیں ہیں
آپ ﷺ کی دونوں شانوں کے مظاہر دنیا میں موجود ہیں
حضور ﷺ کو دور سے پکارنے کی بعض سورتیں جائز ہیں اور بعض ناجائز
حضور ﷺ کو پکارنا اگر بطریق تلاوت آیات ومسنون دعاؤں سے ہے تو یہ تو جائز ہے
حضور ﷺ کو فرضی طور پر دل میں حاضر تصور کر کے پکارنا جائز تو ہے لیکن فساد عقیدہ کے اندیشہ سے احتراز بہترہے
حضور ﷺ کو حاضر وناظر سمجھے بغیر فرط غم یا فرب محبت میں پکارنا یہ جائز تو ہے لیکن فساد عقیدہ کے اندیشہ سے احتراز بہترہے
دیگر انبیاء اور حضور ﷺ میں اکمل اور اکمل الاکملین کی نسبت کا فرق ہے
حضور ﷺ کو مقدم کہنا اور باقی انبیاءکو مؤخر کہنا یہ خلاف ادب ہے
حضور ﷺ کی شفاعت کے ہوتے ہوئے باقی لوگوں کی شفاعت کی ضرورت زیادت تسلی کے لیے ہے
کتابوں پر ایمان
صحیفوں کی تعداد
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کےلیے کتابیں،دین حق اور ترازو نازل کیا
کتب سابقہ کے بارے میں ہمارا عقیدہ
موجودہ تورات و انجیل کی مطلقاً تصدیق کی جائے نہ مطلقاً تکذیب
تورات کی صفات کا بیان
پہلی کتابوں پہ ایمان لانا اب بھی لاز م ہے
سابقہ کتب سماویہ کو پڑھنے اور ان سے استفادہ کے متعلق احکام
تورات و انجیل کے غیر محرف حصہ سے اہل علم کا فائدہ اٹھانا درست ہے
نبی کریمﷺ کا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو تورات پڑھنے سے روکنا
قرآن کریم
قرآن کریم ناسخ
قرآن کے عام خطابات مردوں کو ہیں عورتیں کا ذکر احتراما پوشیدہ رکھا گیا ہے
بعض عورتوں کا قرآن مجید میں ان کو مخاطب نہ کرنے پر شکوہ اور اللہ تعالیٰ کا ان کی دل جوئی کےلیے تذکرہ کرنا
قرآنی احکام میں تسہیل کا خاص اہتمام
قرآن پر ایمان لانا بھی شرط ایمان ہے
عالمگیر کتاب
حفاظت قرآن
قرآن مجیدایک مکمل اور جامع کتاب
قرآن مجید کی خصوصیات اور اعجازی شان
ہم کو ہر موقع اور ہر شئے میں قرآن مجید کی ضرورت ہے
قرآن مجید کی کلام اللہ ہونے کی دلیل
متشابہات
متشابہات کے متعلق عقیدہ
آیات متشابہات کے معنیٰ کی تعین نہ کرو اس کی مراد کے حق ہونے کا اعتقاد رکھو
فرشتوں پر ایمان
فرشتوں کی تعریف
فرشتوں کا ادب
حضرت جبریل علیہ السلام کی سرداری
حضرت جبریل علیہ السلام کی ذمہ داری
حضرت میکائیل علیہ السلام کی ذمہ داری
حضرت اسرافیل علیہ السلام کی ذمہ داری
روح قبض کرنے والے فرشتے
فرشتوں کی تعداد
مقرب فرشتے
مالک اور رضوان
ھاروت ماروت
فرشتے معصوم ہوتے ہیں
فرشتوں کے بارے میں مشرکین کا عقیدہ
فرشتوں کا انسانی شکل میں آنا
فرشتے کس شکل میں ظاہر ہوتے ہیں
فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند ہیں
ذمہ داریوں کے اعتبار فرشتوں کی اقسام
اچانک آنے والی مصیبتوں سے حفاظت کےلیے فرشتے مقرر ہیں
فرشتے انسان کو گناہ سے بچانے کی کوشش بھی کرتے ہیں
فرشتے ہر وقت عبادت الٰہی میں مشغول ہیں
محافظین فرشتے
کراما کاتبین
چہاں پر فرشتے مقرر ہیں
منکر نکیر فرشتے
فرشتوں کےلیے عبادت الٰہی بمنزل انسانوں کے سانس لینے کی مثل ہے
فرشتوں کے متعلق غلط عقائد رکھنے والوں کی مذمت
سب سے افضل فرشتہ کون ہے
حضرت جبرائیل علیہ السلام کا لقب"روح القدس"ہے
فرشتوں کے کام
فرشتوں سے خیر وشر دونوں کام لیے جاتے ہیں
فرشتوں کے ذمہ کچھ کام لگانے میں حکمت الہی ہے
رحمت کے فرشتہ کا انسان سے دور ہو جانا خطرناک ہے
ملائکہ بھی اجتہاد کرتے ہیں
جنات بھی انسان کے دشمن ہیں فرشتے انسان کی ان سے حفاظت کرتے ہیں
فرشتوں کے ندا کو قلب سنتا ہے اگرچہ کان سننے سے قاصر ہیں
فرشتوں سے غلطی اور خطا کا احتمال نہیں ہے
تقدیر پر ایمان
تقدیر کی اہمیت
تقدیر کا معنیٰ
راحت کامل تقدیر کے ماننے میں ہے
تقدیر سے مجبور محض نہیں ہوتا
عقیدہ تقدیر کا فائدہ
تقدیر کے مقابل تدبیر کارگر نہیں
تقدیر الٰہی کے منکرپر اللہ ورسول کی لعنت
تقدیر کے درجات
تقدیر کے مسائل دقیق ہوتے ہیں ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آسکتے
تقدیر پر نظر رکھنے کے فوائد
اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جھنم کی تعیین ابتداءً کردی
جنتی و دوزخی کی تعیین کے بعد ،اعمال کا مقصد
مسئلہ تقدیر کے اطلاع کی حکمت
حق تعالیٰ نے مسئلہ تقدیر کو فطری بنادیا ہے
تقدیر پرا یمان کا دنیوی نفع
حضرات صحابہ کو مسئلہ تقدیر میں گفتگو سے ممانعت
مسئلہ تقدیر کا اجمالی تعارف
انسان کے متعلق تمام چیزیں تقدیر میں لکھ دی جاتی ہیں
مخلوقات کے متعلق تمام تقدیر لکھی جا چکی ہے
بعض اعمال اور دعاؤں سے تقدیر میں تبدیلی ہوتی ہے
عہد الست، روح مع جسم سے تھا
عہد الست کب اور کہاں لیا گیا؟
وجود عنصری کے بغیر عہد سمجھنا کیسے ممکن ہے؟
بعض حضرات کو عہد الست یاد رہا
عہد الست کو یاد رکھنا مقصود نہیں،اس کا اثر موجود ہے
عہد الست لینے کا ایک مقصد
انسانوں کی اکثریت عہد الست بھول گئی
تقدیر کی اقسام
تقدیر مبرم
تقدیر معلق
تقدیر کے متعلق متفرق باتیں
تقدیر کے متعلق بحث کرنا
تقدیر ازلی
مستقبل کی باتوں کے پہلے جاننے کا انجام
انسان کی مرضی پر کام چھوڑنے کا نتیجہ
تقدیر پر ایمان لانے کا مفہوم
تقدیر پر مجملاً ایمان بالکل کافی ہے
مسئلہ تقدیر کا حاصل
مصائب تقدیر پر ایمان کے لیے امتحان ہے
ایک دن کی بھی تجویز کی اجازت نہیں البتہ صدیوں کی تدبیر کی اجازت ہے
مسئلہ تقدیر کی کُنہ معلوم کرنا گناہ ہے
تقدیر تجویز حق کا نام ہے
اتفاقی واقعات وحالات ،اللہ کے ہاں حیثیت
عنداللہ ہر چیز کا وقت مقرر ہے
اچھی و بری تقدیر اللہ کی طرف سے ہے
دنیا میں خیر و شر سب اللہ کے ارادہ و مشیت سے ہوتا
بوجہ ادب الٰہی شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف جائز نہیں
کسی انسان کی عمر کا طویل ہونا اور کسی کی عمر کا کم ہونا یہ سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے
عمر کے گزرنے سے اللہ تعالیٰ کے ہاں لوح محفوظ میں اس کی عمر کے درجے کم ہو جاتے ہیں
صلہ رحمی سے عمر اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے
صلہ رحمی اور دیگر اعمال سے عمر کے بڑھنے کا معنیٰ و مفہوم
انسان کو اللہ تعالیٰ نے بااختیار بنایا ہے
اللہ تعالیٰ سے عہد ایمان و اطاعت کی خلاف ورزی
مسئلہ تقدیر کی تعلیم اس لیے کہ تاکہ حزن وفرح حد سے نہ بڑھے
دنیا کی ہر مصیبت پر راحت کا سامان عقید ہ تقدیر میں موجود ہے
جو تقدیر کا قائل نہیں اس کو نعمت میں بھی راحت نہیں
جو تقدیر کا قائل ہے وہ ہر درجہ میں قانع ہوتا ہے
جو تقدیر میں ہے وہ ضرور ملتا ہے اور جو نہیں وہ ہزار تدبیر سے بھی حاصل نہیں ہوسکا
مسئلہ تقدیر کو اصلاح اعمال میں بڑا دخل ہے
محض تدبیر مؤثر نہیں بلکہ تدبیر کےمؤثر ہونے لیے تقدیر کی موافقت شرط ہے
تقدیر حق تعالیٰ کی مشیت کا نام ہے
کتاب الفتن
زمین کی ظاہری اور باطنی اصلاح کیا ہے؟
امت میں فرقہ بازی
آپسی اختلافات کے خاتمہ کےلیے رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی لیکن اللہ تعالی نے قبول نہیں کی
اکثر مصائب کا سبب ،آپسی اختلاف ہے
اس امت کے تہتر فرقے ہوں گے
تفرقے کے زمانہ میں اتباع سنت کو لازم پکڑو
جس نے اتباع صحابہ سے منہ موڑا،اسلام کا قلادہ گلے سے اتار دیا
قرآن وسنت کی تشریحات کو تعامل صحابہ سے لینے سے فرقے ختم ہوں گے
مفاسد و بدعات کا بیان
مفاسد کی وجہ سے فرائض و واجبات ترک نہ کریں
حدیث میں وارد 73 فرقوں کے متعلق کچھ وضاحت
موت
حالت نزاع
حالت نزاع کے وقت بولے گئے کلمات پر مواخذہ نہیں
شدت نزع کے دو سبب ہیں
شدت نزع کا مدار طاعت و معصیت پر نہیں ہے
نزع میں سہولت نا ہی محمود ہے اور نہ ہی کمال ہے
مرنے کے بعد تین مرتبہ فرشتوں کا نزول ہوتا ہے
نزع کی حالت میں کہے گئے کلمات معاف ہوتے ہیں
نزع روح کے وقت ایمان لانا معتبر نہیں
حالت نزع میں قبول ایمان معتبر نہیں
حالت نزع میں کلمہ کفر معتبر نہیں
موت کے متعلق متفرق باتیں
موت صرف جسم کو آتی ہے روح کو نہیں
روح کے لیے تصرفات اختیاری ثابت نہیں
موت کا کوئی مقرر اور معین وقت نہیں
مرنے کے بعد تمام اعمال منقطع ہوجاتے ہیں
موت قیامت کا مقدمہ ہے جزاوسزا کا سلسلہ اس کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے
موت آخرت کا پیش خیمہ ہے
موت کے اسباب اختیار کرنا حرام ہے
موت کسی کے قبضہ میں نہیں اسباب موت اختیار کرنے سے بھی موت کا آجانا لازم نہیں
موت کے بعد ایمان کالعدم اور غیر قابل اعتبار ہے
آخرت
آخرت کا تعارف واہمیت
آخرت کے نام
عقیدہ آخرت کے فوائد
قیامت کا علم
قیامت کا وقوع
قیامت کا مقصد
قیامت کا مقصد تمام لوگوں کو اپنے اعمال کا بدلہ دینا ہے
انسان کو آخرت کی تیاری و فکر کرنی چاہیے
قیامت کے وقوع کا علم کسی کو معلوم نہیں
اللہ تعالیٰ کا قیامت کے وقوع کا تعین نہ بتلانا ،حکمتاً ہے
قیامت اچانک برپا ہوگی
قیامت کا مبہم اور غیر معلوم ہونا ،ہمارے لیے ایک نعمت ہے
عقیدہ آخرت کی اہمیت
عقیدہ آخرت کی اہمیت
عقیدہ آخرت کی اہمیت
برزخ
برزخ کا معنیٰ
برزخ کسی جگہ کا نام نہیں
عالم برزخ میں جزا کا سلسلہ
عالم برزخ میں سزا کا سلسلہ
برزخ میں واقع ہونے والے عذاب وثواب کا تعلق روح اور جسم دونو ں کے ساتھ ہے
روح کا جسم کے ساتھ تعلق
قبر کا عذاب
حیات برزخیہ کے مراتب
اقویٰ درجہ کی حیات برزخیہ
سفر آخرت سے غفلت
برزخ کی زندگی کی صورت
برزخ میں سب کو حیات ملے گی
قبر میں نیک بندوں کو اطمینان و راحت ہوتی ہے
قبر میں دیگر ارواح مردہ سے دنیا والوں کے حالات دریافت کرتی ہیں
قبر کے سوال جواب میں اختیار سلب نہ ہوگا
قبر میں تنہائی نہیں ہوتی
عالم برزخ مستقل ایک عالم ہے
اہل اللہ کی حیات برزخیہ دوسروں سے قوی ہوتی ہے
مردہ کی روح اور اس عالم میں قیامت تک کے لیے پردہ ہے
قبر کا عذاب قیامت اور جہنم کے عذاب سے ہلکا ہے
عذاب قبر دیکھا نہیں جا سکتا
قبر میں کوئی جھوٹ نہ بول سکے گا
عالم برزخ میں انسان کو صبح و شام اس کا قیامت کے بعد کا ٹھکانہ دکھلایا جاتا ہے
عذاب قبر کی دلیل قرآن مجید سے
مؤمنین کو قبر میں کلمہ طیبہ پہ ثابت قدم رکھا جائے گا
قبر میں سوال و جواب اور ثواب و عذاب کا عقیدہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے
والدین کی نافرمانی کرنے والا کا عذاب قبر
سماع موتیٰ
سماع وعدم سماع موتیٰ کے متعلق قرآن مجید کی آیات خاموش ہیں
سماع موتٰی کا مسئلہ مختلف فیہ ہے
قرآن مجید میں موجود سماع موتیٰ کے متعلق آیات کا مضمون
سماع موتیٰ کا ثبوت قرآن مجید کی روشنی میں
سماع موتیٰ کا ثبوت حدیث شریف کی روشنی میں
سماع موتیٰ وعدم سماع کے متعلق احادیث میں تطبیق
عالم مثال (برزخ) کا مان لینا ضروری ہے
حالت کرب ونزع میں مومن کے جسم کو تکلیف ہوتی ہے روح لذت میں ہوتی ہے
شدت نزع کسی شخص کے عاصی ہونے کی علامت نہیں ہے
برزخ کی لذت و کلفت بھی کامل ہوتی ہے
عالم برزخ دنیا وآخرت کے درمیان میں ہے
دنیا میں جتنے اعزہ مرتے ہیں سب کی مفارقت چند روزہ ہے برزخ میں سب مل جائیں گے
دنیا میں بھی ہر فوت ہونے والی چیز کا نعم البدل ملتا ہے
علامات قیامت
نفخہ اولی
نفخہ ثانیہ
علامات صغری
علامت کبری
دجال
اس امت کا سب سے بڑا گمراہ شخص
خروج دجال
دجال کا استدراج
دجال کے بطلان کی کھلی علامتیں
دجال کے زمین پر چالیس دن رہنے کی حقیقت
دجال کے متعلق رسول اللہ ﷺ کا امت کو متنبہ کرنا
دجال زمین پہ چالیس دن رہے گا
فتنہ دجال سے حفاظتی آیات
دجال کا مکمل زمین پر سفر کرنا اور اس کے ہاتھ عجیب واقعات کا رونما ہونا
دجال مدینہ منورہ میں داخل نہ ہو سکے گا
بیت اللہ کا حج و عمرہ خروج دجال کے وقت اور ہمیشہ جاری رہے گا
امام مہدی کا ظہور
نزول مسیح علیہ السلام
عیسیٰ ؑ جب آئیں گے تو امتی بن کر آئیں گے
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی رحمۃ اللہ علیہ کی مدت قیام
نزول سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی کیفیت
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا دجال سے قتال کرنا
نزول کے بعد سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ رہنے کی مدت
خروج یاجوج ماجوج
یاجوج و ماجوج کے متعلق روایات حدیث سے حاصل شدہ نتائج
یاجوج و ماجوج انسان ہیں اور یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد ہیں
یاجوج وماجوج دنیا کے انسانوں سے دس گناہ زیادہ ہے
یاجوج و ماجوج قرب قیامت تک محصور رہیں گے
خروج یاجوج و ماجوج پہ زمین پہ ضروریات زندگی کم ہو جائیں گی
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے یاجوج و ماجوج ہلاک ہوں گے
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان کی لاشوں کا ٹھکانے لگایا جانا
ہلاکت یاجوج وماجوج کے بعد چالیس سال امن و سکون کا رہنا
یاجوج و ماجوج کے پاس پہنچنا اور دیوار بنانا
یاجوج ماجوج کون ہیں؟
یاجوج وماجوج کے متعلق روایات حدیث
قتل دجال کے بعد یاموج ماجوج کا خروج
یاجوج و ماجوج کے خاتمہ کے بعد زمین پر برکتوں کا ظاہر ہونا
یاجوج ماجوج کا آسمانی مخلوقات ختم کرنے کا ارادہ
موجودہ انسانوں سے دس گنا زیاہ یاجوج ماجوج جہنم میں جائیں گے
یاجوج و ماجوج تک پیغمبروں کی دعوت پہنچ چکی ہے
سد یاجوج و ماجوج
سد ذوالقرنین کمزور ہو چکی ہے
یاجوج و ماجوج و سد ذوالقرنین کے متعلق تاریخی و جغرافیائی بحثوں کی حیثیت
یاجوج و ماجوج کے دیوار کھودنے والی حدیث کا جواب
رسول اللہ ﷺ کا سد یاجوج ماجوج میں سوراخ ہونے کی خبردینا
یاجوج و ماجوج کا مسلسل دیوار کو کھودتے رہنا
یاجوج و ماجوج کے دیوار کھودنے کی حقیقت
خروج دخان
قرب قیامت میں آنے والے دخان کے اثرات کا بیان
نبی کریمﷺ کا کفار مکہ کے کےلیے بد دعا کرنا اور ان پر قحط کا پڑنا
نبی کریمﷺ کی دعا سے قحط کا ٹلنا اور بارش کا نازل ہونا
سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
دابۃ الارض
دابتہ الارض کیا ہے اور کہاں اور کب نکلے گا ؟
قیامت کی آخری بڑی نشانی دابۃ الارض کا نکلنا ہے
ٹھنڈی ہوا کا چلنا
حبشہ کا غلبہ
یمن سے آگ کا نکلنا
معاد جسمانی
صور کا پھونکا جانا
صور پھونکے جانے کے وقت کی کیفیت
صور کتنی بار پھونکا جائے گا ؟
صور پھونکے جانے کے وقت انبیاء و شہدا پر گھبراہٹ طاری نہ ہوگی
صور پھونکے جانے کے وقت چھ مقرب فرشتے نہیں مریں گے
دونوں صوروں کا درمیانی وقفہ اور بارش کا ہونا
صور کی آواز مسلسل ہوگی ،اس میں ہلکا سا بھی وقفہ نہ ہوگا
صور کیا چیز ہے؟
سب سے بڑی گھبراہٹ کون سا نفخہ ہے؟
نفخہ ثانیہ کے بعد قبروں سے اٹھنے کے بعد کی مختلف کیفیات
دوسرے صور کا مقصد
صور کی آواز سے اولاً سب مخلوقات بے ہوش اور پھر مر جائیں گی
صور کی آواز سے بعض فرشتوں پر موت واقع نہیں ہوگی
نفخہ اولیٰ کے وقت لوگوں کی چیخ و پکار ہوگی اور بھگدڑ کی سی حالت ہوگی
نفخات تین ہوں گے
بروز قیامت پہاڑوں کی مختلف حالتیں
بروز قیامت پہاڑ بادلوں کی مثل چلیں گے
اللہ تعالیٰ کی کاریگری میں کمال میں کوئی حیرت و تعجب نہیں
روز قیامت زمین و آ سمان کو بدل دیا جائے گا
روز قیامت زمین کی صفات و حالت کیسی ہو گی؟
موجودہ زمین جھنم کا حصہ بن جائے گی
آخرت کے دلائل
مشرکین کے سامنے نبی کریمﷺ کا آخرت کے ثبوت پر متفرق دلائل پیش کرنا
آخرت کے دلائل جاننے کے بعد کفار کا رد عمل
کفار کے رد عمل پر حق تعالی کی جانب سے جواب
دنیا میں عدل و انصاف کے حکم الٰہی سے آخرت کا ثبوت
منکرین قیامت درحقیقت تخلیق کائنات کے عبث ہونے کے دعوے دار ہیں
بعث و قیامت کے دلائل کونیہ اور ان میں غور نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی دھمکی
بعث و قیامت کے ثبوت کے دلائل
بنجر زمین کے آباد ہونے سے بعث و قیامت کی دلیل پیش
بنجر زمین کے آباد ہونے اور بعث بعد الموت میں مشابہت
منکرین قیامت ، ان کے دلائل اور ان کا جواب
رسول اللہ ﷺ کو منکرین قیامت کو جواب دینے کا حکم
منکرین قیامت کا وقوع قیا مت مشاہد ہونے پر عدم کی دلیل پکڑنا
قیامت کے وقت کا معلوم نہ ہونا اس کے عدم کی دلیل نہیں ہے
حکمتاً اللہ تعالیٰ بعض امور کو غیب میں رکھتے ہیں
منکرین قیامت دلائل قیامت میں نظر نہیں کرتے
منکرین قیامت کا وقوع قیا مت مشاہد ہونے پر عدم کی دلیل پکڑنا
عاص بن وائل کا بوسیدہ ہڈی ہاتھ میں لے کر آپﷺ سے بعث کے متعلق سوال
ہر انسان قیامت میں اپنا بوجھ خود اٹھائے گا
روز قیامت اولاد اور بیوی بھی کام نہ آئے گی
آخرت و جزا و سزا کے وقوع کی ایک عقلی دلیل
انصاف قائم کرنے کےلیے روز جزا کا ہونا ضروری ہے
دنیا بدلہ کی جگہ نہیں بلکہ دارالعمل ہے
مالدار ہونا عمدہ جزاء کی علامت نہیں ہے
دنیاوی علامتیں اعمال کی جزاء کی یقینی علامت نہیں
حساب و کتاب
پوشیدہ چیزوں اور گناہوں کا محاسبہ
اعمال باطنہ کا حساب آخرت میں ہوگا
قصد و ارادہ والے افعال پہ نتائج کا ترتب ہوگا
حساب کتاب کے وقت اللہ تعالیٰ کی تجلی خاص کا نازل ہونا
کان آنکھ اور دل کے متعلق قیامت کے روز سوال
حواس خمسہ میں سے مذکورہ حواس کا تذکرہ کرنے کا مقصد
آخرت میں بدلہ چکانے میں اعمال کا انتقال ہوگا، ایمان کا انتقال نہیں ہوگا
محشر کی عدالت میں مظلوم کا حق ظالم سے وصول کرنے کی صورت
مفلس وہ ہے جو قیامت کے روز بدلہ چکانے میں اپنی نیکیاں دوسروں کو دے اور ان کے گناہ اپنے پلڑے میں لےلےگا
روز قیامت رب تعالیٰ کے سامنے اول مقدمہ شوہر اور بیوی کا پیش کیا جائے گا
انسان کے اعضاء وجوارح کی محشر میں گواہی
رات و دن کا انسان کے معاملہ میں محشر میں گواہی دینا
اعراف
اہل اعراف بھی جنت میں چلے جائیں گے
ذی اخلاق کفار کے اہل اعراف ہونے کی کوئی دلیل نہیں
اعراف کا معنیٰ اور مقام
اہل اعراف کو جنت میں داخل کرنا
اعراف اور اہل اعراف کون ہیں؟
قیامت کی ہولناکی
محسنین بروز قیامت عذاب الٰہی سے بے خوف ہوں گے
قیامت کے کچھ ہولناک مناظر
روز قیامت کوئی کسی کو یاد نہ کرے گا
صور پھونکا جانے کے بعدکافروں کا دنیاوی رشتہ داری کام نہ آئے گی
قیامت کا دن حسرت و افسوس کا دن ہوگا
روز قیامت کے خوف و ہولناکی کی وجہ سے لوگ گھٹنوں کے بل ہوں گے
روز قیامت ادب کی وجہ سے لوگ تشہد کی صورت میں بیٹھے ہوں گے
احوال محشر
روز قیامت اعمال و اخلاق کی بنیاد پر جماعتیں بنیں گی
روز محشر دنیاوی مراسم و مخالفتیں ختم ہو جائیں گی
روز قیامت رسولوں اور لوگوں سے سوال
روز قیامت میں آپ ﷺ کے بارے میں سوال
محشر میں تمام جانوروں کو زندہ کیا جائے گا
جانوروں کا انتقام ،اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا مظہر ہوگا
روز محشر انسان کو باپ کے نام کے ساتھ پکارا جائے گا
محشر میں کفار بھی اللہ کی حمد وثناء کرتے اٹھیں گے
حشر کی ابتدا اور خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء پر ہو گا
محشر میں ہر شخص کو اس کے امام و پیشوا کے نام سے پکارا جائے گا
روز محشر فرشتوں کے ذریعہ سب کو بلایا جائے گا
محشر میں سوالات پر کفار کا آپس میں جھگڑ پڑنا اور ایک دوسرے کو الزام دینا
کفار کو محشر کی جانب کھینچ کر لایا جائے گا
کفار کا محشر کی سختیوں کو دیکھ کر قبر میں ہی رہنے کی خواہش کرنا
فرشتوں و مومنین کا کفار کی اس خواہش کا جواب دینا
محشر میں کفار، مؤمنین صالحین و فساق کے الگ الگ گروہ کر دئیے جائیں گے
اللہ تعالیٰ کی محشر میں انسانوں و جنات کو شیطان کی عبادت نہ کرنے کے حکم کی یاد دہانی
کفار صرف شیطان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے تو پھر شیطان پر الزام کیوں لگایا گیا؟
مشرکین کا محشر میں اپنے اعمال سے مکرنے کی وجہ سے اللہ تعالی ان کے دیگر اعضاء سے سوال کریں گے
مشرکین کو ان کے ہم مشربوں اور معبودوں کے ساتھ اکٹھے محشر میں جمع کیا جائے گا
کفار و مشرکین جو جھنم کے قریب پل صراط پر کھڑا کر کے سوال کیا جائے گا۔
کفار کے معبودان باطلہ قیامت میں انہیں کے خلاف گواہی دیں گے
میدان حشر میں تمام انبیا کرام اور فرشتے بطور گواہ موجود ہوں گے
اللہ تعالیٰ مشرکین کو لاجواب کرنے کےلیے فرشتوں سے ان کی معبودیت متعلق سوال کریں گے
فرشتوں کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب
میدان حشر ایک مستوی و چٹیل میدان ہوگا
روز قیامت اپنے کیے گناہوں کا انکار کرنے والوں کے اعضا گواہی دیں گے
روز قیامت درست اور غلط کا تعین حتمی ہو گا
کیا محشر میں اللہ کے سامنے کوئی جھوٹ بول سکے گا ؟
محشر میں مومنین اور کفار کے حالات میں فرق
مؤمن روز قیامت ایک دوسرے کی شفاعت کریں گے
تمام انسان اپنے شیاطین کے ساتھ محشر میں جمع ہوں گے
محشر میں تمام انس و جن کو جھنم کے گرد لایا جائے گا
روز قیامت بت ، ان کی عبادت کرنے والوں کے خلاف گواہی دیں گے
محشر میں متقین کو اکراماً سواریوں پہ لایا جائے گا
محشر میں سوالات
محشر میں ایمان کے متعلق سوال ہوگا
محشر میں سوالات ،لیٹ شروع ہوں گے
محشر میں پچاس ہزار سال موجود رہیں گے
آخرت کاایک دن کا عذاب ہزار سال کے برابر ہے
محشر میں کفار،بوکھلا کر جھوٹ بولیں گے
یہ آزادی ،تمام دنیا کے سامنے کرتوت لانے کےلیے ہوگی
محشر میں اعضاء و جوارح کا کلام کرنا
محشر میں جھوٹی قسمیں کھانے والے،منکر عملی ہوں گے
کفار کا جھوٹ انہیں کےلیے وبال جان ہوگا
جنی شیاطین اور انسانی شیاطین سے روز قیامت سوال
جنات وانسانوں سے انبیاء کی آمد کے متعلق استفسار
وزن اعمال
محشر آدم علیہ السلام اولاد کے اعمال کا معائنہ کریں گے
روز قیامت،نیک اعمال سواریاں بن جائیں گی
اللہ تعالیٰ کےلیے اعمال کا وزن کرنا مستبعد نہیں
اعمال صالحہ و سیئہ برزخ و حشر میں مختلف صورتیں اختیار کرلیں گے
انسان اپنے اعمال کو روز قیامت حساً حاضر پائے گا
کلمہ شہادت وزن میں گناہوں کے کئی دفاتر پر بھاری ہوگا
کلمہ لاالٰہ الا اللہ،وزن میں آسمان و زمین پہ بھاری ہے
روز قیامت کافروں کو اپنا موقف بیان کرنے کےلیے دھکے دے کر لایا جائے گا
ہر نیک عمل کا بدلہ اس سے بہترین ملے گا
کامل مؤمنین اور کفار کے وزن اعمال کا تقابل
گنہگار مؤمنین کے احوال اور ان کے اعمال کا وزن اور ٹھکانا
میزان عین عدل و انصاف سے وزن کرے گا
اعمال کا محاسبہ
کیا ہر ایک کےلیے علیحدہ میزان ہوگا؟
وزن اعمال میں کامیابی و ناکامی کی منادی عام فرشتہ کرے گا
وزن اعمال کی صورت
مختلف اعمال کا وزن
کفار کے اعمال کا وزن نہ ہوگا
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اعمال کا وزن
تسبیح و تحمید کے دو کلموں کا وزن
حسن اخلاق کا وزن
خوف خدا سے رونے کا وزن
دینی علوم و مسائل سکھانے کا وزن
علم دین کی تصنیف کا وزن
وزن اعمال کی صحیح کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں
کلمہ ایمان یا کسی ایک نیک عمل سے مغفرت کا حکم استثنائی ہے
پل صراط
پل صراط کی حقیقت
منافقین کا پل صراط سے گزرنے کا منظر
پل صراط کفار سے نہیں عبور کروایا جائے گا
یہ شریعت ہی پل صراط ہے
نامہ اعمال کا ملنا
تمام کفار کو بائیں اور تمام مؤمنین کو دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا
نامہ اعمال دینے کی کیفیت
نامہ اعمال گلے کا ہار ہونے کا مطلب
شفاعت
انبیاء علیہم السلام اور صلحاء امت کی شفاعت مقبول ہوگی
علماء کی شفاعت
شہید اپنےخاندان کے ستر آدمیوں کی شفاعت کرے گا
کثرت سے لوگوں کےلیے شفاعت کا قبول ہونا
رسول اللہﷺ کے شفاعت کے باوجود دیگر صلحاء کی شفاعت کی حیثیت
اہل کبائر کےلیے صرف نبیﷺ کی شفاعت قبول ہوگی
نماز تہجد کو مقام شفاعت حاصل ہونے میں خاص دخل ہے
روز قیامت اہل ایمان والدین و اولاد کی ایک دوسرے کے حق شفاعت قبول ہوگی
اللہ تعالیٰ کے فضل سے گنہگار مسلمانوں کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی
اللہ تعالیٰ کے ہاں سفارش کےلیے قابلیت اور قبولیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اجازت بھی شرط ہے
آخرت کے متعلق متفرق احکام
نظام عالم پر تدبر کرنے سے آخرت کا وقوع کے عقیدہ یقین حاصل ہوگا
بعث بعد الموت میں انسان کی حالت
دنیاوی عذاب کی نسبت آخرت کا عذاب بڑا ہے
اعمال کا حساب
پل صراط
قیامت سے قبل توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا
قیامت میں تین قسم کے لوگ ہوں گے
روز قیامت کفار کی اپنی متبوعین اور بڑوں سے سفارش کی درخواست
روز قیامت کفار کی شیطان کو ملامت اور اس کا جواب
قیامت کے شروع میں ایک زور دار آواز آئے گی
قیامت کے معاملہ کو اللہ تعالیٰ نے مخفی رکھا
قیامت کو مخفی رکھنے کی ایک حکمت
قیامت کے برپا ہونے پر سب کام ادھورے رہ جائیں گے
محشر میں چار سوالا ت(مال کے متعلق ایک )
قیامت سے غافل نہ رہنے کا حکم الٰہی
قیامت سے مؤمنوں کا خوف کرنا اعتقادی ہے
قیامت قریب کس اعتبار سے ہے؟
قیامت کا مقصد جزا و سزا کا دینا ہے
قیامت کا وقوع اچانک ہوگا
مسلمان کو طالب آخرت ہونا چاہیے
آخرت فانی نہیں دائمی ہے
آخرت کی طرف توجہ کی ضرورت ہے
دنیا اور آخرت میں نسبت
روزِ جزاء میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت عام ہوگی
عقلاً جزاء و سزاء کا عمل ثابت ہے
آخرت ،وہ ہمیشہ اور زندہ رہنے کا مقام ہے
قرآن و سنت کے مطابق عقیدہ آخرت ہو
متقین آخرت پر یقین رکھتے ہیں
جزاء و سزا کا اصل مقام آخرت ہے
اتباع الٰہی و اتباع رسول نجات اخروی کا باعث ہے
قیامت کے روز پر بندہ اپنا بار خود اٹھائے گا
ہرشخص کی قیامت،مرتے ہی قائم ہو جائے گی
موت اور قیامت کے دن کسی قسم کی دوستی و بیع و شرا نہ چلے گی
اللہ تعالیٰ نے احوال قیامت تنبیہ کےلیے بیان فرمائے
روز قیامت ہر بندے کے اعمال نامے حساب کےلیے ان تک پہنچا دئیے جائیں گے
روز قیامت کامیاب و ناکام لوگوں کا نام لے کر منادی کی جائے گی
منادی کے بعد ناکام لوگوں کو جھنم کی طرف لے جایا جائے گا
تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہیں ،جلد یا بدیر ان کی جزا وسزا ملے گی
آخرت جزا اور سزا کا گھر ہے
ثمرات کا محل دار الجزاء ہے
آخرت اعمال اور سعی کے ساتھ وابستہ ہے
نور ایمان کی خاصیت
پل صراط کی حقیقت
آخرت میں سب کو ایمان حاصل ہوجائے گا
قیامت وآخرت کا تصور ہر مشکل کو آسان کردیتا
موت کا وقت مقررہے آگے پیچھے نہیں ہوسکتا
آخرت کی نعمتوں کے استحضار سے دنیا کی تکالیف ختم ہو جاتی ہیں
عالم آخرت اس وقت بھی موجود ہے
عالم آخرت کی خاصیت دنیا کی خاصیت سے جد اہے
قیامت کے روز اعمال شکلیں بن کر نظر آئیں گے
کفار کا انکار بعث و قیامت اور اللہ تعالیٰ کا جواب
قیامت کے اثبات پر کفار کا نبی کریمﷺ کو مفتری اور مجنون کے طعنے دینا
بروز قیامت مردوں کے زندہ ہونے کی کیفیت
انسان کی موت اور جی اٹھنے کا ذکر
آخرت میں کسی قسم کا کوئی رنج نہ ہوگا
آخرت دنیا سے کماً بھی زائد ہے اور کیفاً بھی زائد ہے
آخرت حیات ہی حیات ہے وہاں ممات کا کچھ کام نہیں
آخرت کے دو جز ہیں ایک مکان آخرت اور ایک زمان آخرت
زمان آخرت اس وقت معدوم ہےمکان آخرت معدوم نہیں ہے
جنت
اولاً جنت کی نعمتوں کے حصول میں معاون اعمال و صفات
پہلی صفت : توکل
دوسری صفت: بے حیائی اور دیگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا
تیسری صفت: غصہ کی حالت میں معافی کو اپنانا
چوتھی صفت: احکام الٰہیہ کو بے چون وچرا ماننا
پانچویں صفت: آپس کے کام مشورہ سے طے کرنا
چھٹی صفت: اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
ساتویں صفت: ظلم کا انتقام لینے میں حد سےتجاوز نہ کرنا
اوصاف جنت
جنت میں ہر چیز ارادہ کے ساتھ موجود ہوگی
جنت کی راحت میں الم کا شائبہ نہیں
جنتیوں کو اپنے درجہ کی کمی کا احساس نہ ہوگا
جنت سلامتی کا گھر ہے
جنت میں مزہ والی لڑائی ہوگی
اہل جنت کی جنت میں تسبیح و دعا
اہل جنت کو فرشتوں کی طرف سے سلام
اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کی معرفت میں ترقی حاصل ہو گی
جنت کی نعمتیں
جنت کی نعمتیں حق تعالیٰ سے حجاب نہ ہوگی
دنیا کی نعمتیں جنت کی نعمتوں کا نمونہ ہیں
جنت میں اہل جنت اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کریں گے
مؤمنین کا جنت عدن میں دخول
جنت کی عجیب و غریب نعمتیں
جنت بہت ہی مزیدار چیز ہے
جنت میں پہنچ کر سارے اعمال معاف ہو جائیں گے
اہل جنت کی خوشی کی کیفیت
جنت میں ہر خواہش پوری ہوگی
آخرت کی نعمتیں
اشیاء جنت کی حقیقت
حور عین کی صفات
دنیا میں جنت کی کوئی نظیر نہیں
آخرت کی نعمتیں دنیا کے ساتھ صرف متشارک فی الاسم ہیں
نعمائے آخرت کی رغبت واجب ہے
جنت میں نیند کی خواہش بھی نہ ہو گی
جنت میں مضر اور غیر مطلوب چیزیں نہیں
اہل جنت صحیح المزاج اور سلیم العقل ہوں گے
جنت میں ہر شخص کو ثمرہ کا مل ملے گا
جنت کی شراب طاہر ہی نہیں بلکہ طہور ہے
جنت کی لذتیں غیر متناہی ہیں
اہل جنت کے لیے زمین کی روٹی بنائی جائے گی
اہل جنت کو زمین کی روٹی کھلانے پر اشکال کا جواب
جنت کے طبقات الگ الگ نہ ہونگے بلکہ اوپر نیچے ہونگے
جنت کی غذاؤں کا فضلہ نہیں ہے
جنت میں پوری سیری ہوگی
اہل جنت کی زبان عربی ہوگی
جنت کے در ودیوار میں بھی زندگی ہوگی
جنت کے درختوں کی کیفیت
جنت میں جنتیوں کو پہلے زمین کی روٹی بنا کر کھلائی جائے گی اس کی حکمت
اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کےلیے جنت میں بالا خانے ہوں گے
آخرت کی زندگی اور اس میں موجود نعمتیں ہمیشہ کےلیے ہیں
آخرت میں مؤمن کو اللہ تعالیٰ کا سلام کرنا
مؤمنین صالحین آخرت میں بہترین کمروں میں امن سے رہیں گے
جنت میں مردوں کو ریشم اور سونا پہنایا جائے گا
آخرت کے احوال کو دنیا کے احوال پر قیاس کرنا بے عقلی ہے
جنتیوں کے زیورات
موتیوں کے تاج پہنائے جائیں گے
جنتیوں کو مختلف دھاتوں کے کنگن پہنائے جائیں گے
جنت میں تمام غموں کا خاتمہ ہو جائے گا، اہل جنت کا اس پر شکر ادا کرنا
غموں سے نجات پر تمام جنتی (امت محمدیہ کی تینوں اقسام)اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں گے
جنت کسی طرح کی کوئی مشقت اور تھکاوٹ نہ ہوگی
جنت میں اہل جنت اپنے اپنے شغل و تفریح میں ہوں گے
جنتی جس چیز کو بلائیں گے وہ حاضر ہو جائے گی
اہل جنت کو متفرق رزق جنت میں دائمی و بروقت ملتے رہیں گے
اہل جنت کو فواکہ یعنی لذت کےلیے رزق عطا کیا جائے گا
جنت کے کھانے اور دیگر نعمتیں بطور ضرورت نہیں بلکہ بطور لذت عطا ہوں گی
اہل جنت کو کھانا پورے اعزاز کے ساتھ کھلایا جائے گا
اہل جنت کی مجالس اور بیٹھنے کی کیفیت
جنت کی شراب لذیذ ہوگی
جنت کی شراب سے کسی طرح کی عقلی و جسمانی بیماری نہ ہوگی
جنت کی حوریں آنکھیں نیچے رکھنے والی ہوں گی
حوروں کی پاکیزگی و خوبصورتی کو چھپے ہوئے انڈوں سے تشبیہ دی گئی
جنت کی حوریں آپس میں اور شوہر کے ہم عمر ہوں گی
اہل جنت ملاقات و تفریح کےلیے دوسرے اہل جنت کے پاس جایا کریں گے
جنتیوں کے کم درجہ کے رشتہ داروں کو ان کے ساتھ ملا دیا جائے گا
جنت میں جنتیوں کی ہر خواہش پوری ہوگی اور اعلی درجہ کی مہمان نوازی کی جائے گی
جنتیوں کا پرندے کے گوشت کھانے کی خواہش کرنا
جنتیوں کا جنت میں بچہ پیدا کرنے کی خواہش کرنا
جنت کی نعمتوں کی اصناف کا بیان
جنتیوں کو حوریں ہدیتاً یا نکاح کے ساتھ عطا کی جائیں گی
جنتیوں اور جھنمیوں کو موت نہیں آئے گی
جنت کی نعمتیں دائمی ہیں
جنت کی بڑی نعمت،دیدار الٰہی
اللہ کے خاص بندوں کو ملنے والے انعامات میں اہل خانہ کا بھی حصہ ہوگا
جنت میں اہل جنت کی ایک دوسرے سے رنجش دور کردی جائے گی
جنت میں تعب و تھکاوٹ نہ ہوگی
جنتی،جنت سے اور اس کی نعمتوں سے اکتائے گا نہیں
اہل جنت کے لئے زیور اور اس پر اشکال
جنت میں موجود نعمتوں و اشیاء سے اکتاہٹ نہ ہوگی
جنت میں لغو و بیہودہ کلام نہیں ہوگا
جنت میں صبح و شام کھانا پیش کیا جائے گا
جنت میں بھوک نہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ بھوک لگنے کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی
اہل جنت کو اعزازاً کنگن پہنائے جائیں گے
اہل جنت کو تین طرح کے کنگن پہنائے جائیں گے
اہل جنت ،جنت میں سرور و راحت سے رہیں گے
اہل جنت ریشم کا لباس استعمال کریں گے
دنیا میں ریشم ،سونا اور شراب استعمال کرنے والا جنت میں ان سے محروم ہوگا
جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مشابہ ہیں
جنت کی نعمتیں باقی اور دائمی ہیں
آخرت میں وہ تمام نعمتیں ہیں جس کا عقل ادارک بھی نہیں کرسکتی
جنت کی غذا میں فضلہ بالکل بھی نہیں اور اس غذا سے موٹاپا بھی نہیں ہوگا
جنت میں متقین کی نعمتوں کا اجمالی ذکر
انسان کی اولاد جنت میں ساتھ ہوگی
جنت میں سواری کی صورت
جنت میں کھیتی باڑی کی صورت
جنت میں خصوصی نعمتوں کے حصول کا سرٹیفکیٹ
جنت میں عمومی نعمتیں
جنت میں سب سے بڑی نعمت الٰہی
جنت کے انعامات
اہل جنت کے دلوں سے آپسی رنجشیں ختم کردی جائیں گی
شراباً طھوراً پینے سے آپسی رنجشیں ختم ہو جائیں گی
اہل جنت کا جنت میں اللہ کا شکر ادا کرنا
اہل جنت و دوزخ کا دیکھنا اور مکالمہ دوزخیوں کے عذاب کےلیے ہوگا
اہل جنت کا نعمتوں اور اہل دوزخ کا عذاب کا اقرار
دارالسلام ،جنت کا ایک نام ہے
دارالسلام ،اس دنیا میں ممکن ہے
اللہ سے ڈرنے والے کےلیے دو جنتیں ہیں
جنت کے ناموں پر کسی گھر کا نام رکھنا جائز نہیں
طلب جنت
حضور ﷺ کا جنت مانگنا
جنت کا مانگنا بھی موجب رضا ہے
جنت الفردوس مانگنے کی ترغیب
جنت کے طلب کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں
طلب جنت عدم طلب سےبڑھ کر ہے
جنت کی طلب مامور بہ اور فرض ہے
حصول جنت کے ذرائع کی طلب بھی ہر ایک کے ذمہ ہے
جنت کے حصول میں جامع طرق دو ہیں
طالبین جنت کی پہلی قسم وہ ہے جو نعمتوں کو مقصود سمجھ کر جنت کی طلب کریں
طالبین جنت کی دوسری قسم وہ ہے جوجنت کو اللہ تعالیٰ کی لقاء کے لیے طلب کریں
طالبین جنت کی تیسری قسم وہ ہے جونعمتوں کے طالب ہیں لیکن حظ کی وجہ سے نہیں بلکہ تذلل اور عبدیت کی وجہ سے
جنت کے متعلق متفرق باتیں
جنت حق ہے
جنت اور دوزخ کا وجود
جنت میں جانے کے حقیقی اسباب
دخول جنت بغیر رحمت الٰہی ناممکن ہے
اللہ تعالیٰ کا فضل اور جنت کسے حاصل ہوتی ہے؟
جنت کی تخلیق اور محل(جگہ)
جنت میں حسد نہ ہوگا
جنت اور جہنم دو ہیں
جنت میں جانے کے بعد بھی عبودیت ختم نہ ہوگی
جنت میں حوروں کا گانا بجانا بھی ہوگا
جنت ہمارا اصلی گھر ہے
جنت کے تصور کا ایک آسان طریقہ
عمل دخول جنت کی علت تامہ نہیں
سب سے اعلی جنت
زیادہ برائیوں والی جنت میں نہیں جائے گا
جنت عمل سے نہیں فضل سے ملے گی
جنت کے دروازوں کی تعداد جہنم کے دروازوں سے زیادہ ہے
جنت میں وسعت زیادہ ہے جہنم کی وسعت سے
جنت کی درخواست کرنا سنت ہے
رضائے حق پر نظر کرتے ہوئے جنت کی درخواست ضروری ہے
جنت ایک بہترین ٹھکانا ہے
جنت میں انسان اپنی آخری بیوی کے ساتھ ہوگا
جنت ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے
جنت کی چوڑائی کا وسیع ہونا یقیناً اس کی لمبائی کے وسیع ہونے کو مستلزم ہے
ضابطہ کے مطابق جنت کی نعمتیں اولاً ان کو ملیں گی جو ایمان لانے کے بعد خاص اعمال کرتے ہوں گے
جنت کو بھرنے کے لیے نئی مخلوق کو پیدا کیا جائے گا
جنت میں جانا بھی اختیاری ہے اور جہنم سے بچنا بھی اختیاری ہے
جنت میں منہ سے مانگی اور دل میں چاہی مرادیں سب برابر ہیں
جنت میں ابتداء سے انتہاء تک خوشی ہی خوشی ہے
جنت مشقتوں سے گھری ہوئی ہے
جنت تو راحت ہے ہی دوزخ بھی مسلمانوں کے لیے راحت ہے
جنت میں جانے کے لیے اعمال علت تامہ نہیں بلکہ شرط ہیں اور ضروری ہیں
کوئی شخص اپنے عمل سے جنت میں نہیں جائے گا
جنت بھی مطلوب ہے جن بزرگوں نے جنت کو غیر مطلوب کہا ہے ان کو غلبہ حال کی وجہ سے معذور سمجھا جائے
طالبین جنت کی دو قسمیں مشہور ہیں
حصول جنت کے لیے حق تعالیٰ نے دو طرق بتائے ہیں
عمل کی وجہ سے جنت میں جانا یہ اعلیٰ درجہ نہیں بلکہ رحمت سے جنت میں جانا یہ اعلیٰ درجہ ہے
جنت کا مزہ کبھی مغلوب نہیں ہوگا اس لیے کہ وہاں کا حسن لا محدود ہے
جنت میں جانا اس معنیٰ اختیاری ہے کہ اس کے اسباب اختیار کرنا اختیار میں ہے
نیکیوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان سے جنت ضرور ملے گی جب تک کہ ساتھ کوئی باطل چیز نہ ملے
مومن جنت میں ضرور جائے گا
جہنم
جھنمیوں کے احوال
کفار کا جہنم میں چہرہ کے بل گھسیٹا جانا اور ان کا اطاعت الٰہی کی خواہش کرنا
جہنمیوں کا اپنے سرداروں اور چوہدریوں کو دوگنا عذاب دینے کی استدعا
کفار کا جھنم میں سے نکالنے اور اچھے اعمال کرنے کا ایک موقع دینے کی گزارش اور اللہ تعالیٰ کا جواب
کفار کی آنے والی زندگی میں ان کےلیے جھنم ہے
منکرین آخرت پر آخرت میں آنے والا عذاب بوجہ انکار غیر متوقع وزیادہ تکلیف دہ ہوگا
اہل جھنم کو زنجیروں سے باندھا جائے گا
جھنمیوں کے لباس کی کیفیت
اہل جھنم دنیا کی طرح خود کو کسی چیز میں چھپا کر عذاب سے نہ بچا سکیں گے
جھنمیوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر گھسیٹ کر جھنم میں ڈالا جائے گا
جھنمیوں کے ہونٹ جل کر بڑے ہو جائیں گے
جھنمیوں کی رب تعالی سے جھنم سے نکالنے کی درخواست اور اللہ جل شانہ کا جواب
کفار روز قیامت میں تین طرح کی حسرتیں کریں گے
روز قیامت کفار کے متقی بننے اور ہدایت بھیجنے کی حسرت کا جواب
تمام معبودان باطلہ جھنم میں ڈالے جائیں گے
عذاب جہنم
کافروں کا عذاب
سب سے ہلکا عذاب اوراس کی کیفیت
جھنم میں خیالی راحت بھی نہ ہو گی
کفار کو عذاب جہنم کی کمی کا احساس نہ ہو گا
جہنم کی آگ دنیا کی آگ کی طرح نہیں ہے
جہنمیوں کا بدن مسلسل عذاب سے سن نہ ہو گا
جہنم میں سب کو یکسا سزا نہیں دی جائے گی
مسلمانوں کے حق میں عذاب جہنم تعذیب کے لیے نہیں
حقیقت تعذیب
سورج اور چاند کو جہنم میں ڈالنے کی صورت کیا ہوگی
کافر ہی کو جہنم کا عذاب کامل ہوگا گناہ گار مسلمان کو محض شائبہ عذاب ہوگا
جھنمیوں کو پیپ پینے کا عذاب دیا جائے گا
جھنم کے سات دروازے ہیں
جھنم کے ایک غار کا نام غیّ ہے
کفار میں سے جس کا جرم زیادہ ہوگا دخول جھنم میں وہی مقدم ہوگا
ہر مسلم و کافر کا ورود جھنم پر سے لازمی ہوگا
منافقین جہنم کے نچلے حصے میں ہوں گے
جھنم کا درخت زقوم
زقوم کی حقیقت
جھنمیوں کو دنیا کا زقوم کھلایا جائے گا یا دوزخ میں کوئی اور زقوم ہے؟
زقوم کے تذکرے سے اللہ تعالیٰ کا کفار کا امتحان لینا اور کفار کا اس پر استہزا کرنا
زقوم کے متعلق کفار کے اعتراض و استہزا کا جواب
زقوم کے پھل شیاطین کی سروں کی طرح انتہائی بد صورت ہیں
عذاب جہنم کے مختلف مراتب ہیں
اوصاف دوزخ
دوزخ کی تکلیف میں راحت کا شائبہ نہیں
اہل دوزخ میں باہم عداوت ہو گی
جہنم کے متعلق متفرق باتیں
جہنم حق ہے
جہنم کے درجات اور طبقات مختلف ہیں
دوزخیوں کا کنارے پہ کھڑے ہوکر دنیا میں واپسی کی خواہش کرنا
ایمان کی ٹھنڈک جہنم کی آگ کو بجھا دے گی
مسلمانوں کو عذاب جہنم کا احساس کفار سے بہت کم ہوگا
دوزخ بھی ذی حیات ہے
دنیا کے عذاب کی تو عادت ہوجاتی ہے مگر عقوبت آخرت میں ایسا نہیں ہوگا
تین اشخاص مرفوع القلم ہیں
مرفوع القلم اشخاص کی طاعت اور معصیت کا لکھا جانا صرف دل کے ارادے کی مشارکت سے ہوگا
نابالغ بچےکے افعال جزا و سزا کے مستحق نہیں ہوتے
اولاد مشرکین کو عذاب نہ ہوگا
کفار کو دو وجوہات کی بنا پر سخت عذاب دیا جائے گا
قرآن مجید میں مذکور،اہل جھنم کی علامات
اہل جھنم کو بہرا،گونگا کہنے کا سبب
اہل جھنم اور ان کے معبودان باطلہ میں مکالمہ
کفار کا جھنم میں خود سے نفرت کرنا اور اللہ تعالیٰ کا ان سے اپنی نفرت کا اظہار کرنا
کفار کا جھنم میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا اور جھنم سے نکالنے کی استدعا کرنا
کمزور و غرباء کفار جھنم میں اپنے سرداروں کو کہیں گے ہم سے عذاب ہٹا دیں
اہل جھنم کو کبھی حمیم (کھولتا پانی) اور کبھی جحیم (جھنم) میں ڈالا جایا جائے گا
اہل جھنم کو جھنم کی طرف روک روک کر اور ہانک کر لے جایا جائے گا
گنہگار مؤمنین کا دوزخ میں جانا تطہیر اور صفائی کےلیے ہوگا
جہنم کو بھرنے کے لیے نئی مخلوق کو پیدا نہیں کیا جائے گا
دوزخ کا عذاب بلحاظ کیفیت بھی ایسا ہے کہ اس کی کوئی نظیر نہیں ہے
اہل باطل کو عذاب تو ہوگا لیکن خلود فی النار نہ ہوگا
متفرقات
احکام الٰہی
احکام الٰہی میں نسخ و تبدل ممکن ہے
احکام الٰہی میں نسخ کوئی عیب نہیں ہے
اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جبر نہیں کیا
احکام کے نظری رہنے میں ہی انسان کےلیے آزمائش اور ثواب و عذاب ہے
کوئی بھی اچھا قول اور عمل ہو،سنت کے مطابق نہ ہو تو قبول نہیں ہوتا
کفار احکام فرعیہ کے مخاطب نہیں
اختلافی معاملات میں فیصلہ اللہ تعالیٰ کا ماننا چاہیے
کائنات میں فقط حکم اللہ تعالیٰ کا چلتا ہے،رسول اور اولوالامر کا حکم بھی اللہ کا ہی حکم ہے
مؤمنین کی صفات اور خصوصیات
مؤمنین اور ان کے اعمال کو عمدہ و پاکیزہ درخت سے تشبیہ
مؤمن اور سچے مؤمن میں فرق
سچے مؤمن کے لیے تین انعامات
مؤمن صالح کےلیے حیاۃ طیبہ کیا ہے؟
مؤمن صالح کی دنیوی زندگی بھی حیاۃ طیبہ ہے
مؤمن کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے
حالت اکراہ میں ایمان کے متعلق احکام
حالت اکراہ میں کلمہ کفر کا حکم
اکراہ کا معنیٰ
اکراہ کی اہم شرط
اکراہ کی اقسام/درجات
اکراہ غیر ملجئ
اکراہ ملجئ
عقائد باطلہ
رسومات کی ادائیگی دراصل فساد عقیدہ ہے
انکار رسالت مستلزم ہے انکار خدا کو
واسطہ کو نفعا ً و ضراً مقصود سمجھنا یہ شرک ہے
منکرات کے بڑھ جانے کی تین وجہیں ہوسکتی ہیں
جو رسوم تفاخر کے لیے کی جائیں وہ بھی گناہ ہیں
رسمیں دو قسم کی ہیں
رسوم کا عام ہونے کی اصل اعتقاد میں ان کو معصیت نہ سمجھنا ہے
صحابہ کرام کا بارش کے وقت کفار کے نظریہ کا رد کرتے ہوئے آیت فتح کی تلاوت کرنا
غلط عقائد و نظریات والی جماعت کے ساتھ رہنے کی صورت میں ان کے نظریات سے برءاۃ ضروری ہے
عقائد فاسدہ سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
بدعات
وبال بدعت
بدعات کا رد کریں دل شکنی کی پرروانہ کریں
مباح کا التزام
بدعات کا نقصان
غیر مشروع طریقہ کا نقصان
تیجےکی قرآن خوانی
رسم کا مفہوم
رسمیں دو قسم کی ہیں
بدعت سے مراد اصول دین کے خلاف کرنا ہے
کیا گیارہویں باعث برکت ہے
بدعات کی مصلحت کو دفع مفسدہ کی غرض سے ترک کریں
بدعات سے لوگوں کو دفعتاً منع نہ کریں
بدعات کے زائد علی الدین ہونے کی علامت
عبادات میں حد مقرر سے آگے بڑھنا بدعت ہے
بدعت ایک طرح شرک فی النبوۃ ہے
شرک
شرک تمام اعمال کو ختم کر دیتا ہے
ذات میں شرک
الوہیت میں شرک
ایمان کا ادنی درجہ بت پرستی چھوڑ دینا ہے
شرک کی مذمت
فنائے ارادہ اور فنائے تجویز شرک سے بچنے کے لئے کیا جاتا ہے
تفویض الی الغیر شرک ہے
کفار کا سب سے بڑا جرم حق تعالیٰ کی عظمت کی خبر نہ ہونا ہے
شرک کا مفہوم
کائنات کی تمام اشیاء اللہ کے ساتھ شرک کرنے پر ڈرتی ہیں
شرک سب سے بڑا گناہ ہے
کفار سے شرک کے متعلق سوال،ان کا جواب اور اس کا رد
شرک و بت پرستی کی احمقانہ حرکت کی ایک مثال سے توضیح
کفر و شرک کرنا اللہ جل شانہ کی ناقدری ہے
اللہ کی صفات میں شریک ٹھہرانے والا ،مشرک ہے
شرکیہ اعمال و علامات او رسومات کا حکم
شرک و کفر اور باطل کی رسوم و نشانات کا مٹانا واجب ہے
باطل ادیان کے اللہ کے شریک کے نظریات کا رد
غیر اللہ کی عبادت کرنا ،کچھ فائدہ نہ دے گا
اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی عبادت کرنا کچھ فائدہ نہ دے گا
شرک کی اقسام
شرک جلی اور خفی
شرک فی العبادت
شرک فی العبادت کی مذمت
شرکیہ افعال کا ارتکاب بھی شرک ہے
شعائراللہ میں غیراللہ کو شریک کرنا
قرآن کریم میں شرک فی العبادت کا رد
اپنی ہر چیز کوکسی غرض سے خدا کے سپرد کرنا شرک خفی ہے
شرک کے علاوہ گناہوں کی مغفرت کے مختلف ذرائع ہیں
گناہ کبیرہ کا عذاب کے بغیر معاف ہوسکنا یہ عقیدہ اقدام جرائم کا سبب نہیں بن سکتا
بعض مرتکب کبیرہ کی مغفرت کسی عمل صالح سے ہوجاتی ہے
غیر اللہ کو سجدہ کرنا اسلام میں حرام ہے
کفر
کفر کے لغوی معنیٰ کا قرآن مجید میں استعمال
کفر کی تعریف
کفر کے ساتھ کوئی عمل صالح معتبر نہیں
کفار و منکرین کا دخول جنت محال ہے مثل اونٹ کے سوئی سے گزرنےکے
کفار کا ٹھکانا،اوڑھنا بچھونا جھنم ہوگی
کفر ایک اندھیرا ہے
رضا بالکفر کفر ہے یعنی کفر سے راضی ہونا بھی کفر ہے
کسی کے کافر ہونے پر راضی ہونے والا بھی کافر ہوجاتا ہے
کفار مخاطب بالفروع نہیں
کافروں کے اچھے اعمال کی حیثیت راکھ کی مثل ہے
کافر بھی اللہ کے بندے ہیں مگر اس کے مقبول نہیں
شرک وکفر کا پیغام کسی بھی سماوی کتاب میں نہیں ہے
کفار اور ان کے کفر کا بیان
کفار کی عمومی تین قسمیں اور ان کے عقائد کا رد
اول قسم کے کفار اور ان کے اعمال کی حالت
دوم قسم کے کفار اور ان کے اعمال کی حالت
اصول دین میں سے ایک جھٹلانا تمام کو جھٹلانے کے مترادف ہے
کفار کےلیے ان کے برے اعمال مزین کرکے پیش کیے جاتے ہیں
اللہ تعالیٰ حق کے مقابلہ میں باطل کو پاش پاش کر دیتے ہیں
توحید جیسے بنیادی عقیدوں کے انکار کی وجہ سے دنیا میں اطمینان و سکون مفقود ہو گیاہے
لوگوں کے کفر سے رب تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا
اللہ تعالیٰ لوگوں کے کفر کو ناپسند کرتے اور ان سے نارض ہو جاتے ہیں
ہر کافر کا کفر اسی کے سر ہوگا،کسی اور پر اس کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا
کافر اورمطیع مؤمن برابر نہیں ہو سکتے
کفار کا قول کہ ہمیں زمانہ کی تبدیلی سے موت آتی ہے،اللہ تعالیٰ موت نہیں دیتے
تمام انسانوں و جانوروں سے بدتر ،کفار ہیں
کفار اور ان کے اعمال کی مثل شجرہ خبیثہ سے دی
کفار نے بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک و مثل ٹھہرایا
مشرکین دین فطرت یعنی اسلام چھوڑ کر مختلف گروہوں میں بٹ گئے
کفار کی حالت کفر کی شدت کا بیان
انجام کار مؤمن اور کافر برابر نہیں ہیں
کلمہ کفر کہنے سے بندہ کافر ہوجاتا ہے اور پہلے کے تمام اعمال ضائع ہوجاتے ہیں
کفار کے متفرق احوال
کفار کا قیامت کے روز کے وقوع کے متعلق استفسار اور اللہ تعالیٰ کا جواب
کفار کی روز قیامت فرشتوں سے عذاب سے بچانے کی درخواست
مجرم اور کافر لوگ قیامت والے دن پچھلے عالم یعنی دنیا اور برزخ کو بہت مختصر جانیں گے
روز قیامت اولاد اور والدین میں سے مومن کافر کو فائدہ نہ پہنچا سکے گا
کفار کا موت و قیامت کے وقت حق کو قبول کرنا اور ان کی اس قبولیت کا رد کیا جانا
کفار موت اور قیامت کے وقت بھاگنا چاہیں گے پر بھاگ نہ سکیں گے
روز قیامت کفار ایمان لانا چاہیں گے پر ان کا ایمان قبول نہ ہوگا
کفار اپنے کفر پر بغیر کسی دلیل کے ہیں
کفار جنت و نجات سے محروم رہیں گے
کفار کی محبوب چیز مال و اولاد سے موت ان کو جدا کردے گی
کفار کے معبودان باطلہ درخواست کو سننے اور اسے پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے
حق بات سننے اور قبول کرنے اعتبار سےکافروں کی مثال مردوں کی سی ہے
ایمان نہ لا سکنے والے کفار کی دو مثالیں
دین کے متعلق مجادلہ اکثر متکبرین کا شیوہ رہا ہے
کافر آدمی نعمت الٰہی پر ناشکرا اور مصیبت پر شدید الحا ح و زاری شروع کردیتا ہے
کفار کی عقل و ہوشیاری فقط دنیاوی زندگی میں مقید ہو کر رہ گئی
غیر اللہ پر بھروسہ کرنے والوں کی مثال مکڑی کے جالے کی طرح کمزور ہے
کفار اپنی عقل کو ہمیشہ کے فائدے میں استعمال نہ کرنے کی بنا پر بے عقل سمجھے جاتے ہیں
کفار کا مصیبت میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور خلاصی پر بھول جانا
ایمان قبول نہ کرنے کا مشرکین کی جانب سے عذر اور اس کا جواب
کفار اپنے وطن اصلی یعنی آخرت سے غافل ہیں
کفار دنیا کےصرف ایک رخ سے واقف ہیں
کفار کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیا جاتا ہے
جدال فی القرآن کفر ہے
کیا کفار فروع اعمال کے مکلف اور مخاطب ہیں یا نہیں ،اگر نہیں تو ان پر اعمال سیئہ کا عتاب کیوں؟
کفار زکوٰۃ ادا نہیں کرتے،اس مضمون پر شبہ اور جواب
نماز کو چھوڑ کر کفار کے ترک پر زکوٰۃ پر مذمت کیوں کی گئی؟
الحاد
الحاد کا معنیٰ
متأول کو کافر نہ کہا جائے، اس اصول کے متعلق ایک غلط فہمی کا ازالہ
کفر سے مانع تأویل کون سی ہوتی ہے؟
الحاد اور ملحد کا حکم شرعی
موجودہ زمانہ میں کفر والحاد کا زور و شور ہے
قرآنی آیات کی تاویل اور الحاد کے متعلق شاہ عبدالعزیز دیلوی رحمہ اللہ کا فرمان
کافر کفر کی وجہ سے خسارہ عظیمہ میں ہے
گناہوں کو ہلکا سمجھنا یہ کفر ہے
کفر بغاوت ہے اور اسلام اطاعت ہے
سب گناہوں پر عذاب لازم نہیں سوائے شرک وکفر کے
گناہ کبیرہ بغیر عذاب کے معاف ہوسکتا ہے لیکن کفر معاف نہیں ہوسکتا
گناہ کبیرہ کا بغیر عذاب کے معاف ہونے پر اعتراض و جواب
کفار اور مشرکین ہمیشہ جھنم ہی میں رہیں گے
قتال وجدال کرنے والا عملا کافر ہے اگرچہ حقیقتاً مومن ہے
منافقین دراصل کفار ہی میں داخل ہیں
جو شخص ضروریات دین کا انکار نہ کرتا ہو ہاں عمل میں سستی کرتا ہو وہ کافر نہیں ،گناہگار ہے
مرتد
اسلام لاکر مرتد ہوجانے میں اسلام کی سخت توہین ہے
گناہ کبیرہ سے اسلام سے خروج نہیں ہوجاتا اور نہ ہی خلود فی النار ہوگا
قاعدہ درج کریں
کلی
جزوی
اکثری
استثنائی
×
×
تعلیم درج کریں
علمی
عملی
عملی درج کریں
مشقی
غیر مشقی
حکم درج کریں
فرض
فرض عین
فرض کفایہ
واجب
سنت
سنت مؤکدہ
سنت غیر مؤکدہ
نفل
مستحب
افضل
جائز
مباح
حرام
مکروہ تحریمی
مکروہ تنزیہی
ناجائز
بنیادی
دفعِ مضرت
ابہام
یاد دہانی درج کریں
عملی تکرار
علمی تکرار
ایک بار
مخاطب درج کریں
خواص
مقتداء
جنس درج کریں
مرد
عورت
دہرائی درج کریں
ضروری
غیر ضروری
حیثیت درج کریں
انفرادی
اجتماعی
زمانہ درج کریں
قبل آدمؑ
حضرت آدمؑ سے حضرت نوحؑ تک
حضرت نوحؑ سے حضرت ابراہیمؑ تک
حضرت ابراہیمؑ سے حضرت موسیٰؑ تک
حضرت موسیٰؑ سے حضرت عیسیٰئ تک
حضرت عیسیٰؑ سے آپ ﷺ تک
آپ ﷺ کے زمانے سے قیامت تک
قیامت کے بعد تک
تعلق درج کریں
ظاہری
باطنی
اندراج کریں
بند کریں
تفصیلی موازنہ
تمام باتوں یعنی فرض، واجب، مستحب، وغیرہ کا موازنہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
تمام باتوں یعنی فرض، واجب، مستحب، وغیرہ کا موازنہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
مختصر موازنہ
ضروری باتوں یعنی فرض، واجب، سنت مؤکدہ،حرام، مکروہ تحریمی اور بنیادی باتوں کا موازنہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
ضروری باتوں یعنی فرض، واجب، سنت مؤکدہ،حرام، مکروہ تحریمی اور بنیادی باتوں کا موازنہ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔